کالم لسٹ "Daily Express News"

Javed Chaudhry Columns 10 May 2019, Javed Chaudhry Columns Today, Javed Chaudhry Column, Javed Chaudhry Columns Express.

روس کے دو شہر اہم ہیں‘ ماسکو اور سینٹ پیٹرز برگ‘ میں نے دو دن ماسکو اور دو سینٹ پیٹرز برگ میں گزارے‘ پیٹرز برگ فن لینڈ کے بارڈر پر ہے اور مکمل یورپی شہر ہے‘ یہ ماسکو سے پہلے روس کا دارالحکومت ہوتا تھا‘ زار اس شہر سے پورے روس پر حکومت کرتے تھے‘ دونوں شہروں کے درمیان بلٹ ٹرین چلتی ہے‘ فاصلہ چار گھنٹوں میں طے ہو جاتا ہے‘ میں نے دن ڈیڑھ بجے ٹرین لی اور ساڑھے پانچ بجے سینٹ پیٹرز برگ میں تھا۔

یہ ساحلی شہرہے‘ روس کو” بالٹک سی“ سے جوڑتا ہے‘ فن لینڈ کا دارالحکومت ہیلسنکی ٹرین کے ذریعے صرف ساڑھے تین گھنٹے دور ہے‘ دونوں کے درمیان فیری سروس بھی ہے‘ یورپ کے زیادہ تر سیاح فن لینڈ سے پیٹرز

برگ آتے ہیں‘ یہ علاقہ کبھی سویڈن کی ملکیت تھا لیکن پھر پیٹر دی گریٹ نے یہاں قبضہ کیا اور 1703ءمیں یورپ کا شاندار ترین شہر تعمیر کرنا شروع کر دیا‘ زار نے قانون بنایا پورے ملک سے ہر سال چالیس ہزار غلام یہاں بھجوائے جائیں گے‘ یہ غلام شہر کی تعمیرکرتے تھے۔
یہ سال کے اندر بھوک‘ پیاس اور سردی کی وجہ سے مر جاتے تھے‘ اگلے سال نئے آ جاتے تھے‘ یہ دنیا کا پہلا شہر تھا جو پہلے کاغذ پر بنا‘ بادشاہ نے اس کی ایک ایک گلی‘ کوچے اور عمارت کی منظوری دی اور پھر یہ زمین پر بنایا گیا‘ یہ تین سو سال بعد بھی جوں کا توں ہے‘ اس کی کوئی گلی‘ کوئی عمارت تبدیل نہیں ہوئی‘ عمارت اگر کسی آفت کی وجہ سے زمین بوس ہو گئی تو حکومت نے اس جگہ عین ویسی عمارت دوبارہ کھڑی کی لہٰذا اگر ماضی کا کوئی کردار اپنی قبر سے اٹھ کر سینٹ پیٹرز برگ آ جائے تو وہ آنکھیں بند کر کے ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچ جائے گا۔

Javed Chaudhry Columns 10 May 2019, Javed Chaudhry Columns Today, Javed Chaudhry Column, Javed Chaudhry Columns Express.



یہ سارا شہر عجائب ہے لیکن زاروں کے دو محلات کمال ہیں‘ پیٹر دی گریٹ نے شہر کے مضافات میں اپنا گرمائی محل بنوایا تھا‘ یہ گارڈن پیلس تھا‘ وسیع باغ میں جھیلوں کے ساتھ چھوٹے چھوٹے محلات‘ حرم‘ کچنز‘ ڈائننگ رومز اور باتھ رومز تھے‘ عمارتیں ایک دوسرے سے الگ تھیں اور شاہی خاندان بگھی پر ایک عمارت سے دوسری تک جاتا تھا تاہم ملکہ کا محل ایک تھا اور کمال تھا‘ بادشاہ نے یہ محل اپنی عزیز ترین ملکہ کیتھرائن کےلئے بنوایا تھا‘ محل کی دیواریں تک سونے سے ڈھکی ہوئی تھیں۔

ملکہ کیتھرائن کی بیٹی کوئین ایلزبتھ نے 1750ءمیں اسے نئے سرے سے بنوایا‘ اٹلی سے معمار لائے گئے اور معماروں نے محل کو آرٹ پیس بنا دیا‘ روس کے عظیم شاعرالیگزینڈر پوشکن کا بچپن اور جوانی اسی محل کی دیواروں کے نیچے گزری تھی‘ پوشکن اسی علاقے کے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتا تھا‘ روس میں روایت تھی خوش حال لوگ دو گھر بناتے تھے‘ یہ گرمیوں میں شہر سے دیہات میں شفٹ ہو جاتے تھے‘ گرمیوں کے گھر ڈاچے کہلاتے تھے۔



ڈاچے فارم ہاﺅسز ہوتے تھے اور یہ لوگ سردیوں میں ڈاچے سے بڑے شہروں میں چلے جاتے تھے‘ پوشکن کا ڈاچا محل کے قریب تھا‘ حکومت نے1837 ءمیں پوشکن کے قتل کے بعد اس علاقے کو پوشکن ٹاﺅن ڈکلیئر کر دیا جبکہ اس کے ڈاچے کو میوزیم بنا دیا‘ میں آخری دن پوشکن ٹاﺅن گیا‘ ملکہ کیتھرائن کا محل بھی دیکھا اور پوشکن کا ڈاچا بھی‘محل دولت کا سفاکانہ قتل تھا جبکہ پوشکن کا گھر مسکین شاعر کا گھر تھا‘ سادہ مگر پروقار۔ زار کا دوسرا محل سینٹ پیٹرز برگ میں تھا۔

یہ ونٹر پیلس کہلاتا ہے اور یہ بھی زمین پر انسانی صناعی کا نقطہ کمال ہے‘ ملکہ ایلزبتھ آرٹ کے خبط میں مبتلا تھی ‘ اس نے اپنے زمانے کے تمام بڑے آرٹس بھی خرید لئے تھے اور قدیم فن پارے بھی‘ آپ کو پیرس کے لوومیوزیم کے بعد دنیا کی سب سے بڑی آرٹ کولیکشن ونٹر پیلس میں ملتی ہے‘ محل میں تین ہزار مجسمے اور پینٹنگز ہیں اور ہر پینٹنگ پانچ پانچ سو ملین ڈالر مالیت کی ہے۔ونٹر پیلس انسانی المیوں کی عبرت گاہ بھی ہے‘ پہلا المیہ ملکہ ایلزبتھ تھی۔

ملکہ نے اربوں روپے خرچ کرکے دنیا کا مہنگا ترین محل بنوایا لیکن وہ محل مکمل ہونے سے پہلے انتقال کر گئی‘ وہ ممتاز محل کی طرح اپنا شاہکار نہ دیکھ سکی۔ دوسرا المیہ الیگزینڈر دوم تھا‘ الیگزینڈر دوم روس کاانقلابی زار تھا‘ اس نے 1861ءمیں روس میں غلامی پر پابندی لگا دی‘ تمام کسانوں‘ ہنر مندوں اور غلاموں کو آزاد کر دیا لیکن یہ آزادی المیہ ثابت ہوئی‘ کسان اور مزدور نسل در نسل غلام چلے آ رہے تھے‘ آزادی کیا ہوتی ہے یہ لوگ سرے سے نہیں جانتے تھے۔.

مالکان نے حکومت کے دباﺅ میں آ کر انہیں نکال دیا‘یہ لوگ پرائیویٹ کام نہیں جانتے تھے‘ غلامی ان کے ڈی این اے کاحصہ بن چکی تھی چنانچہ یہ بھوکے مرنے لگے‘ دوسری طرف لینڈ لارڈز بادشاہ کے خلاف ہو گئے‘ بادشاہ پر سات حملے ہوئے لیکن وہ بچ گیا‘ آخری حملہ نہر کے کنارے ہوا‘ بادشاہ نہر کے کنارے کھڑا تھا‘ کسی نے اس پر بم پھینک دیا‘ بادشاہ کی بگھی تباہ ہو گئی لیکن وہ بچ گیا‘ پولیس نے مجرم کو گرفتار کر لیا‘ بادشاہ نے مجرم سے لائیو تفتیش شروع کر دی۔

Javed Chaudhry Columns 10 May 2019, Javed Chaudhry Columns Today, Javed Chaudhry Column, Javed Chaudhry Columns Express.



اس دوران مجرم کا دوسرا ساتھی بم لے کر آیا اور بادشاہ کے قریب پہنچ کر بم پھاڑ دیا‘ یہ تاریخ کا پہلا خودکش بارودی حملہ تھا‘ حملہ آور مارا گیا لیکن بادشاہ شدید زخمی ہو گیا‘ بادشاہ کے جسم کا آدھا خون بہہ گیا‘ خون پتھروں پر گرا اور جم گیا‘ بادشاہ کے بیٹے اور اگلے بادشاہ الیگزینڈر سوم نے ان پتھروں کے گرد شاندار چرچ تعمیر کرایا‘ یہ واقعہ 1881ءمیں پیش آیا تھا چنانچہ چرچ کی اونچائی 81 میٹر رکھی گئی‘ یہ چرچ آج بھی موجود ہے اور یہ بلڈ کیتھڈرل کہلاتا ہے‘ یہ پیٹرز برگ کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔

بادشاہ چھ دن نزع کے عالم میں رہا‘ ڈاکٹر اس کا خون نہ روک سکے اور یوں وہ انتقال کر گیا لیکن اس کے خون کے دھبے آج بھی زمین پر موجود ہیں اور ان دھبوں کے گرد چرچ بھی‘ میں چرچ بھی گیا اور آنجہانی بادشاہ کے خون کے دھبے بھی دیکھے‘ الیگزینڈر دوم ونٹر پیلس میں فوت ہوا تھا‘ محل کی دیوارپر اس کی پینٹنگ موجود ہے اور محل کا آخری المیہ انقلاب روس تھا‘ لینن نے انقلاب کا آغاز سینٹ پیٹرزبرگ سے کیا تھا‘ لینن کی تقریروں نے پورے ملک میں آگ لگا دی۔

عوام نے ونٹر پیلس کا گھیراﺅ کر لیااور15 مارچ 1917ءکو نکولس دوم کا تختہ الٹ دیا‘ روس کے آخری زار نکولس دوم اور ملکہ الیگزینڈرا کو گرفتار کر لیا گیا‘انقلابیوں نے نکولس دوم کو خاندان سمیت قید میں ڈال دیا‘16 اور 17جولائی 1918ءکی درمیانی شب انقلابیوں نے شاہی خاندان کے تمام افراد قتل کر دیئے ‘ کوئی بچہ اورکوئی بچی تک نہ بچی تاکہ بانس تک محفوظ نہ رہے‘ میں ونٹر پیلس کا وہ ڈائننگ ہال دیکھنے کےلئے خصوصی طور پر ونٹر پیلس گیا جہاں شاہی خاندان نے پناہ لی تھی۔

میز پر کراکری رکھی تھی اور کرسیوں کے زاویے تک انقلاب کی اس خونی شام جیسے تھے‘ روس کے آخری بادشاہ نے خاندان کے ساتھ اس ہال میں اپنا آخری شاہی کھانا کھایا تھا‘ دربار ہال کے دروازے اور کھڑکیاں کھلی تھیں‘ کھڑکیوں سے سمندر کے اداس پانیوں کا بین سنائی دے رہا تھا‘ بادشاہ نے چائے کا آخری گھونٹ بھرا اور اس کی سلطنت ہمیشہ ہمیشہ کےلئے ختم ہو گئی‘ وہ ان گندے‘ بدبودار اور میلے لوگوں کے ہتھے چڑھ گیا جنہیں وہ انسان نہیں سمجھتا تھا‘ وہ اس کی نظروں میں چمپینزی تھے۔

Javed Chaudhry Columns 10 May 2019, Javed Chaudhry Columns Today, Javed Chaudhry Column, Javed Chaudhry Columns Express.



نکولس دوم اور ملکہ الیگزینڈرا کی پینٹنگ شاہی گیلری کی آخری دیوار کے آخری کونے میں لگی تھی‘ وہ دونوں شاہی لباس میں تھے لیکن نہ جانے کیوں ان کے چہروں پر اداسی کے جال بچھے تھے‘ انقلابیوں نے صرف بادشاہ کی کہنہ عمر ماں کی جان بخش دی‘ماںماریہ فیوڈورووناملک نہیں چھوڑنا چاہتی تھی لیکن وہ خاندان کے قتل کے بعد لندن شفٹ ہونے پر مجبور ہوگئی‘وہ وہاں سے ڈنمارک چلی گئی اور 13 اکتوبر1928ءکو ڈنمارک میں انتقال کیا اور روسی حکومت کے حکم پر اس کی لاش روس لا کر دفن کر دی گئی یوں شاہی خاندان کے تمام افراد روسی زمین پر اکٹھے ہو گئے۔

سینٹ پیٹرز برگ کمال شہر ہے‘ فضا میں ایک طراوت‘ ایک مدہوش غنودگی ہے‘ یہ دوستوفسکی‘ پوشکن اور ترگنیف کا شہر تھا‘ ٹالسٹائی‘ میکسم گورکی اور چیخوف بھی لاتعداد مرتبہ سینٹ پیٹرز برگ آئے اور اس کی فضا میں اپنی خوشبو چھوڑ گئے‘ آپ اگر بلڈ کیتھڈرل سے نہر کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے شہر کی مرکزی شاہراہ کی طرف آئیں تو مرکزی پل کے کنارے اپارٹمنٹس کی ایک بلڈنگ ہے‘ بلڈنگ کے نیچے ”لٹریری کیفے“ ہے‘ آپ کو پوشکن‘ دوستوفسکی‘ ٹالسٹائی اور گورکی کی اکثر تحریروں میں اس کا ذکر ملتا ہے۔

یہ کیفے 1816ءمیں بنا اور یہ ادیبوں‘ اداکاروں‘ مصوروں اور موسیقاروں کا خاص ٹھکانہ ہوتا تھا‘ پوشکن قتل ہونے سے قبل29 جنوری 1837ءکو اسی کیفے سے اٹھ کر گیا تھا اور پھر کبھی واپس نہیں آ سکا تھا‘ پوشکن کی کرسی 182سال بعد آج بھی کیفے میں موجود ہے‘ اس کی کراکری بھی قائم ہے‘ یہ کیفے آج بھی آباد ہے اور دنیا جہاں کے ادیب‘ مصور اور سیاستدان یہاں آتے ہیں اور دیر تک یہاں بیٹھتے ہیں‘ میں نے پانچ مئی کی پوری شام وہاں گزاری۔

دیواروں پر ان تمام مشاہیر کے ناموں کی تختیاں لگی تھیں جو یہاں آتے اور بیٹھتے تھے‘ کیفے کی فضا میں ادب اور فن کی خوشبو بھی تھی اور احترام کی حرارت بھی‘ سیڑھیوں کے سامنے دیوار پر پوشکن کی پینٹنگ بنی تھی‘ وہ گارڈن میں بیٹھا تھا‘ اس کے ہاتھ میں گلدستہ تھا اور وہ سیڑھیوں سے اترنے والے ہر شخص کو دیکھ کر مسکراتا تھا‘ وہ اسی گلی میں نہر کی دوسری طرف اپارٹمنٹ میں رہتا تھا‘ یہ گلی ونٹر پیلس کے قریب تھی‘ پوری گلی میں اپارٹمنٹس کی عمارتیں تھیں۔

زار کے دور میں یہاں امراءرہتے تھے‘ یہ اپنے اپارٹمنٹ اور کمرے کرائے پر بھی دے دیتے تھے‘ پوشکن کرائے پر رہتا تھا‘ کرائے کا یہ فلیٹ بھی اب عجائب گھر ہے‘ آپ ادب اور تخلیقی کام کا کمال دیکھئے اپارٹمنٹ کا مالک گمنامی میں مر گیا لیکن کرایہ دار اپارٹمنٹ کو بھی امر کر گیا‘ یہ اپارٹمنٹ اب عجائب گھر ہے اور یہ روزانہ اتنے پیسے کماتا ہے جتنے پوشکن پورے سال میں فلیٹ کے مالک کو ادا کرتا تھا۔میں سینٹ پیٹرز برگ آﺅں اور میں دوستوفسکی کے گھر کی زیارت نہ کروں یہ کیسے ممکن تھا۔

عمیرلاہور کے رہائشی ہیں‘ یہ سینٹ پیٹرز برگ میں بزنس کرتے ہیں‘ یہ مجھے ملے اور مجھے اپنا گرویدہ بنا لیا‘ عمیر نے میرے لئے گائیڈ کا بندوبست کر دیا‘ لوبا روسی گائیڈ تھی‘ میں نے اس سے دوستو فسکی کا گھر تلاش کرنے کی درخواست کی‘ لوبا نے بڑی مشکل سے وہ گھر تلاش کیا اور ہم ادب کے اس عظیم انسان کے اس اپارٹمنٹ کی طرف چل پڑے جہاں اس نے زندگی کا آخری حصہ گزارا تھا‘ دوستوفسکی کوئی دیوتا‘ صوفی یا اوتار نہیں تھا لیکن ادب پرست اس کی پرستش کرتے ہیں‘ یہ اسے ادب کا بھگوان سمجھتے ہیںاور ہم اس بھگوان کے دروازے پر کھڑے تھے۔

Javed Chaudhry Columns 10 May 2019, Javed Chaudhry Columns Today, Javed Chaudhry Column, Javed Chaudhry Columns Express.




آرکائیوڈی انڈیا القصر کے مرکزی دروازے کے سامنے ہے‘ سپین نے سولہویں صدی کے آغاز میں ہندوستان میں اپنی پہلی کالونی بنائی اورتاجر تجارتی سامان لے کر انڈیا جانے لگے‘ بادشاہ نے جہازوں اور جہازرانوں کا ریکارڈ رکھنے کےلئے سیویا میں کمپلیکس بنا دیا‘ یہ شروع میں انڈین کاسا کہلاتا تھا‘امریکا سے تجارت شروع ہوئی تو امریکی ریکارڈ بھی یہیں رکھا جانے لگا‘ اٹھارہویں صدی میںتجارت ختم ہو گئی تو حکومت نے اس عمارت کو آرکائیو ڈی انڈیا کا نام دے دیا‘

یہ دنیا کے چند بڑے آرکائیوز میں شمار ہوتی ہے‘ اس میں پانچ سو سال کے دوران امریکا اور انڈیا جانے والے لوگوں‘ تجارتی سامان‘ آمدنی‘ اخراجات اور تجارتی جہازوں کا ڈیٹا ہے‘ یہ ڈیٹا کتنا زیادہ ہے آپ اس کا اندازہ الماریوں سے لگا

لیجئے‘ گائیڈ نے بتایا اگر آرکائیو ڈی انڈیا کی تمام الماریاں قطار میں کھڑی کر دی جائیں تو یہ نو کلو میٹر تک پھیل جائیں گی‘ یہ کلونیل طرز کی سپینش عمارت ہے اور یہ دل میں کھب جاتی ہے‘ سیویا کا جدید محل آرکائیو ڈی انڈیا سے تھوڑے سے فاصلے پر واقع ہے‘یہ محل 1929ءکی نمائش کےلئے بنوایا گیا تھا‘ یہ سرخ اینٹوں کی سرخ عمارت ہے اور یہ دائیں سے بائیں دور تک پھیلی ہے‘ سپین کے پچاس صوبے ہیں‘ محل میں بھی پچاس کمرے ہیں اور ہر کمرہ ایک صوبے سے منسوب ہے‘ ملک کے چار حصے ہیں چنانچہ محل میں مصنوعی نہر بنا کر اس پر چار پل بنا دیئے گئے‘ پورے محل کے فیس پر نیلی ٹائلیں اور سنگ مر مر کے چھوٹے ستون ہیں‘ یہ مورش کلچر اوراسلامی تہذیب کی نشانی ہیں‘ عمارت مشہور آرکی ٹیکٹ اوسوریو نے ڈیزائن کی‘اوسوریوکا مجسمہ محل کے سامنے ایستادہ ہے لیکن اس شاندار ٹریبوٹ کے باوجود اوسوریوکی زندگی کا آخری حصہ المیے میں گزرا‘ بادشاہ یہ محل جلد سے جلد مکمل دیکھنا چاہتا تھا لیکن آرکی ٹیکٹ اپنے ڈیزائن پر کمپرومائز کرنے کےلئے تیار نہیں تھا‘ طاقت اور پروفیشنل ازم کا مقابلہ ہوا اور طاقت جیت گئی‘ بادشاہ نے کانٹریکٹ منسوخ کر دیا‘
آرکی ٹیکٹ اپنی پوری زندگی کی کمائی محل پر لگا چکا تھا‘ کمائی ایک دن میں ڈوب گئی اور آرکی ٹیکٹ کسمپرسی کے عالم میںانتقال کر گیا لیکن اس کا ڈیزائن آج بھی سپین کو اربوں روپے کما کر دے رہا ہے‘ محل کے صحن میں برآمدے کے ساتھ ساتھ سپین کی تاریخ کے اہم واقعات کے موزیک ہیں‘ یہ باریک پتھروں کی پینٹنگز ہیں‘ میں سقوط غرناطہ اور کولمبس کی روانگی کے موزیک پر رک گیا‘ غرناطہ کے بوتھ میں ابوعبداللہ محمد الحمرا کی چابی فرڈیننڈ کے حوالے کر رہا تھا اور ملکہ ازابیلا مسکرا رہی تھی‘

میں نے آہ بھری اور آگے بڑھ گیا جبکہ کولمبس کے بوتھ میں کولمبس جہازوں کو روانگی کا حکم دے رہا تھا‘ محل کی بغل میں چند سو میٹر کے فاصلے پر دنیا کی سگریٹ کی پہلی فیکٹری تھی‘ یہ بھی ایک وسیع عمارت ہے‘ تمباکو‘ مکئی اور آلو امریکا سے یورپ آئے تھے‘ دنیا 1500ءتک ان کی شکل اور ذائقے سے نابلد تھی‘ ریڈانڈین تمباکو کے پتوں کا خشک چورا تمباکو کے پتے میں لپیٹ کر سلگاتے تھے اور اس کے کش لیتے تھے‘ یہ لوگ اسے سگار کہتے تھے‘



کولمبس امریکا سے ہزاروں سگار لے کر آیا‘ سگار سپینش اشرافیہ کےلئے نئی چیز تھے چنانچہ یہ دھڑا دھڑبکنے لگے‘ امراءسگار پیتے تھے اور اس کا آخری حصہ گلی میں پھینک دیتے تھے‘ غریب لوگ وہ حصہ اٹھا کر کھولتے تھے‘ سگار کا تمباکو کاغذ میں لپیٹتے تھے اور سلگا کر پینا شروع کر دیتے تھے‘ یہ بیڑی کہلاتی تھی‘ بیڑی کو ہسپانوی زبان میں سگریٹی یعنی غریب آدمی کا سگار کہا جانے لگا‘ تاجروں نے اس ٹرینڈ کو کیش کرانے کا فیصلہ کیا‘ وہ تمباکو امپورٹ کرنے لگے اورعام لوگ یہ تمباکو کاغذ میں لپیٹ کر پینے لگے‘

یہ ٹرینڈ 1750ءمیں سگریٹ فیکٹری میں تبدیل ہو گیا‘ سیویا میں پہلی سگریٹ فیکٹری بنی‘ بارہ سو خواتین بھرتی کی گئیں اور یہ ہاتھ سے سگریٹ بنانے لگیں‘ فیکٹری مالکان نے اربوں روپے کمائے‘ یہ فیکٹری 1950ءتک چلتی رہی‘ بند ہوئی تو حکومت نے اس میں آرٹ‘ کلچر اور زبان کی یونیورسٹی بنا دی‘ میں عمارت کے سامنے کھڑا تھا‘ عمارت کے سروں پر چرچ اور جیل تھی‘ چرچ میں کارکن خواتین عبادت کرتی تھیں جبکہ جیل میں سگریٹ چرانے والی خواتین بند کر دی جاتی تھیں‘ فیکٹری مالکان نے چوری سے بچنے کےلئے عمارت کے گرد خندق کھود رکھی تھی‘ وہ خندق آج تک موجود ہے۔

سیویا کا کیتھڈرل شہر کی اہم ترین عمارت ہے‘ یہ عمارت ماضی میں مسجد ہوتی تھی‘ عیسائیوں نے اشبیلیہ کے زوال کے بعد مسجد شہید کر دی تاہم مسجد کا مینار‘ صحن‘ دیوار کا ایک حصہ‘ مین گیٹ اور برآمدہ بچ گیا‘ یہ پانچوں آج بھی وہاں موجود ہیں‘یہ چرچ دنیا کا تیسرا بڑا کیتھڈرل ہونے کے باوجود شہید مسجد کا مقابلہ نہیں کر پا رہا‘ مسجد کا مینار پوری دنیا میں سیویا کا شناختی نشان ہے‘ آپ جب اور جہاں سیویا ٹائپ کریں گے اشبیلیہ کی شہید مسجد کا مینار سامنے آ جائے گا‘

مراکش کے مسلمان مسجد کےلئے چورس مینار بناتے ہیں‘ مینار پچاس بائی پچاس فٹ کا ایک کمرہ ہوتا ہے اور یہ کمرہ منزل بہ منزل اوپر اٹھتا چلا جاتا ہے‘ انتہائی بلندی پر پہنچ کر مینار کی چھت ڈال دی جاتی ہے اور چھت پر نسبتاً چھوٹا نوک دار مینار بنا یا جاتا ہے‘ مینار سازی کا یہ فن مراکش سے اندلس آیا‘ اس میں مقامی معماروں نے کھڑکیاں‘ جھروکے اور جالیاں بنائیں اور یوں یہ اصل سے زیادہ خوبصورت ہو گیا‘ عیسائی فاتحین نے 1401ءمیں مسجد گرانا شروع کی اور یہ لوگ جب مینار تک پہنچے تو مینار کی خوبصورتی اور کروفر نے ان کے بازو شل کر دیئے‘ مینار بچ گیا اور یہ آج سپین میں اسلام کے سنہری دور کا نقیب بن کر کھڑا ہے‘

آپ اگر کیتھڈرل کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوں تو آپ مسجد کے صحن میں آ جاتے ہیں‘ صحن میں آج بھی مالٹے کے درخت‘ فوارہ اور گہری سبز بیلیں ماضی اور حال کی گانٹھ بن کر موجود ہیں‘ بائیں جانب کیتھڈرل کے ہال کے دروازے سے پہلے مسجد کا برآمدہ بھی موجود ہے اور یہ برآمدہ اپنے منہ سے بول رہا ہے آپ نے جس دن مجھے ہٹانے کی کوشش کی‘ آپ کا سارا چرچ گر جائے گا‘ برآمدہ دراصل چرچ کی بنیاد ہے‘ برآمدہ ہٹانے سے چرچ کی عمارت واقعی قائم نہیں رہ سکے گی چنانچہ شہید مسجد کی یہ آخری نشانیاں کیتھڈرل کےلئے چیلنج بن کر کھڑی ہیں‘ کیتھڈرل کا آلٹر (قربان گاہ) دنیا کا سب سے بڑا آلٹر ہے‘

حضرت عیسیٰ ؑکی پوری زندگی مجسموں کی شکل میں آلٹر میں موجود ہے اور یہ تمام مجسمے سونے کے ہیں‘ میں نے پوری دنیا میں کسی جگہ اتنا سونا نہیں دیکھا لیکن یہ سارا سونا اور یہ ساری دلفریبی شہید مسجد کے ایک مینار کا مقابلہ نہیں کر پاتی‘ کیتھڈرل آٹھ سو سال گزرنے کے باوجود سیویا کا شناختی نشان نہ بن سکا‘ شہر کا شناختی نشان آج بھی مسجد کا مینار ہے‘ کیتھڈرل کا مین گیٹ بھی آٹھ سو سال سے قائم ہے‘ یہ کبھی مسجد کا مرکزی دروازہ ہوتا تھا‘ یہ دروازہ بھی قائم ہے اور اس پر کندہ آیات بھی‘ بے شک اللہ کے نام کو کوئی طاقت نہیں مٹا سکتی۔

کولمبس کی قبر سیویا کے کیتھڈرل میں ہے‘ کرسٹوفر کولمبس ایک حیران کن کردار تھا‘ وہ 1451ءمیں اٹلی کے شہر جنوا میں پیدا ہوا‘ 19 سال کی عمر میں مہم جوئی شروع کی‘ دھکے کھاتا ہوا پرتگال پہنچا‘ شادی کی‘ بیٹا ڈیگو کولمبس پیدا ہوا‘ بیوی کا انتقال ہوا اور وہ بیٹے کو لے کر سیویا آ گیا‘ ہندوستان کا قریب ترین روٹ دریافت کیا اور فنانسنگ کےلئے بادشاہوںکے پیچھے بھاگنے لگا‘ وہ آسٹریا‘ پرتگال اور سیویا کے بادشاہوں سے ملا لیکن کسی نے اس فضول کام میں دلچسپی نہ لی‘

وہ تھک ہار کر سیویا میں بیٹھ گیاتاہم وہ ملکہ ازابیلا کو قائل کرنے میں کامیاب ہو گیا‘ ملکہ نے اس سے وعدہ کر لیا اگر وہ غرناطہ فتح کرنے میں کامیاب ہو گئی تو وہ اس کے منصوبے کو فنانس کر دے گی‘ وہ فنڈنگ کے لالچ میں عیسائیوں کے لشکر میں شامل ہو گیا‘ قسمت نے یاوری کی اور غرناطہ فتح ہو گیا ‘ وہ تین جہازوں سانتا ماریا‘ نینا اور پنٹا پر87لوگ لے کرتین اگست 1492کو سیویا سے نکلا‘دریا وادی الکبیر سے ہوتا ہوااٹلانٹک اوشن میں اترا اور 36 دن بعد بہاماس پہنچ گیا‘

یہ ایک بہت بڑا بریک تھرو تھا‘ وہ 15 مارچ 1493 کو واپس لوٹ آیا‘ 25ستمبر1493ءکو دوسری مرتبہ امریکا گیا‘ اس نے اس بار ڈومنیکا اور کیوبا دریافت کر لیا‘ یہ کامیابی سونے کی کان ثابت ہوئی اور ہسپانوی تاجر دھڑا دھڑ امریکا جانے لگے‘ کولمبس‘ تاجر اور سیویا کا شاہی خاندان نئی دریافت کو انڈیا کا قریب ترین راستہ سمجھ رہے تھے‘ کولمبس پوری زندگی امریکا کو انڈیا‘ ڈومنیکا کو چین اور کیوبا کو جاپان سمجھتا رہا‘ وہ شاندار جہازران لیکن ناکام ترین ایڈمنسٹریٹر تھا‘

وہ اپنی حماقتوں کی وجہ سے اپنے لوگوں کے ہاتھوں گرفتار تک ہو گیا‘ ملکہ ازابیلا نے فوج بھجوا کر اس کی جان بچا لی‘ حکومت نے اس کے سفر پر بھی پابندی لگا دی‘ وہ شدید ذہنی خلجان کا شکار ہوا اور 1506ءمیں والا ڈولیڈشہر میں انتقال کر گیا‘ اس کا بیٹا ڈیگو اس کی لاش سیویا لے کر آیا اور اسے شہر کے باہر دفن کر دیا‘ ڈیگو کی وفات کے بعد اس کی بیوی ماریا اپنے خاوند اور سسرکولمبس کی لاش ڈومنیکاساتھ لے گئی اور انہیں ڈومنیکا میں سانتو ڈومینگوکیتھڈرل میں دفن کر دیا‘

کولمبس اڑھائی سو سال ڈومنیکا میں دفن رہا‘ 1795ءمیں ڈومنیکا میں حالات خراب ہو گئے‘ کیوبا اس وقت سپینش کالونی تھا‘ حکومت نے اس کی لاش نکالی اور کولمبس کو ہوانا میں دفن کر دیا‘ 1898ءمیں جب کیوبا کے حالات بھی خراب ہو گئے تو کولمبس کی لاش ہوانا سے سیویا لاکر کیتھڈرل میں دفن کر دی گئی‘ کولمبس کا دوسرابیٹا ہرنانڈو بھی کیتھڈرل میں دفن ہے۔1877ءمیں سانتو ڈومینگو کیتھڈرل میں کھدائی کے دوران ایک باکس دریافت ہوا تھا جس کے اوپر کرسٹوفرکولمبس کا نام لکھا تھا اور اس کے اندر 13 بڑی اور 28 چھوٹی ہڈیاں تھیں‘

کھدائی کرنے والوں نے دعویٰ کیا کولمبس کی سپین(سیویا) لے جائی جانے والی باقیات اصل نہیں ہیں‘یہ بحث 125سال چلتی رہی‘ یہ مسٹری حل کرنے کےلئے2002ءمیں سانتوڈومینگوکیتھڈرل اور سیویاکیتھڈرل میں موجود دونوں قبروں کی کھدائی کی گئی‘ باقیات کا ڈی این اے کیا گیااور ثابت ہوگیا سیویا کیتھڈرل کی باقیات ہی اصل میں کرسٹوفرکولمبس کی باقیات ہیں‘ کولمبس واقعی سیویا کیتھڈرل میں دفن ہے لیکن لاش کی بار بار کی نقل مقانی سے کولمبس کی باقیات صرف ڈیڑھ سو گرام بچی تھیں اور میں اس وقت ان باقیات کے سامنے کھڑا تھا۔


اور میں پھر بالآخر سیویا پہنچ گیا اور یوں رومیوں کا ہسپالس‘ مسلمانوں کا اشبیلیہ اور ہسپانیوں کا سیویا میرے سامنے تھا۔مورخین1500ءسے 2000ءتک پانچ سو سال کی تاریخ کو دنیا کا جدید ترین دور کہتے ہیں اور سیویا  اس دور کا نقطہ آغاز تھا‘ امریکا اس شہر سے دریافت ہوا ‘ سگریٹ‘ سگار اور بیڑی نے اس شہر میں جنم لیا‘ مکئی‘ آلو اور چاکلیٹ اس شہر سے جدید دنیا میں داخل ہوئے ‘ افریقہ کے سیاہ فام غلام پہلی مرتبہ اس شہر سے امریکا پہنچائے گئے ‘ کافی‘ گھوڑے اور گنا اس شہر سے لاطینی امریکا کا حصے بنے.

یہ وہ شہر تھا جس نے پوری دنیا میں آتشک اور سوزاک جیسی جنسی بیماریاں پھیلائیں اور یہ وہ شہر تھا جو اندلس میں مسلمانوں کے زوال کی پہلی اینٹ بنا غرض آپ جدید دنیا کو جس زاویئے‘ جس اینگل سے بھی دیکھیںگے سیویا آپ کو درمیان میں نظر آئے گا اور میں دس نومبر 2018ءکو اس عظیم سیویا پہنچ گیا‘ کرسٹوفر کولمبس‘ ابن بطوطہ اور ابن خلدون کے سیویا میں۔سیویا کا پہلا حوالہ یونان کی رزمیہ داستان ہیلن آف ٹرائے میں ملتا ہے‘ داستان کا مرکزی کردار ٹروجن ہسپالس (سیویا) میں پیدا ہوا تھا‘ دوسرا اہم حوالہ مورش مسلمان ہیں‘ طارق بن زیاد کے قدموں نے 711ءمیں سپین کی سرزمین کو چھوا‘ وہ بربر غلام زادہ سپین میں جس جگہ اترا وہاں طریفہ کے نام سے شہر آباد ہوا‘ یہ شہر آج بھی 13 سو سال سے قائم ہے اور یہ سپین اور مراکش کے درمیان اہم بندرگاہ ہے‘ مراکش کا شہر طنجہ (تانجیر) طریفہ سے صرف بیس منٹ کے آبی سفر کے فاصلے پر واقع ہے‘ طریفہ اور طنجہ کے درمیان ہر گھنٹے بعد فیری چلتی ہے‘ یہ فیری دو تہذیبوں کے ساتھ ساتھ یورپ اور افریقہ دو براعظموں کے درمیان رابطہ بھی ہے‘ بنو امیہ کے زمانے میں موسیٰ بن نصیر شمالی افریقہ کے کمانڈر اور گورنر تھے‘ طارق بن زیاد ان کا غلام تھا‘ طارق بن زیاد نے 711ءمیں جبل الطارق (جبرالٹر) فتح کر لیا اور وہ سپین کے اہم ترین شہروں کے طرف بڑھنے لگا ‘ موسیٰ بن نصیر کا صاحبزادہ عبدالعزیز بھی طریفہ میں اترا اور وہ ہسپالس کی طرف بڑھنے لگا‘ عبدالعزیز بن موسیٰ نے 712ءمیں ہسپالس فتح کیا اور شہر کا نام تبدیل کر کے اشبیلیہ رکھ دیا‘
یہ شہر پھر 23 نومبر 1248ءعیسائیوں کے ہاتھوں ختم ہونے تک اشبیلیہ ہی رہا‘ اشبیلیہ کی فتح کے دو سو سال بعد 2 جنوری 1492ءکو مسلمانوں کی آخری ریاست غرناطہ بھی ہمارے ہاتھوں سے نکل گئی‘ آخری مسلمان فرمانروا ابو عبداللہ محمد اپنے 1130 لوگوں کے ساتھ مراکش پہنچا‘ فیض گیا اور یوں سپین میں اسلامی ریاست کا پرچم ہمیشہ ہمیشہ کےلئے سرنگوں ہو گیا‘ سیویا کا تیسرا حوالہ کرسٹوفر کولمبس ہے‘ وہ سقوط غرناطہ کے وقت عیسائی بادشاہ فرڈیننڈ اور ملکہ ازابیلا کے ساتھ کھڑا تھا‘ کولمبس ہندوستان کا نیا راستہ تلاش کرنا چاہتا تھا‘ وہ فنڈنگ کےلئے یورپ کے تین بادشاہوں کے پاس گیا مگر انکار ہو گیا‘

وہ آخر میں غرناطہ کے اسلامی سقوط پر نظریں جما کر کھڑا ہو گیا‘ جوں ہی الحمرا سے اسلامی پرچم اتارا گیا‘ وہ آگے بڑھا‘ ملکہ ازابیلا کا ہاتھ چوما‘ مبارک باد دی اور فنڈنگ کی درخواست کر دی‘ ملکہ اس وقت خوشی کی انتہا کو چھو رہی تھی‘ اس نے کھڑے کھڑے کولمبس کا منہ موتیوں سے بھر دیا یوں کولمبس تین اگست 1492ءکو سیویا سے روانہ ہوا اور ہندوستان کا نیا راستہ تلاش کرتے کرتے دنیا کو نئی دنیا سے متعارف کرا گیا اور اس کے بعد پوری دنیا کا نقشہ بدل گیا‘ دنیا صرف دنیا نہ رہی حیران کن دنیا بن گئی۔



میں یکم نومبر کو روانہ ہوا‘ کینیڈا میری پہلی منزل تھی‘ میں ٹورنٹو اور کیلگری میں نو دن گزار کر دس نومبر کو سپین کے شہر مالگا اترا‘ یہ شہر مسلمانوں کے اندلسی دور میں مالقا کہلاتا تھا‘ عیسائی فوجوں نے 1487ءمیں مالقا کے امیر کو شکست دی اور پھر اس کے بعد پورا اندلس پکے ہوئے سیب کی طرح عیسائیوں کو گود میں آ گرا‘ میرے دوست اور بھائی سہیل مقصود مالگا ائیرپورٹ کے باہر میرا انتظار کر رہے تھے‘ سہیل مقصود ایک سادہ‘ مخلص اور گرم جوش انسان ہیں‘

غرناطہ میں کیش اینڈ کیری کے مالک ہیں اور انتہائی دلچسپ مگر غیرسیاسی دوست ہیں‘ ہم مالگا سے سیویا روانہ ہو گئے‘ ہائی وے کے دونوں طرف زیتون کے باغ تھے‘ اوپر جنوبی سپین کا نیلا آسمان تنا ہوا تھا اور نیچے ہم ڈرائیو کر رہے تھے‘ سیویا مالگا سے ساڑھے تین گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘ شہر کی پانچ سو سال کی جدید تاریخ تین حصوں میں تقسیم ہے‘ امریکا کی دریافت کا دور‘ یہ دور 1500ءسے ساڑھے 1800ءتک محیط ہے‘ سیویاان ساڑھے تین سو سال میں دنیا کا امیر ترین شہر اور سپین رئیس ترین ملک بن گیا‘ کارلو فائیو(چارلس فائیو)1516ءمیں سپین کا بادشاہ بنا‘

یہ دنیا کا پہلا بادشاہ تھا جس کی سلطنت میں سورج نہیں ڈوبتا تھا‘ یہ تھائی لینڈ‘ ایک چوتھائی ہندوستان‘ آدھے یورپ اور پورے امریکا کا مالک تھا چنانچہ سورج چل چل کر اور جل جل کر تھک جاتا تھا لیکن کارلو فائیو کی سلطنت ختم نہیں ہوتی تھی مگر پھر بحیرہ ہند‘ یورپ اور امریکا کے زیادہ تر ملک سپین کے ہاتھ سے نکل گئے‘ امریکا اور ہندوستان سے تجارت ختم ہو گئی‘ ملک طوائف الملوکی کا شکار ہوگیا اور آہستہ آہستہ یورپ کا مرد بیمار بنتا چلا گیا یوں سپین کا پہلا سنہری دور اختتام پذیرہو گیا‘

سپین کا دوسرا دور 1929ءمیں شروع ہوا‘ بادشاہ الفانسونے سپین کی معیشت کو اٹھانے کا فیصلہ کیا‘ اس نے امریکا اور لاطینی امریکا کے ملکوں سے رابطہ کیا‘ کولمبس کا واسطہ دیا‘ نئی دنیا راضی ہوئی اور 1929ءکو سیویا میں جدید دنیا کی سب سے بڑی نمائش شروع ہو گئی‘ لاطینی امریکا کے تمام ملکوں نے سیویا میں اپنے قونصل خانے بنائے‘ اپنے تجارتی جہازوں کا رخ سپین کی طرف موڑا اور یوں سپین ایک بار پھر ٹیک آف کرنے لگا اور تیسرا دور 1992ءمیں شروع ہوا‘

بارہ اکتوبر1992ءکو امریکا کی دریافت کے پانچ سو سال پورے ہوئے‘سپین کے وزیراعظم فلپ گونزا لیز مارکوئز نے امریکی اقوام کو ایک بار پھر راضی کیا‘ سیویا میں امریکی ٹیکنالوجی اور مصنوعات کی ایک اور بین الاقوامی نمائش ہوئی اور سیویا کی مہربانی سے سپین ایک بار پھر جدید دنیا کے امیر ترین ملکوں میں شمار ہونے لگا‘ سپین آج جو کچھ ہے اس کی وجہ 1929ءاور 1992 کی نمائشیں ہیں۔ہم نے سیویا کی مرکزی شاہراہ پر نیم جدید ہوٹل سلکن اندلوسیہ میں قیام کیا‘ یہ سڑک 1929ءکی نمائش کےلئے تعمیر کی گئی تھی ‘

لاطینی امریکا کے زیادہ تر قونصل خانے اس سڑک پر واقع ہیں‘ پرانا شہر ہوٹل سے چار کلو میٹر دور تھا‘ ہم رات کے وقت سیویا کی قدیم گلیوں میں اتر گئے‘سیویا میں چار مقامات اہم ہیں‘ مسلمان بادشاہوں کا محل القصر‘ کیتھڈرل‘ انڈین آرکائیو اور جدید محل‘ ہم نے دوسرے دن یہ تمام مقامات ادھیڑ کر دیکھے‘ القصر مسلمانوں کی آخری نشانی ہے‘ محل کی بیرونی اور اندرونی دیواریں آج بھی قائم ہیں‘ ان میں اسلامی دور کی خوشبو بھی موجود ہے‘ نیلی اور سفید ٹائلیں‘ وہی آبنوسی لکڑی کی چھتیں اور ان چھتوں پر اسلامی نقش‘ وہی وزنی منقش دروازے‘ وہی پتھر کے فرش‘ وہی قدیم لکڑی کے قدیم جھروکے‘ وہی کمروں کے اندر فوارے اور محل کے چاروں اطراف وہی سبز باغات‘ مسلمانوں کی پوری تہذیب آج بھی القصر میں زندہ ہے‘

مسلمان اپنا طرز تعمیر مراکش سے لائے تھے‘ سپین کے عیسائی آرکی ٹیکٹس نے ان میں اپنا خون جگر ملایا اور یوں دنیا میں اندلسی طرز تعمیر نے جنم لیا‘ آپ کو یہ طرز تعمیر قرطبہ میں بھی ملتا ہے‘ غرناطہ میں بھی اور سیویا میں بھی‘ اندلسی لوگ اونچی چھتیں بناتے تھے‘ دیواریں موٹی ہوتی تھیں اور ان پر مٹی میں چونا ملا کر ایک ایک انچ لیپ کیا جاتا تھا اور پھر اس لیپ پر سنگ مرمر کے ٹکڑے اور چھوٹی ٹائلیں لگائی جاتی تھیں‘ یہ ٹائلیں‘ سنگ مر مر اور آبنوسی لکڑی تینوں مل کر اندلسی فن بن جاتی تھیں‘

دلانوں‘ ڈیوڑھیوں اور کمروں کے درمیان سنگ مرمر کے فوارے لگائے جاتے تھے اور فواروں کا پانی سفید پتھروں کی نالیوں سے ہوتا ہوا صحن کے تالاب میں جا گرتا تھا‘ تالاب کے گرد سرو کے چھوٹے بڑے درخت‘ بوگن بیل اور انگوروں کی بیلیں ہوتی تھیں اور ان بیلوں میں رنگ برنگے پرندوں کے گھونسلے ہوتے تھے‘ یہ فن القصر میں اپنے تمام رنگوں کے ساتھ موجود تھا‘ بادشاہ کا حرم چھوٹا سا الحمرا محسوس ہوتا تھا‘ گائیڈ نے بتایا عیسائی بادشاہ نے غرناطہ کے بادشاہ سے الحمرا کے معمار ادھار لئے اور محل کا یہ حصہ تعمیر کیا‘

کولمبس کا دفتر بھی القصر میں تھا‘ امریکا کی تمام تجارتی مہمات اسی دفتر سے روانہ ہوتی تھیں‘ کولمبس کے جہاز کا شناختی نشان اور کولمبس کی امریکا روانگی کی پینٹنگ دفتر کی دیواروں پر لگی تھی‘ پینٹنگ میں کولمبس کا دوست امریکانو ویسپیوسیو  صاف نظر آ رہا تھا‘ امریکانو نے سرخ ٹوپی پہن رکھی تھی‘ امریکانو اطالوی تھا اور کولمبس کا دوست تھا‘ کولمبس موت تک امریکا کو انڈیا سمجھتا رہا‘ اس نے اسی لئے امریکا کے قدیم باشندوں کو ”ریڈ انڈین“ کا نام دیاتھا‘

امریکانو پہلا شخص تھا جس نے نقشے کی بنیاد پر ثابت کیا ”کولمبس نے انڈیا کا نیا راستہ نہیں بلکہ ایک نئی دنیا دریافت کی “ امریکانو کی تھیوری بعد ازاں سچ ثابت ہوئی چنانچہ نئے ملک کا نام امریکانو کے نام پر امریکا رکھ دیا گیا‘ بادشاہ فرڈیننڈ نے 1508ءسیویا میں ”نیوی گیشن“ کی دنیا کی پہلی یونیورسٹی بنائی اور امریکانو کو اس کا سربراہ بنا دیا‘ یونیورسٹی کی عمارت آج تک موجود ہے‘ مجھے وہاں جانے کا موقع بھی ملا‘ سپین کے تمام جہاز ران کولمبس کے اس دفتر سے اجازت لے کر امریکا جاتے تھے اور بادشاہ ان کے تجارتی سامان سے اپنا حصہ وصول کرتا تھا‘

کولمبس کے دفتر کے بعد محل کے دو ہال بہت اہم ہیں‘ پہلا کارلو فائیو کی شہزادی ازابیلا دوم کے ساتھ شادی کا ہال تھا‘ ازابیلا پرتگال کی شہزادی تھی‘ وہ ہال کے دائیں دروازے سے اندر داخل ہوئی تھی جبکہ کارلو فائیو بائیں دروازے سے‘ دائیں دروازے پر آج بھی پرتگال کا جھنڈا اور شناختی نشان موجود ہے جبکہ بائیں دروازے پر سپین کا نشان اور جھنڈا تھا‘ یہ ہال خصوصی طور پر اس شادی کےلئے بنایا گیا تھا‘ دوسرا ہال تیونس کی فتح کی یادگار تھا‘ 1535ءمیں ترک بادشاہ سلطان سلیمان اول تیونس تک پہنچ گیا‘

وہ سیویا فتح کر کے یورپ داخل ہونا چاہتا تھا ‘کارلو فائیو نے یورپی فوج بنائی‘ بحری جہازوں پر تیونس پہنچا اور عثمانی خلیفہ کو شکست دی‘ اس شکست نے فیصلہ کر دیا عثمانی خلافت شمالی افریقہ سے آگے نہیں آئے گی‘ کارلو فائیو نے فتح کے بعد یہ وکٹری ہال بنوایا‘ ہال کی تین دیواروں پر طویل قالین لٹک رہے تھے‘ قالین بافوں نے قالینوں میں جنگ اور فتح کا سارا احوال نقش کر رکھا تھا‘ یہ کارپٹ پینٹنگز تھیں اور یہ پینٹنگزہر لحاظ سے ماسٹر پیس تھیں۔

میرے ایک دوست ہیں احمد مبارک‘ میں پچھلے بیس برسوں سے انہیں جانتا ہوں‘یہ ڈی آئی جی پولیس تھے‘ یہ دوران سروس مجھے جب بھی فون کرتے تھے‘ میں ان سے پوچھتا تھا ”آپ آج کل کہاں تعینات ہیں“اور یہ ہر بار کسی نہ کسی نئی جگہ‘ کسی نہ کسی نئے عہدے کا حوالہ دے دیتے تھے‘ یہ مجھے افسر کم اور فٹ بال زیادہ محسوس ہوتے تھے کیونکہ یہ سال چھ ماہ سے زیادہ کسی جگہ ٹک کر سروس نہیں کر سکے‘ یہ پوسٹ ہوتے تھے‘ کسی نہ کسی معاملے پر ان کا سینئرز‘ مقامی ایم این اے‘ ایم پی اے یا پھر کسی وزیر یا وزراء اعلیٰ سے پھڈا ہوتا تھا اور یہ اگلے ہی دن ٹرانسفر ہو جاتے تھے‘

آپ ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچئے‘ کیا کوئی شخص ہر سال اپنے پورے خاندان کے ساتھ نئی جگہ ایڈجسٹ ہوسکتا ہے‘ کیا یہ اس خانہ بدوشی کے عالم میں اپنے بچوں کو تعلیم دلا سکتے تھے‘ کیا یہ اپنے خاندان کو پال سکتے تھے‘ کیا یہ بار بار کی ٹرانسفرزسے اپنی نفسیات کو بگڑنے سے بچا سکتے تھے اور کیا یہ ایک سال میں کسی ڈسٹرکٹ یا ڈویژن کو پوری طرح سمجھ سکتے تھے؟ اور اگر یہ سمجھ جاتے تو کیا یہ زیادتی نہیں آپ اس شخص کو اس عہدے سے ہٹا رہے ہیں جس نے سال بھر کی محنت کے بعد علاقے کے مزاج اور جرائم کی وجوہات کو سمجھ لیا اور یہ جب ڈیلیور کرنے کی پوزیشن میں آیا تو آپ نے اسے ہٹا کر اس کی جگہ پر ایک ایسا شخص لگا دیا جس کو اب اس علاقے کو سمجھنے کیلئے سال بھر کا عرصہ چاہیے اور آپ اس کو بھی سال چھ مہینے بعد فارغ کر دیں گے‘ کیا یہ گورننس ہے؟ کیا اسے اچھی ایڈمنسٹریشن کہا جائے گا؟ یہ ایس ایس پی اور ڈی آئی جی رینک کے آفیسرز کی حالت ہے‘ آپ اگر ایس ایچ اوز کا ڈیٹا نکالیں تو آپ کو لاہور جیسے شہرکا ڈیٹا حیران کر دے گا‘ لاہور میں ایس ایچ او کی او سطاً پوسٹنگ ایک ماہ ہے‘ ایس ایچ او بمشکل کسی تھانے کا چارج لیتا ہے اور اگلے دن اس کی معطلی یا پوسٹنگ کا حکم آ جاتا ہے‘ آپ خود سوچئے جس افسر کو یہ اعتماد نہیں ہو گا کہ میں اس علاقے یا اس عہدے پر اتنے سال کیلئے آیا ہوں اور کوئی ایم پی اے‘ ایم این اے یا وزیر میرا تبادلہ نہیں کر سکتا وہ اطمینان کے ساتھ کیسے کام کرے گا؟
ملک کی حالت یہ ہے جب بھی کوئی ایم پی اے یا ایم این اے سیاسی جماعت تبدیل کرتا ہے تو وہ ”خریدار جماعت“ سے اپنے حلقے کے ایس ایچ اوز‘ ڈی ایس پی‘ پٹواری اور نائب تحصیلدار اور تحصیلدار تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور اس سیاسی قلابازی کا نتیجہ سرکاری افسروں کے تبادلے اور تعیناتی کی شکل میں نکلتا ہے‘ آپ جب پولیس اور محکمہ مال کی تعیناتیاں ان لوگوں کے ہاتھ میں دے دیں گے جو اس سے براہ راست فائدہ اٹھا سکتے ہیں تو آپ اس علاقے کی لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کا اندازہ خود لگا سکتے ہیں۔ 
اور ہمارے ملک میں یہ کھیل روزانہ ہوتا ہے اور اس کھیل کے نتیجے میں مظلوم لوگ ایف آئی آر کٹوانے‘ ملزم کو گرفتار کرانے‘ اپنے بے گناہ عزیز کو چھڑوانے‘ زمین کا فرد لینے اور اپنی زمین کا قبضہ لینے کیلئے تھانے یا کچہری نہیں جاتے‘ یہ ایم پی اے یا ایم این اے کے ڈیرے پر جاتے ہیں اور وہاں سے جس شخص کے بارے میں فون آ جاتا ہے پولیس اس کیلئے تھانے کے دروازے کھول دیتی ہے جبکہ باقی مظلوم تھانے کے باہر بیٹھے رہتے ہیں۔

آپ اس صورتحال پر غور کیجئے اور اب فیصلہ کیجئے ہمارے سرکاری ملازمین بالخصوص پولیس اور ڈی ایم جی کے پاس اب کیا آ پشن بچتا ہے؟ کیا یہ سسٹم انہیں یہ پیغام نہیں دے رہا‘ آپ اگر او ایس ڈی نہیں بننا چاہتے‘ آپ اگر اپنی پوسٹنگ بچانا چاہتے ہیں اور آپ اگر ملک کے دور دراز علاقوں میں تبادلے سے بچنا چاہتے ہیں تو آپ کے پاس ایک ہی راستہ ہے آپ ملک اور عوام کی بجائے اپنے سینئرز‘ سیاستدانوں‘ حکمران جماعت اور طاقتور اداروں کی غلامی میں چلے جائیں اور آپ کا سینئر‘ آپ کی حکمران جماعت اور آپ کا ایم پی اے یا ایم این اے آپ کو جو حکم دے آپ اچھے غلام کی طرح اس پر چپ چاپ عمل کریں‘

ہماری بیورو کریسی نے یہ پیغام نہ صرف سن لیا ہے بلکہ یہ اس کو سمجھ بھی گئی ہے اور یہ اس پر عمل بھی کر رہی ہے اور ”یس سر“ کے اس سسٹم کی سزا اب عام شخص کے ساتھ ساتھ اقتدار سے بے دخل حکمرانوں کو بھی ملتی ہے‘ حکومتی پارٹی جب قانون کے رکھوالوں کو حکم دیتی ہے تو یہ میاں نواز شریف کے والد کو دفتر سے کرسی سمیت اٹھا لیتے ہیں‘ یہ فاروق لغاری کو سر عام تھپڑ ماردیتے ہیں‘ یہ نصرت بھٹو پر لاٹھیاں برسا دیتے ہیں‘ یہ بے نظیر بھٹو کو سڑکوں پر گھسیٹتے ہیں‘

یہ شریف فیملی کو اٹک قلعے میں پھینک دیتے ہیں‘ یہ آصف علی زرداری کی زبان کاٹ دیتے ہیں‘ یہ میاں نواز شریف کو دھکے دے کر اسلام آباد ائیر پورٹ سے جدہ پہنچا دیتے ہیں‘ یہ بے نظیر بھٹو کی جائے شہادت دھو دیتے ہیں‘ یہ چیف جسٹس کو بھی بالوں سے پکڑ لیتے ہیں‘ اب حکم ہوا تو نیب نے شہباز شریف کو بھی حراست میں لے لیا‘ آپ نواز شریف کا سارا کیس اٹھا کر دیکھ لیجئے آپ کو یہ حقائق اس میں بھی نظر آئیں گے اوریہ اس غلامانہ سوچ کا نتیجہ ہے جس کے ذریعے ہمارے حکمرانوں نے پولیس کو ذہن نشین کرا دیا تم نے قانون کی بجائے اپنے آقا کی پیروی کرنی ہے

چنانچہ یہ پوسٹنگ بچانے اور تبادلے سے بچنے کیلئے اپنی ساری توانائیاں آقا کے حکم کی بجا آوری میں لگا دیتے ہیں اور اس کا خمیازہ عام شخص کے ساتھ ساتھ حکمران طبقہ بھی بھگتتا ہے‘ مجھے یقین ہے آج اگر ملک میں مارشل لاء لگ جائے اور مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر پولیس کو آصف علی زرداری‘ میاں نواز شریف‘ میاں شہباز شریف‘ عمران خان اور سپریم کورٹ کے ججوں کو ڈنڈے مارنے اور سڑکوں پر گھسیٹنے کا حکم دے دے توپولیس چند لمحوں میں یہ کر گزرے گی کیونکہ ان کا آقا بدل چکا ہو گا اور انہوں نے اس آقا سے بھی اپنی پوسٹنگ بچانی ہے۔

ہم آتے ہیں اب اس کے حل کی طرف‘ اس کے تین حل ہیں‘ پاکستان کی تمام فیلڈ پوسٹنگز تین سال کیلئے کر دی جائیں‘ یہ قانون اگر پہلے سے موجود ہے تو اس پر سختی سے عمل کیا جائے‘ ان تین برسوں میں کوئی سینئر یا کوئی سیاستدان کسی افسر کو اس کی جگہ سے نہ ہٹا سکے‘ اگر کوئی افسر مس کنڈکٹ کا مرتکب ہویا قانون کی خلاف ورزی کرے‘ یہ کسی کو فیور دے یا کسی کو بلاجواز نقصان پہنچائے تو محکمہ اس کا کیس سپیشل باڈی کو بھیج دے‘ ملک کے تمام صوبوں اور وفاق میں سرکاری افسروں کیلئے سپیشل باڈیز بنائی جائیں‘

ان باڈیز میں ریٹائر سینئر بیورو کریٹس‘ ریٹائر ججز حضرات‘ سینئر پروفیسرز اور سینئر بزنس مین شامل ہوں‘ یہ کیس کا جائزہ لیں اور ایک ہفتے کے اندر اندر فیصلہ دے دیں‘ محکمے کا سینئر اگر سپیشل باڈی کے سامنے کسی جونیئر پر لگائے جانے والے الزام ثابت نہ کر سکے تو یہ سپیشل باڈی اس کی اے سی آر میں نیگٹو پوائنٹ دے دے اور یہ افسر پانچ چھ نیگٹو پوائنٹس کے بعد ترقی کی فہرست سے باہر ہو جائے‘ کابینہ‘ وزیراعلیٰ‘ وزیراعظم اور صدر کا پوسٹنگز اور تبادلوں کا صوابدیدی اختیار فوری طور پر ختم کر دیا جائے‘

ملک کے تمام محکموں کے رولز دیکھے جائیں‘ ان رولز کے مطابق میرٹ بنے اور تمام سرکاری ملازم اس میرٹ لسٹ اور رولز کے مطابق ترقی پائیں اور ان کی پوسٹنگز اور تبادلے ہوں‘ کوئی افسر اس لسٹ میں اچانک شامل نہ ہو سکے اور کسی کو خاص پروسیجر کے بغیر فہرست سے خارج نہ کیا جا سکے‘ انیس سے بائیسویں گریڈ کی تمام تقرریوں کا فیصلہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کرے‘ حکومت کسی کو ہٹا سکے اور نہ ہی لگا سکے اور سپریم کورٹ ایڈہاک‘ ایکٹنگ چارج اور ایکسٹینشن پر قطعی پابندی لگا دے‘

ہماری حکومتیں ایکسٹینشن‘ ایکٹنگ چارج اور ایڈہاک سے بھی جی بھر کر فائدہ اٹھا رہی ہیں‘ یہ مرضی کے ملازموں کو ایکٹنگ چارج دے دیتے ہیں‘ ان کی مدت ملازمت میں اضافہ کر دیتے ہیں یا پھر انہیں ایڈہاک پر اہم عہدوں پر لے آتے ہیں‘ سپریم کورٹ پابندی لگا دے گی تو یہ راستہ بند ہو جائے گا‘ سپریم کورٹ حکم جاری کر دے تمام محکمے کسی تبادلے یا ریٹائرمنٹ سے پہلے اس پوزیشن پر نیا عہدیدار تعینات کریں گے تاکہ وہ عہدہ خالی نہ رہ سکے‘ کوئی افسر چھٹی پر جائے تو اس کے اختیارات جونیئر افسر کو منتقل ہو جائیں لیکن وہ صرف محدود پیمانے پر عارضی احکامات جاری کر سکے۔

ان کی حتمی توثیق وہ افسر واپس آ کر کرے اور اگر وہ حکم واپس لینا چاہے تو وہ پرانا فیصلہ معطل بھی کر سکے گا۔ بیوروکریسی کو ریاست کا ماتحت ہونا چاہیے حکومت کا نہیں‘آپ نے پچھلے دنوں تین چار بڑے واقعات پڑھے ہوں گے‘ پہلا واقعہ آئی جی پنجاب کا تبادلہ تھا‘ آئی جی پنجاب طاہرخان کا تبادلہ ایک ماہ دو دن بعد کر دیا گیا تھا‘اس متنازعہ فیصلے کی وجہ سے پنجاب پولیس ریفارمز کمیشن کے چیئرپرسن ناصر درانی اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے‘

ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کا ایشو بھی ساری دنیا کے سامنے ہے‘آج آپ صرف یہ معلوم کرلیجئے رضوان گوندل کہاں ہیں اور ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے تو آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی‘ ڈی سی راجن پوراللہ دتہ وڑائچ نے پی ٹی آئی کے ایم این اے نصراللہ دریشک اور صوبائی وزیر سردار حسنین بہادر دریشک کی جانب سے انتظامی امور میں مداخلت پر کمشنر ڈی جی خان کو مراسلہ لکھا تھا اور ڈی سی چکوال غلام صغیر شاہد نے چیف سیکرٹری پنجاب کو خط لکھ کر پی ٹی آئی کے ایم این اے ذوالفقارعلی خان پرسرکاری کاموں میں مداخلت کا الزام لگایا تھا‘ یہ دونوں ڈی سی آج کس حال میں ہیں؟ آپ ان کا بھی پتہ کرا لیجئے۔

سپریم کورٹ کو ان ایشوز کا بھی نوٹس لینا چاہیے ورنہ ہماری غلام بیورو کریسی مزید غلام ہو جائے گی اور یہ کسی دن کسی بھی طاقتور شخص کے حکم پر صدر‘ وزیراعظم اور چیف جسٹس کو گرفتار کر لے گی اور ان پر بھینس چوری کا مقدمہ بنا دے گی کیونکہ بیورو کریسی جب قانون کے طاق سے اتر کر حکمرانوں کی انا کی غلام بنتی ہے تو پھر کسی عزت دار شخص کی عزت محفوظ نہیں رہتی‘ پھر ہر چڑھتا سورج سجدہ گاہ بن جاتا ہے اور ہر گزرا حکمران کچرہ گھر۔

نوٹ: کالمز کی یہ سیریز میں نے اپنے 80 ممالک کے وزٹس‘مطالعے اور مشاہدے کی روشنی میں لکھی ہے‘ان پر مزید بات ہو سکتی ہے‘ میراخیال ہے حکومت کو ان پوائنٹس کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے‘ اس سے سسٹم بہتر ہو سکتا ہے اور پاکستان واقعی پاکستان بن سکتا ہے۔

یورپ کے اکثر قصبوں میں دلچسپ روایت چلی آ رہی ہے‘ قصبوں کی کافی شاپس اور ریستورانوں میں دیوار پر وائیٹ بورڈ نصب ہوتا ہے‘ ریستوران اور کافی شاپ کے گاہک اپنے لیے چائے‘ کافی اور کھانا منگواتے ہوئے ویٹر کو ایک چائے وائیٹ بورڈ کے لیے‘ ایک کافی وائیٹ بورڈ کے لیے یا فلاں کھانا وائیٹ بورڈ کے لیے بھی آرڈر کر دیتے ہیں‘ ویٹر ان کا آرڈر انھیں سرو کر دیتا ہے اور اضافی کھانے‘ چائے یا کافی کی ’’سلپ‘‘ وائیٹ بورڈ پر چپکا دیتا ہے‘لوگ کھانا کھاتے ہیں‘ چائے کافی پیتے ہیں اور آخر میں بل کے ساتھ اس کھانے‘ چائے اور کافی کی ادائیگی بھی کر دیتے ہیں۔

کھانے‘ کافی اور چائے کی یہ چٹیں قصبے کے ان لوگوں کے لیے ہوتی ہیں جو چائے‘ کافی یا کھانا ’’ افورڈ‘‘ نہیں کر سکتے‘ یہ غریب لوگ بھی عام گاہک کی طرح ریستوران یا کافی شاپ میں آتے ہیں‘ وائیٹ بورڈ کے پاس رکتے ہیں‘ اپنی مرضی کی چٹ اتارتے ہیں‘ میز پر آ کر بیٹھتے ہیں‘ ویٹرکو وہ چٹ تھما دیتے ہیں اور ویٹر عام گاہکوں کی طرح انھیں بھی احترام کے ساتھ کھانا‘ چائے اور کافی سرو کر دیتے ہیں‘ یہ لوگ اگر وائیٹ بورڈ سے خود چٹ نہ اتارنا چاہیں تو یہ ویٹر کے کان میں سرگوشی کر دیتے ہیں ’’ مجھے وائیٹ بورڈ کی ایک کافی دے دو‘‘ اور ویٹر وائیٹ بورڈ سے خود چٹ اتارکر انھیں کافی‘ چائے اور کھانا دے دیتے ہیں‘ یہ بھوکوں کو کھانا ‘ چائے اور کافی پلانے کا مہذب ترین طریقہ ہے‘ ہم بھی ملک میں یہ طریقہ رائج کر سکتے ہیں۔

پاکستان کی 60 فیصد آبادی غریب ہے‘ ان میں سے نصف انتہائی غربت کا شکار ہے‘ یہ لوگ کھانے پینے‘ دواء دارو اور کپڑوں جوتوں تک سے محروم ہیں‘ یہ لوگ صرف غریب نہیں ہیں یہ مسکین بھی ہیں‘ غربت اور مسکینی میں فرق ہوتا ہے‘ مسکین گزارہ نہیں کر سکتا جب کہ غریب رو دھو کر گزارہ کر لیتے ہیں‘ ہم بحیثیت معاشرہ ان مسکینوں کے ذمے دار ہیں اور ہم میں سے ہر صاحب استطاعت شخص کسی نہ کسی حد تک ان مسکینوں اور غریبوں کی مدد بھی کرتا ہے۔
پاکستان چیریٹی کرنے والے دنیا کے پانچ بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود ملک میں مسکینوں اور غریبوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے‘ اس کی وجہ سسٹم ہے‘ ہم لوگ چیریٹی کرتے ہیں لیکن یہ چیریٹی آرگنائزڈ نہیں ہوتی چنانچہ ملک سے غربت اور مسکینی ختم نہیں ہو رہی‘ ہمیں اس کے لیے دو سطح پر کام کرنا ہو گا‘ پہلی سطح فوری امداد ہے‘ ہمیں مسکینوں کے لیے کھانے پینے‘ سودا سلف‘ ادویات اور کپڑوں کا فوری بندوبست کرنا چاہیے‘ ہم اس سلسلے میں یورپ کے ماڈل کی مدد لے سکتے ہیں۔

ہم ملک کے تمام چھوٹے بڑے ریستورانوں‘ چائے خانوں‘ پرچون کی دکانوں‘ جوتوں کی شاپس‘ کپڑوں‘ درزی خانوں اور سبزی کے ٹھیلوں پر وائیٹ بورڈ لگوا دیں‘ ہم میں سے خریداری کے لیے جانے والے لوگ اپنی استطاعت کے مطابق وہاں اضافی رقم جمع کروا دیں‘ دکاندار وائیٹ بورڈ پر اضافی رقم کی چٹ لگا دے‘ مسکین اور غریب لوگ آئیں اور دکاندار سے ایک دن کی ضرورت کا سامان لے جائیں‘ یہ دکانیں اور ٹھیلے محلوں میں ہوں گے‘ دکاندارضرورت مندوں کو ذاتی طور پر جانتے ہوں گے‘ اس سے فراڈ کے امکان کم ہو جائیں گے ہاں البتہ چائے اور کھانا کوئی بھی شخص کھا سکے گا‘ کھانے اور چائے کے لیے ریستوران کے ملازمین ایک خصوصی اہتمام کریں‘ یہ مسکینوں اور غریبوں کو واش روم لے کر جائیں۔

ان کے ہاتھ اور منہ دھلوائیں‘ کنگھی کروائیں اور اس کے بعد انھیں ڈائننگ ٹیبل پر بٹھا کر کھانا کھلائیں‘ اس سے ان لوگوں کو ہاتھ‘ منہ دھونے‘ صاف ستھرا رہنے اور میز پر بیٹھ کر کھانا کھانے کی عادت بھی ہو جائے گی اور یہ بہت بڑا انقلاب ہو گا‘ مخیر حضرات ادویات کی دکانوں پر بھی اضافی پے منٹ کر سکتے ہیں‘ کیمسٹ حضرات ضرورت مندوں کو اس پے منٹ سے مفت ادویات دے سکتے ہیں تاہم یہ خصوصی اہتمام کریں‘ یہ ضرورت مند مریضوں کو صرف ایک یا دو دن کی دوا دیں‘ سیرپ‘ انجیکشن‘ کیپسول اور گولی کی پیکنگ پھاڑ دیں یا ڈھکن کی سیل توڑ دیںتا کہ مریض یا جعلی مریض یہ ادویات بازار میں فروخت نہ کر سکیں۔

اس سے مسکین مریضوں کو ادویات بھی مل جائیں گی اور مخیر حضرات کی امداد بھی صحیح جگہ پر لگ جائے گی‘ کپڑوں کے معاملے میں اہل خیر کپڑا خرید کر درزیوں کے حوالے کر دیں یا پھر بوتیکس کو امدادی رقم دے دیں‘ درزی مسکینوں کے ناپ کے مطابق کپڑے سی کر دیں اور بوتیکس کے مالکان ضرورت مندوں کو لیبل اتار کر کپڑے دیں‘ اس سے بھی فراڈ کم ہو جائے گا اور ضرورت مندوں کی باقاعدہ مدد بھی ہو جائے گی۔

ہمیں دوسری اسٹیج پر مسکینوں کو غریبوں کی فہرست اور غریبوں کو لوئر مڈل کلاس میں لانے کے لیے کام کرنا ہو گا‘ ملک کے تمام قصبوں اور شہروں کے مخیر حضرات اپنی اپنی سطح پر روزگارا سکیمیں بنا سکتے ہیں‘یہ فنڈ جمع کریں‘ سروے کریں‘ علاقے میں کتنے لوگ مسکین اور غریب ہیں‘ یہ اسٹڈی کریں ان لوگوں کا خاندانی پیشہ کیا تھا کیونکہ غربت اور مسکینی کا پیشوں کے ساتھ گہرا تعلق ہوتا ہے۔

معاشرے میں جب بھی کوئی پیشہ دم توڑتا ہے تو یہ بیسیوں خاندانوں کو غریب کر جاتا ہے‘ مثلاً آج سے چوبیس سال پہلے پاکستان کے ہرشہر میں تانگے ہوتے تھے‘ یہ تانگے شہروں کے بیسیوں خاندانوں کا ذریعہ روزگار تھے‘ یہ ختم ہوئے تو یہ سیکڑوں ہزاروں خاندانوں کو غریب اور مسکین بنا گئے‘ ملک میں اسی طرح موچیوں‘ نائیوں اور ترکھانوں کا فن زوال پذیر ہوا‘ قصبوں میں ڈھول اور باجوں والے ہوتے تھے‘ اسٹریٹ تھیٹرز ‘ مداری اور اسٹریٹ سرکس سے بھی ہزاروں لوگ وابستہ ہوتے تھے‘ گلیوں اور محلوں میں چائے خانے ہوتے تھے۔

یہ چائے خانے بھی ختم ہو گئے‘ شہروں سے کھوتی ریڑھی بھی ختم ہو گئی اور چنے اور بھٹے والے بھی بے روزگار ہو گئے‘ سوئیاں بنانے‘ اچار چٹنی اور مربے والے بھی بے روزگار ہوگئے اور تنور والے بھی غربت میں چلے گئے‘ یہ تمام فن شہر بھر کا روزگار ہوتے تھے‘ قصبوں اور شہروں کے مخیر حضرات یہ فن دوبارہ زندہ کر سکتے ہیں‘ ہم سب کے گھروں میں روٹی پکتی ہے‘ ہم اگر ایک روٹی پر خرچ ہونے والی توانائی‘ وقت اور سرمائے کا تخمینہ لگائیں تو یہ بازار سے ملنے والی روٹی سے دوگنی اور تین گنا مہنگی نکلے گی‘ ہمارے مخیر حضرات اگر ہر محلے میں تنور لگوائیں‘ یہ تنور مسکین فیملیوں کو دے دیں اور یہ فیصلہ کر لیں تمام لوگ ان تنوروں سے روٹی خریدیں گے تو چند ماہ میں قصبے کے سیکڑوں لوگ مسکینی سے نکل آئیں گے‘ ہم ان تنوروں پر چولہے رکھوا کر چپاتی بھی بنوا سکتے ہیں۔

پراٹھے بھی‘ نان بھی اور مولی اور ساگ والی روٹیاں بھی۔ مخیر حضرات شہر میں موچیوں کی گلی آباد کرا سکتے ہیں یا چھوٹا سا موچی بازار بنوا سکتے ہیں اور یہ فیصلہ کر لیں قصبے کا ہر خاندان ہر مہینے ان سے ایک جوتا خریدے گا‘ بڑے شہروں اور بیرون ملک سے آنے والے لوگ جوتوں کے نئے ڈیزائن لے آئیں اور موچیوں کو یہ ڈیزائن کاپی کے لیے دے دیں‘ قصبے کے لوگ فیصلہ کر لیں قصبے کی ہر شادی اور ہر تقریب میں صرف اور صرف مقامی ڈھولچی ہی ڈھول بجائیں گے۔

قصبے یا شہر میں ہر ہفتے کی شام اسٹریٹ تھیٹرز کا بندوبست کیا جائے‘ یہ تھیٹر سرکس‘ مداری تماشا‘ گانے بجانے اور جمناسٹک کے کھیلوں پر مشتمل ہو‘ اس سے قصبے اور شہر بھر کو تفریح بھی ملے گی اور ان پیشوں سے وابستہ لوگوں کے چولہے بھی جلنے لگیں گے‘ پاکستان میں صدیوں سے چائے خانوں کی روایت چلی آ رہی تھی‘ ملک کے تمام شہروں اور قصبوں میں درجنوں چائے خانے ہوتے تھے‘ لوگ شام کے وقت ان چائے خانوں میں بیٹھ جاتے تھے۔

گپ لگاتے تھے‘ ریڈیو سنتے تھے اور تاش اور شطرنج کھیلتے تھے‘ یہ چائے خانے تفریحی اور سوشل گیدرنگ کا بہت بڑا ذریعہ بھی ہوتے تھے اور شہر کے غریبوں کی آمدنی کا بھی‘ یہ چائے خانے اب ختم ہو گئے ہیں‘ شہر کے مخیر حضرات کو ہر گلی‘ ہر محلے میں ایسے چائے خانے بنوانے چاہئیں‘ میونسپل کمیٹیاں اور سیاستدان بھی یہ ’’ اینی شیٹو‘‘ لے سکتے ہیں‘ مخیر حضرات قصبوں کے انتہائی غریب خاندانوں کے بچوں کے لیے ووکیشنل ٹریننگ کا بندوبست بھی کر سکتے ہیں‘ یہ اس سلسلے میں سرکاری اسکولوں کی مدد لے سکتے ہیں‘ ہمارے سرکاری اسکول دو بجے کے بعد بند ہو جاتے ہیں۔

مخیر حضرات ان اسکولوں میں شام چار بجے سے آٹھ بجے تک ووکیشنل کلاسز شروع کرا دیں‘ ان کلاسز میں مسکین اور غریب خاندانوں کے بچوں اور خواتین کو مختلف کام سکھائے جائیں‘ مخیر حضرات ’’اخوت‘‘ کی طرح چھوٹے قرضوں کی اسکیمیں بھی شروع کر سکتے ہیں‘ یہ قرضے صرف علاقے کے لوگوں کو دیے جائیں۔

ان کو چھوٹے چھوٹے کاروبار کرائے جائیں تاکہ یہ اپنے قدموں پر کھڑے ہو سکیں‘ شہر کے مزدوروں‘ ترکھانوں‘ لوہاروں اور مستریوں کو دس‘ دس پندرہ پندرہ دنوں کی جدید ٹریننگ دلائی جائے اور یہ فیصلہ کیا جائے شہر یا قصبے کی تمام تعمیرات انھیں لوگوں سے کرائی جائے گی تاہم شہر بھر کے لیے ان کے ریٹس ضرور طے کر دیے جائیں ‘ شہر اور قصبے کے اندر بگھی یا جدید طرز کے تانگے چلائے جائیں‘ اس سے پلوشن بھی کنٹرول ہو گا۔

تیل اور گیس کی بچت بھی ہو گی اور روزگار کے نئے ذرایع بھی پیدا ہوں گے‘ اگر یورپ کے شہروں میں تانگے اور بگھیاں چل سکتی ہیں تو ہم ایسا کیوں نہیں کر سکتے اور شہر کے تمام مخیر حضرات اپنی دکانوں‘ گھروں اور ورکشاپس پر غریب اور مسکین خاندانوں کے بچوں کو نوکری دیں‘ یہ ان کی تعلیم کا بندوبست بھی کریں‘ انھیں کوئی ہنر بھی سکھائیں اور ان کی تنخواہ کا بندوبست بھی کریں‘ اس سے بھی غربت کم ہو جائے گی۔

بھارت میں منموہن سنگھ کی حکومت نے ایک دلچسپ کام کیا‘ حکومت نے پرائیویٹ اسکولوں میں انتہائی غریب بچوں کا کوٹہ طے کر دیا‘ یہ کوٹہ25فیصد ہے جس کے بعد بھارت کے تمام پرائیویٹ اسکول غریب بچوں کو امیر بچوں کے ساتھ کوالٹی ایجوکیشن دینے پر مجبور ہوگئے‘ یہ ایک قدم بھارت کے لاکھوں غریب خاندانوں کو جہالت اور غربت سے باہر لے آیا‘ اگر بھارت یہ انقلاب لا سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں لا سکتے چنانچہ میں سمجھتا ہوں ہم اگر کوشش کریں تو ہم پاکستان کے نظام تعلیم میں انقلاب برپا کر سکتے ہیں۔

روزگار کے بعد تعلیم ہمارا دوسرا بڑا مسئلہ ہے‘ ہمیں اس مسئلے کے حل کے لیے سب سے پہلے کھلے دل سے یہ تسلیم کرنا ہو گا حکومت اب سرکاری اسکول اور کالج نہیں چلا سکتی‘ ہمارا سرکاری سلیبس‘ سرکاری استاد‘اسکولوں کی سرکاری عمارتیں اور سرکاری سوچ پرانی ہو چکی ہے‘ حکومت اگر آج اسکولوں کی عمارتوں کی مرمت کرنا چاہے‘ یہ اسکولوں میں واش رومز‘ پلے گرائونڈز‘ لائبریریاں‘ لیبارٹریاں اور کلاس رومز بنانا چاہے توہمیں دو سال کا پوراقومی بجٹ چاہیے‘ ہمیں صرف عمارتوں کی مرمت کے لیے فوجی بجٹ کے برابر رقم درکار ہے اور یہ ظاہر ہے ممکن نہیں۔

دوسرا‘ ہمارے سرکاری اسکول روایتی لحاظ سے 1960ء کی دہائی سے آگے نہیں نکل سکے جب کہ  زمانہ بل گیٹس اور سیٹو جابز کے دور میں داخل ہو چکا ہے‘ آج کمپیوٹر‘ آئی پیڈ اور آئی فون‘ ڈیجیٹل لائبریری‘ ملٹی میڈیااور ای لائبریری کے بغیرتعلیم ممکن نہیں اور ہمارے قصباتی اور دیہاتی اسکول ان سہولتوں سے صدیوں دور ہیں‘ ہم دنیا بھر سے سالانہ پانچ ارب ڈالر لے لیں تو بھی ہم ملک کے تمام سرکاری اسکولوں کو یہ سہولتیں فراہم نہیں کر سکتے۔
تیسرا‘ سرکاری اسکولوں سے جنم لینے والے بچوں اور پرائیویٹ اداروں سے فارغ ہونے والے اسٹوڈنٹس میں کلچر‘ سوچ‘ اعتماد اور علم کا دس ہزار کلومیٹر طویل فرق ہے‘ یہ دونوں صدیوں کی دوری پر ہیں‘ اس دوری کے دو نقصان ہو رہے ہیں‘ ہمارے سرکاری اسکولوں‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں سے نکلنے والے نوجوان ڈگریوں کے باوجود بیروزگار رہتے ہیں جب کہ پرائیوٹ اداروں سے جدید تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کو یورپ‘ امریکا اور عرب ریاستیں بھاری تنخواہوں پر لے جاتی ہیں اور یوں ملک میں خلا پیدا ہو رہا ہے۔

دو‘ یہ نام نہاد پڑھے لکھے‘ مایوس غریب نوجوان نوکریاں چاہتے ہیں لیکن ان میں جدید زمانے کی نوکریوں کی اہلیت نہیں ہوتی اور ان کی یہ مایوسی ملک کو خانہ جنگی کی طرف لے جا رہی ہے چنانچہ ہمیں کھلے سے دل سے ماننا پڑے گا ہمارے ملک میں اب کوئی حکومت سرکاری اسکول نہیں چلا سکے گی اور کوئی حکومت پرائیویٹ ادارے بھی بند نہیں کر سکے گی مگر اب سوال یہ ہے اس صورتحال کا حل کیا ہے‘ اس کا حل بہت سیدھا اور آسان ہے۔

حکومت کو چاہیے یہ فوری طور پر پرائمری سے یونیورسٹی تک تمام تعلیم پرائیویٹائز کر دے‘ ملک میں پانچ ہزار تعلیمی کمپنیاں بنائی جائیں‘ یہ کمپنیاں سرمایہ جمع کریں اور پورے ملک میں اسکول اور کالج کھولیں‘ حکومت پورے ملک یا پورے صوبے کے لیے جدید ترین یکساں تعلیمی سلیبس بنوائے اور پورے ملک یا پورے صوبے کے تمام پرائیویٹ اسکولوں میں صرف اور صرف یہ سلیبس پڑھایا جائے‘ تعلیمی کمپنیاں ہر محلے میں‘ ہر گائوں میں یا پھرہر اس علاقے میں جہاں پانچ سو بچے موجود ہیں وہاں اسکول کھولیں‘ اسکول کی عمارت اور سہولتیں پورے ملک میں ایک جیسی ہوں اور محلے اور گائوں کے بچے صرف اپنے محلے کے اسکول میں داخلہ لے سکیں‘ یہ دوسرے محلے یا گائوں کے دوسرے اسکول میں داخل نہ ہو سکیں۔

یہ اسکول پچاس فیصد طالب علموں سے پوری فیس لیں‘ پچیس فیصد طالب علموں سے آدھی فیس لی جائے اور پچیس فیصد ایسے طالب علم جو فیس ادا نہیں کر سکتے‘ ان کی تعلیم مفت ہو۔ اس اقدام سے پورے ملک کے بچے ایک ہی قسم کی تعلیم حاصل کریں گے جس سے طبقاتی نظام تعلیم ختم ہو جائے گا‘ بچے محلے کے اسکول میں پیدل جائیں گے جس سے والدین بچوں کو اسکول چھوڑنے کی زحمت سے بھی بچ جائیں گے اور ٹریفک اور پٹرول کا خرچ بھی کم ہو جائے گا اور غریب طالب علم بھی جدید تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ حکومت سرکاری اساتذہ کو پرائیویٹ اسکولوں میں شفٹ کر سکتی ہے جس سے اساتذہ کی نوکریاں بھی بچ جائیں گی۔

ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے حکومت تعلیمی بجٹ کا کیا کرے؟ حکومت فوری طور پر تعلیم اور اسپورٹس کا بجٹ ایک جگہ اکٹھا کرے‘ اس بجٹ سے انڈومنٹ فنڈ قائم کر لے‘ اس فنڈ میں ہر سال تعلیم اور اسپورٹس کا بجٹ ڈال دیا جائے یوں اس فنڈ میں ہر سال اضافہ ہوتا رہے گا‘ حکومت اس فنڈ سے سلیبس پر ریسرچ کرائے‘ پورے صوبے کے ٹیچرز کو جدید ٹریننگ دے‘ مفت تعلیم پانے والے بچوں کو یونیفارم‘ جوتے اور کتابیں فراہم کرے‘ ملک میں سستے آئی پیڈ‘ لیپ ٹاپ‘ ڈیجیٹل لائبریریاں اور ای لائبریریاں تیار کروائے اور طالب علموں کو فراہم کرے.

دنیا کی مشہور کتابیں بڑے پیمانے پر شائع کروا کر طالب علموں میں تقسیم کرے‘ پانچ سو گھروں کے درمیان ایک چھوٹا اسپورٹس اسٹیڈیم‘ چھوٹا سا پارک اور چھوٹی سی لائبریری بنوائے‘ حکومت امتحانات کا سسٹم اپنے ہاتھ میں رکھے‘ پورے ملک یا پورے صوبے میں ایک مضمون کا امتحان ایک ہی دن ہو اور یہ دن کسی بھی صورتحال میں تبدیل نہ کیا جائے‘ اس سے ملک یا صوبے بھر کے والدین کو بھی اپنا شیڈول تیار کرنے میں سہولت ہو جائے گی اور بچے بھی داخلے سے قبل امتحان کے دنوں سے واقف ہوں گے۔

حکومت اس فنڈ سے دیہاتی علاقوں میں کام کرنے والے اساتذہ کو مکان بنوا کر دے اور انھیں دو‘دو ایکڑ مفت زمین بھی دے یوں استاد خوشی سے شہروں سے دیہات میں چلے جائیں گے‘ کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم کو لیپ ٹاپ پر شفٹ کر دیا جائے‘ کوئی طالب علم اس وقت تک کالج میں داخل نہ ہو سکے جب تک اس کے پاس لیپ ٹاپ نہ ہو‘ اس اقدام سے ملک میں تعلیم کے معیار میں بھی اضافہ ہو گا اور ملک میں لیپ ٹاپ انڈسٹری بھی ڈویلپ ہو گی اور اس سے نئی جابز کھلیں گی۔

میں ملک کی مختلف یونیورسٹیوں میں جاتا رہتا ہوں‘ میں وہاں طالب علموں کی ذہنی اور علمی صورتحال دیکھ کر شدید افسوس کا شکار ہوتا ہوں‘ ہمیں یہ ماننا پڑے گا ہمارا یونیورسٹی طالب علم نالج‘ ٹیکنالوجی اور اعتماد میں یورپ کے پرائمری نوجوان تک کا مقابلہ نہیں کر سکتا‘ میں ہر کلاس سے پوچھتا ہوں ’’آپ میں کتنے لوگ کتاب اور اخبار پڑھتے ہیں‘‘ پوری کلا س سے بمشکل ایک آدھ ہاتھ اٹھتا ہے اور اس کا مطالعہ بھی چند سطحی ناولوں تک محدود ہوتا ہے‘ یہ لوگ کورس میں شامل کتابیں تک نہیں پڑھتے‘ ان کا کورس نالج نوٹس تک محدود ہوتا ہے اور یہ نوٹس بھی یونیورسٹیوں میں دس دس‘ پندرہ پندرہ سال  سے فوٹو اسٹیٹ ہو رہے ہیں.

حکومت کو فوری طور پر گریجوایشن اور پوسٹ گریجوایشن کا معیار بڑھا دینا چاہیے‘ گریجوایشن کے کورس اور امتحانات اتنے سخت ہونے چاہئیں کہ کالج میں داخل ہونے والے صرف تیس فیصد طالب علم گریجوایشن کر سکیں باقی طالب علم ایف اے یا ایف ایس سی کے بعد کام یا کاروبار کریں‘ یونیورسٹیوں کا پورا سلیبس ریسرچ پر شفٹ کر دیا جائے‘ یونیورسٹی میں کسی طالب علم کا امتحان نہ ہو‘ یہ پی ایچ ڈی اسٹوڈنٹس کی طرح کسی ایک موضوع پر ریسرچ کریں‘ ملک کے اعلیٰ ترین دماغ ان کا طویل انٹرویو لیں‘ ان کی ریسرچ کی پڑتال کریں اور جس کی محنت اور کام سے مطمئن ہوں صرف اسے ڈگری دی جائے‘ یونیورسٹی کو یونیورسٹی ہونا چاہیے ڈگریاں تقسیم کرنے اور بیروزگاری پھیلانے کی فیکٹری نہیں۔

ملک کی تمام یونیورسٹیوں کے انڈومنٹ فنڈز ہونے چاہئیںاور یونیورسٹیوںکو اپنے اخراجات ان فنڈز سے پورے کرنے چاہئیں۔ یونیورسٹیوں کی تعلیم مہنگی بھی ہونی چاہیے تاہم جو طالب علم اپنی ذہانت اور محنت ثابت کرتا جائے اس کی فیس معاف ہوتی جائے اور آخر میں اسے حکومت یا یونیورسٹی کی طرف سے رول ماڈل اسکالر شپ دیا جائے۔ یونیورسٹی میں بھی اسکولوں اور کالجوں کی طرح پچاس فیصد طالبعلم بھاری فیس ادا کریں‘ پچیس فیصد کی فیس آدھی ہو جب کہ  باقی پچیس فیصد غریب مگر ذہین طالب علموں کی فیس معاف کر دی جائے۔

یونیورسٹیوں میں کسی ڈیپارٹمنٹ کے کسی سیشن میں تیس سے زائد طالب علم نہ لیے جائیں اور یونیورسٹی میں داخلے کے لیے عمر کی حد بھی ختم کر دی جائے‘ کوئی بھی شخص مرنے تک یونیورسٹی میں داخل ہو سکے‘ اس سے بھی صرف اہل لوگ یونیورسٹی آ سکیں گے‘ حکومت پرائمری سے لے کر یونیورسٹی تک ہر کلاس کے لیے لٹریچر‘ نان فکشن‘ آٹو بائیو گرافی اور سائنس کی دس کتابیں لازم قرار دے دے‘ پہلی جماعت سے لے کر دسویں جماعت تک دنیا کا قدیم لٹریچر پڑھایا جائے اور دسویں کے بعد یونیورسٹی تک جدید ترین بیسٹ سیلر کتابیں پڑھائی جائیں‘ ان کتابوں کا بے شک امتحان نہ ہو لیکن طالب علموں کے لیے یہ کتابیں پڑھنا ضروری ہوں.

اسکولوں میں اسپورٹس لازم ہو‘ تمام طالب علم کوئی نہ کوئی کھیل کھیلیں اور ہر سال کھیلوں کے میلے ضرور ہوں اور ان میں تمام تعلیمی ادارے حصہ لیں‘ تمام سرکاری اسکولوں کو ووکیشنل اداروں میں تبدیل کر دیا جائے‘ یہ اسکول چیمبر آف کامرس‘ شہر کے تاجروں اور انڈسٹریل زونز کے حوالے کر دیے جائیں‘ حکومت جدید ترین ووکیشنل سلیبس بنوائے اور شہروں کے تاجر اسکولوں کی عمارت میں بے کار نوجوانوں کو ووکیشنل تعلیم دلوانا شروع کر دیں.

ہائی اسکول کے طالب علموں کے لیے بھی ان اداروں میں دو گھنٹے ٹریننگ لازمی ہو‘ طالب علم ان اداروں میں صرف سائیکل پر آ سکیں‘ اس سے کلاس ڈیفرنس بھی ختم ہو گا‘ طالب علموں کی ورزش بھی ہو جائے گی‘ ملک میں سائیکل کی انڈسٹری بھی فروغ پائے گی اور پٹرول کی بچت بھی ہو گی‘ ہر ووکیشنل سینٹر کوئی ایک انڈسٹری بھی پروان چڑھائے‘ اس سے طالب علموں کو ٹیکنیکل نالج بھی ملے گا‘ اسپیشلائزیشن بھی ہو گی اور انڈسٹری بھی ترقی کرے گی۔

یہ چند برس پرانی بات ہے‘ ایک امریکی نو مسلم نے قرآن مجید سے حقوق العباد سے متعلق اللہ تعالیٰ کے 100 احکامات جمع کیے‘ یہ احکامات پوری دنیا میں پھیلے مسلم اسکالرز کو بھجوائے اور پھر ان سے نہایت معصومانہ سا سوال کیا ’’ہم مسلمان اللہ تعالیٰ کے ان احکامات پر عمل کیوں نہیں کرتے‘‘ مسلم اسکالرز کے پاس اس معصومانہ سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔

مجھے چند دن قبل ایک دوست نے یہ احکامات ’’فارورڈ‘‘ کر دیے‘ میں نے پڑھے اور میں بڑی دیر تک اپنے آپ سے پوچھتا رہا ’’ہمارے رب نے ہمیں قرآن مجید کے ذریعے یہ احکامات دے رکھے ہیں‘ ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ان احکامات پر پورا اترتے ہیں‘‘۔

میں یہ احکامات سو نمبر کا پرچہ سمجھ کرترجمہ کر رہا ہوں اور میں یہ آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں‘ آپ پہلے یہ پرچہ حل کریں‘ پھر خود اس کی مارکنگ کریں‘ پھر اپنے پاس یا فیل ہونے کا فیصلہ کریں اور آخر میں یہ سوچیں ہم قیامت کے دن کیا منہ لے کر اپنے رب کے سامنے پیش ہوں گے‘ آپ کا یہ جواب فیصلہ کرے گا ہم کتنے مسلمان ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’ایک‘ گفتگو کے دوران بدتمیزی نہ کیا کرو‘‘ حکم دیا‘ دو‘ غصے کو قابو میں رکھو‘ تین‘ دوسروں کے ساتھ بھلائی کرو‘ چار‘ تکبر نہ کرو‘ پانچ‘ دوسروں کی غلطیاں معاف کر دیا کرو‘ چھ‘ لوگوں کے ساتھ آہستہ بولا کرو‘ سات‘ اپنی آواز نیچی رکھا کرو‘ آٹھ‘ دوسروں کا مذاق نہ اڑایا کرو‘ نو‘ والدین کی خدمت کیا کرو‘ دس‘ منہ سے والدین کی توہین کا ایک لفظ نہ نکالو‘ گیارہ‘ والدین کی اجازت کے بغیر ان کے کمرے میں داخل نہ ہوا کرو۔

بارہ‘ حساب لکھ لیا کرو‘ تیرہ‘ کسی کی اندھا دھند تقلید نہ کرو‘ چودہ‘ اگر مقروض مشکل وقت سے گزر رہا ہو تو اسے ادائیگی کے لیے مزید وقت دے دیا کرو‘ پندرہ‘ سود نہ کھاؤ‘ سولہ‘ رشوت نہ لو‘ سترہ‘ وعدہ نہ توڑو‘ اٹھارہ‘ دوسروں پر اعتماد کیا کرو‘ انیس‘ سچ میں جھوٹ نہ ملایاکرو‘ بیس‘ لوگوں کے درمیان انصاف قائم کیا کرو‘ اکیس‘ انصاف کے لیے مضبوطی سے کھڑے ہو جایا کرو‘ بائیس‘ مرنے والوں کی دولت خاندان کے تمام ارکان میں تقسیم کیاکرو‘ تئیس‘ خواتین بھی وراثت میں حصہ دار ہیں۔

چوبیس‘ یتیموں کی جائیداد پر قبضہ نہ کرو‘ پچیس‘ یتیموں کی حفاظت کرو‘ چھبیس‘ دوسروں کا مال بلا ضرورت خرچ نہ کرو‘ ستائیس‘ لوگوں کے درمیان صلح کراؤ‘ اٹھائیس‘ بدگمانی سے بچو‘ انتیس‘ غیبت نہ کرو‘ تیس‘ جاسوسی نہ کرو‘ اکتیس‘ خیرات کیا کرو‘ بتیس‘ غرباء کو کھانا کھلایا کرو‘ تینتیس‘ ضرورت مندوں کو تلاش کر کے ان کی مدد کیا کرو‘ چونتیس‘ فضول خرچی نہ کیا کرو‘ پینتیس‘ خیرات کر کے جتلایا نہ کرو‘ چھتیس‘ مہمانوں کی عزت کیاکرو‘ سینتیس‘ نیکی پہلے خود کرو اور پھر دوسروں کو تلقین کرو‘ اڑتیس‘ زمین پر برائی نہ پھیلایا کرو‘ انتالیس‘ لوگوں کو مسجدوں میں داخلے سے نہ روکو‘ چالیس‘ صرف ان کے ساتھ لڑو جو تمہارے ساتھ لڑیں۔

اکتالیس‘ جنگ کے دوران جنگ کے آداب کا خیال رکھو‘ بیالیس‘ جنگ کے دوران پیٹھ نہ دکھاؤ‘ تینتالیس‘ مذہب میں کوئی سختی نہیں‘ چوالیس‘ تمام انبیاء پر ایمان لاؤ‘ پینتالیس‘ حیض کے دنوں میں مباشرت نہ کرو‘ چھیالیس‘ بچوں کو دو سال تک ماں کا دودھ پلاؤ‘ سینتالیس‘ جنسی بدکاری سے بچو‘ اڑتالیس‘ حکمرانوں کو میرٹ پر منتخب کرو‘ انچاس کسی پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالو‘ پچاس‘ نفاق سے بچو‘ اکاون‘ کائنات کی تخلیق اور عجائب کے بارے میں گہرائی سے غور کرو‘ باون‘ عورتیں اور مرد اپنے اعمال کا برابر حصہ پائیں گے‘ ترپن‘ خونی رشتوں میں شادی نہ کرو (کزن میرج)‘ چون‘ مرد کو خاندان کا سربراہ ہونا چاہیے۔

پچپن‘ بخیل نہ بنو‘ چھپن‘ حسد نہ کرو‘ ستاون‘ ایک دوسرے کو قتل نہ کرو‘ اٹھاون‘ فریب (فریبی) کی وکالت نہ کرو‘ انسٹھ‘ گناہ اور شدت میں دوسروں کے ساتھ تعاون نہ کرو‘ ساٹھ‘ نیکی میں ایک دوسری کی مدد کرو‘ اکسٹھ‘ اکثریت سچ کی کسوٹی نہیں ہوتی‘ باسٹھ‘ صحیح راستے پر رہو‘  تریسٹھ‘ جرائم کی سزا دے کر مثال قائم کرو۔

چونسٹھ‘ گناہ اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد کرتے رہو‘ پینسٹھ‘ مردہ جانور‘ خون اور سور کا گوشت حرام ہے‘ چھیاسٹھ‘ شراب اور دوسری منشیات سے پرہیز کرو‘ ساٹھ‘ جواء نہ کھیلو‘ اڑسٹھ‘ ہیرا پھیری نہ کرو‘ ستر‘ کھاؤ اور پیو لیکن اصراف نہ کرو‘ اکہتر‘ نماز کے وقت اچھے کپڑے پہنو‘ بہتر‘آپ سے جو لوگ مدد اور تحفظ مانگیں ان کی حفاظت کرو‘ انھیں مدد دو‘ تہتر‘ طہارت قائم رکھو‘ چوہتر‘ اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہو‘ پچہتر‘ اللہ نادانستگی میں کی جانے والی غلطیاں معاف کر دیتا ہے۔

چھہتر‘ لوگوں کو دانائی اور اچھی ہدایت کے ساتھ اللہ کی طرف بلاؤ‘ ستتر‘ کوئی شخص کسی کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائے گا‘ اٹھہتر‘ غربت کے خوف سے اپنے بچوں کو قتل نہ کرو‘ اناسی‘ جس کے بارے میں علم نہ ہو اس کا پیچھا نہ کرو‘ اسی‘ پوشیدہ چیزوں سے دور رہا کرو (کھوج نہ لگاؤ)‘ اکیاسی‘ اجازت کے بغیر دوسروں کے گھروں میں داخل نہ ہو‘ بیاسی‘ اللہ اپنی ذات پر یقین رکھنے والوں کی حفاظت کرتا ہے‘ تراسی‘ زمین پرعاجزی کے ساتھ چلو‘ چوراسی‘ دنیا سے اپنے حصے کا کام مکمل کر کے جاؤ۔

پچاسی‘ اللہ کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو‘ چھیاسی‘ ہم جنس پرستی میں نہ پڑو‘ ستاسی‘ صحیح(سچ) کا ساتھ دو‘ غلط سے پرہیز کرو‘ اٹھاسی‘ زمین پر ڈھٹائی سے نہ چلو‘ نواسی‘ عورتیں اپنی زینت کی نمائش نہ کریں‘ نوے‘ اللہ شرک کے سوا تمام گناہ معاف کر دیتا ہے‘ اکانوے‘ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو‘ بانوے‘ برائی کو اچھائی سے ختم کرو‘ ترانوے‘ فیصلے مشاورت کے ساتھ کیا کرو‘ چورانوے‘ تم میں وہ زیادہ معزز ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔

پچانوے‘ مذہب میں رہبانیت نہیں‘ چھیانوے‘ اللہ علم والوں کو مقدم رکھتا ہے‘ ستانوے‘ غیر مسلموں کے ساتھ مہربانی اور اخلاق کے ساتھ پیش آؤ‘ اٹھانوے‘ خود کو لالچ سے بچاؤ‘ ننانوے‘ اللہ سے معافی مانگو‘ یہ معاف کرنے اور رحم کرنے والا ہے اور سو ’’جو شخص دست سوال دراز کرے اسے انکار نہ کرو‘‘۔

اللہ تعالیٰ کے یہ سو احکامات حقوق العباد ہیں‘ ہم جب تک سو نمبروں کے اس پرچے میں پاس نہیں ہوتے ہم اس وقت تک مسلمان ہو سکتے ہیں اور نہ ہی اللہ کا قرب حاصل کر سکتے ہیں خواہ ہم پوری زندگی سجدے میں گزار دیں یا پھر خانہ کعبہ کی چوکھٹ پر جان دے دیں‘ آپ یہ پرچہ چل کریں‘ مارکنگ کریں اور اپنے گریڈز کا فیصلہ خود کر لیں۔مجھے یقین ہے میرے سمیت کوئی مسلمان اس امتحان میں پاس نہیں ہو سکے گا‘ آپ گفتگو میں بدتمیزی سے لے کر بھکاری کا ہاتھ جھٹکنے تک اللہ کا کوئی حکم لے لیجیے آپ خود کو خداکا نافرمان پائیں گے۔

ہم اللہ کے نام پر مرنے اور مارنے کے لیے تیار رہتے ہیں لیکن ہم اللہ کا کوئی حکم ماننے کے لیے رضا مند نہیں ہیں‘ اللہ نے ہم انسانوں کو سمجھانے کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء اور چار کتابیں نازل کیں‘ہم نے کتابوں پر عمل کیا اور نہ ہی انبیاء کی سنی‘آپ اللہ تعالیٰ کے احکامات کا تجزیہ کر لیجیے آپ کو اللہ کے نوے فیصد احکامات حقوق العباد اور دس فیصد عبادات پر مبنی ملیں گے‘اللہ تعالیٰ عبادات کے اندر بھی انسانوں کے حقوق کو مقدم رکھتا ہے۔

مسجد میں بھی اگر ہمارے سجدے دوسروں کے سجدوں کے راستے میں رکاوٹ بن جائیں تو اللہ ہمارے سجدے قبول نہیں کرتا خواہ ہم خشوع اور خضوع کی انتہا کو ہی کیوں نہ چھو لیں‘ اللہ تعالیٰ اس مسجد کو بھی مسجد نہیں سمجھتا جو راستے میں بنائی گئی ہو یا قبضے کے پلاٹ پر تعمیر کی گئی ہو ‘ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان عبادتوں کو بھی عبادت گزاروں کے منہ پر مار دے گا جو حقوق العباد کو روند کر ادا کی گئی ہوں گی اور ہمارا رب اس قدر کریم اور مہربان ہے کہ یہ صدقے کا پہلا حق دار بھی خاندان کو قرار دیتا ہے۔

یہ کمانے والے کی ذات کو کمائی کا پہلا حق دیتا ہے لیکن ہم کیا ہیں؟ ہم اپنے خالی‘ اپنے کھوکھلے وجود کو عمامے‘ پگڑیاں اور ٹوپیاں پہنا کر‘ ہم اخلاقیات سے بے بہرہ جسم کو داڑھیاں رکھوا کر اور ہم برائیوں‘ بے ایمانیوں اور گستاخیوں کے ڈھیر پر جائے نماز بچھا کر خود کو دنیا کی مقدس اور متبرک ترین قوم سمجھتے ہیں‘ہم اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے باوجودخود کو اللہ تعالیٰ کے ٹھیکیدار بھی سمجھتے ہیں‘ہمیں یہ ماننا ہوگا ہم اپنے رب کے نافرمان ہیں اور رب اپنے نافرمانوں کے پاس قبلہ اول تو کیا قبلہ دوم بھی نہیں رہنے دیتا‘ یہ ان سے ان کی سجدہ گاہیں تک چھین لیا کرتا ہے اور یہ ان کی دعاؤں سے اثراڑا دیا کرتا ہے۔

ہم بھی کیا لوگ ہیں؟ ہم قبضے کے پلاٹوں‘ راستوں اور گرین بیلٹس پر مسجدیں بنا کر یہودیوں کو قبلہ اول کا قبضہ چھوڑنے کا حکم دیتے ہیں‘ ہم اپنے بچوں کو دودھ میں کھاد ملا کر پلاتے ہیں‘ مسلمان مسلمان کو گدھے کا گوشت کھلاتا ہے لیکن یہ پوری مسلم امہ کو یہودی مشروبات اور کھانے کے یہودی برانڈ ترک کرنے کا مشورہ دیتا ہے‘ ہمیں اگراللہ کی نصرت چاہیے توہمیں اللہ کے احکامات پر عمل کرنا ہوگا ‘ ہم کب تک اللہ اللہ کا ورد کرکے اللہ کو دھوکا دیتے رہیں گے‘ اللہ تعالیٰ ہم سب کے مکر اور فریب سے بھی واقف ہے اور یہ ہمارے دلوں کا حال بھی خوب جانتا ہے‘ ہمیں ماننا ہوگااللہ کا جو بندہ اللہ کی نہیں مانتااللہ اس کی نہیں سنتا۔

عمرے کا سیزن یکم محرم کو شروع ہوتا ہے‘ رمضان کی 25 تاریخ تک عمرے کے ویزے جاری ہوتے ہیں اور 15 شوال کو مکمل طور پر بندکر دیئے جاتے ہیں یوں عمرے کا سیزن تقریباً نو ماہ جاری رہتاہے‘ اس سال بھی یکم محرم (12 ستمبر) کو عمرے کا سیزن شروع ہوا اور اتوار 28 اکتوبر 2018ء(18 صفر المظفر)کو اس سیزن کو ایک ماہ اور 17 دن ہو گئے‘ سعودی حکومت نے ان 47 دنوں میں ساڑھے چھ لاکھ عمرہ ویزے جاری کئے‘ آپ شاید یہ جان کر حیران ہوں گے پوری دنیا میں عمرے کے سب سے زیادہ ویزے پاکستانیوں نے حاصل کئے‘ پاکستانیوں نے 47 دنوں میں ایک لاکھ 70 ہزار 8 سو 24 ویزے لئے‘ بھارت کا نمبردوسرا تھا‘

انڈیا میں 19 کروڑمسلمان

ہیں‘ ان کےلئے 95 ہزار 7 سو 49 ویزے جاری ہوئے جبکہ ترکی نے سب سے کم 4 ہزار 6 سو 52 عمرہ ویزے لئے‘ یہ47 دنوں کی صورت حال تھی‘ آپ اگر گزشتہ سال کے اعداد و شمار بھی دیکھیں تو آپ مزید حیران ہو جائیں گے‘ 2017ءمیں پاکستان کے ایک لاکھ 79 ہزار210شہریوں نے حج اور13 لاکھ لوگوںنے عمرے کی سعادت حاصل کی‘ہم اگر عمرہ اور حج دونوں کو ملالیں تو یہ کل پونے پندرہ لاکھ لوگ بنتے ہیں اور یہ دنیا میں حج اور عمرے کی سب سے بڑی تعداد ہے‘ انڈونیشیا ہمارے بعد آتا ہے‘ 2017ءمیں 8 لاکھ75 ہزار958انڈونیشین مسلمانوں نے عمرے اور حج فرمائے جبکہ انڈیا کے 5 لاکھ 24 ہزار 609 لوگوں نے یہ سعادت حاصل کی‘ پاکستان گزشتہ کئی برسوںسے حج میں دوسرے نمبر پر آ رہا ہے‘ 2016ءمیں بھی ہم دوسرے نمبر پر تھے‘ ہم نے ایک لاکھ 43 ہزار 368لوگوں کےلئے حج کے ویزے حاصل کئے تھے جبکہ انڈونیشیا ڈیڑھ لاکھ حجاج کرام کے ساتھ پہلے نمبر پر تھا‘ یہ ایک صورتحال ہے‘آپ اب دوسری صورت حال بھی ملاحظہ کیجئے۔پاکستان بے ایمانی (کرپشن) میں 180ممالک میں 117نمبر پر آتا ہے‘ دنیا میں نیوزی لینڈ‘ ڈنمارک‘ فن لینڈ‘ ناروے‘ سوئٹزرلینڈ‘ سنگاپور‘ سویڈن‘ کینیڈا‘ لکسمبرگ‘ نیدرلینڈ اور برطانیہ ایمانداری میں پہلے دس نمبروں میں آتے ہیں جبکہ ٹوگو‘ آزربائیجان‘ جبوتی‘ قزاقستان‘ لائبیریا‘ ملاوی‘ مالی‘ نیپال‘ مالدوا‘ گیمبیا‘ میانمار‘ سیرا لیون‘ ہنڈوراس‘ لاﺅس اور پاپوا نیوگنی ہم سے زیادہ بے ایمان ہیں‘
ہم جہالت میں بھی197ملکوں میں 143نمبرپر ہیں‘ہم تعلیم میں یونیسکو کے 120 رکن ملکوں میں 113 نمبر پرآتے ہیں‘ سری لنکا اورفلپائن جیسے غریب ملک بھی تعلیم میں ہم سے آگے ہیں‘ سری لنکا میں 92فیصد لوگ پڑھے لکھے ہیں اور یہ تعلیم یافتہ ملکوں میں83نمبر پر ہے جبکہ ہمارے اڑھائی کروڑ بچے آج بھی سکول کی نعمت سے محروم ہیں‘ پاکستان کی 80فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی بھی نہیں ملتا‘عالمی ادارہ صحت نے2016ءمیں184 ممالک میں پاکستان کو فضائی آلودگی میں چوتھا بدترین ملک قرار دیا تھا گویا 180ملکوں کی فضا ہم سے صاف قرار دی گئی‘

پاکستان نائیجیریا اور افغانستان کے ساتھ ان تین ملکوں میں بھی شامل ہے جہاں پولیو ابھی تک موجود ہے‘ہمارا ملک ہائیپاٹائٹس سی میں دنیا میں دوسرے ‘ ٹی بی میں پانچویں‘ شوگر میںساتویںاور گردے کے امراض میں آٹھویں نمبر پر ہے ‘ہمارے ملک میں ہر سال تین لاکھ لوگ دل کی بیماریوں کی وجہ سے انتقال کر جاتے ہیں ‘ہم دماغی امراض اور کینسر میں بھی خطرے کی لکیر پر کھڑے ہیں‘ ہم روڈ ایکسیڈنٹس میں بھی ٹاپ پر آتے ہیں اور ہم قتل‘ ڈکیتیوں ‘زنا بالجبر‘ لڑائی جھگڑوں ‘ گندگی ‘آلودہ پانی ‘ اغواءبرائے تاوان ‘بچوں اور خواتین کو ہراساں کرنے اور ناانصافی کے شکارملکوں میںبھی سرفہرست ہیں‘



ہمارے ملک کی 52 فیصد آبادی بلڈ پریشر کی شکار ہے‘ ہم ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں صدر اور وزیراعظم کو بھی خالص دودھ‘ خالص آٹا‘ خالص گوشت اور خالص دوائیں دستیاب نہیں ہیں‘ جس میں نمازی بھی گندے پانی سے وضو کرتے ہیں اور ہسپتال میں بھی خالص آکسیجن نہیں ملتی‘ ہم پانی کی انتہائی کمی کے شکار پہلے تین ملکوں میں بھی شمار ہوتے ہیں‘ ہسپتالوں میں مریضوں کے گردے چوری ہو جاتے ہیں‘ سرجن دل کے مریضوں کو جعلی سٹنٹ لگا دیتے ہیں‘

ہم جعلی دواﺅں میں بھی دنیا میں 13نمبر پر ہیں‘ جنوری 2012ءمیں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں 100سے زائد مریض غلط دوا کھانے سے مر گئے تھے‘ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کے ہسپتالوں میں چوہے نومولود بچوں کو کھا جاتے ہیں‘ گلوبل ہنگر انڈیکس کے مطابق ملک کی 32.6فیصد آبادی خوراک کی کمی کا شکار ہے‘ وزیراعظم عمران خان کے مطابق 10 بلین ڈالر ملک سے سالانہ منی لانڈر ہو جاتے ہیں اور نیب کے اپنے اعدادو شمار کے مطابق ملک میں روزانہ چھ سے سات ارب روپے کرپشن کی نذر ہوتے ہیں‘

آپ اگران اعدادو شمار کو ایک سائیڈ پر رکھ دیں اور خود تحقیق کرلیں تو بھی ثابت ہو گا ہمارے ملک میں چپڑاسی سے لے کر ایوان صدر تک پورا سسٹم کرپشن میں لتھڑا ہوا ہے‘ پولیس رشوت کے بغیر ایف آئی آر نہیں لکھتی‘ ایف آئی آر ہو جائے تو یہ رقم کے بغیر ملزم گرفتار نہیں کرتی اور یہ اگر ملزم گرفتار بھی کر لے توبھی یہ دوسری پارٹی سے پیسے لے کرملزم کو بے گناہ قرار دے دیتی ہے‘ محکمہ مال پورے کا پورا کرپٹ ہے‘ وزیراعظم عمران خان کو بھی رشوت اور سفارش کے بغیر فرد نہیں ملے گا‘

نیب کی حالت پوری دنیا کے سامنے ہے‘ نظام عدل کے بارے میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کے اپنے تبصرے کافی ہیں‘ ہمارے ملک میں مسجدوں تک سے جوتے‘ پنکھے‘ ٹوٹیاں اور قالین چوری ہو جاتے ہیں‘ لوگ داڑھی رکھ کر مسجد کا چندہ‘ یتیموں کا مال اور بیواﺅں کی کمائی کھا جاتے ہیں‘ پولیس نے فروری 2017ءمیں راولپنڈی سے اشرف نام کا ایک مجرم پکڑا تھا‘ یہ دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد ظالم انسان تھا‘ یہ مختلف علاقوں میں خواتین سے شادی کرتا تھا‘



بچہ یا بچی پیدا کرتا تھا‘ یہ بچی یا بچہ بیچ دیتا تھا اور بیوی کو طلاق دے کر غائب ہو جاتا تھا‘ وہ پکڑے جانے تک آدھ درجن بچے بیچ چکا تھا‘ پاکستان میں اس وقت 80لاکھ نشئی ہیں‘ ہم دنیا میں نشئیوں میں بھی اولین نمبروں پر آتے ہیں‘ آپ بازاروں اور محلوں میں بھی دیکھ لیں‘ آپ عموماً حاجی حضرات سے لٹیں گے‘ لوگ داڑھی رکھ کر آئیں گے‘ آپ ان کی پارسائی سے متاثر ہوں گے اور وہ آخر میں آپ کو لوٹ لیں گے‘ آپ کو لاکھوں لوگ پیروں‘ مبلغوں اور مذہبی رہنماﺅں کے ہاتھوں بھی لٹتے ملیں گے‘ 2013ءمیں مضاربہ سکینڈل آیا تھا‘

اس میں مفتی حضرات 9584لوگوں کو لوٹ کر فرار ہو گئے‘ یہ ساڑھے چھ ارب روپے کا سکینڈل تھا‘ ڈبل شاہ خود کو سید زادہ کہتا تھا‘ وہ سید بن کر 2158لوگوں کو لوٹ کر کھا گیا‘ آپ اب تک جانوروں کی آنتوں اور چربی سے گھی‘ لکڑی کے برادے سے مرچیں‘ کالے چنے سے کالی مرچ اور عام بادام کو تیزاب میں بھگو کر کاغذی بنانے کی درجنوں کہانیاں سن چکے ہوں گے‘ آپ کو گندے نالے میں سبزی دھونے‘ کیپسول میں آٹا ڈال کر بیچنے اور ڈٹرجنٹ پاﺅڈر سے دودھ بنانے کے واقعات بھی ازبر ہو چکے ہوں گے‘

میں نوجوان صحافی اقرارالحسن اور فوڈ ایکسپرٹ محسن بھٹی کو داد دیتا ہوں‘ ان دونوں نے پورے ملک کی آنکھیں کھول دیں‘ آپ نیک لوگوں کے اس ملک میں منرل واٹر خریدیں وہ جعلی نکلے گا‘ ادویات لیں وہ غیر معیاری ہوں گی‘ آپ ہسپتال چلے جائیں ڈاکٹر کھانسی کو ٹی بی بنا کر آپ کا پیٹ کھول دیں گے‘ گھی خریدیں وہ چربی نکلے گا‘ دالیں‘ سبزی‘ گوشت اور آٹا چاول لیں وہ غیر معیاری اور دو نمبر ہوں گے‘ آپ بچے کو سکول داخل کرا دیں فیس پچاس ہزار ہو گی لیکن بچہ سارا دن کھیل کود کر واپس آ جائے گااورآپ مسجد جائیں گے تو جوتا‘ پرس اور موبائل گنوا بیٹھیں گے‘

آپ خود سوچئے جس ملک میں جنازے کے دوران لوگوں کی جیبیں کٹ جائیں اور جس میں حکومت کے پاس مینڈیٹ جعلی ہو اور پائلٹوں‘ وکیلوں‘ ڈاکٹروں‘ ججوں اور ارکان پارلیمنٹیرین کی ڈگریاں نقلی ہوں اس میں باقی کیا بچ جاتا ہے؟۔میں جب بھی حجوں اور عمروں کی تعداد دیکھتا ہوں اور پھر دوسری طرف قوم کی حالت دیکھتا ہوں تو میں کنفیوز ہو جاتا ہوں‘ مجھے سمجھ نہیں آتی میں اپنی قوم کو پرہیز گار سمجھوں یا پھر بے ایمان‘ آپ ایک طرف پارسائی ملاحظہ کیجئے خانہ کعبہ کے ہر طواف اور مسجد نبوی کی ہر نماز میں پاکستانی ضرورہوتے ہیں‘

ہماری آدھی سے زائد آبادی باریش ہے‘ ہم گرین بیلٹس‘ پارکس اور راستوں میں بھی مسجدیں بنا لیتے ہیں‘ نمازی سڑک تک صفیں بچھا لیتے ہیں‘ اذان کی آوازیں دس دس منٹ تک آتی رہتی ہیں‘ ہم گھنٹہ گھنٹہ خطبے سنتے اور سناتے ہیں‘ ہماری تدفین کی رسومات بھی چالیس چالیس دن چلتی ہیں‘ ہمارے ملک میں دس محرم اور بارہ ربیع الاول کو قومی تعطیل ہوتی ہے اور پورے پورے شہر فوج کے کنٹرول میں چلے جاتے ہیں‘ مسجد مانسہرہ میں بنتی ہے لیکن چندہ کراچی میں مانگا جاتا ہے مگر دوسری طرف ہم دنیا کی بے ایمان ترین قوموں میں بھی شمار ہوتے ہیں‘

پاکستان میں کوئی ایک پراڈکٹ‘ کوئی ایک ادارہ اور کوئی ایک ایسا شخص نہیں ہم جس کی ایمانداری‘ اخلاص اور خالص ہونے کی قسم کھا سکیں‘ ہم حلف نامے بھی جھوٹے جمع کراتے ہیں اور عدالتوں میں قرآن پر ہاتھ رکھ کر جھوٹ بولتے ہیں چنانچہ ہم اصل میں ہیں کیا؟ ہم پارسا ہیں یا بے ایمان‘ میں اکثر کنفیوز ہو جاتا ہوں‘میرے دوست اینکر پرسن رحمان اظہرنے ایک دن پنجابی فلم کالا چور کا ایک ڈائیلاگ سنایا تھا‘ فلم میں سلطان راہی جج کو کہتا ہے ”ظلم ہوئے 24 گھنٹے تے عدالت لگے صرف آٹھ گھنٹے‘ اے کیسا انصاف ہے جج صاحب“

ہم بھی من حیث القوم ایسے ہی کالے چور ہیں‘ ہم لوگوں کی انتڑیوں میں ہیروئن بھر کر پیسہ کماتے ہیں اور اس پیسے سے عمرے کےلئے روانہ ہو جاتے ہیں‘ہم عمرے اور حج میں پہلے نمبر پر ہیں اور ایمانداری میں117نمبر پر‘ واہ ہم بھی کیا لوگ ہیں‘ حج اور عمرے بھی جاری ہیں اور بے ایمانی کا تنور بھی خوب گرم ہے‘ پاکستان زندہ باد۔


چاچا طیفا گوجرانوالہ شہر کا ایک دلچسپ کردار تھا‘ وہ خوبصورت اور خوش لباس تھا‘ اچھا کھاتا‘ اچھا پیتا اور اچھا رہتا تھا‘ ہمیشہ طلے والا کھسہ اور بوسکی کی قمیض پہنتا تھا اور لٹھے کا لاچا باندھتا تھا‘ دہی اور پراٹھا چاچے طیفے کا ناشتہ ہوتا تھا اور وہ ہمیشہ شہر کے معززین میں بیٹھتا تھا لیکن چاچے نے اس سارے تام جھام اور شب شبا کے باوجود پوری زندگی تنکا دہرا نہیں کیا۔

والدین نے اسے اسکول میں داخل کرایا مگر چاچا دوسری تیسری جماعت سے آگے نہ جا سکا‘ والدین نے کام سکھانے کی کوشش کی لیکن چاچے نے ہر کوشش ناکام بنا دی‘ وہ پوری زندگی کوئی کام نہیں سیکھ سکا‘ وہ لڑکپن تک والدہ کے پلو کے سائے میں رہا‘ ماں لوگوں کے گھروں میں برتن مانجھ کر اسے پالتی رہی‘ وہ ہمسایوں سے پراٹھا‘ مکھن اور لسی مانگ کر لاتی تھی اور چاچا کھا پی کر سو جاتا تھا‘ جوان ہوا تو یہ ذمے داری اس کی بیگم کے سر پر آ پڑی‘ وہ بے چاری سارا دن لوگوں کے گھروں میں جھاڑو پوچا کرتی‘ شام کو تھکی ہاری گھر آتی۔

دوسروں کے گھروں سے لایا ہوا سالن گرم کرتی اور چاچا کھا پی کر‘ ڈکار مار کر سو جاتا ‘ چاچے کو ہر صبح دہی اور پراٹھا لازمی چاہیے ہوتا تھا‘ بیوی ہر صورت یہ بندوبست کر کے رکھتی تھی‘ وہ اٹھتا تھا‘ چنگیر سے پراٹھا نکالتا تھا‘ دہی کے ساتھ کھاتا تھا‘ صاف کپڑے پہنتا تھا اور مونچھوں کو تاؤ دے کر باہر نکل جاتا تھا‘ باہر اس کے تین چار ٹھکانے ہوتے تھے‘ وہ شہر کے دو سیاستدانوں کے ڈیروں پر بیٹھ جاتا تھا یا پھر فراخ دل سیٹھ اس کا ٹارگٹ ہوتے تھے‘ وہ ان کے پاس بیٹھتا تھا اور پورا دن ان کی ہاں میں ہاں ملا کر گزار دیتا تھا‘ وہ جو کہتے تھے چاچا ’’واہ واہ کیا بات ہے‘‘ کا نعرہ لگا کر حقے کی نلی منہ میں دبا لیتا تھا۔
پنجاب کے زیادہ تر خوش حال لوگوں‘ سیٹھوں اور سیاستدانوں کو چاچے طیفے جیسے ویلوں کی ضرورت رہتی ہے‘ یہ لوگ ان کے لیے ڈھول کی حیثیت رکھتے ہیں‘ یہ بجتے ہیں تو ان کی واہ واہ ہوتی ہے لہٰذا آپ کو آج بھی پنجاب کے زیادہ تر ڈیروں پر چاچے طیفے جیسے لوگ نظر آتے ہیں‘ یہ ڈیرے عمر بھر چاچے کا دن گزارتے رہے‘ یہ اسے حقہ‘ پانی‘ لسی اور دوپہر کا کھانا فراہم کرتے رہے‘ چاچے کو بعض اوقات رات کا کھانا بھی ان سے مل جاتا تھا‘ یہ اسے نئے کپڑے اور جوتے بھی لے دیتے تھے اور اسے کبھی کبھار سو دو سو روپے بھی دے دیے جاتے تھے۔

چاچا سارا دن ڈیرے بھگتا کر رات کو تھک ہار کر گھر آجاتا تھا‘ بیوی نے صاف ستھرا بستر بچھایا ہوتا تھا‘ وہ بستر پر گر کر خراٹے لینے لگتا تھا اور وہ اگر کبھی بھوکا ہوتا تھا تو گھر کے دروازے پر کھڑا ہو کر بیوی سے پوچھ لیتا تھا ’’صغریٰ آج تم کیا لائی ہو‘‘ بیوی ڈرتے ڈرتے کھانے کے بارے میں بتاتی تھی اور اگر کھانا چاچے کی مرضی کا نہیں ہوتا تھا تووہ چاچی کی ٹھیک ٹھاک ٹھکائی کر دیتا تھا‘ سزا کے اس عمل کے دوران چاچا بار بار یہ کہتا تھا ’’تمہیں ایسے کنجوس لوگوں کے گھروں میں کام کرنے کی کیا ضرورت ہے‘ یہ ہر دوسرے دن دال پکا لیتے ہیں‘انھیں شرم ہی نہیں آتی‘‘ وہ چاچی کی ٹھکائی کے بعد وہی سبزی اور وہی دال کھاتا تھا اور بستر پر ڈھیر ہو جاتا تھا۔

صبح اٹھ کر معمول کے مطابق دہی اور پراٹھا پھڑکاتا تھا اور یہ دیکھے بغیر کہ اس کے بچوں کو ناشتہ نصیب ہوا یا نہیںوہ بوسکی کی قمیض پہن کر باہر نکل جاتا تھا‘ چاچے نے پوری زندگی یہ معمول جاری رکھا‘ بیوی بیمار ہوئی یا کوئی بچہ‘ محلے والے پیسے جوڑ کر اس کا علاج کرا دیتے تھے‘ بچیوں کی شادیاں عزیز‘ رشتے داروں نے کرا دیں۔

بچے کام کی عمر کو پہنچے تو وہ ورکشاپوں میںدھندہ کر کے چاچے کے دہی پراٹھے کا بندوبست کرتے رہے اور وہ اگر خود کبھی بیمار ہو گیا تو کسی ڈیرے دار‘ کسی سیٹھ نے دواء دارو کر دیا‘ چاچا ایک بھرپور زندگی گزار کر خالق حقیقی سے جا ملا‘ مرنے کے بعد بھی اہل محلہ نے پیسے جمع کیے‘ کفن دفن کا بندوبست کیا‘ بچوں نے مانگ تانگ کر سوئم اور چالیسواں کر دیا‘ ایک سیٹھ نے چاچے کی قبر پکی کرا دی اور یوں چاچا طیفا چاچا مرحوم اور اللہ بخشے چاچا طیفا ہو گیا۔

چاچا طیفا پاکستان کا صرف ایک کردار نہیں‘ آپ اپنے دائیں بائیں نظر دوڑائیں‘ آپ کو ایسے بے شمار چاچے طیفے مل جائیں گے‘ آپ کے خاندان کے اندر بھی ایسے لوگ ہوں گے ‘یہ لوگ پوری عمر تنکا دہرا نہیں کرتے لیکن یہ اس کے باوجود ایک شاندار اور بھرپور زندگی گزارتے ہیں‘ پنجابی میں ایسے لوگوں کو ’’مفت بر‘‘ کہا جاتا ہے‘ مفت بروں کی معیشت کے چار سورس ہوتے ہیں‘ رشتے دار‘ ادھار‘ ڈیرے اور بول بچن۔

یہ لوگ پوری زندگی عزیزوں اور رشتے داروں کے ٹکڑے توڑتے ہیں‘ یہ شروع میں والدین کی کمائی پر پلتے ہیں‘ پھر کوئی بھائی‘ بہن یا کزن ان کی ذمے داری اٹھا لیتا ہے‘ کوئی نہ کوئی رشتے دار ترس کھا کر انھیں رشتہ بھی دے دیتا ہے اور پھر یہ لوگ سکائی لیب کی طرح بیوی کے بھائیوں کے سر پر آ گرتے ہیں‘ یہ‘ ان کی بیوی اور بچے سالوں کی کمائی پر پلتے رہتے ہیں‘ اگر سالوں میں دم خم نہ ہو تو ان کی بیوی لوگوں کے برتن مانجھ کر‘ لوگوں کے فرش دھو کر انھیں اور اپنے بچے پال لیتی ہے۔

ادھار ان کا دوسرا سورس آف انکم ہوتا ہے‘ یہ پوری زندگی دائیں بائیں موجود لوگوں کی جیبوں سے رقم نکلواتے رہتے ہیں‘ یہ جس سے ملتے ہیں ایمرجنسی تخلیق کر کے اس سے دو چار ہزار روپے نکلوا لیتے ہیں اور وہ دن مزے سے گزار لیتے ہیں‘ ڈیرے بھی ان کا سورس آف انکم ہوتے ہیں‘ یہ کسی نہ کسی ایسے شخص کے ڈیرے‘ بیٹھک یا تھڑے پر جا بیٹھتے ہیں جہاں سے انھیں تمباکو‘ نسوار اور کھانا مل جاتا ہے اور ان کا چوتھا سورس آف انکم بول بچن ہوتا ہے‘ یہ چرب زبانی کے استاد ہوتے ہیں۔

یہ معمولی سے مفاد کے لیے جھوٹ کا انبار لگا دیتے ہیں‘ یہ جھوٹ ان کی فیکٹری‘ ان کی دکان ہوتے ہیں‘ یہ پوری زندگی زبان کی کمائی کھاتے ہیں‘ میں اکثر اپنے دوستوں سے عرض کرتا ہوں ہمارے ملک میں تین سہولتیں ہر شخص کو حاصل ہیں‘ یہ دنیا کا واحد ملک ہے جس میں ہر شخص کی شادی ہو جاتی ہے۔

آپ کو سڑک پر ایسے درجنوں فقیر ملیں گے جن کے پیچھے ان کی بیوی بھی کھڑی ہوگی اور تین چار بچے بھی‘ یہ سہولت دنیا میں کسی دوسرے ملک کے باسیوں کو حاصل نہیں‘ دو‘ ہمارے ملک میں کوئی بھی شخص تنکا دہرا کیے بغیر شاندار زندگی گزار سکتا ہے‘ ہمارا پورا ملک ایسے مفت بروں سے بھرا ہوا ہے اور تین‘ ہمارے ملک میں ہر شخص کو قبر نصیب ہو جاتی ہے‘ ہم لوگ اجنبی شخص کے لیے بھی کفن دفن کا بندوبست کر دیتے ہیں۔

باقی دنیا میں جو شخص افورڈ نہیں کر سکتا حکومت اس کو اجتماعی قبر میں دفن کر دیتی ہے یا پھر اس کی لاش جلا کر راکھ فروخت کر دیتی ہے اور یہ راکھ بعد ازاں دندان سازی میں استعمال ہوتی ہے جب کہ مفت خوروں کے اس ملک میں لاوارث لاشیں بھی لاوارث نہیں رہتیں‘ انھیں بھی عزت‘ احترام اور جنازہ نصیب ہو جاتا ہے۔

آپ اگر کسی دن اپنے اردگرد موجود مفت خوروں کو دیکھیں گے اور پھر اپنے ملک کی نفسیات پر نظر ڈالیں گے تو آپ بڑی آسانی سے ارض پاک کو سمجھ جائیں گے‘ ہم من حیث القوم مفت بر اور منگتے ہیں‘ ہم نے تو آزادی بھی لڑ کر نہیں لی تھی مانگ کر لی تھی‘ ہم منگتے پیدا ہوتے ہیں اور منگتے فوت ہوتے ہیں‘ ہمارے نظریات‘ افکار‘ روایات‘ مذہب اور رہن سہن تک ادھار اور مفت خوری پر مبنی ہے‘ ہم سب اپنی ذات میں چاچا طیفا ہیں‘ ہم مانگ کر دہی پراٹھا کھاتے ہیں‘ سارا دن کاہل بیل کی طرح دوسروں کے دروازے پر پڑے رہتے ہیں اور شام کو یہ طعنہ دے کر ’’تم روز دال مانگ کر لاتی ہو‘‘ بیوی کو پھینٹا لگا دیتے ہیں۔

ہم ستر سال میں اپنی مسجدیں تک خود مختار نہیں کر سکے‘ ہر مسجد کے منبر سے چندے کی درخواست ہوتی ہے اور نمازی مسجد کو دس بیس روپے دے کر ہی گھر آتے ہیں‘ ہمارے سرکاری دفتر ہوں‘ اسکول ہوں‘ اسپتال ہوں یا پھر ڈیم ہوں ہمارا سارا نظام چندے اور خیرات پر چل رہا ہے‘ امداد اور قرض ہماری پوری معیشت ان دو ستونوں پر کھڑی ہے چنانچہ ہماری ہر حکومت بھکاری ہوتی ہے اور وزیر خزانہ چیف بھکاری‘ ہم جب تک جھولی نہ پھیلا لیں‘ ہمیں اس وقت تک آرام نہیں آتا اور یہ نیچے سے لے کر اوپرتک ہماری سائیکی ہے۔

آپ دیکھ لیجیے ہماری حکومت نے جب تک پیسے نہیں مانگے تھے یا حکومت کو بھیک نہیں ملی تھی ہماری پوری قوم افسردگی اور پژمردگی کا شکار تھی‘ ہماری اسٹاک ایکسچینج روزانہ کی بنیاد پر نیچے گر رہی تھی اور روپیہ کمزور سے کمزور ہوتا چلا جا رہا تھا لیکن سعودی عرب نے ہمیں جوں ہی قرضہ اور مؤخر ادائیگیوں پر پٹرول دینے کا اعلان کیا (ابھی صرف اعلان ہوا ہے‘ پیسے نہیں ملے)ہماری رگوں میں تازہ خون دوڑنے لگا‘ ہم ایک دوسرے کو مبارک باد بھی دینے لگے اور ہماری اسٹاک ایکسچینج اور روپیہ بھی مضبوط ہوگیا‘ ہم دوبارہ زمین پر آ گئے چنانچہ آپ خود فیصلہ کیجیے قدرت چاچے طیفے جیسے لوگوں کی قوم کو جوتے نہیں مارے گی تو کیا کرے گی؟

آپ کسی دن سڑک پر کھڑے ہو کر مانگتے لوگوں اور حکومت دونوں کا موازنہ کر لیجیے آپ کو ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ملے گا‘ آپ کو سڑک کا بھکاری مینڈیٹ کے بغیر بھکاری ملتا ہے جب کہ ہماری حکومت مینڈیٹ یافتہ بھکاری ہوتی ہے‘ دونوں کی نظریں سخی تلاش کر رہی ہوتی ہیں اور ہاتھ دوسروں کے سامنے پھیلے ہوتے ہیں لہٰذا جب پوری قوم ایسی ہو گی تو پھر اللہ کا فضل کیسے اور کہاں سے نازل ہو گا؟اور یہ حقیقت ہے اللہ سب کی حالت بدل دیتا ہے لیکن یہ بھکاریوں کو مرنے تک محتاج رکھتا ہے۔

You can find here amar jaleel columns, amar jaleel, amar jaleel latest columns, Haroon ur Rasheed Columns, Nusrat Javed Columns, Ajmal Niazi Urdu Columns, javed chaudhry, Javed Chaudhry Columns, irshad bhatti, sohail warraich, Sohail Warraich, Sohail Warraich  Columns, Ayaz Ameer Urdu Columns Today, Ayaz Ameer Columns, Ayaz Ameer,rauf klasra, rauf klasra columns, jang columns, hassan nisar, hassan nisar columns, orya maqbool jan columns, orya maqbool jan, Mazhar Barlas Urdu Columns Today,  Mazhar Barlas Latest Columns etc.

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget