کالم لسٹ "Hot News"

راولپنڈی (نیوز ڈیسک) تحریک لبیک کے خادم حسین رضوی اور دیگر اہم رہنماؤں کی گرفتاریوں کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اپنے آفیشل اکاؤنٹ سے دو پوسٹس کی ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے ایک ٹویٹ میں قرآنی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔‘‘ اپنے دوسرے ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ ’’پاکستان ایک مسلم ریاست ہے اور کوئی مسلمان ختم نبوتؐ پر سمجھوتہ نہیں کر سکتا، اس ٹویٹ میں میجر جنرل آصف غفور نے عقیدہ ختم نبوت کے حوالے سے اپنا اور ہر مسلمان کا موقف واضح کر دیا۔ واضح رہے کہ تحریک لبیک پاکستان(ٹی ایل پی) کے سربراہ خادم حسین رضوی کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لئے جانے کی اطلاعات ملی ہیں جبکہ پنجاب بھر سے ٹی ایل پی کے سینکڑوں رہنماؤں و کارکنوں کو کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار کرلیاگیاہے ۔ نجی ٹی وی کے مطابق خادم حسین رضوی کے اہلخانہ نے ٹی ایل پی سربراہ کو حراست میں لیے جانے کی تصدیق کی۔خادم حسین رضوی کے اہلخانہ کے ایک رکن نے نجی نیوز چینل کو بتایا کہ 'انہیں لاہور میں ان کے حجرے سے گرفتار کیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس کی نفری کو علامہ خادم رضوی کی گرفتاری پر شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ، پولیس نے مزاحمت پر مسجد رحمت اللعالمین پر شیلنگ کردی ، رپورٹس کے مطابق شدید شیلنگ کے بعد پولیس علامہ خادم حسین رضوی کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئی تاہم اپنے قائد کی گرفتاری کے باجودتحریک لبیک پاکستان نے اعلان کیاہے کہ25 نومبرکو لیاقت باغ راولپنڈی کا پروگرام ہر حال میں ہوگاتمام کارکنان اپنے شہروں میں دھرنے جاری رکھیں ۔دوسری جانب پنجاب کے وزیر اطلاعات اور قانون نے رابطہ کرنے پر کہا کہ انہیں خادم حسین رضوی کی گرفتاری سے متعلق کچھ علم نہیں۔ ذرائع کے مطابق پنجاب بھر میں تحریک لبیک پاکستان کے رہنماؤں اور کارکنا ن کے خلاف کریک ڈاؤ ن کیاگیا ۔ ادھرراولپنڈی پولیس نے تحریک لبیک پاکستان کے 24سرکردہ رہنماؤں و کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ تمام افراد کو 16 ایم پی او کے تحت حراست میں لیا ہے ۔ پولیس ذرائع کے مطابق تحریک لبیک کے کارکنوں کو راتوں رات جیل منتقل کردیاگیا ہے ۔ملتان پولیس نے تحریک لبیک یا رسول اللہ کے رہنماوں اور کارکنوں کے خلاف کریک ڈاون کیا جس میں رات گئے 13 رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا شجاع آباد سے حسیب انور اظہری، قاری صدیق ، پی پی 214 سے امیدوار ملک ظفر اقبال ، ملتان شہر سے آصف بشیر اور حافظ محمد عابد ، نوید احمد ، ملتان شہر سے اسامہ، صوفی محمد حنیف ، محمد بلال ، جلالپور پیر والہ سے مفتی اعجاز احمد، شاکر اسلم، محمد یوسف اور عطار ساقی کو گرفتارکرلیاگیا ۔ادھربھکر میں تحریک لبیک کے کارکنان کے گھروں پر چھاپے مارے گئے تاہم تحریک لبیک کے کارکنان روپوش پولیس لواحقین کو حراساں کرنے میں مصرف رہی ، تحریک لبیک کے کارکن مفتی محمد سرور کی روڈی سے گرفتاری کی اطلاع نامعلوم مقام پرمنتقل کردیاگیا ،پولیس کی سر توڑ کوشش رات گئے تک زیادہ گرفتاریاں عمل میں نہ آسکیں ۔سیالکوٹ میں ضلعی امیر محمد رفیق سمیت 23 کارکن ضلع بھر سے گرفتارکر لئے گئے ۔گوجرانوالہ کے ریجن بھر کے مختلف اضلاح تحریک لبیک یارسول کے کارکنان کے خلاف کریک ڈاون شروع ہوگیا ، پولیس نے سیالکوٹ ،ناروال،منڈی بہاوالدین،حافظ آباد،گجرات سمیت مختلف علاقوں سے تحریک لبیک کے150 سے زائد کارکنان گرفتار کرلیے ۔ذرائع کے مطابق صرف ان لوگوں کو گرفتار کیا جارہا ہے جنہوں نے آسیہ کیس فیصلے کے ردعمل میں جی ڑوڈ بلاک کیا تھا پولیس کو ریجن بھر سے 12 سو افراد کو گرفتار کرنے کا ٹارگٹ ہے۔پولیس کے مطابق دھرنے دینے والوں کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے تھے ریجن بھر سے مقدمات میں مطلوب تحریک لبیک کے کارکنان کو گرفتار کیا جارہا ہے ۔تحریک لبیک نے کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف دھرنوں اور مظاہروں کا اعلان کر دیا اور کہا کہ وہ وفاقی دارالحکومت میں راولپنڈی اور اسلام آباد کو ملانے والے انٹر چینچ فیض آباد کو پہلے کی طرح بند کرکے دھرنا دے دینگے ۔جب کہ ٹی ایل پی کے رہنماؤں اور کارکنان کی گرفتاری کے بعد کسی بھی ممکنہ ردعمل سے نمٹنے کے لئے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ، صوبائی دارالحکومت لاہور اور دیگر شہروں میں بعض مقامات پر کینٹینرز پہنچا دیئے گئے ۔



پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے رہا کیے جانے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو ملتان جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ وزارت داخلہ کے اہلکار نے دعویٰ کیا کہ ملتان جیل سے آسیہ بی بی کو راولپنڈی کے نور خان ایئر بیس لایا گیا جہاں وہ اپنے خاندان سمیت بیرون ملک روانہ ہو گئی ہیں۔

آسیہ بی بی اور ان کے خاندان کے علاوہ پاکستان میں ایک یورپی ملک کے سفارت کار بھی جہاز میں سوار ہیں۔

تاہم آسیہ بی بی کی ملک سے روانگی کے بارے میں متضاد خبریں ہیں۔

تاہم صحافی عادل شاہزیب کا کہنا ہے کہ ان سے وزیر اعظم کے خصوصی نائب برائے میڈیا افتخار درانی نے بات کرتے ہوئے ان خبروں کی تردید کی کہ آسیہ بی بی ملک چھوڑ کر نیدرلینڈز روانہ ہو گئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آسیہ بی بی اب بھی پاکستان میں ہیں۔

اس سے قبل آسیہ بی بی کے وکیل ایڈووکیٹ سیف الملوک نے کہا کہ آسیہ بی بی کو ملتان جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔

بی بی سی نیوز کے سکندر کرمانی سے بات کرتے ہوئے سیف الملوک نے اس بات کی تصدیق کی۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے توہین مذہب کے جرم میں سزائے موت پانے والی آسیہ بی بی کی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کو رہا کرنے کا فیصلہ دیا تھا۔

دوسری جانب آسیہ بی بی کی رہائی پر تحریک لبیک پاکستان نے رد عمل میں کہا کہ آسیہ بی بی کی رہائی حکومتی معاہدہ کی خلاف ورزی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پورے پاکستان کی فضا آسیہ کی رہائی کی خبر سن کر غم و کرب میں مبتلا ہے۔

معاہدہ کی خلاف ورزی کر کے بدعہدی کی سیاہ تاریخ رقم کی گئی ہے۔

معاہدہ

آسیہ مسیح کے مقدمے میں نظر ثانی کی درخواست دائر کر دی گئی ہے جو کہ مدعا علیہان کا قانونی حق و اختیار ہے۔ جس پر حکومت معترض نہ ہو گی۔

آسیہ مسیح کا نام فوری طور پر ای سی ایل میں شامل کرنے کے لیے قانونی کارروائی کی جائے

آسیہ مسیح کی بریت کے خلاف تحریک میں اگر کوئی شہادتیں ہوئی ہیں ان کے بارے میں فوری قانونی چارہ جوئی کی جائے گی

آسیہ سمیح کے بریت کے خلاف 30 اکتوبر اور اس کے بعد جو گرفتاریاں ہوئی ان افراد کو فوری رہا کیا جائے گا

اس واقعے کے دوران جس کسی کی بلا جواز دل آزاری یا تکلیف ہوئی ہو تو تحریک لبیک معذرت خواہ ہے

تاہم وفاقی حکومت نے آسیہ بی بی کی بیرون ملک روانگی کے ممکنہ رد عمل کے حوالے سے پنجاب حکومت سے کہا ہے کہ اگر تحریل لبیک پاکستان کی قیادت احتجاج کے لیے باہر نکلے تو اس کی قیادت کو گھروں میں نظر بند کر دیا جائے۔

یورپی پارلیمنٹ کے صدر انٹونیو تجانی نے ٹویٹ میں کہا کہ آسیہ بی بی جیل سے رہا ہو گئی ہیں اور ان کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ میں پاکستانی حکام کا شکر گزار ہوں۔ میں ان سے اور ان کے خاندان سے یورپی پارلیمنٹ میں جلد ملنا چاہتا ہوں۔

واضح رہے کہ آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک نے پیر کے روز ہالینڈ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آسیہ بی بی کو رہا کرنے کا سپریم کورٹ کا حکم جیل پہنچنے میں دس سے بارہ دن لگتے ہیں۔ اس لیے ابھی آسیہ بی بی کو جیل سے رہا نہیں کیا گیا۔

حکومت اور تحریک لبیک پاکستان کے درمیان ہونے والے معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے سیف الملوک نے اسے تحریک لبیک پاکستان کے لیے 'بچاؤ' کا راستہ قرار دیا۔

چند روز قبل لندن میں آسیہ بی بی کے شوہر عاشق مسیح اور بیٹی ایشام سے بات چیت کرتے ہوئے ایشام کا کہنا تھا کہ 'میں نو سال کی تھی اور اس کے بعد سے میں اب تک ادھوری ہوں۔ دل کرتا ہے کہ ماما جلدی سے پاس آ جائے۔ ہم دونوں ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے ہیں اور وہ بھی میرے بغیر نہیں رہ سکتیں۔ جب ہماری ملاقات ہوتی ہے میں بہت روتی ہوں۔ وہ مجھے کہتی ہیں کہ دعا کروں کہ میں جلدی سے باہر آ جاؤں۔'

امریکہ میں قید پاکستانی خاتون عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا کہنا ہے کہ امریکہ پاکستان سے کچھ چیزیں چاہتا ہے اور ان کے عوض وہ عافیہ صدیقی کو پاکستان لوٹانے کے لیے تیار ہے۔

فوزیہ صدیقی کا دعویٰ ہے کہ امریکہ کی جانب سے اس طرح کے لیے اشارے ملے ہیں تاہم امریکہ کے مبینہ مطالبات کے بارے میں تفصیلات وہ وزیرِ خارجہ سے ملنے سے پہلے بیان نہیں کر سکتیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے ایک ٹوئٹر پیغام میں بتایا ہے کہ امریکی ڈپٹی اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ ایلس ویلز کے حالیہ دورہِ پاکستان کے دوران پاکستانی حکام نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا معاملہ اٹھایا اور ایلس ویلز نے پاکستانی درخواست پر غور کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

اس کے علاوہ پیغام میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی سے جلد اسلام آباد میں ملاقات کریں گے۔

عافیہ صدیقی کون ہیں؟

یاد رہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو جولائی دو ہزار آٹھ میں افغان پولیس نے کیمیائی اجزا اور ایسی تحریریں رکھنے پر گرفتار کیا تھا جن میں نیویارک پر حملے کا ذکر تھا جس میں بھاری جانی نقصان ہو سکتا تھا۔

حکام کے مطابق ڈاکٹر عافیہ نے کیمیائی اجزاء اور نیویارک میں حملے کے بارے میں تحریروں کی برآمدگی کے بارے میں سوال پوچھے جانے پر رائفل اٹھا کر فوجیوں پر گولیاں چلائیں۔ اس حملے میں کوئی امریکی زخمی نہیں ہوا تھا۔

ڈاکٹر عافیہ کے وکلا نے موقف اختیار کیا کہ عافیہ نے بدحواسی کی کیفیت میں رائفل چھینی اور فائرنگ کی۔ ان کا موقف تھا کہ عافیہ کے اس عمل کا دہشت گردی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں بنتا۔

عافیہ صدیقی کو ایک امریکی عدالت نے افغانستان میں امریکی فوج اور حکومت کے اہلکاروں پر مبینہ طور قاتلانہ حملے اور قتل کی کوشش کرنے کے سات الزامات میں مجرم قرار دیا تھا۔

عافیہ صدیقی کو پاکستان کیسے لایا جا سکتا ہے؟

گذشتہ روز پاکستانی دفترِ خارجہ کی ایک پریس ریلیز میں بتایا گیا تھا کہ امریکی شہر ہیوسٹن میں پاکستانی قونصل جنرل وقتاً فوقتاً عافیہ صدیقی سے ملاقات کرتے ہیں۔ تازہ ترین ملاقات نو اکتوبر کو ہیش آئی جس میں عافیہ صدیقی نے وزیراعظم عمران خان کے نام پیغام میں کہا کہ وہ پاکستان آنا چاہتی ہیں۔

عافیہ صدیقی نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ انھوں نے ہمیشہ عمران خان کو اپنے ہیروز میں سے ایک گنا ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ عمران خان تمام مسلمانوں کے خلیفہ بن جائیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی نے دعویٰ کیا کہ جون میں ایک پاکستانی قونصلر کی ملاقات کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عافیہ صدیقی کو امریکی جیل حکام یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر تم اپنا دین بدل لو تو تمھیں فوراً رہا کر دیں گے۔

فوزیہ صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ رپورٹ کے مطابق عافیہ صدیقی کو جنسی طور پر بھی ہراساں کیا جا رہا ہے اور انھیں عبادت بھی نہیں کرنے دی جا رہی۔

فوزیہ صدیقی کا کہنا ہے کہ عافیہ صدیقی کو واپس لانے کے تین راستے ہیں۔

پہلا تو یہ کہ پاکستان اُس عالمی معاہدے کا شریک بن جائے جس میں مجرمان کو اپنے ملک منتقل کیا جا سکتا ہے۔

امریکہ پہلے سے ہی اس معاہدے پر دستخط کر چکا ہے تاہم پاکستان اس معاہدے کا رکن نہیں۔ اس حوالے سے درکار ایک قانونی نقطہ عافیہ صدیقی کی جانب سے اس منتقلی کی درخواست تھی اور فوزیہ صدیقی کے مطابق عافیہ صدیقی کی جانب سے عمران خان کو پیغام اسے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

فوزیہ صدیقی کا دعویٰ ہے کہ امریکہ کے نائب اسسٹنٹ اٹارنی جنرل بروس شوارٹس نے ایک خط میں کہا ہے کہ اگر پاکستان اس معاہدے میں شرکت کر لیتا ہے تو امریکہ عافیہ صدیقی کو واپس بھیجنے کے لیے تیار ہوگا۔ اگرچہ فوزیہ صدیقی کے پاس مذکورہ خط موجود نہیں مگر ان کے مطابق یہ پاکستانی حکام کے پاس موجود ہے۔

فوزیہ صدیقی کا کہنا ہے کہ عافیہ کو پاکستان لانے کا دوسرا راستہ امریکہ اور پاکستان کے مذاکرات ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس حوالے سے امریکہ نے مثبت اشارے دیے ہیں تاہم ان کی تفصیلات وہ وزیرِ خارجہ سے ملاقات کے بعد ہی ظاہر کر سکتی ہیں۔

فوزیہ صدیقی نے کہا کہ تیسرا راستہ صدارتی معافی کا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر اوباما کے دورِ حکومت میں عافیہ صدیقی کی صدارتی معافی کی تیاری کی جا رہی تھی تاہم پاکستانی حکومت نے بروقت کارروائی نہیں کی۔


اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان  نے کہا ہے کہ آسیہ بی بی فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق ہے۔

قوم سے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ مدینہ کی ریاست کے بعد پاکستان واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا، پاکستان کا کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں، پاکستان کا آئین قرآن و سنت کے مطابق ہے، سپریم کورٹ کا آسیہ بی بی کیس میں جو فیصلہ آیا ہے وہ آئین اور قانون کے مطابق ہے۔

عمران خان نے کہا کہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہماری حکومت ملک کو مدینہ کے طرز کی  فلاحی ریاست بنانا چاہتی ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے پر چھوٹے سے طبقے نے ردعمل دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے جج کے خلاف جو زبان استعمال کی گئی وہ درست نہیں، فیصلے کے بعد بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کے ججز واجب القتل ہیں۔ بعض لوگ فوج اور جرنیلوں کو کہہ رہے ہیں کہ آرمی چیف کے خلاف بغاوت کریں۔ سڑکیں بند کی جارہی ہیں۔ 

وزیراعظم نے کہا کہ سپریم کورٹ سے من پسند فیصلے نہ آنے پر یہ لوگ ملک کو نقصان پہنچارہے ہیں، عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ کسی صورت اکسانے والے لوگوں کا ساتھ نہ دیں، یہ کوئی اسلام کی خدمت نہیں کررہے، یہ لوگ جھوٹ بول کر فوج کو آرمی چیف سے بغاوت کا کہہ رہے ہیں اور اپنی سیاست چمکا رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ان عناصر سے بھی کہتا ہوں کہ اپنی سیاست اور ووٹ بینک کے چکر میں ملک کے خلاف کام نہ کریں۔ اگر صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی گئی تو ریاست  ایکشن لینے پر مجبور ہوگی، ریاست سے نہ ٹکرائیں۔ ہم کوئی توڑ پھوڑ نہیں ہونے دیں گے، نہ ہی سڑکوں پر ٹریفک رکنے  دیں گے۔


اسلام آباد: سپریم کورٹ نے توہین رسالت کیس میں آسیہ بی بی کی سزائے موت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں بری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے مختصر فیصلے کے بعد 57 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ بھی جاری کردیا، یہ فیصلہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے تحریر کیا جبکہ سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس آصف سعید کھوسہ نے الگ اضافی نوٹ تحریر کیا ہے۔

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget