کالم لسٹ "Haroon-ur-Rasheed"

اللہ تو اپنے بندے کو بچانا چاہتا ہے ، بہرحال بچانا چاہتا ہے ، وہ خود نہیں بچتا۔ پھر وہ تقدیر کو دوش دیتا ہے ، جی نہیں ، تقدیر اٹل نہیں ، جس نے رقم کی ہے ، وہ اسے بدل سکتا ہے ۔ بدل دیتا ہے۔
دو طرح کے آدمی ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو اپنی توانائی عمل میں کھپاتے ہیں ۔ دوسرے دل کا بوجھ ہلکا کرنے میں لگے رہتے ہیں ۔ جس طرح بھوک اور پیاس میں رزق درکار ہوتا ہے ، اسی طرح بے رنگ زندگی میں رفاقت بھی ۔ دوسروں کے درمیان ہی آدمی آسودہ رہ سکتا ہے ۔ اپنے آپ سے، جنت سے نکالے گئے آدمی کو ہمدردی ہے۔ فرشتہ اس آدمیؐ پہ اترا ، جسؐ کے فضائل شمار نہیں کیے جا سکتے ۔ وہ سیدہ خدیجۃ الکبریٰ ؓ کے پاس تشریف لے گئے ۔ سیدہ ؓ بھی اپنے ماموں زاد ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں ۔ یہاں تک تو بالکل ٹھیک لیکن اس سے آگے...
توانائی اگر بوجھ ہٹانے ہی پہ لگے تو عمل کو کیا باقی بچے گا؟ مردم بیزاری شعار ہو جائے تو نفسیاتی امراض جنم لیتے ہیں ۔ تنہائی میں آدمی کڑھتا اور انجمن میں دوسروں کو کوستا رہتا ہے ۔ ایک عالمگیر سروے کے مطابق ہر آدمی اوسطاً 120 منٹ تک خود ترسی کا شکار رہتا ہے ۔ ابوالکلام آزاد نے کہا تھا : ہمہ وقت خود کو مصروف رکھو۔ بجا کہا مگر یہ مکمل علاج نہیں ۔ کبھی تو آدمی تنہا ہو گا ۔ کولہو کے بیل کی طرح جتا نہ رہے گا۔
خود تنقیدی درکار ہوتی ہے ۔ اپنے اندازِ فکر کا جائزہ لینا اور سلجھانا ہوتا ہے ۔ چار عشرے ادھر کی بات ہے ۔ لاہور کے ایک دانشور نے لندن میں اپنے دوست کو لکھا: I have grown a jungle in my mind , I dare not to enter in۔ اپنے فکر و خیال کی دنیا میں ایک جنگل اگا لیا ہے ، جس میں داخل ہونے کی جرأت مجھ میں نہیں ۔ نہیں ، خود سے آدمی فرار نہیں ہو سکتا ۔
دوسروں کی نہیں ، اپنی حماقتوں کے طفیل مشکل میں آدمی گرفتار ہوتا ہے ۔ آدمی کو آزمائش ہی کے لیے پیدا کیا گیا ۔ یہ ایک اٹل ، اور ابدی قانون ہے ۔ تکلیف بری ہوتی تو پیغمبرانِ عظامؑ کو کبھی نہ پہنچتی ۔ اصحابِ رسولؓ نے فریاد کی ''متیٰ نصر اللہ‘‘ ۔ اللہ کی مدد کہاں ہے ۔ انہیں بتایا گیا کہ پچھلی امتوں کے صالحین زیادہ بڑے مصائب سے گزرے ۔ ان کے بدن آروں سے چیر دئیے گئے ۔ خطا کار نہیں، شاید وہ اللہ کے پسندیدہ لوگ تھے، پسندیدہ ترین۔ بڑے آدمی کے لیے پیمانہ سخت ہوتا ہے ۔ 
یونس علیہ السلام کی کہانی سے سب واقف ہیں ۔ وہیل مچھلی کے پیٹ میں ڈالے گئے ۔ پھر نجات دیے گئے۔ کدّو کی بیل ان پر اگا دی گئی، جس نے ان کی نقاہت دور کر دی ، توانائی جلد بحال کر دی ۔ رسولِ اکرمؐ ، ہماری اولاد ان پہ قربان ہو، سب سے زیادہ جاننے والے تھے، اس لیے کدّو انہیں پسند تھا۔ شوربے میں انگلیاں ڈال ڈال کر اس کے قتلے کھایا کرتے۔ 
خود انؐ پہ مصائب کے کیسے پہاڑ ٹوٹے۔ طائف کا دن ، جسے وہ اپنی حیات کا سب سے مشکل دن قرار دیا کرتے ۔ شعبِ ابی طالب سے بھی زیادہ ، سوا دو سال جب انؐ پہ اور انؐ کے خاندان پہ رزق کا دروازہ بند رکھا گیا۔ درختوں کے پتے کھانا پڑے اور ابلا ہوا چمڑا۔ کیا نعوذ بااللہ وہ اللہ کے معتوب تھے بلکہ سب جانتے ہیں کہ سب سے زیادہ محبوب۔ قرآنِ کریم میں ان کے بارے میں لکھا گیا ۔ رضی اللہ عنہم و رضو عنہ۔ اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ۔ عالی جنابؐ کے بارے میں ارشاد یہ ہوا '' لعمرک‘‘ قسم ہے تیری عمرِ عزیز کی۔ اس کی ہر ساعت، ہر سیکنڈ کی۔ 
یہ مقام بلند کرنے اور استعداد میں اضافے کے لیے ہوتا ہے ۔ فرشِ خاک سے آپؐ عرشِ بریں پہ لے جائے گئے ۔ قابِ قوسین، دو کمانوں سے بھی کم فاصلہ۔ 
اُس پولیس افسر نے جب اس خطا کار کو برا بھلا کہا اور جواب میں اس نے اس سے بھی زیادہ سخت بات کہی تو رسوائی کا اسے سامنا کرنا پڑا ۔ کوئی سزا آدمی کو نہیں دی جاتی ، جس کا وہ مستحق نہ ہو ۔ پائلو کوئلو نے کہا تھا: غلطی نام کی کوئی چیز زندگی میں نہیں ہوتی ۔ بس سبق ہوتے ہیں ۔ سیکھنے سے اگر گریز کیا جائے تو ہمارے لیے قدرت انہیں دہراتی رہتی ہے ۔ اللہ نے کرم کیا کہ سوچنے کا اسے موقع دیا ۔ 
پیہم غور و فکر کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ بات نہ کہنی چاہیے تھی ۔ کہہ دی تھی تو اسی وقت معافی مانگ لینی تھی۔ جواز تلاش کر کے خود کو دھوکہ نہ دینا چاہیے تھا کہ ایک بے گناہ پہ اس نے ظلم کیا ہے۔ وہ ایک دوسری بات ہے ۔ اگر اس نے ایسا کیا اور میری معلومات کے مطابق ایسا ہی کیا تو اپنے کیے کی وہ خود سزا پائے گا۔ مزید برآں میرا نہیں ، یہ اس کے بالاتروں کا کام تھا ۔ پیغام مجھے ملا تھا کہ لکھ کر دے دوں تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔ عارف نے یہ پیغام دیا تو ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اپنی غلطی کی تم معافی مانگ لو۔ میں اس سے معافی مانگتا ہوں اور غیر مشروط۔ مکمل طور پہ غیر مشروط ۔ رہی سزا کی بات تو جن کا یہ دردِ سر ہے ، انہی کا یہ دردِ سر ہے۔ 
ناچیز ایک مغالطے کا شکار ہوا ۔ میرا خیال یہ تھا کہ کردار کشی کی مہم تمام ہو جائے تو اپنا فرض پورا کروں ۔ جی نہیں، اسی وقت یہ کر ڈالنا چاہئے تھا ۔ صوفی نے کہا تھا : بندوں سے معاملہ درپیش ہو تو خود کو بھول جائو۔ خالق سے واسطہ ہو تو مخلوق کو بھول جائو۔ 
خیال بھٹک جاتا ہے ۔ آج اس موضوع پہ لکھنے کا ارادہ نہ تھا۔ لکھ دیا ہے تو اللہ کا شکر ہے کہ دل سے بوجھ اتر گیا۔ 
جن دوستوں نے اس اثنا میں ہمت بندھائی ، ان کا شکریہ ۔ جو لطف اٹھاتے رہے ، کوئی شکایت ان سے نہیں ۔ اس لیے کہ دوست تو وہ تھے ہی نہیں؛ البتہ انہیں دشمن بھی نہ سمجھنا چاہئے۔ اصول یہ ہے کہ اپنا بوجھ ہر ایک کو خود اٹھانا پڑتا ہے۔ اتنا ہی پختہ اصول یہ ہے کہ استطاعت سے زیادہ بوجھ کسی پر نہیں ڈالا جاتا۔ 
کہانی کا آغاز لکھنے والا خود کرتا ہے ، جوں جوں وہ آگے بڑھتی ہے ، لکھنے والا اس کے سپرد ہوتا چلا جاتا ہے ۔ آخر کو صرف کہانی رہ جاتی ہے۔ 
ذہن میں موضوع یہ تھا کہ ایک دوسرے کے خلاف پھنکارنے والے سیاسی لیڈروں کو ایک اصول کی یاددہانی کرائی جائے۔ یہ کہ کوئی کسی کی کامیابی یا ناکامی کا ذمہ دار نہیں ہوتا بلکہ ہر شخص خود اپنے آپ ... مکمل طور پر اپنے آپ۔ اچھا ہے، نوبت خود کو یاد دہانی تک پہنچی۔
ایک عشرہ ہونے کو آیا ۔ ان سطور میں لکھا کہ پختون خوا میں اے این پی حکومت نے جو طرزِ عمل ہزارہ صوبے کی تحریک پہ اختیار کیا ہے ، اس کا نتیجہ خون ریزی ہو گا۔ ایسا ہی ہوا۔ عارف کی خدمت میں چند دن بعد حاضر ہوا ، سفر کے ہنگام جب اوکاڑہ میں تھے۔ یہ تحریر ان کی خدمت پیش کی۔ فرمایا: کوئی خود نہیں لکھتا ، لکھوانے والا لکھواتا ہے ۔ 
اپنی تقدیروں کے ہم مالک نہیں ، وہی ہے ، آدم کی تخلیق سے پچاس ہزار سال قبل جس نے مہر لگا دی تھی ۔ رسولِ اکرمؐ کی دعائوں میں سے ایک دعا یہ ہے : یا رب ان برائیوں سے مجھے بچا لے جو میرے مقدّر میں رقم ہیں ۔ 
اللہ تو اپنے بندے کو بچانا چاہتا ہے ، بہرحال بچانا چاہتا ہے ، وہ خود نہیں بچتا۔ پھر وہ تقدیر کو دوش دیتا ہے ، جی نہیں ، تقدیر اٹل نہیں ، جس نے رقم کی ہے ، وہ اسے بدل سکتا ہے ۔ بدل دیتا ہے ۔
آدمی کو آزمائش ہی کے لیے پیدا کیا گیا ۔ تکلیف بری ہوتی تو پیغمبرانِ عظامؑ کو کبھی نہ پہنچتی ۔ اصحابِ رسولؓ نے فریاد کی ''متیٰ نصر اللہ‘‘ ۔ اللہ کی مدد کہاں ہے ۔ انہیں بتایا گیا کہ پچھلی امتوں کے صالحین زیادہ بڑے مصائب سے گزرے ۔ خطا کار نہیں، شاید وہ اللہ کے پسندیدہ لوگ تھے، پسندیدہ ترین۔ بڑے آدمی کے لیے پیمانہ سخت ہوتا ہے ۔


ہوا اپنا سب سے سہانا گیت گیہوں کے کھیتوں کے لیے گاتی ہے مگر سنہری وہ سرما کی دھوپ سے ہوتا ہے‘ رفتہ رفتہ ‘ دھیرے دھیرے‘ بتدریج۔ کھلیانوں میں پھر سونے کے ڈھیر پڑے ہوتے ہیں۔
ٹی وی کی خاتون میزبان نے لکھا: اس حقیر (Tiny) اقلیت کو اپنا احتجاج رجسٹر کرانا چاہئے‘ جو اعلیٰ اخلاقی اقدار کی علم بردار ہے۔ معزز اور معتبر۔ یہ صرف مذہبی لوگ نہیں جو زعم تقویٰ اور خبطِ عظمت کا شکار ہوتے ہیں۔ اشتراکی‘ سیکولر اور لبرل طبقات بھی۔
مذہبی انتہا پسندی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ جب اور جہاں کہیں کوئی معاشرہ اس کا شکار ہوا‘ تباہی آتی ہے۔ ہم پاکستانیوں سے زیادہ ‘ کسی کو اس کا ادراک نہیں ہو سکتا۔ ساٹھ ہزار پا کستانی شہری‘ اس کی نذر ہوئے اور چھ ہزار سے زیادہ فوجی افسر اور جوان۔ اجتماع کا حافظہ کمزور ہوتا ہے۔ اپنی ابتلا کو بھول جانے کی کوشش کرتا ہے۔ 
ابھی کل کی بات ہے کہ ہر ہفتے ملک میں تین سے پانچ بڑے دھماکے ہوا کرتے ۔ پولیس اور ایف آئی اے کے دفاتر محفوظ تھے اور نہ آئی ایس آئی کے۔ انتہا یہ ہے کہ جی ایچ کیو پر حملہ ہوا۔ ہدف سپہ سالار جنرل اشفاق پرویز کیانی کو یرغمال بنانا تھا۔ بہشتِ بریں کا آرزو مند‘ محافظوں کو قتل کرتا ہوا‘ جنونیوں کا ٹولہ جب اندر داخل ہوا تو ایک فوجی سے جنرل کے دفتر کا راستہ پوچھا۔ جان کا خطرہ مول لے کر اس نے گریز کیا‘ ورنہ اللہ جانے کیا ہوتا۔
اس کے باوجود کہ سول ادارے ان سے نمٹنے کے قابل نہ تھے۔ اس کے باوجود کہ کراچی کی حد تک‘ خود عسکری قیادت نے غیر معمولی احتیاط کی پالیسی اختیار کر رکھی تھی‘ خوف سے جس کی حدود جا ملتی تھیں۔ اس کے باوجود کہ زرداری اور شریف حکومتیں‘ اس جنون سے لڑنے پہ آمادہ نہ تھیں‘ بالآخر یہ جنگ جیت لی گئی۔ پاکستان‘ لیبیا اور شام بننے سے محفوظ رہا۔ ہرگز رتے دن کے ساتھ‘ دہشت گردی تحلیل ہوتی گئی۔ حقیقی امن مگر قانون کی کامل بالا دستی ہی سے ممکن ہے۔ اس کے لیے طاقتور اور تربیت یافتہ‘ سول ادارے درکار ہیں۔ یہ جنگ افواج کے بل پر جیتی گئی جو احساسِ ذمہ داری سے لبریز ہیں۔
کوئی دن میں ایک اعلیٰ فوجی افسر کے فرزند کی شادی ہے۔ ان کے دفتر سے فون آیا: گھر کا پتا لکھوا دیجئے۔ لکھوا دیا۔ آج کسی نے فون کیا کہ گھر کی تلاش میں دشواری ہے۔ عرض کیا: دشواری ہے تو چھوڑ دیجئے‘ ایسا بھی کیا ضروری ہے۔ کوئی دیر میں ایک افسر کا فون آیا۔ اس نے معذرت کی۔ اس نے پتا نہ پوچھا۔ ظاہر ہے کہ اس اثنا میں ڈھونڈ نکالا تھا۔ عرض کیا: معذرت کرنے کی ضرورت نہیں۔ ناراضی کا سبب یہ ہے کہ اس معمولی کام کے لیے بار بار فون آپ کو نہیں کرنا چاہئے۔ پولیس اور سول سروس نالائقی کا مظاہرہ کرے تو تعجّب کیا۔ آپ ایسا نہیں کر سکتے۔
ہر چیز ہم نے فوج پہ ڈال دی ہے۔ یہ مضحکہ خیز اور احمقانہ ہے۔ فوج کا کام سرحدوں کی حفاظت ہے۔ بھارت‘ افغانستان اور ایران کے پڑوس میں یہ بجائے خود بہت بڑی ذمہ داری ہے؛ چہ جائیکہ سول معاملات بھی اسی کے سپرد کر دیئے جائیں۔ ایران سے کوئی خطرہ نہیں مگر بلوچستان کے ویرانے جب عالمی طاقتیں برتنے کی کوشش کریں تو احتیاط واجب ہے۔ رہا افغانستان اور اس سے ملحق قبائلی پٹی تو وہ عالمی خفیہ ایجنسیوں کی آماج گاہ ہیں۔ پاکستان کی تزویراتی اہمیت ہی میں اس کا امتحان بھی پوشیدہ ہے۔ بھارت ہمارا پڑوسی ہے۔ اس کی اسٹیبلشمنٹ کا فیصلہ یہ ہے کہ پاکستان کو ختم نہیں کیا جا سکتا؛ تو غیر مستحکم ضرور رکھّا جائے۔ وزیرستان کی سرحد پہ کھڑے ہو کر‘ گاندھی جی نے کہا تھا: بھارت کی حدود بامیان تک ہیں۔ غلبے کی وہی جبلّت۔ صدیوں محکوم رہنے والی اقوام میں یہ اور زیادہ شدّت سے پھوٹتی ہے۔ سرب وحشیوں کے ہاتھوں‘ بوسنیا کے قتلِ عام میں ترکوں کے اقتدار کا دخل بھی تھا‘ جو مدتوں قائم رہا۔ 
ماضی کو ہم بدل نہیں سکتے مگر اس کا بوجھ گاہے اٹھانا پڑتا ہے۔ نفرت کوئی اثاثہ نہیں۔ افراد کی طرح اقوام کی راہ بھی کھوٹی کرتا ہے مگر اس سے چوکنّا رہنا چاہئے۔ اس کا ہدف بننے سے بچنا چاہئے۔
پاکستان اب بھی ایک منظم قوم کا وطن نہیں‘ ملّا اور ملحد نے اس کی مخالفت کی تھی کہ عنان معتدل مزاج مسلمان لیڈروں کے ہاتھ میں تھی۔ ملحد کے علاوہ وہ کھوکھلے ترقی پسند بھی‘ جن کے نزدیک زندگی میں عقیدے کا عمل دخل ہرگز نہ ہونا چاہئے۔ پانچ چھ عشروں تک بائیں بازو کے زیر اثر‘ ذہنی غسل سے گزرے لوگ‘ قائدِ اعظمؒ اور اقبالؒ کو گالی بکتے ہیں۔ ارتقا کے سفر میں اقوام کو ایسے گروہ گوارا کرنا ہوتے ہیں۔ ان کا مداوا جوابی تشدد نہیں‘ بلکہ صبر و تحمل اور تعلیم ہے۔
نئی نسل مختلف ہے اور آنے والی نسلیں اور بھی مختلف ہوں گی۔ پرانی‘ تقریباً معدوم ہو چکی نسل کے لیے‘ اچھا یا بُرا‘ پاکستان ایک حادثہ تھا۔ نئی کے لئے اٹل حقیقت ہے۔ پروفیسر فتح محمد ملک کے فرزند نے ان سے کہا: اس نظری بحث کی میرے لیے کوئی زیادہ اہمیت نہیں کہ پاکستان بننا چاہئے تھا یا نہیں۔ میرے لیے یہ میرا وطن ہے... اور بس۔ زیادہ موزوں الفاظ میں شاید یہ کہا جا سکتا ہے کہ بحث شادی سے پہلے ہوتی ہے‘ بچّے پیدا ہونے کے بعد نہیں۔ سید عطاء اللہ بخاری نے کہا: مسجد کی تعمیر سے پہلے مباحثہ ممکن ہے‘ بعد میں نہیں۔
چار پانچ عشرے تک سوویت یونین اور پھر بھارت کے زیر اثر‘ امریکہ جس کا تزویراتی حلیف ہے‘ ایسے گروہ اب بھی پھل پھول رہے ہیں‘ دبے الفاظ میں جو پاکستان سے کراہت کا اظہار کرتے ہیں۔ دبے الفاظ میں کہ رائے عامہ سے ڈرتے ہیں۔ نئی اقوام میں بلوغت کا عمل اسی طرح انجام پاتا ہے۔ کبھی یہ لوگ اشتراکی تھے‘ کبھی سیکولر اور اب لبرل کہلاتے ہیں۔ خوش لباسی کی آرزو مند خواتین کی طرح‘ دانش کا بھی ہر زمانے کا ایک الگ فیشن ہوتا ہے۔ اپنی آنکھ سے زندگی کو دیکھنے والے کم ہوتے ہیں۔
1946ء کے انتخابات ہو چکے‘ جس میں 75.6 فیصد ووٹروں نے پاکستان کے حق میں رائے دی‘ تو قائدِ اعظم کے ایک دوست نے ان سے پوچھا: Do you really believe, it will become a nation. It will take fifty years.۔ جواب میں اس دانائے راز نے کہا "A hundred year" جی نہیں‘ ایک سو سال۔ تاریخی شعور کے حامل اس آدمی نے دیکھا تھا کہ 1776ء میں آزادی کے 89 برس بعد امریکہ میں خانہ جنگی پھوٹ پڑی تھی۔ امریکہ بہادر کے مقابلے میں‘ پاکستان نے بلوغت کا سفر زیادہ تیزی سے طے کیا ہے۔ 242 برس گزر جانے کے باوجود امریکہ کے جنوب میں ابرہام لنکن کو اب بھی پسند نہیں کیا جاتا۔ حالانکہ وہ اس قوم کی تاریخ میں اخلاقی عظمت کی سب سے بڑی علامت ہیں۔ پاکستان کے بعض قبائلی علاقوں میں‘ قدامت پسند علماء کے زیرِ اثر ناخواندہ لوگ‘ بابائے قوم کو ہیرو نہیں سمجھتے تو اس میں تعجّب کیا۔ یہ تعلیم سے ہو گا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہو گا۔ اس سے بھی زیادہ نظامِ عدل کے قیام سے۔ اس سے بھی زیادہ تحفظ کے ایک سچّے احساس سے۔ مٹّی سے نہیں‘ انسانوں کو ماحول سے محبت ہوتی ہے۔
تاریخ کی شہادت یہ ہے کہ عسکری غلبے کی بجائے جو آج بھی کار فرما ہے‘ اس مقصد کے لیے سول اداروں کی بالاتری درکار ہے۔ بہت شاندار منصوبہ بندی سے‘ قومی اتفاقِ رائے کے عمل کو شاید زیادہ بہتر انداز میں انجام دیا جا سکے‘ تیز تر نہیں کیا جا سکتا۔ اس اثنا میں ایک کے بعد احمقوں کا دوسرا گروہ پھوٹتا رہتا ہے۔ خود کو وہ انقلابی کہا کرتے ہیں۔
ہوا اپنا سب سے سہانا گیت گیہوں کے کھیتوں کے لیے گاتی ہے مگر سنہری وہ سرما کی دھوپ سے ہوتا ہے‘ رفتہ رفتہ‘ دھیرے دھیرے‘ بتدریج۔ کھلیانوں میں پھر سونے کے ڈھیر پڑے ہوتے ہیں۔


سرما کی صبح کا مہرباں آفتاب بھی۔
کبھی دل چاہتاہے کہ افسانہ لکھا جائے ۔ مگر طبع کی موزونیت بس اتنی ہے کہ ڈھنگ کا جملہ لکھا جا سکے‘ جو اخبار میں چھپ جائے۔ بدقسمتی نہیں‘ یہ خوش قسمتی ہے۔ کہانی اگر لکھتے تو کشکول لیے آج اخبار کے دروازے پہ کھڑے ہوتے۔ایک مولانا ظفر علی خاں بھی تھے۔ شعر کہتے ‘خطاب فرماتے تو مجمع مٹھی میں ۔ ترجمہ کرتے تو اصل سے بڑھ جاتا۔ سیاست میں آئے تو طوفان اٹھا دیا اورعشروں تک اٹھائے رکھا۔آخر عمر میں ایک اتائی کی دوا کھا کر معذور ہو گئے۔ موچی دروازے کے جلسۂ عام میں صدارت کی کرسی پہ بٹھا دئیے گئے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے ان کے چہرے کولاڈ سے تھاما اور یہ کہا: ظفر علی‘ تیرے ''ستارہ ٔصبح‘‘ نے میرے جگر میں آگ لگا دی تھی۔
صحافت اپنے عہد کے ظاہر کو بیان کرتی ہے۔ادب اس کے باطن میں سرسراتی تاریکیوں‘ جھٹپٹے اورروشنیوں کوبھی ۔ ایسی غزل لکھنے کی توفیق خورشید رضوی کو عطا ہوئی کہ گردش لیل و نہار میں شاید تابندہ رہے۔انہیں کیا پڑی کہ اخبار میں لکھیں۔ 
اپنے باطن کے چمن زار کو رجعت کر جا
دیکھ اب بھی روشِ دہر سے وحشت کر جا
اپنا چلتا ہوا بت چھوڑ زمانے کے لئے
اور خود عرصۂ ایام سے ہجرت کر جا
جاں سے آگے بھی بہت روشنیاں ہیں خورشیدؔ
اِک ذرا جاں سے گزر جانے کی ہمت کر جا
باایں ہمہ کوئی بات ایسی ہوتی ہے کہ زیب ِداستاں کے بغیر بیان نہیں ہو سکتی۔زیب ِداستان کالم میں بھی ہوتا ہے مگر کم کم‘ جانا پہچانا۔ افسانے میں کہانی اگرچہ سچی ‘ اور کردار حقیقی ‘کنایہ لطیف ہوتا ہے...اور حسب و نسب کے بغیر۔
کالم کمتر نہیں۔ احمد ندیم قاسمی لکھا کرتے تھے‘ شورش کاشمیری اور زبان و بیان کا وہ شہسوار‘ چراغ حسن حسرت لیکن وہ ایک دوسری اور بلند سطح ہے ۔ ایم ڈی تاثیر نے لکھا ہے کہ ایک دن وہ اقبالؔ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔کہا: جاوید نامہ لکھنے کے بعد میں تونچڑ چکا ‘ تمہی کچھ سنائو۔ جواں سال شاعر نے تازہ کلام سناناشروع کیا۔
تیری صورت سے تجھے دردِ آشنا سمجھا تھا میں
چند لمحے کا استغراق اور شعر اس طرح ڈھلتے گئے‘ جیسے خطیب برسرِ منبر ہو ۔ خادم علی بخش‘ اقبالؔ کے سب سے بڑے احوال آشنا تھے۔ انہیں تالی بجا کر بلایا کرتے کہ شرفا کا دستور تھا۔ کبھی کسی شب‘ اچانک تالی سنائی دیتی۔ بھاگم بھاگ پہنچتے تو وہ کاغذ طلب کرتے۔ لکھتے اورپھر سے گہری نیند سو جاتے۔ سحر اسے دیکھتے‘ شاذ ہی کوئی تبدیلی کرتے‘ حالانکہ تکمیل پسند تھے۔ ایک ایک مصرعے پہ کبھی پہروں غور کیا کرتے۔مولانا عبدالقادر گرامی ایسا کوئی ہم نفس میسر آتا تو مشورہ بھی کرتے۔
ایم ڈی تاثیر نے جیسے ہی شعر پڑھا‘اقبالؔ کے قلب میں جاگزیں خیال کا شجر شاخوں سمیت پھوٹ پڑا۔ پھولوں سے لدی ٹہنیاں۔ ہارون الرشید کے محل میں ایک درخت ایسا بھی تھا‘ جس کے گل اور پرندے ہیروں سے ڈھلے تھے۔ اقبالؔ نے کہنا اور تاثیر نے لکھنا شروع کیا۔
اپنی جولاںگاہ زیرِ آسماں سمجھا تھا میں
آب و گل کے کھیل کو اپنا جہاں سمجھا تھا میں
بے حجابی سے تری ٹوٹا نگاہوں کا طلسم
اک ردائے نیلگوں کو آسماں سمجھا تھا میں
کارواں تھک کر فضا کے پیچ و خم میں رہ گیا
مہرو ماہ ومشتری کو ہم عناں سمجھا تھا میں
عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصّہ تمام
اس زمین و آسماں کو بے کراں سمجھا تھا میں
کہہ گئیں رازِ محبت پر دہ داری ہائے شوق
تھی فغان وہ بھی جسے ضبطِ فغان سمجھا تھا میں
تھی کسی درماندہ راہ رو کی صدا ئے دردناک
جس کو آوازِرحیلِ کارواں سمجھا تھا میں
اتنے میں کوئی در آیا۔ شاعر متوجہ ہوا۔ملاقاتی چلا گیا۔توفرمائشی نگاہ سے مداح نے دیکھا۔ فرمایا:وہ لہر تمام ہوئی۔
کبھی کبھی بہت دانا بھی نہیں سمجھتے کہ جومقدر میں لکھا ہے سو لکھا ہے۔ 
مہینوں سے بند پڑے پرانے موبائل کو کھولا اور پرانی ڈاک دیکھی۔ ایک ممتاز لیڈر‘ مصنف اور خطیب کا شکوہ۔ تمہارا بیٹا کالم نگار ہو گیا اور عطاء الحق قاسمی کا بھی۔ اخبار میں بھی کیا موروثیت ہوتی ہے۔ ایسی قدرت ہے کہ خود میں نے ان سے خود نوشت لکھنے کی فرمائش کی۔ اخبار میں کیوں بار نہ پا سکے؟ اس لئے کہ اس کام کے لئے بنے ہی نہیں۔یہ دوسری دنیا ہے۔وعظ و خطابت کی نہیں۔ شکوہ سنج کیوں ہیں؟ اس لئے کہ آدمی کی فطرت یہی ہے۔ کسی کے لئے بھی سب فنون اور سب کامیابیاں نہیں ہوتیں۔ شاکی نہیں‘ اس پہ شکرگزارہونا چاہئے۔ کبھی کبھی یہ نکتہ ہم سب بھول جاتے ہیں‘ حتیٰ کہ قابل رشک اہل علم بھی۔ صرف ایک سچا صوفی ہی شکایت کو گہرا دفن کرتا ہے۔ اتنا گہرا جتنا اورنگ زیب عالمگیر نے موسیقی کو دفن کرنا چاہا تھا۔ یہ کیسے ممکن تھا؟ سید ابوالاعلیٰ مودودی کو یہ کہتے سنا گیا: ''کسی زندہ قوم میں اللہ نے مجھے پیدا کیا ہوتا‘مثلاً: جاپان میں‘‘...یہ الفاظ تو خود خاکسار نے سنے‘ ''میں صبر کرتا ہوں‘ لیکن صرف میں جانتا ہوں اور اللہ جانتا ہے کہ اعصاب پہ کیا گزرتی ہے‘‘۔ 
وہ کوئی خیال تھا‘ افسانہ لکھنے کی‘ جس نے آرزو پیدا کی۔ قاعدہ یہ ہے کہ خیال اپنے لفظ ساتھ لے کر آتا ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی خیال قلب میں جاگزیں ہوتا ہے۔ ٹھہر جاتا ہے مگر موزوں الفاظ نہیں پاتا۔ اس لمحے کو لکھنے والا ٹال دیتا ہے۔ اگر وہ ایک صالح خیال ہے ۔اس کی شخصیت اور مزاج سے ہم آہنگ تو اچانک بہہ نکلتا ہے‘جھرنے کی طرح۔احمدندیم قاسمی نے کہا تھا۔
رکے ہوئے ہیں جو دریا انہیں رکے نہ سمجھ
کلیجہ چیر کے نکلیں گے‘ کوہساروں کا
صوفی کی بارگاہ میں ایک مسافر آیا۔ اس نے کہا: عجب حادثہ ہوا اور کئی بار۔ نماز پڑھنے کا ارادہ کیا‘ نیت باندھی۔ برسوں سے پڑھتا چلا آیا تھا مگر اس روز یہ ہوا کہ آغاز ہی نہ کر سکا۔ سبحانک اللھم و بحمدک ہی کہہ نہ سکا۔حافظے کا ورق کورا۔
سر اٹھا کر درویش نے اسے دیکھا۔ درد اور شفقت کی نگاہ‘ جو صوفیوں کا شیوہ ہے۔ فقیہہ نہ جانے کیا کہتا۔ درویش نے یہ کہا: دوسری چیزوں کی طرح یادداشت بھی نیّت کے تابع ہوتی ہے۔ ترجیحات میں جو اہم ترین ہے‘ اس کی جزئیات بھی یاد رہتی ہیں۔ بھول جائیں توپھر اجاگر ہو جاتی ہیں‘ بارش‘ جس طرح کھنڈرات کو اجال دے۔ نماز تو عشروں آپ نے پڑھی لیکن فقط فرض جان کر۔ فرض تو یقینا ہے‘ لیکن فقط فرض ہی نہیں‘ اس کے سوا بھی ہے۔فرمان ہے کہ اللہ کو اس طرح یاد کروجیسے اپنے اجداد کو کرتے ہو۔اُلفت اورمحبت کے ساتھ۔فراموشی کا وہ لمحہ‘ عجز اور انس سے خالی تھا۔
خوف اس کے چہرے پہ اتر آیا۔ فرمایا: ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ بندوں کی نہیں‘ یہ اللہ کی بارگاہ ہے۔ وہ کہ جس کی صفتِ رحمت اس کی صفتِ عدل پہ غالب ہے۔ پھر قرآن کریم کی آیت پڑھی: اگر میں نہ چاہوں تو تم چاہ بھی نہیں سکتے۔
چہار جانب اجالا تھا۔ صحرا میں ستارے جھک کر قریب آ گئے تھے۔ ان کے تعاقب میں چاند اترا۔ لگا کہ سرما کی صبح کا مہرباں آفتاب بھی۔

افلاس ہے افلاس۔ ایک قوم جس نے سر اٹھا کر جینے کا ابھی عزم ہی نہیں کیا۔ خود احتسابی کی آرزو ہی نہیں۔منزل کی جسے تمنا تو ہے‘ راستہ معلوم نہیں۔ قحط الرّجال‘ قحط الرّجاااااااااال!عارف نے کہا تھا ''حکمران اپنے کردار میں صیقل ہوتا ہے کہ سماج کی شعوری اور اخلاقی سطح بلند کر دے یا کمزور کہ اسی کے رنگ میں رنگا جاتا ہے‘‘... عمران خان ہاتھ پائوں مار رہے ہیں کہ وہ خود کو مہاتیر محمد یا قائد اعظم ثابت کریں مگرنہیں‘ مگر نہیں۔ پہلا سمجھوتہ انہوں نے بدعنوان لوگوں کو پارٹی میں شامل کر کے کیا‘ دوسرا اسٹیبلشمنٹ سے ‘ جس کی مدد سے ٹکٹیں بانٹیں ۔تیسرا اب یہ کہ پنجاب میں افسر سفارش سے مقرر ہوں گے ۔ارکان اسمبلی کو دس کروڑ روپے فی کس ترقیاتی رقوم ملیں گی۔ کیاٹھیکیداروں کا انتخاب بھی وہی کریں گے ؟تب کھلے گا سمجھوتے کی سطح کیا ہے۔ 2007ء میں لاہور میں پارٹی کے ایک اجتماع میں‘ کارکن جب کپتان پہ صدقے واری تھے تو‘ عرض کیا: سوچا تھا کہ پی ٹی آئی کبھی بڑی ہو جائے گی لیکن یہ تو وہی کمسن ہے‘ پروگرام کوئی نہیں بس لیڈر کی پوجا۔ مجیب الرحمن شامی سٹیج پہ آئے تو فرمایا:‘ اصل چیز لیڈر ہوتا ہے۔ پروگرام نہیں۔استاد سے پوچھا گیا۔ پھر کہا :میں نہیں جانتا But keep on questioning. Some Questions are nobler than the answers. سوال پوچھتے رہیے ۔کچھ سوال جوابوں سے زیادہ مقدّس ہوتے ہیں۔کچھ تعمیر ہے‘ کچھ تخریب ۔تعمیر انہیں دکھائی نہیں دیتی جو بغض و عناد سے بھرے ہیں۔ تخریب انہیں دکھائی نہیں دیتی‘ جنہیں دھڑے بندی ‘ مرعوبیت اور تعصّب نے اندھا کر دیا ۔ کچھ وہ ہیں ‘ جو سمجھتے ہیں سرکار کے سائے میں زندگی آسودہ ہوتی ہے۔'' تیری زلفوں کی گھنی چھائوں میں‘ گزرنے پاتی تو شاداب ہو بھی سکتی تھی‘‘زلفوں کے نہیں‘ صداقت کے سائے میں حیات ثمر بار ہوتی ہے۔ زندگی امتحان ہے اور دائم امتحان رہے گی۔ فیصلہ حیات کے تمام ہونے پہ ہوتا ہے۔ خارجی ابنِ ملجم نے خنجر گھونپا تو سیدنا علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ نے ارشاد کیا: ''فزت برب الکعبہ‘‘ ربِ کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا۔نوابزادہ نصر اللہ خان کہا کرتے تھے: خدا انجام بخیر کرے۔ خدا عمران خان کا انجام بخیر کرے۔کل شام ڈاکٹر یاسمین راشد کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ چند وزیروں میں سے ایک ہیں ‘100 روزہ اہداف جو پورا کر لیں گی ‘ بیشتر نکمے‘ بیشتر نکھٹو۔ سنا تھا کہ پارٹی میں ان کی مخالفت ہے۔ ایک بڑے لیڈر بلڈوزر بنے ہوئے ہیں‘ ان سے خوف زدہ ہیں۔ ابھی سے ڈاکٹر صاحبہ کے حلقے میں آئندہ کا امیدوار ڈھونڈ رہے ہیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد میں ممتا کی ایک شان ہے۔ ڈانٹتی بہت ہیں۔ انہوں نے اس سے پوچھا: تو کیا کر رہا ہے۔ ''باجی!‘‘ اس نے کہا ''2023ء تک آپ بوڑھی ہو جائیںگی‘‘جواں ہمت معالج کا جواب ولولہ انگیز تھا ''93 سال کی عمر میں ڈاکٹر مہاتیر محمد سیاست کر سکتے ہیں تو میں کیوں نہیں؟ ‘‘پھر انہوں نے وہ قہقہہ لگایا‘ جو زندگی کو سر کے بالوں سے پکڑنے والی دادی اماں ہی لگا سکتی ہیں۔اس ناچیز سمیت کئی ایک کا خیال تو یہ تھا کہ انہیں وزیراعلیٰ ہونا چاہئے۔ اللہ نے ان پہ کرم کیا۔ اس ماحول میں شاید کامیاب نہ ہوتیں۔ وزیرِ صحت کے طور پہ ان کی ناکامی کا کوئی اندیشہ نہیں۔ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے دو ماہ میں آٹھ ہزار ڈاکٹر اور اڑھائی ہزار نرسیں مقرّر کر دی ہیں۔ دس ارب روپے کی دوائیں‘ اضلاع میں بھجوا دی ہیں۔ شیر شاہ سوری نے ذاتی گودام کرائے پر لے کر لاہور میں رکھ چھوڑی تھیں۔ سرکاری پیسہ برباد کرنے میں ‘ ذاتی پیسہ سنبھالنے میں شریف خاندان کا ثانی شاید کبھی پیدا نہ ہوگا۔ 260 ارب اورنج ٹرین پہ لٹا دیئے۔ پینے کا صاف پانی نہ ملنے سے لاکھوںہر سال مر جاتے ہیں۔ڈاکٹر صاحبہ سے امید وابستہ ہے ۔وہ ایک ماں ہیں۔ عرض کیا: دو کام ہیں۔ ایک تو سول ہسپتال میں ''انجمن فلاح و بہبود انسانیت ‘‘ گوجرانوالہ کو دو کنال جگہ دے دیں کہ غربا کے لیے ڈائیلیسز کی سہولت بڑھا سکیں۔ دوسرے ملک کے سب سے بڑے ‘زیر تعمیر ہسپتال کے پی ایل آئی کے بارے میں‘ کسی روز تفصیل سے میری گزارشات سن لیں۔ از راہ کرم دونوں باتیں‘ مان لیں۔ پھر کہا: وزارتِ صحت میں جو کام دو ماہ میں ہوا‘ اس پہ بھی تو بات کرو۔ اس پہ انشاء اللہ جلد۔ فی الحال صرف یہ کہ دسمبر تک 99 لاکھ خاندانوں کو صحت کا رڈ جاری کر دیئے جائیں گے۔ ہر غریب بچے ‘ عورت اور مرد کا علاج مفت ہو سکے گا۔اگر ڈھنگ سے یہ کام ہو سکا تو یہ ایک تاریخ ساز کارنامہ ہوگا۔ہمارے مقدر میں فی الحال شعبدہ باز لکھّے ہیں۔ کسی قومی پالیسی کے ضمن میں آئی ایس آئی کے ایک سابق سربراہ پہ اعتراض ہوا تو انہوں نے کہا تھا : ہماری محدودات ہیں‘ Limitations‘ خرابی کہیں اور ہے‘ قحط الرّجال ہے‘ قحط الرّجاااااااااال۔عزم و ارادے میں نواز شریف اور زرداری عمران خان کے مقابل ہیچ ہیں۔ ان کا مسئلہ یہ ہے کہ حکمرانی ‘بالخصوص مشیروں کے انتخاب میں استعداد کم ہے۔ دوسرا وہی قحط الرّجال۔ نتیجہ یہ ہے کہ اسد عمر سے بہتر وزیرِ خزانہ میسر نہیں۔ اسد عمر چابی کا کھلونا نہیں‘ دبئی میں ان کے ٹاور بھی نہیں لیکن وہی استعداد کا مسئلہ ۔ پنجاب میں ڈپٹی کمشنروں اور ضلعی پولیس افسروں کے تقرر میں اتنی ہی من مانی ہے‘ جتنی شریف مافیا کے عہد میں۔ جونیئر اور بدعنوان افسروں پہ اتنی ہی نوازشات ہوئیں‘ جتنی شریف خاندان کے عہد میں۔ کرپشن پہ شیر شاہ سوری کو کچھ زیادہ اعتراض نہ تھا‘ بعض اوقات تو حوصلہ افزائی بھی کرتے‘ جیسے کہ فواد حسن فواد اور احد چیمہ تا کہ شہزادوں کا خیال رکھیں۔کرپشن پہ ہو سکتا ہے ‘نئی حکومت کو نالائقی پہ اعتراض نہیں۔ مثلاً بیچارہ بزدار جو کچھ جانتا ہی نہیں۔ آسانی سے سیکھ سکتا بھی نہیں۔ کھلم کھلا نہیں کہتے‘ جہاندیدہ اور ہنر مند چوہدری سرور‘ چوہدری پرویز الٰہی اور علیم خان کی رائے بھی یہی ہے۔ محتاط ترین اندازوں کے مطابق نئی تقرریوں میں 30 فیصد سے کم مناسب اور معقول ہیں۔ خان صاحب کو اعتراض ہو توایک ایک افسر کا کچّا چٹھا لکھ دوں؟ کچھ با خبر معلومات کے انبار اٹھائے پھرتے ہیں۔برادرم اعظم سواتی کو فون کیا‘ ملے نہیں۔ ظاہر ہے کہ مصروف ہیں۔ ظاہر ہے پریشان بھی۔ سوشل میڈیابری بلا ہے‘ جس کے پیچھے پڑ جائے‘ زندگی عذاب۔ فرمایا ''گروہ در گروہ آدمی نکلیں گے کہ ان کے اعمال انہیں دکھا دیئے جائیں۔ ذرّہ برابر بھلائی‘ جس نے کی ہوگی‘ دیکھ لے گا۔ ذرہ برابر برائی جس نے کی ہوگی‘ دیکھ لے گا‘‘ یا رب‘ یومِ حشر کیا قریب آ پہنچا کہ علامتیں دکھائی دینے لگیں؟عمران خان یکسو نہیں‘ جس طرح کہ کرکٹ‘ شوکت خانم اور نمل یونیورسٹی میں تھا۔ کنفیوژن کا شکار ہے‘ جس طرح شادیوں کے باب میں رہا۔ایک قوم جس اخلاقی ‘علمی اور جذباتی سطح پہ زندہ ہو‘ ویسے ہی اس کے حکمران ۔ یہ اللہ کا قانون ہے اور اٹل ہے۔ مذمت اور تحقیر کی بجائے‘ عمران خان کی مدد کرنی چاہئے؛ اگرچہ کسی دانا کی مدد انہیں درکار نہیں۔ ہمیشہ نالائق ڈھونڈتے ہیں۔ پھر بھی ان کی مدد کرنی چاہئے۔ سوال ان کا نہیں ہے ملک کے مستقبل کا ۔ژولیدہ فکری ہے اور خود شکنی۔ کوئی بھی شاہراہ پر نہیں‘ سارے کے سارے پگڈنڈیوں پر ۔ سول بھی‘ فوجی بھی‘ مذہبی بھی ‘ سیاسی بھی۔ سب کے سب۔فارسی کے عظیم شاعر بیدلؔ اسد اللہ غالب غالبؔ ایسے عبقری کا رول ماڈل رہے۔ ان کا ایک شعر ہے۔زشیخ مغزِ حقیقت مجو کہ ھمچو حبابسری ندارد اگر وا کنند دستارششیخ سے پر مغز بات کی امید نہ رکھ۔ بلبلے کی مانند ہے۔ دستار کھل جائے تو سر بھی باقی ہی نہ رہے۔افلاس ہے افلاس۔ ایک قوم جس نے سر اٹھا کر جینے کا ابھی عزم ہی نہیں کیا۔ خود احتسابی کی آرزو ہی نہیں۔منزل کی جسے تمنا تو ہے‘ راستہ معلوم نہیں۔ قحط الرّجال‘ قحط الرّجاااااااااال!

You can find here Ayaz Ameer, Ayaz Ameer latest Urdu Columns, amar jaleel columns, amar jaleel, amar jaleel latest columns, Haroon ur Rasheed Columns, Nusrat Javed Columns, Ajmal Niazi Urdu Columns, javed chaudhry, Javed Chaudhry Columns, irshad bhatti, sohail warraich, Sohail Warraich, Sohail Warraich  Columns, Ayaz Ameer Urdu Columns Today, Ayaz Ameer Columns, Ayaz Ameer,rauf klasra, rauf klasra columns, jang columns, hassan nisar, hassan nisar columns, orya maqbool jan columns, orya maqbool jan, Mazhar Barlas Urdu Columns Today,  Mazhar Barlas Latest Columns etc.


احمد فراز کا ایک مصرع یوں ہے: چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں۔
جسٹس افتخار چیمہ‘ پولیس افسر ذوالفقار چیمہ اور معالج نثار چیمہ کے گرامی قدر والد محمد اسلم خان مرحوم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک گوہرِ شب چراغ تھے۔ 1946ء کے الیکشن میں مسلم برّ صغیر کے مقدر کا فیصلہ صادر ہونا تھا۔ ان کے گائوں میں ڈالے گئے 500 میں سے 499 ووٹ قائد اعظمؒ کے نکلے۔
یہ اس کے طفیل تھا‘ جس کے حسنِ اخلاق نے دھوم مچا رکھی تھی۔ تینوں بھائی نیک نام ہیں۔ ہم جولی ایک دوسرے سے الجھا کرتے ہیں۔ ایک کشمیری خاندان کے فرزندوں کو زچ کیا۔ اسلم خان نے چوک میں عدالت لگائی اور اپنے بچوں کے خلاف فیصلہ صادر کیا۔ ذوالفقار چیمہ سے اچھے پولیس افسر بھی پائے جاتے ہیں لیکن قومی تاریخ سے دس بارہ بہترین پولیس افسروں کا انتخاب کرنا ہو تو چیمہ صاحب کو شمار کرنا ہو گا۔ جہاں گئے‘ جرائم پیشہ پہ زندگی دشوار اور شرفا پہ آسان کرنے کی کوشش کی۔ 
کتنے ہی ڈاکٹروں سے واسطہ پڑا۔ نثار چیمہ سے بہتر معالج بہت مگر ان سا درد مند شاذ دیکھا۔ حسنِ اخلاق میں اپنے باپ کی تصویر۔ ہولی فیملی ہسپتال۔ چوہدری پرویز الٰہی نے تبادلہ کیا تو شہر کا شہر سراپا احتجاج تھا۔ مجھ سے انہوں نے کہا: حیران ہوں کہ کوئی ڈاکٹر اتنا مقبول بھی ہو سکتا ہے۔ کوئی دوسرا شخص حامد ناصر چٹھہ کے فرزند احمد چیمہ کو آسانی سے ہرا نہ سکتا۔ وہ ایک بہت با صلاحیت اور پر عزم آدمی ہے۔ ایک صدی سے چٹھہ خاندان میں سیاست چلی آتی ہے۔
ان دونوں کے بڑے بھائی جسٹس افتخار چیمہ کے بارے میں ایک اخبار نے جھوٹی خبر چھاپی۔ جسٹس افتخار چوہدری نے اس پہ کہا تھا: اپنی دیانت کی میں قسم نہیں کھاتا مگر جسٹس افتخار چیمہ کی امانت و دیانت پہ حلف دے سکتا ہوں۔ پانچ برس ہوتے ہیں کہ انتخابی مہم کے ہنگام ان کی ایک تصویر سوشل میڈیا پہ پھیلائی گئی۔ ایک سیاسی لیڈر کو کھانے کا چمچ پکڑا رہے ہیں۔ کئی دن تک ایک سے ایک گھٹیا تبصرہ۔ چھچھوروں کو کیا خبر۔ ایک معزز آدمی اپنے مہمان کو پلیٹ یا چمچ پیش کرے تو یہ عالی ظرفی کا اظہار ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پہ سنجیدہ کم اور خرافات کے خوگر زیادہ ہیں۔ نئی آزادی‘ اپنے ساتھ غیر ذمہ داری لے کر آتی ہے۔ اس معاشرے میں ہمیشہ جو بادشاہوں کے زیرِ نگیں رہا‘ آدمی کھلے تو ریوڑ ہو گئے۔ ان کا اپنا لیڈر دیوتا ہے۔ اس دیوتا سے اختلاف کرنے والے ابلیس۔
جس معاشرے میں‘ جسٹس افتخار چیمہ ایسے آدمی کو گالی دی جائے‘ اس میں کوئی محفوظ نہیں رہ سکتا۔ آئے دن جنرل کیانی کے بارے میں سفید جھوٹ کی تکرار ہوتی ہے کہ وہ آسٹریلیا میں ہیں۔ اللہ کے بندو ویزے کے بغیر کوئی سمندر پار نہیں جاتا۔ طرح دینے والے آدمی ہیں۔ اسد اللہ خان غالب کی طرح زبانِ حال سے کہتے ہیں:
یا رب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیے
لوحِ جہاں پہ حرفِ مکرّر نہیں ہوں میں
ایک صدی ہوتی ہے‘ لاہور کے قلعہ گجر سنگھ میں ایک خاندان مقیم تھا۔ موچیوں سے جوتے سلوا کر بازار میں بیچا کرتے۔ گزشتہ چار عشروں میں اس کے فرزند‘ سیاست اور صنعت میں بلندیوں پہ چمکے۔ اجداد نیم خواندہ تھے۔ چالیس برس ہوتے ہیں‘ رانا نذر الرحمن نے بتایا کہ علامہ اقبالؒ کو گالیاں بکا کرتے۔ حافظ شیراز پہ حرفِ اعتراض کہا تو کتنے ہی لوگوں نے دانائے راز کو دشنام کا ہدف کیا۔ اتنا کہ کبھی ان کی آنکھیں آنسوئوں سے بھر جاتیں۔ اقبالؔ اگر آج ہوتے تو کیا این جی اوز کے خود فروش اور ملّا انہیں معاف کرتے؟
لمبی ہو کر زبانیں گھٹنوں کو چھو رہی ہیں۔ ایک پلید جانور کے بارے میں فرمایا گیا کہ سیر ہو تو زبان لٹکی رہتی ہے‘ بھوکا ہو‘ تب بھی۔ وحشت کا یہ دور بالآخر تمام ہو گا۔ چین اور ایران کی طرح اس کی نگرانی کا نظام بنانا ہی پڑے گا۔ فی الحال سبھی کو بھگتنا ہے۔ لوگوں کی نجی گفتگوئیں ٹیپ پر نشر کی جاتی رہیں گی۔ برصغیر کے ہر تیسرے‘ چوتھے خاندان میں ایک گالی دینے والا ضرور ہوتا ہے۔ بھارت‘ بنگلہ دیش اور پاکستان‘ کوئی گائوں‘ کوئی محلّہ نہیں‘ ایسے کردار جہاں نہ پائے جاتے ہوں۔ حسن نثار نے غلط کیا مگر ایسا کیا سنگین جرم سرزد ہوا کہ سینکڑوں ہزاروں چھچھورے چیخ رہے ہیں۔ رئوف کلاسرا کا معاملہ بھی یہی ہے۔ اختلاف برحق مگر یہ کیا وتیرہ ہے کہ بد تمیزی کو شعار کر لیا جائے۔ ''خطا‘‘ کے جواب میں بد زبانی کیا اس سے بڑی خطا نہیں؟ سیاسی جماعتوں نے چھچھوروں کی ایسی فصلیں اگائی ہیں کہ دوسروں کی زندگیاں عذاب اور ان کی اپنی بھی۔ غالبؔ نے کہا تھا: 
اے طفلِ خود معاملہ قد سے عصا بلند
عمران خان کی بڑی بہن علیمہ خان کا چرچا تھا۔ خیال تھا کہ افواہ ہو گی‘ جیسے خواجہ آصف‘ شوکت خانم ہسپتال کے بارے میں پھیلاتے رہے۔ انکشاف ہوا کہ دبئی میں واقعی جائیداد رکھتی ہیں۔ حفیظ اللہ خان سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا: امریکہ سے تعلق رکھنے والی ایک بڑی کمپنی کی نمائندہ رہیں‘ پاکستانی ٹیکسٹائل کی جو بہت بڑی خریدار ہے۔ ان کا اندازہ ہے کہ کروڑوں ڈالر سالانہ کی خریداری پر تین سے پانچ فیصد کمیشن پاتی رہیں۔ علیمہ بہن سے بات نہ ہو سکی۔ شاید اس لئے کہ طوفانِ بد تمیزی میں خاموشی کو زیبا سمجھتی ہیں۔ ان کے ایک رفیق کار نے پیغام بھیجا: سالہا سال ان کے ساتھ کام کیا ہے۔ بہت ریاضت کیش اور بہت سلیقہ مند خاتون ہیں۔
پاکستانی ٹیکسٹائل کا سب سے بڑا خریدار امریکہ ہے۔ لگ بھگ دس بلین ڈالر سالانہ۔ امریکی کمپنی American Merchandise int سے ایک زمانے میں وابستگی تھی۔ ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ بتدریج ایک سو کاروباری ادارے‘ اس کمپنی سے استفادہ کرنے لگے۔ ممتاز ترین وکلاء کا کہنا یہ ہے کہ سمندر پار کمائی گئی دولت‘ بیرون ملک رکھّی جا سکتی ہے۔ رہے اعداد و شمار تو 60 ارب روپے کا دعویٰ تو مضحکہ خیز ہے۔ 
ایک قاری نے لکھا: میرے ماموں سعودی عرب میں ٹیکسی چلایا کرتے‘ اب ایک فیکٹری کے مالک ہیں۔ اس ناچیز کے دو رشتہ دار‘ درمیانے طبقے سے اٹھّے اور اب کھرب پتی ہیں۔ ناچیز نے سوشل میڈیا پہ اپنی معلومات منتقل کیں تو گالی گلوچ کا ایک طوفان برپا ہوا۔ ''علیمہ خان کے تم کیا لگتے ہو؟‘‘ لفافہ حلال کرتے ہو؟ دوست کی بہن‘ حتیٰ کہ روٹھے ہوئے دوست کی بہن سے آدمی کا رشتہ کیا ہوتا ہے؟
دو عشروں سے لاکھوں روپے سالانہ ٹیکس دیتا ہوں۔ تنخواہ سے خود بخود کٹ جاتا ہے۔ اس کے باوجود ایک دن وکیل سے مشورہ کیا تو اس نے کہا: بچت سے خریدی جائیداد پر جرمانہ ادا کرنا ہو گا۔ جرم یہ ہے کہ ٹیکس نمبر حاصل نہ کیا۔ ایمنسٹی سکیم آئی تو 17 لاکھ ادا کئے۔ علیمہ خان کو شاید یہی کرنا چاہئے تھا۔ ان کے بھائی سیاستدان ہیں اور ساری دنیا کے محتسب۔
ربع صدی ہوتی ہے سبکدوشی کے بعد صدر غلام اسحق خان سے ملاقات ہوئی۔ عرض کیا: فلاں اور فلاں معاملے میں آپ سے غلطی سرزد ہوئی۔ فرمایا: سزا بھی میں ہی بھگت رہا ہوں‘ شکایت کئے بغیر۔ وہ فلمی مصرع کیا ہے: صدمہ یہ جھیلنا ہے شکایت کے بغیر۔
ایک سیاسی پارٹی‘ ایک ویب سائٹ اور حاسد اخبار نویسوں کے ایک ٹولے نے گزشتہ دنوں کردار کشی کی مہم برپا کی۔ اللہ کا شکر ہے کہ خان صاحب کا قول یاد تھا۔ الحمدللہ‘ یہ بھی یاد رہا کہ عزت اور ذلّت حاسدوں کے نہیں‘ پروردگار کے ہاتھ میں ہے۔ رہی الزام تراشی تو اللہ کے جلیل القدر پیغمبر بھی اس سے محفوظ نہ رہے۔ ہم تم کس شمار میں ہیں۔ افتخار عارف کا شعر یہ ہے۔
پیمبروں سے زمینیں وفا نہیں کرتیں
ہم ایسے کون خدا تھے کہ اپنے گھر رہتے
گالیاں بکنے والوں کی خدمت میں آداب۔ اپنے اعمال کی سزا سے کبھی کوئی بچا ہے اور نہ بچے گا۔ احمد فراز کا ایک مصرع یوں ہے: چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں۔

You can find here amar jaleel columns, amar jaleel, amar jaleel latest columns, Haroon ur Rasheed Columns, Nusrat Javed Columns, Ajmal Niazi Urdu Columns, javed chaudhry, Javed Chaudhry Columns, irshad bhatti, sohail warraich, Sohail Warraich, Sohail Warraich  Columns, Ayaz Ameer Urdu Columns Today, Ayaz Ameer Columns, Ayaz Ameer,rauf klasra, rauf klasra columns, jang columns, hassan nisar, hassan nisar columns, orya maqbool jan columns, orya maqbool jan, Mazhar Barlas Urdu Columns Today,  Mazhar Barlas Latest Columns etc.


آسمان ہی نہیں۔ اس پر بھی سیدنا صدیق اکبر ؓ نے کہا: زکوٰۃ کی ایک رسّی روکنے والے کو بھی میں معاف نہیں کروں گا۔ اسی کا نام حکمرانی ہے۔
سیر کرنے کے لیے ابرہام لنکن دریا کے پار اترا تو کھیتوں میں مصروفِ عمل کالوں نے اس پر ہجوم کیا۔ اس کی طرف لوگ کھنچے چلے آتے کہ وہ ایک بہت ہی نرم خو آدمی تھا۔ لنکن نے ان کی طرف دیکھا مگر سیدھا چلتا رہا۔ ''آپ لوگوں کو اپنا فرض ادا کرنا ہو گا‘‘ اس نے کہا ''ڈسپلن سیکھنا اور اپنی آزادی سے استفادہ کرنا چاہئے‘‘۔
لنکن کے سوانح نگاروں میں سے ایک نے لکھا ہے: اس کے سب سے زیادہ تنبیہہ آمیز حکم کا متن‘ اس خط میں تھا‘ جو ایک جنرل کے نام لکھا گیا: بہانے نہ بنائو‘ غیر ضروری مطالبات نہ کرو اور اپنا فرض ڈھنگ سے انجام دو۔ یہ خط موت کے بعد‘ اس کی دراز سے برآمد ہوا۔ مورخ کا خیال ہے: لکھ چکنے کے بعد لنکن نے شاید یہ سوچا ہو‘ میدان جنگ میں‘ اس کی ٹھنڈ اور تاریکی میں‘ معلوم نہیں‘ وہ کس ذہنی کیفیت سے دوچار ہو۔ ایوانِ صدر کے اس گرم کمرے کی راحت میں‘ میرے لیے زیبا نہیں کہ برا بھلا اسے کہوں۔
مگر دس لاکھ زندگیاں چاٹ لینے والی خانہ جنگی کے ہنگام‘ اسی شائستہ آدمی نے ایک بار امریکی جنرلوں پہ قہر کی نگاہ ڈالی‘ اور یہ کہا تھا: تمغوں والے جنرل نہیں مجھے وہ سپاہی درکار ہے‘ جو جنگ جیت کر دے۔
حکمران کو فیصلہ صادر کرنا ہوتا ہے۔ اس وقت وہ سنار کی مانند ہوتا ہے‘ سونے کی خریداری کے وقت جو ایک ذرا سا کھوٹ بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ اس وقت وہ ایک شہسوار کی مانند ہوتا ہے‘ جو کم نسل گھوڑا گوارا نہیں کرتا۔ اس وقت وہ ایک سچے سکالر کی طرح ہوتا ہے‘ رائے دیتے ہوئے‘ اپنے تعصبات جو دفن کر ڈالتا ہے۔ ایک ذرا سی رعایت بھی نہیں دیتا۔ خود کو نہ دوسروں کو۔
کیا ہمارا نیا وزیر اعظم ایک اچھا منتظم ثابت ہو گا۔ اس سے پہلے بھی ایک سوال ہے کہ کیا ریاست کی رٹ قائم کئے بغیر‘ اس دلدل سے ہم نکل کیسے سکتے ہیں‘ کئی عشروں سے جس میں ہم براجمان ہیں۔ براجمان ہیں اور حقیقی کاوش کے بغیر‘ اس دلدل کو گلستان میں بدل ڈالنے کا سپنا دیکھتے ہیں۔
حسرتیں دل کی مجسّم نہیں ہونے پاتیں
خواب بننے نہیں پاتا کہ بکھر جاتا ہے
کیا ایک بار پھر ہمارا خواب بکھر جائے گا؟ جنرل پرویز مشرف گئے تو جمہوریت بحال ہو گئی۔ جمہوریت تو بحال ہو گئی مگر آصف علی زرداری نام کا ایک آدمی ہم پر مسلّط ہو گیا۔ قوم روئی پیٹی تو آصف علی زرداری گئے‘ اب نواز شریف آن براجے۔ ان سے نجات ملی تو عمران خان سریر آرائے سلطنت ہیں۔ اگر وہ بھی ناکام ہو گئے؟ اِس وقت بھی ایک طرح کا نرم مارشل لأ نافذ ہے‘ قوم نے جس سے سمجھوتہ کر رکھا ہے کہ زیادہ نہیں چبھتا۔ کم از کم کرپشن سے نالاں اکثریت کو نہیں چبھتا جو زرداری اور نواز شریف سے ناراض ہے۔
ریاست کی رٹ کہاں ہے؟ کراچی میں کھربوں روپے مالیت کے دس ہزار مارٹن کوارٹرز پہ سابق سرکاری ملازمین قابض ہیں۔ عدالتِ عظمیٰ کی بہترین کوشش کے باوجود‘ خالی نہیں کرائے جا سکے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے حکم پر عدلیہ نے پرسوں جو کارروائی کی‘ وہ ناکام رہی؛ چنانچہ تین ماہ کی مہلت دینا پڑی۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں‘ سندھ حکومت منی لانڈرنگ ایسے سنگین جرم میں سپریم کورٹ سے تعاون نہیں کرتی۔ اس میں کیا کرے گی‘ جبکہ ذمہ داری بھی ایم کیو ایم پہ پڑنے والی ہے۔ رہی ایم کیو ایم تو جنرل مشرف کے عہد میں‘ اس سے تعلق رکھنے والے ایک وزیر نے 200 ارب روپے کی سرکاری جائیداد قابضوں کے حوالے کر دی تھی۔ لیز کے نام پر مسلّط‘ نادہندگان کو مالکانہ حقوق دے دیئے تھے۔ ایک ایسی ریاست کیونکر ایسی شاہ بخشیوں کی تاب لا سکتی ہے‘ عشروں سے جو کشکول اٹھائے پھرتی ہے۔ کبھی عربوں اور کبھی چینیوں سے بھیک مانگتی ہے۔
امیر تیمور نے سمرقند کو دنیا کا سب سے خوبصورت شہر بنانے کا ارادہ کیا۔ ماہرین تعمیرات ایران اور ہندوستان سے آئے۔ درجنوں نئی عمارتوں کی نیو اٹھائی گئی۔ اڑچن اس بازار کی وجہ سے آن پڑی‘ برساتی کھمبیوں کی طرح جو اُگ آیا کرتے ہیں۔ کاشت کاروں سے کم مگر تاجر بھی ٹھکانہ بدلنے پہ آسانی سے آمادہ نہیں ہوا کرتے۔ انہوں نے انکار کر دیا۔ تاریخ نے امیر کو ایک سفّاک فاتح کی حیثیت سے یاد رکھا ہے۔ رعایا کے باب میں مگر وہ نا مہربان نہ تھا۔ فاتحِ عالم نے فیصلہ کیا کہ ادائیگی اصل قیمت سے زیادہ کر دی جائے۔ اب بھی تاجروں نے انکار کر دیا۔ پھر اس نے وہ فیصلہ کیا‘ جو ایسے میں حکمران کو کرنا چاہئے۔ زائد نہیں بلکہ اصل قیمت ادا کی جائے گی اور بازار ڈھا دیا جائے گا۔ فوراً ہی تاجر سپر انداز ہو گئے۔ جس آدمی نے ترکی کے بایزید کو چند دنوں میں چاروں شانے چت کر دیا تھا۔ جس نے سارے وسطی ایشیا‘ مشرق وسطیٰ اور ہندوستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی‘ ایک بازار کا انہدام ‘ اس کے لیے چیونٹی مسل دینے کے مترادف ہی تو تھا۔
وزیر اعظم کہتے ہیں کہ افسر شاہی تعاون نہیں کرتی۔ انگریزوں سے کیوں کرتی تھی۔ فوجی افسروں سمیت جن کی کل تعداد کبھی پچاس ہزار سے زائد نہ تھی۔ اس لیے کہ کارِ حکمرانی سے وہ واقف تھے۔ وہ جانتے تھے کہ افسر شاہی گھوڑے کی طرح ہوتی ہے۔ سوار سلیقہ مند ہو تو جہاں چاہے لے جائے۔
جس سمت میں چاہے صفتِ سیلِ رواں چل 
وادی یہ ہماری ہے وہ صحرا بھی ہمارا
سوار اناڑی ہو تو گھوڑا پٹخ دیتا ہے۔ سرکاری ملازمین سے استدعا نہیں کی جاتی۔ قانون کے دائرے میں آزادیٔ عمل عطا کی جاتی ہے‘ پھر ان کی نگرانی‘ پھر جزا و سزا۔ زیادہ نرمی نہ زائد سختی۔ کتاب میں لکھّا ہے: ولکم فی القصاص حیاۃ یا اولی الالباب۔ زندگی قصاص میں ہوتی ہے۔
پنجاب یونیورسٹی میں طلبا نے لڑکی اور لڑکے کو پیٹ ڈالا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ میاں بیوی ہیں مگر انہوں نے پیٹ ڈالا۔ ممکن ہے وہ جھوٹ بول رہے ہوں۔ مگر اس کا فیصلہ یونیورسٹی انتظامیہ کو کرنا تھا‘ طلبا کو کس نے حاکم کیا؟ 
1993ء کے انتخابات سے پہلے نواز کھوکھر کی سفارش پر‘ میاں محمد نواز شریف نے جی سِکس اسلام آباد کے مارٹن کوارٹرز سے کہیں زیادہ قیمتی کوارٹر مکینوں کو بخش دیئے تھے۔ وہ تو خیر گزری کہ فرمانِ شاہی پہ عمل نہ ہو سکا۔ ٹرین لاہور شہر کی حدود میں داخل ہو تو کئی کلومیٹر تک سرکاری اراضی پہ ذاتی مکانات۔ شیخ رشید احمد اور غلام احمد بلور کی وزارت میں‘ اس بارے میں کبھی سوچا تک نہ گیا۔ سعد رفیق نے کچھ نہ کچھ کر دکھایا۔ خیر سے شیخ صاحب اب پھر وزیر ہیں۔ میرے ایک محترم دوست نے‘ کپتان کو مشورہ دیا تھا کہ شیخ صاحب سے التجا کریں۔ اپنی پارٹی میں انہیں شامل کر لیں۔ عطاء اللہ شاہ بخاری اور شورش کاشمیری نہ سہی لیکن خطیب تو ہیں۔ اس کے باوجود خان صاحب نے ریلوے کی وسیع سلطنت شیخ رشید کے حوالے کر دی کہ اپنی ذات گرامی کے سوا‘ زندگی بھر انہوں نے کبھی کسی دوسری چیز کی پروا نہیں کی۔ ان کی تین ترجیحات ہیں۔ 1۔ شیخ رشید 2۔ شیخ رشید 3۔ شیخ رشید۔ 
پنجاب میں چار وزرائِ اعلیٰ ہیں۔ عثمان بزدار‘ چودھری سرور‘ علیم خان اور چودھری پرویز الٰہی۔ تاریخ ساز حاکم عمر فاروق اعظم نے کہا تھا ایک اونٹ کی ناک میں دو نکیلیں نہیں پہنائی جاتیں۔ خان صاحب نے چار پہنا دی ہیں۔ اس پہ اصرار یہ بھی ہے کہ بزدار وزیر اعلیٰ ہیں اور وہی رہیں گے۔ نہیں رہ سکتے اور اگر رہے تو مسلسل اور متواتر ملک قیمت چکائے گا۔ لگ بھگ پندرہ یونیورسٹیوں میں قائم مقام وائس چانسلر ہیں۔ نئے وائس چانسلروں کا تقرر وزیر اعلیٰ کا اختیار ہے۔ کیا عثمان بزدار تجویز کردہ تین امیدواروں میں سے ایک کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ یہ کام گورنر کو سونپنا چاہئے۔ 
رسول اکرمﷺ کے وصال نے سب کچھ زیر و زبر کر دیا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ مدینہ کی زمین پر کوئی آسمان ہی نہیں۔ اس پر بھی سیدنا صدیق اکبر ؓ نے کہا: زکوٰۃ کی ایک رسّی روکنے والے کو بھی میں معاف نہیں کروں گا۔ اسی کا نام حکمرانی ہے۔

You can find here amar jaleel columns, amar jaleel, amar jaleel latest columns, Haroon ur Rasheed Columns, Nusrat Javed Columns, Ajmal Niazi Urdu Columns, javed chaudhry, Javed Chaudhry Columns, irshad bhatti, sohail warraich, Sohail Warraich, Sohail Warraich  Columns, Ayaz Ameer Urdu Columns Today, Ayaz Ameer Columns, Ayaz Ameer,rauf klasra, rauf klasra columns, jang columns, hassan nisar, hassan nisar columns, orya maqbool jan columns, orya maqbool jan, Mazhar Barlas Urdu Columns Today,  Mazhar Barlas Latest Columns etc.

ظہیرالدین بابر کو ہیرلڈ لیم کس بنا پر ”Prince of all princes‘‘ کہتا ہے؟ وہ جانتا تھا کہ انسانی کمزوریوں کو گاہے گوارا کرنا چاہئے۔ ہمارا وزیر اعظم یہ بات نہیں سمجھتا۔ کوئی اسے سمجھا بھی نہیں سکتا۔
کیا عمران خان پاکستان کے ڈنگ سیائو پنگ بن سکتے ہیں۔ خاکسار کو ہرگز کوئی شبہ نہیں کہ نواز شریف اور آصف علی زرداری سے وہ بہتر حکمران ثابت ہوں گے۔ اپنی قوم کے نجات دہندہ وہ بہرحال نہیں۔ جیسا کہ نومبر 2011ء میں صاف الفاظ میں ان سے کہا تھا: تم کوئی مہاتیر محمد یا قائد اعظم نہیں۔ اس نے کہا ”میں تمہیں بن کر دکھائوں گا‘‘ میرا احساس یہ تھا کہ 56 سال کی عمر میں کسی شخص کے بدل جانے کا امکان بہت کم ہوتا ہے‘ النادّر کالمعدوم۔ گزشتہ 65 دنوں میں‘ اس کے انداز فکر سے آشکار ہے کہ اس نے کچھ زیادہ نہیں سیکھا۔ سیکھنے پر آمادہ بھی نہیں۔ کرپٹ نہیں اور اداروں میں یقین رکھتا ہے؛ لہٰذا کچھ نہ کچھ کر گزرے گا‘ مگر بہت زیادہ نہیں۔
چین میں پانچ روزہ قیام کے دوران یہ دیکھا کہ سڑکوں پہ دھواں چھوڑنے والی کوئی گاڑی نہیں‘ کوئی قطار (LANE) نہیں بدلتا‘ کوئی ہارن نہیں بجاتا۔ اس سے بھی زیادہ یہ کہ فکر میں اعتدال اور کردار میں احساس ذمہ داری زیادہ ہے۔ منکرین حدیث کو اللہ اس دیار میں کبھی برکت نہ دے۔ اب ہم سرکارؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور آپ کا ارشاد مبارک سننے کی تمنا کرتے ہیں۔ وہ لب ہلے جن سے ہمیشہ زندگی کے بھید کھلے۔ سب جانتے ہیں کہ سب اساتذہ سے آپؐ بڑے استاد تھے۔ فرمایا: وہ کافر تمہیں اس طرح پہچانتے ہیں جیسے کوئی اپنی اولاد کو پہچانے۔ تمام دانائوں سے زیادہ بڑھ کر دانا تھے۔ منکرین حدیث پہ اللہ کا غضب نازل ہو‘ آپؐ نے فرمایا: کسی قوم کو ویسے ہی حکمراں نصیب ہوںگے‘ جیسی کہ وہ ہے‘ تمہارے اعمال ہی‘ تمہارے عمّال ہوں گے۔ جو آپؐ نے کہہ دیا‘ ہمیشہ پورا ہو کر رہے گا۔ منکرین حدیث کی سننے والے احمق ہیں۔ قرآن کریم میں لکھا ہے: وہ اپنی خواہش سے کوئی بات نہیں کہتے‘ بس وہ جو ان پہ الہام کیا جاتا ہے۔ حدیث بھی الہام ہے۔ امام بخاریؒ اور امام مالکؒ سمیت محدّثین کرام خوب یہ بات سمجھتے تھے۔ اس لیے احادیث کے انتخاب میں ایسی عرق ریزی کی‘ انسانی تاریخ جس کی کوئی دوسری نظیر پیش نہیں کرتی۔ مثال کے طور پہ‘ اس حدیث کو انہوں نے ضعیف قرار دیا‘ اطلبوالعلم ولو کان بالصّین۔ علم حاصل کرو‘ خواہ چین ہی جانا پڑے۔ عقلِ عام کا فتویٰ یہ ہو گا کہ اس قول کے قوی ہونے کا امکان زیادہ ہے۔ محدّثین نے لیکن اسے مسترد کر دیا۔ محض عقل عام پر انحصار کرنے والے وہ نہ تھے۔ عقلِ عام پہ انحصار کرنے والے منکرین حدیث کے اساتذہ ہیں‘ جن کا خیال یہ ہے کہ وہ امام بخاری سے زیادہ ہوش مند اور امانت دار ہیں۔
ہم ایک ضدّی قوم ہیں اور منکرین حدیث بھی ہم میں سے ہیں۔ خرابی اساتذہ سے فیض پانے کی آرزو میں نہیں‘ انہیں پیغمبر سمجھ لینے میں ہے۔ عصرِ رواں کے عارف نے پہلی چند ملاقاتوں میں جو نکات ذہن نشین کرائے‘ ان میں سے تین یہ ہیں۔
٭ کرامت مومن کی نہیں‘ اس پہ نثار ہونے والوں کی نفسیاتی ضرورت ہوا کرتی ہے۔
٭ عقیدت اور جہالت کا آغاز ایک ساتھ ہوتا ہے۔
٭ جہاں عقل رکتی ہے‘ وہیں بت خانہ تعمیر ہوتا ہے۔
آئن سٹائن نے کہا تھا‘ اگرچہ خالق سے ذاتی تعلق پر نہیں مگر اس کے وجود پر یقین رکھتے ہیں۔ ایسا آدمی اجتماعی دانش سے استفادہ کر سکتا ہے۔ اس لیے کہ جو اللہ کو مانتا ہے‘ قوانینِ قدرت کو تسلیم کرتا ہے۔ جو خود کو دیوتا مان لے‘ وہ نہیں کر سکتا۔
مائوزے تنگ غیر معمولی عزم و ارادے کے قوم پرست تھے مگر خود سے انہیں محبت تھی۔ سرکارؐ کو ماننے والے یقین رکھتے ہیں کہ کچھ باتوں کو دہرانا چاہئے۔ میں اس بات کو دہراتا ہوں کہ مائوزے تنگ غیر معمولی عزم و ارادے کے آدمی تھے مگر خود کو وہ دیوتا سمجھتے تھے۔ جو بھی خود کو دیوتا اور نجات دہندہ سمجھتا ہے‘ اس کی دانش ادھوری ہے۔ خود کو وہ دوسروں سے زیادہ لائق سمجھتا؛ چنانچہ آخر کار ناکام رہتا ہے۔ خود کو جو تمام دوسرے لوگوں سے لائق سمجھتا ہو‘ اس میں قوّتِ فیصلہ کم ہو جاتی ہے۔ اب ایک اور بات دہرانے کی جسارت کرتا ہوں۔ اللہ کی آخری کتاب میں حکمرانی کا اصول لکھا ہے: ان کے امور باہم مشورے سے طے ہوتے ہیں۔ جو حکمران مشورہ دینے والوں سے عملاً یہ تقاضا کرے کہ اسے مشورہ دیتے ہوئے‘ اسے معتبر مانیں‘ کتنا وہ سیکھ سکے گا؟ اپنی غلطیوں کی کتنی اصلاح وہ کر سکے گا؟ کچھ سوالات ایسے ہیں‘ جن کا جواب عامی بھی دے سکتا ہے۔ ان کے سوا‘ جو ضد پہ اڑے رہتے ہوں۔ ہم ضد پہ قائم رہنے والی قوم ہیں۔ ہمارے لیے عمران خان‘ نواز شریف‘ حتیٰ کہ بعض کے لیے آصف علی زرداری بھی دیوتا ہیں۔ اس لیے کچھ کامیابیاں ابھی ہمارے مقدر میں نہیں۔ اس ہستی نے‘ جن کا ہر لفظ صداقت پہ مبنی تھا‘ ارشاد یہ کیا تھا: تم پر لازم ہے کہ ابرار کی مجلسوں میں بیٹھا کرو۔ الجھن آ پڑے تو راسخون فی العلم سے رجوع کیا کرو۔
مائوزے تنگ نے کہا: چڑیوں کو ہلاک کر دو۔ انہوں نے مان لیا۔ مائوزے تنگ نے کہا: کمیونزم میں تیز رفتار اقتصادی ترقی ممکن ہے‘ ڈنگ سیائو پنگ کے سوا‘ ان سب نے مان لیا۔
ڈنگ میں ایک اور کمال بھی کار فرما تھا‘ جس کی وجہ سے چینی قوم نے تاریخ میں سب سے زیادہ برق رفتاری سے غربت کا انسداد کیا۔ اس میں صبر پایا جاتا تھا۔ مزید یہ کہ وہ اپنے خیالات کی تطہیر کر سکتا تھا۔ قوانینِ قدرت کے ادراک کی کچھ نہ کچھ استعداد بہرحال اس میں موجود تھی۔ وہ جانتا تھا کہ ایک سچا خیال آخر کار نافذ ہو کے رہتا ہے۔ اس کے باوجود کہ چوتھی منزل سے دھکّا دے کر اس کے بیٹے کو اپاہج کر دیا گیا‘ حکمران پارٹی سے جڑا رہا۔ اسے امید تھی کہ آخر کار اس کا وقت آ کر رہے گا۔ مائوزے تنگ سے پہلے‘ اس کے حسن نیت پہ اطمینان رکھنے والا چو این لائی‘ چل بسا۔ مائو مرا تو اس کا وقت آ پہنچا۔ چین کی کمیونسٹ پارٹی کم عقلوں کا انبوہ نہ تھا۔ دلیل کے ماننے اور سننے والے تھے۔ اپنی اصلاح پہ قادر تھے۔ کیا ہم اپنی اصلاح پہ آمادہ ہو سکتے ہیں؟
عمران خان کے باب میں بہت زیادہ حسن ظن اب یہ ناچیز نہیں رکھتا۔ واقعہ یہ ہے کہ 3 اکتوبر 2011ء کے بعد ہی حسن ظن کم ہوتا چلا گیا۔ جب لاہور میں ایک ہفتہ قیام کرنے کی بجائے کہ ثمرات سمیٹے‘ اسی شام وہ چین روانہ ہو گیا۔ کئی بار اس نے کہا: تم تو عید کا چاند ہو گئے۔ کئی بار اس کی ناراضی کا خطرہ مول لیا کہ طے شدہ ملاقات‘ کسی دوسری اہم چیز کے لیے منسوخ کر دی۔ ایک آدھ بار تو وہ چیخا چلّایا بھی۔
نہیں، ترجیحات طے کرنے کا سلیقہ وہ نہیں رکھتا۔ اسے معلوم نہیں کہ کرپشن سے لڑنا اہم ہے‘ مگر اس موضوع پر مسلسل اظہارِ خیال سے سرمایہ سکڑنے اور فرار ہونے لگتا ہے۔ اسے معلوم نہیں کہ قومی زندگی استوار کرنے والے بنیادی اداروں میں سے کسی ایک کا کمزور ہونا بھی خطرناک ہوتا ہے۔ اخبارات کے اشتہارات محدود کرنے کے بار
ے میں‘ اس کا نظریہ بنیادی طور پہ درست ہو سکتا ہے۔ کبھی اشتہار دینا خود حکومت کے مفاد میں ہوتا ہے۔ وقت یہ بات سمجھا دے گا۔ وقت سبھی کو‘ سب کچھ سمجھا دیتا ہے۔
ایک اور نکتے کا اسے ادراک نہیں‘ قوموں کی تعمیر و ترقی کے لیے‘ ایک کم از کم اتفاق رائے درکار ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ اس اتفاق رائے کے لیے حکمران کو وسیع القلب ہونا چاہئے۔
لشکر بھوکا تھا مگر ظہیرالدین بابر کے ساتھیوں میں سے ایک نے اپنی بکریاں اس کے ہاتھ‘ ادھار پر فروخت کرنے سے انکار کر دیا۔ بابر نے اس پہ صبر کیا۔ کئی اور مواقع پر بھی۔
ظہیرالدین بابر کو ہیرلڈ لیم کس بنا پر ”Prince of all princes‘‘ کہتا ہے؟ وہ جانتا تھا کہ انسانی کمزوریوں کو گاہے گوارا کرنا چاہئے۔ ہمارا وزیر اعظم یہ بات نہیں سمجھتا۔ کوئی اسے سمجھا بھی نہیں سکتا۔

You can find here amar jaleel columns, amar jaleel, amar jaleel latest columns, Haroon ur Rasheed Columns, Nusrat Javed Columns, Ajmal Niazi Urdu Columns, javed chaudhry, Javed Chaudhry Columns, irshad bhatti, sohail warraich, Sohail Warraich, Sohail Warraich  Columns, Ayaz Ameer Urdu Columns Today, Ayaz Ameer Columns, Ayaz Ameer,rauf klasra, rauf klasra columns, jang columns, hassan nisar, hassan nisar columns, orya maqbool jan columns, orya maqbool jan, Mazhar Barlas Urdu Columns Today,  Mazhar Barlas Latest Columns etc. haroon ur rasheed journalist profile, haroon rasheed journalist, haroon ur rasheed wiki, haroon rasheed facebook, haroon rasheed left dunya news,  bilal ur rasheed columns, haroon ur rasheed twitter, khalifa haroon rasheed in urdu,Haroon ur Rasheed Column Today -  Zaheer ur Din Babar Aur Imran Khan.

گالم گلوچ سے نہیں‘ فساد سے نہیں‘ قوموں کی تعمیر پختہ نظریات پہ ہوتی ہے۔ ریاضت‘ حکمت‘ اصولوں کی پاسداری اور حسنِ کردار سے۔
وہ سحر جو کبھی فردا ہے کبھی امروز
نہیں معلوم کہ ہوتی ہے کہاں سے پیدا
وہ سحر جس سے لرزتا ہے شبستانِ وجود
ہوتی ہے بندۂ مومن کی اذاں سے پیدا

آدمی کو اللہ نے غیب کا علم نہیں بخشا۔ یہی کیا کم ہے کہ ماضی کی یادوں سے نمٹ لے اور آج کا بوجھ اٹھا لے۔ باایں ہمہ کل کی منصوبہ بندی اس کی مجبوری ہے۔ فرار کی کوئی صورت نہیں؛ چنانچہ وہ بیتے دنوں کو کھنگالتا اور فردا کے لئے چراغ روشن کرتا ہے۔
اب یہ لگتا ہے کہ تاریخ نے ایک ورق الٹ دیا ہے۔ ایک زمانہ تمام ہوا۔ ایک عہد شاید طلوع ہونے والا ہے۔ بیتے دنوں کا برا بھلا تجزیہ ہم کر سکتے ہیں‘ مستقبل پر حکم نہیں لگا سکتے‘ جو ابھی پردۂِ غیب میں ہے۔
گنبدِ نیلوفری رنگ بدلتا ہے کیا
دیکھئے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا
پارلیمان نے جو آئینی ترمیم منظور کی‘ ختم نبوت کی شقیں اس میں کیوں شامل کر دی گئیں۔ کوئی اس سوال کا جواب نہیں دیتا۔ ارکانِ پارلیمنٹ محض اپنے سربراہوں کا حکم بجا لاتے ہیں۔ اپنا ذہن استعمال نہیں کرتے۔ لودھیوں‘ مغلوں‘ سوریوں‘ سکھوں اور انگریزوں کے دور سے ہماری اشرافیہ کا چلن یہی ہے۔ زیردستوں سے وہ مزارعین کے طرزِ عمل کی توقع رکھتے اور خود بادشاہوں کے خوشہ چین بنے رہتے ہیں۔ اسی سے تمیزِ بندہ و آقا کا وہ معاشرہ وجود میں آیا ہے‘ جس میں عدل کا حصول بہت مشکل ہے۔ اصول اور قانون نہیں‘ اہمیت آدمی‘ اس کے خاندان اور گروہ کی ہے۔


بارہا دیکھا ہے کہ سالانہ بجٹ کی بھاری بھرکم کتابوں کو عوامی نمائندے کھول کر دیکھنے کی زحمت بھی نہیں کرتے؛ حالانکہ اسی لئے وہ چنے جاتے ہیں۔ گیارہ برس ہوتے ہیں‘ لکھا کہ اپنی ضرورت کا 41 فیصد ڈیزل پاکستان خود پیدا کرتا ہے۔ جہاندیدہ حمید اختر مرحوم نے اس پر تعجب کا اظہار کیا۔ پوچھا کہ یہ اعدادوشمار کہاں سے لئے گئے۔ ظاہر ہے کہ سالانہ بجٹ کی دستاویزات سے۔ اسی طرح 2008ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہونے کے اگلے برس‘ عرض کیا کہ قمر زمان کائرہ کی وزارت اطلاعات کے لئے دو ارب روپے کی خفیہ رقوم رکھی گئی ہیں۔ اخبار نویسوں کو یقین نہ آتا تھا۔ گزارش کی کہ بجٹ کا مطالعہ فرمائیے۔ مدتوں سے یہ طریق چلا آتا تھا۔ کبھی کسی نے غور ہی نہ کیا تھا۔ وزارت خزانہ کے ایڈیشنل سیکرٹری فاروق گیلانی سے‘ اس طرح کے معاملات میں‘ یہ ناچیز رہنمائی کی درخواست کرتا۔ مرحوم نے انکشاف کیا کہ وزارت اطلاعات کے انتظامی ڈپٹی سیکرٹری کی حیثیت سے‘ اس فنڈ کے وہ نگران رہے ہیں‘ جس کا آڈٹ نہیں کیا جاتا۔ کچھ معززین کے نام بھی انہوں نے بتائے تھے جو اس سے فیض یاب ہوئے۔ وزارتِ اطلاعات کے خفیہ فنڈ پہ خبر کا اخبار نویسوں کو یقین آ چکا تو ہنگامہ اٹھا۔

اس فنڈ کو سمیٹ دیا گیا۔ زرداری صاحب نے اب ایک اور راہ نکالی۔ ایوانِ وزیر اعظم کی درخواست پہ رقم انیٹلی جنس بیورو کو منتقل کر دی جاتی۔ وزیر اعظم یہ رقم اپنے ہاں واپس طلب کرکے اپنی صوابدید سے صرف کر سکتے ہیں۔ شہباز شریف حکومت ختم کرنے کیلئے گورنر پنجاب سلمان تاثیر اور وزیر داخلہ رحمن ملک کو پچاس کروڑ روپے اسی طرح عطا کیے گئے۔ جیسے ہی نون لیگ کا اقتدار معطل ہوا‘ عرض کیا کہ پنجاب میں اب کوئی حکومت نہیں۔ اسمبلی کی تائید حاصل کرنا گورنر پنجاب اور وفاقی وزیر داخلہ کے بس کی بات نہیں۔ افسر شاہی کیا اندھی ہے کہ احکامات بجا لائے گی۔ کم و بیش آج بھی وہی صورت حال ہے۔
حکمران خوشامدیوں پر بھروسہ کرتے ہیں تو یہی ہوتا ہے۔ ساڑھے چار سو برس ہوتے ہیں‘ ہاتھی پہ سوار‘ آگرہ سے چونیاں تک‘ کئی ہفتوں کا سفر شہنشاہِ اکبر نے ٹوڈر مل سے ملاقات کے لئے طے کیا تھا۔ وہ ایک نابغہ سمجھا جاتا۔ شیر شاہ سوری کے عہد میں بندوبست اراضی کا ایک نظام اس نے وضع کرنے کی ابتدا کی تھی۔ سوری کی وفات کے بعد اقتدار پھر سے مغلوں کے ہاتھ لگا۔ چند سال افراتفری میں بیت گئے۔


جواں سال بادشاہ کا اقتدار جم چکا تو ایک بار پھر سے ٹوڈر مل کی تلاش شروع ہوئی۔ ہندو مذہب کا ماننے والا دانشور اندیشوں کا شکار تھا۔ جہاں پناہ نے جان کی امان کا اعلان کیا۔ پیغامبر بروئے کار آئے۔ پھر بادشاہ خود اس کے پاس پہنچا اور اس نظام کی تشکیل کا آغاز ہوا‘ معمولی تبدیلیوں کے ساتھ جو اب تک چلا آتا ہے۔ انگریزی دور میں بھی برقرار رہا۔ ہر چند ماہ بعد شہباز شریف جسے مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ تھانہ کلچر بدلنے کی طرح‘ صوبے کے سکولوں اور ہسپتالوں کو مثالی بنانے کی طرح۔ ان میں سے کوئی کام مگر وہ کر نہیں سکے۔ اسمبلی جاتے نہیں۔ کابینہ کی سنتے نہیں۔ اہل اور لائق وزرا سے کام لینے پہ وہ یقین نہیں رکھتے۔ پسندیدہ افسروں کے بل پر کاروبار حکومت چلانے کی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں۔ بظاہر متحرک‘ بظاہر بہت ہی فعال۔ کسی قدر مقبول بھی مگر آخری تجزیے میں ناکام و نامراد۔
آئینی ترمیم کا موضوع تو بالکل دوسرا تھا۔ تمام سیاسی پارٹیاں اس پہ متفق تھیں۔ 1974ء میں حتمی طور پر طے پانے والے ختم نبوت کے قانون میں تبدیلی کی ضرورت کیا تھی۔ مخالفین الزام عائد کرتے ہیں کہ واشنگٹن سے پارٹی سربراہ کو فرمائش موصول ہوئی اور انہوں نے وزیر کو حکم دیا۔ انکل سام کی خواہش تو یہ بھی ہے کہ توہین رسالت کا قانون بھی ختم کر دیا جائے۔ پرسوں پرلے روز علی الاعلان یہ مطالبہ امریکی دارالحکومت میں سنائی دیا۔

ہفتے کی شام سے یہ پروپیگنڈا بھی ہے کہ حکمران خاندان کا ایک فرد مشتعل مظاہرین کے ساتھ رابطے میں رہا۔ ان کی حوصلہ افزائی کی اور مالی امداد کا وعدہ بھی کیا۔ بظاہر یہ قرینِ قیاس نہیں؛ اگرچہ علانیہ ان کی حوصلہ افزائی تو کی۔ ارشاد فرمایا کہ بس میں ہوتا تو ان کے ساتھ جا شامل ہوتے۔ پورے یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ پنجاب حکومت چاہتی تو یہ لوگ 300 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے اسلام آباد نہ پہنچ پاتے۔ ثانیاً مسلسل انیس روز تک پروپیگنڈے کی سہولت مہیا نہ کی جاتی تو اس قدر اشتعال نہ پھیلتا۔ بالکل واضح ہے کہ فیصلے تاخیر سے کئے گئے‘ مشیر ناقص اور حکمت عملی‘ حکمت و دانائی سے خالی۔ ملک بھر میں جو انتشار برپا ہے‘ میاں محمد نواز شریف اور ان کے ساتھی اس کے ذمہ دار ہیں۔ نیتوں کا حال اللہ جانتا ہے مگر کم فہمی‘ لاابالی پن اور بے احتیاطی پوری طرح آشکار ہے۔ ڈرے ہوئے خود غرض لوگ کہاں اور دانش کہاں۔ اس کا مطلب مگر یہ نہیںکہ ملک کو فساد کے حوالے کر دیا جائے۔ کسی بھی معاشرے کے لئے انارکی ایسی خطرناک چیز کوئی دوسری نہیں۔ فساد فی الارض کو قرآن کریم بھیانک ترین جرم قرار دیتا ہے‘ قتل سے بڑھ کر۔

سول ادارے پہلے ہی تباہی سے دوچار تھے۔ یہ سیاستدانوں کا کیا دھرا ہے اور فوجیوں کا بھی۔ پنجاب اور سندھ پولیس پستی کی آخری حدود کو چھو رہی ہے۔ بیچارے پولیس افسر اور جوان معاشرے کی نفرت کا شکار ہیں۔ ہر کوئی قربانی کا بکرا انہیں بناتا ہے۔ یہ سلسلہ اسی طرح آگے بڑھا تو کوئی شخص‘ کوئی گھر اور کوئی دفتر محفوظ نہ رہے گا۔ خدانخواستہ یہی چلن رہا تو آج فسادیوں کی تحسین کرنے والے‘ کل رویا کریں گے۔ ہم بھارت کے پڑوسی ہیں‘ برطانیہ اور امریکہ کے معتوب۔ بہت غلطیاں ہم کر چکے‘ مزید کے ہم متحمل نہیں۔
حکومت کو جانا چاہئے۔ اب یہ اس کے بس کی بات نہیں۔ نیا الیکشن ضروری ہے مگر ظاہر ہے کہ فساد کے خاتمے اور سیاستدانوں کے علاوہ عسکری قیادت میں ایک کم از کم اتفاق رائے کے بعد۔ مکمل طور پر ایک آزادانہ الیکشن۔ خواہ اس کے لئے مزید چند ماہ انتظار کرنا پڑے۔
گالم گلوچ سے نہیں‘ فساد سے نہیں‘ قوموں کی تعمیر پختہ نظریات پہ ہوتی ہے۔ ریاضت‘ حکمت‘ اصولوں کی پاسداری اور حسنِ کردار سے۔
وہ سحر جو کبھی فردا ہے کبھی امروز
نہیں معلوم کہ ہوتی ہے کہاں سے پیدا
وہ سحر جس سے لرزتا ہے شبستانِ وجود
ہوتی ہے بندۂ مومن کی اذاں سے پیدا

You can find here amar jaleel columns, amar jaleel, amar jaleel latest columns, Haroon ur Rasheed Columns, Nusrat Javed Columns, Ajmal Niazi Urdu Columns, javed chaudhry, Javed Chaudhry Columns, irshad bhatti, sohail warraich, Sohail Warraich, Sohail Warraich  Columns, Ayaz Ameer Urdu Columns Today, Ayaz Ameer Columns, Ayaz Ameer,rauf klasra, rauf klasra columns, jang columns, hassan nisar, hassan nisar columns, orya maqbool jan columns, orya maqbool jan, Mazhar Barlas Urdu Columns Today,  Mazhar Barlas Latest Columns etc.

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget