کالم لسٹ "92 News"

’’پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں‘‘، تین بار وزیراعظم رہنے والے میاں نواز شریف کچھ عرصے سے خاصے بجھے بجھے، خا موش اور اداس دکھائی دیتے ہیں۔ بظاہر ’پاناما گیٹ‘ کا شکار ہو کر اقتدار سے رخصتی کے بعد شریف فیملی بالخصوص اوران کی پارٹی مسلم لیگ (ن) کے چیدہ چیدہ رہنماؤں پر بالعموم عرصہ حیات تنگ ہو رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مصیبت کبھی اکیلی نہیں آتی، میاں نوازشریف کا بھی یہی حال ہے۔ ان کی اہلیہ محترمہ کلثوم نواز لندن میں کینسر سے مقابلہ کرتے کرتے زندگی کی بازی ہار گئیں اور ان کا11 ستمبر کو وہیں انتقال ہو گیا۔ نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کئی مرتبہ اپنے اس دکھ کا اظہار کر چکے ہیں کہ وہ کلثوم نواز کے آخری ایام میں ان کے سرہانے موجود نہیں تھے۔ ذہنی طور پر نارمل ہونے کے باوجود میاں صاحب عملی سیاست میں حصہ نہیں لے رہے، اگرچہ بطور رہبر وہی اپنی سیاسی جماعت کے مدارالمہام ہیں۔ بدقسمتی سے برادر خورد میاں شہبازشریف جنہیں میاں صاحب کی جگہ مسلم لیگ (ن) کا صدر منتخب کیا گیا تھاکو بھی نیب کے کیسز میں الجھا کر اچانک گرفتار کر لیا گیا۔ اگرچہ ریمانڈ در ریمانڈ لینے کے با وجود سابق وزیراعلیٰ کے خلاف ابھی تک کوئی ریفرنس دائر نہیں ہوا لیکن جس اندازمیںدونوں بھائیوں کے خلاف گڑھے مردے اکھاڑے جا رہے ہیں ان کی مستقبل قریب میں خلاصی ہوتی نظر نہیں آتی۔ نواز شریف کے سر پر دو مزید ریفرنسز العزیزیہ اورفلیگ شپ کی تلوار لٹک رہی ہے اور ہنگامی بنیادوں پر ان کا ٹرائل ہو رہا ہے جیساکہ ان کو پہلے ریفرنس ایون فیلڈ میں ضمانت کے بعد دوبارہ اندر بھیجنے کی کوئی جلدی ہو ۔ کہا جاتا ہے کہ میاں صاحب اپنی اہلیہ کی جدائی کے بعد انتہائی مغموم ہیں اور اسی لئے خاموش ہیں لیکن یہ خاموشی اس لحاظ سے معنی خیز ہے کہ اب یہ بہت طویل ہو گئی ہے اور محترمہ کلثوم نواز کے چالیسیویں کے بعد بھی میاں نواز شریف سیاسی معاملات پر گفتگو کرنے سے مسلسل گریزاں ہیں اور ان کی صاحبزادی مریم نواز تو بالکل ہی منظر سے غائب ہو گئی ہیں۔ ان کی شعلہ نوائی اور جارحانہ ٹویٹس اب کہیں نظر نہیں آتے۔ غالباً میاں صاحب ہارڈ لائن لیکر اپنی مشکلات میں اضافہ نہیں کرنا چاہتے، جب تک وہ نیب عدالت کی پیشیاں بھگت رہے ہیں شاید چپ کا روزہ رکھیں گے۔ پہلے تو نواز شریف کے ناقدین جن میں تحریک انصاف کے رہنما پیش پیش ہیں نے یہ درفنطنی اڑائی کہ میاں فیملی ایک اور این آر او مانگ رہی ہے۔ ایک وفاقی وزیر نے تو یہ تک کہہ دیا کہ انہیں معلوم ہے کہ این آر او کن شرائط پر ہو رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان اور خود نواز شریف کے قریبی حلقوں کو دوٹوک تردید کرنا پڑی کہ ایسی کوئی سودے بازی نہیں ہو رہی۔ ویسے بھی اس مر حلے پر این آر او کی بات انتہائی مضحکہ خیز لگتی ہے، این آر او کون کرے گا اور کن کے درمیان ہو گا۔ واضح رہے کہ آمر مطلق جنرل پرویزمشرف اور محترمہ بے نظیر بھٹو جو اس وقت جلاوطنی میں تھیں کے درمیان جو این آر او ہوا تھا اس کا بلاواسطہ فائدہ نواز شریف کو بھی پہنچا جب سعودی فرمانرو انے جنرل پرویز مشرف کو کہا کہ اگربے نظیر بھٹو کو واپس لے لیا ہے تو نواز شریف کو بھی واپس آنے کی اجازت دیں لیکن مدر آف آل این آر اوز وہ ڈیل تھی جس کے تحت نواز شریف اپنے سارے خاندان کے ہمراہ 2000ء میں جدہ میںسعودی حکومت کے سرکاری مہمان بن کر سرور پیلس پہنچ گئے تھے۔ اس وقت بھی شہباز شریف جلاوطنی میں جانے کو تیارنہیں تھے لیکن اس وقت کے ڈی جی ایم آئی لیفٹیننٹ جنرل احسان الحق نے شہباز شریف پر واضح کردیا تھا کہ اگر آپ اس ڈیل پر دستخط نہیں کریں گے تو شریف فیملی کے کسی بھی فرد کوجدہ جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ سیاسی مبصرین سمیت سب کے ذہنوں میں یہ سوال ابھر رہا ہے کہ نواز شریف آخر کیوں خاموش ہیں؟ کیونکہ وہ نچلے بیٹھنے والے سیاستدان نہیں ہیں جو لوگ ان سے واقف ہیں انھیں اچھی طرح معلوم ہے کہ نواز شریف کے اندر کیا طوفان ہو گا۔ کیا انھوں نے فوجی قیادت اور عمران خان کے بارے میں اپنے نظریات بدل لیے ہیں، یقینا ایسا نہیں ہے۔ نواز شریف کی خاموشی سٹرٹیجک لگتی ہے۔ چند روز قبل چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کے صاحبزادے سعد صدیق باجوہ کی دعوت ولیمہ میں خاصے عرصے بعد چودھری نثار علی خان سے ملاقات ہو گئی۔ گپ شپ کے دوران میرے اس سوال پر کہ آپ اور میاں نواز شریف کے درمیان برف پگھلی ہے؟ چودھری صا حب نے دوٹوک انداز میں کہا کہ کوئی رابطہ نہیں ہے۔ پھرمیاں نواز شریف کی خاموشی پر تبصرہ کرتے ہوئے چودھری نثار نے کہا کہ اگرمیاں صاحب میری بات مان لیتے تو ان کی سیاسی جماعت اس وقت پھر برسراقتدار ہوتی۔ واضح رہے کہ چودھری نثار اس وقت نواز شریف کو مشورہ دے رہے تھے کہ آپ فوج سے پنگا نہ لیں اور خاموشی سے براستہ موٹروے گھر چلے جائیں کیونکہ محاذ آرائی سے کچھ حاصل نہیں ہو گا بلکہ الٹا نقصان ہوگا۔ اس وقت بڑھکیں مارنے والے میاں صاحب کے مشیر اور نورتن انھیں مشورے دے رہے تھے کہ حضور! آپ جی ٹی روڈ کے ذریعے جب تک جلوس لے کر لاہور پہنچیں گے تو کایا پلٹ چکی ہو گی۔ یقینا میاں صاحب کو جی ٹی روڈ پر کسی حد تک پذیرائی بھی ملی تھی اور اس طرح ٹھنڈی کرکے کھانے والے سیاستدانوں جن میں چودھری نثار پیش پیش تھے کو سیاسی طور پر سائیڈ لائن پرکردیا گیا۔ میاں نوازشریف نے عام انتخابات سے قبل 13جولائی کو لندن سے بڑے طمطراق سے لاہور ایئرپورٹ پر لینڈ کیا لیکن ان کے استقبال کے لیے آنے والے لوگوں کی تعداد اتنی نہیں تھی جس کی وہ توقع کر رہے تھے، میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کو سکیورٹی اداروں کے حصار میںسیدھا اڈیالہ جیل پہنچا دیا گیا۔ اس طرح نواز شریف وطن واپس آکر انتخابات میں جتنا سیاسی فائدہ چاہتے تھے اتنا حاصل نہ ہو سکا۔ بعد از خرابی بسیار سابق وزیراعظم کو یہ احساس ہو گیا ہے کہ ان کی جارحانہ بیٹنگ کا کوئی فائدہ نہیں ہوا،لیکن سب کچھ لٹا کر ہوش میں آئے توکیا کیا۔ یہ دلچسپ حقیقت ہے کہ شہبازشریف جن کی لائن نوازشریف کی جارحانہ حکمت عملی کے برعکس فوجی قیادت کے ساتھ صلح جوئی کی تھی وہ بھی انھیں نیب یاترا سے نہ بچاسکی۔ شہباز شریف کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے اور ایک وقت تک بظاہرفوجی قیادت کی یہی خواہش لگتی تھی بڑے بھائی کے برعکس شہباز شریف کو پروموٹ کیا جائے لیکن بعدازاں جب یہ محسوس کیا گیا کہ چھوٹے میاں صاحب اپنے بڑے بھائی کے خلاف کھلم کھلا سٹینڈ لینے کو تیار نہیں تو ان کا سنگھاسن بھی ڈول گیا۔ دراصل میاں نواز شریف اور شہبازشریف کی سیاست لازم وملزوم ہے، اگر ووٹ بڑ ے بھائی کو پڑتے ہیں تو چھوٹے بھائی کی کارکردگی مسلم لیگ (ن) کے لیے باعث تقویت ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو شہبازشریف کی سیاست میاں نواز شریف کے بغیر نہیں پنپ سکتی۔ یہ توقع عبث ہے کہ وہ بڑے میاں صاحب کے خلاف سینہ سپرہو جائیں گے۔ اگر انھوں نے ایسا کیا تو وہ زیرو ہو جائیں گے۔ دیکھا جائے تو بقول پرویز مشرف یہ دونوں بھائی ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیںیعنی جی ٹی روڈ سے جائیں یا موٹروے سے دونوں کی منزل ایک ہی ہے۔ 




دنیا بھر کا جدید ‘ سیکولر ‘ لبرل اور مغربی تہذیب کا پرستار طبقہ اس قدر متعصب اور جانبدار ہے کہ اس جدید مغربی تہذیب کے ہر ادارے کی بڑی سے بڑی برائی پر چپ سادھ لیتا ہے۔ وہ اس برائی کو افراد کی بددیانتی اور چوری پر محمول بتاتا ہے‘ لیکن بحیثیت مجموعی نہ اس سسٹم کو برا کہتا ہے اور نہ اس ادارے کو جو اس سسٹم نے جنم دیا ہے۔ آج کی جدید جمہوری سیکولر‘ لبرل اور کارپوریٹ معیشت جن بنیادوں پر قائم ہے وہ 1694ء میں بنک آف انگلینڈ کے چارٹر سے جنم لینے والا سودی بینکاری نظام ہے۔ اس پورے نظام نے آکٹوپس کی طرح پوری دنیا کی حکومتوں‘ کاروبار زندگی اور معیشتوں کو گھیرے میں لیا ہوا ہے۔ ایک عام آدمی تو اس بینکاری نظام سے صدیوں پہلے معاشرے میں موجود سود خور سرمایہ داروں کے شکنجے میں تھا‘ لیکن جدید بینکاری نے سود کو سرکاری سرپرستی میں جس طرح سکہ رائج الوقت بنا کر ہر ملک کے بچے بچے سے سود وصول کرنے کا راستہ نکالا وہ اس سارے سودی نظام کے قائم کرنے والوں کی عیاری کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ یورپ جس کی تاریخ جنگوں سے عبارت ہے، جہاں پوری صدی پر محیط جنگیں بھی ہوتی رہی ہیں۔ ان جنگوں میں سے ایک جنگ ’’بڑے اتحاد کی جنگ‘‘ War of the Grand Allianceکہلاتی ہے۔ یہ آٹھ سالہ جنگ جو 1689ء میں شروع ہو کر 1697ء میں ختم ہوئی‘ فرانس کے بادشاہ لوئی15کے توسیع پسندانہ حملوں کے خلاف برطانیہ اور ولندیزی متحدہ صوبہ جاتUnited Provinces of Nether Landsکے باہمی اتحاد کے ساتھ تھی۔ اس جنگ میں انگلینڈ کو جب سرمائے کی ضرورت پیش آئی تو یہودی سرمایہ داروں کا سرخیل چارلس مونٹیگو Charles Montagueاور اس کے ساتھیوں نے 1692ء میں حکومت برطانیہ کو قرض فراہم کیا اور جس طرح آج کل آئی ایم ایف شرائط عائد کرتا ہے ویسے ہی یہ شرط عائد کی گئی کہ جو قرضہ حکومت لے رہی ہے‘ زر ضمانت کے طور پر شراب کی تیاری اور فروخت پر جو ٹیکس حاصل کیا جاتا ہے اس سے قرضے کی اصل زر اورسود ادا کیا جائے گا۔ یہ انسانی تاریخ کا پہلا سودی قرضہ تھا جو کسی حکومت نے حاصل کیا اور آج پوری دنیا اس جال میں پھنسی ہوئی ہے۔ اس قرضے کو ایک نظام میں جکڑنے کے لیے برطانوی پارلیمنٹ میں Tonnage Act 1694منظور ہوا جس کے تحت پارلیمنٹ نے جہاں بادشاہ کو شراب کے ڈرم برآمد کرنے والے جہازوں اور عام صارف کے لیے فروخت ہونے والی بوتلوں پر ٹیکس لگانے کی منظوری دی، وہیں بنک آف انگلینڈ کے قیام کی 199 سالہ منظوری بھی دی گئی یعنی 1694 سے لے کر 1892ء تک یہ ایک کارپوریشن کے طور پر کام کرے گا اور اس کے پرائیویٹ کنٹرول کو قانونی تحفظ حاصل ہو گا۔ یوں پوری برطانوی قوم کا بچہ بچہ مقروض ہو گیا اور بغیر کچھ جانے بوجھے وہ ٹیکس ادا کرنے لگا جو اس بنک کو سود کے طور پر ادا کئے جاتے تھے یعنی سرکاری ڈنڈے اور سرپرستی سے عام آدمی کو اس کی مرضی کے غیر مقروض بنایا گیا اور پھر اس کی مرضی کے بغیر اس سے سود بھی وصول کیا جانے لگا۔ اس دن سے آج تک پوری دنیا اس سودی گھن چکر میں پھنسی ہوئی ہے۔ اس کے بعد ان بینکاروں نے اس سودی معیشت کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک اور منصوبے پر کام شروع کیا۔ بنک کے قیام سے پہلے دنیا کے ہر ملک میں ایک ٹکسال (Mint)ہوتا تھا جس میں سونے اور چاندی کے سکے ڈھالے جاتے تھے۔ چارلس مونٹیگو جس کو اس وقت برطانیہ نے اپنے بہت بڑے خطاب ارل آف ہیلی فیکس Earl of Halifaxسے نواز دیا تھا، یہ خطاب پوری تاریخ میں صرف چار افراد کو دیا گیا ہے اور چارلس مونٹیگو ان میں پہلا تھا اس کی زیر کفالت دنیائے سائنس کا بہت بڑا کردار آئزک نیوٹنIssac Newtonبھی تھا جس کو اس نے اپنے سرمائے کی مدد سے بہتر زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیا۔ نیوٹن کی سوتیلی بہن کا انتقال ہوا تو اس کہانی میں ایک دلفریب و دلربا کردار کی آمد ہوئی جو نیوٹن کی بھانجی کیتھرین بارٹون Catherine Bartonتھی۔ یہ اپنے حسن و شباب ‘ ناز و انداز اور دلفریبی کی وجہ سے شمع محفل بن گئی اور پھر چارلس مونٹیگو نے اسے اپنے گھر کی نگہداشت کے لیے رکھ لیا۔ جب کہ مؤرخین اسے اس کی کنیز Mistressبتاتے ہیں۔ چارلس مونٹیگو نے اس خاتون کے رکھ رکھائو اور تہذیب و شائستگی سے مزین خوبصورتی کو بہت استعمال کیا اس نے دونوں کو لندن بھیجا جہاں نیوٹن کے سائنسی علم کی دھاک اور کیتھرین کے حسن و جمال نے تمام ارباب اختیار کو گرویدہ بنا لیا۔ ایسے میں چارلس مونٹیگو کی سفارش نے اپنا کام کر دکھایا اور فزکس کے اس سائنس دان کو ٹکسال کا سربراہ (Master of Mint)بنا دیا گیا۔ یہ تینوں لندن کے مشہور کٹ کیٹ Kit katکلب کے ممبر بھی بن گئے جو بنایا ہی اس لیے گیا تھا کہ سیاسی اور حکومتی افراد پر غلبہ حاصل کیا جائے۔یہاں سے بینکاری اور سودی نظام کے عیارانہ منصوبے کا آغاز ہوا۔ صدیوں سے انسانوں نے چاندی اور سونے کے سکوں کے درمیان ایک شرح مقرر کی تھی اور وہ یہ تھی کہ ایک سونے کا سکہ چاندی کے بیس سکوں کے برابر ہے لیکن نیوٹن نے اس شرح کو بدل دیا اور اسے ایک کے مقابلے میں 15کر دیا۔ یوں مارکیٹ میں سونا سستا اور چاندی مہنگی ہو گئی اور ان قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومتی اختیار استعمال کیا گیا۔ دوسری جانب بینک آف انگلینڈ کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ اپنی طرف سے کاغذ کے نوٹ جاری کر سکے گا جسے Promissory Noteکہتے تھے۔ بینکوں کے پاس لوگ سونا رکھتے اور وہ اس کے بدلے میں یہ کاغذی نوٹ جاری کرتے۔ سونے اور چاندی کی قیمتوں میں ردوبدل شروع ہوا تو بازار میں کاغذ کا نوٹ سکہ رائج الوقت بننے لگا۔ ایک ایسا سکہ جس کی بظاہر کوئی قدرو قیمت نہ تھی ایک کاغذ پر دس سے لے کر پانچ ہزار تک جو چاہے لکھ دو وہی قیمت ہے جس کے بدلے کسی سے جو چاہے خرید لو۔ چالاکی ‘ عیاری ‘ مکاری‘ حسن‘ شباب اور عشوہ و ادا کے اس کھیل سے جو سودی نظام مرتب ہوا‘ آج وہ دنیائے اقتدار کا اصل حاکم ہے۔ دنیا بھر میں پینتالیس ہزار کارپوریشنیں ہیں جنہیں پانچ سو بنیادی (Core)کارپوریشنیں کنٹرول کرتی ہیں اور انہیں دنیا میں موجود بائیس بنک اسی مصنوعی ‘ جعلی ‘ کاغذی کرنسی کے ہیر پھیر سے سرمایہ فراہم کرتے ہیں، یہی کاغذی سرمایہ پارٹیوں کو الیکشن فنڈ دیتا ہے یہی بینکاری نظام ہے جو دنیا کے چور حکمرانوں کی لوٹی ہوئی دولت کو تحفظ دیتا ہے۔ یہی حکومتوں کو قرض دیتا ہے اور ان کی قوت سے عوام پر ٹیکس لگا کر زبردستی سود وصول کرواتا ہے۔ یہ نظام ڈوبتا ہے تو کروڑوں کھاتے داروں کا سرمایہ ڈوب جاتا ہے۔ صرف دس سال پہلے 2008ء میں عام لوگوں کے کئی سو ارب ڈالر ڈوب گئے اسی بددیانت ‘ چور بازار اور سود خور بینکاری نظام کی وجہ سے قلفی والے‘ ریڑھی والے ‘ ویلڈر اور دیگر لوگوں کے اکائونٹ سے اربوں روپے برآمد ہوتے ہیں اور یہ سودی نظام اس ساری چور بازاری کو راستہ بھی دیتا ہے اور ان کا تحفظ بھی کرتا ہے۔ دنیا بھر کا جدید سیکولر ‘ لبرل‘ مغربی تہذیب کا پرستار طبقہ کس قدر متعصب ہے کہ وہ ان برائیوں‘ چوریوں اور ڈاکوئوں کا ذمہ دار زرداری‘ نواز شریف‘ پنوشے‘ مارکوس کو بتاتے ہیں لیکن کوئی اس سودی نظام کو گالی نہیں دیتا۔ اگر یہ سودی بنکاری نظام نہ ہوتا تو کیا ایسے منی لانڈرنگ ہو سکتی تھی ۔ ایسے سوئس اکائونٹس کھل سکتے تھے۔ ایسے حکمران اپنی چوریاں چھپا سکتے تھے۔ لیکن کوئی سود بینکاری کو برا نہیں کہے گا کہ یہ ان کی جمہوری سیکولر‘ لبرل معاشرت کو سرمایہ فراہم کرتا ہے۔ 



قومی اسمبلی میں پھر وہی منظر تھا ۔ اہم ایشوز پر ایم این ایز کی عدم دلچسپی اور غیر سنجیدگی کا عالم ۔ اب تو ایسے مناظر دیکھتے عمر گزر گئی‘نہ پارلیمنٹیرینز سنجیدہ ہوتے ہیں اور نہ ہی ہم یہ بات نوٹ کرنے سے باز آتے ہیں ۔اگر قومی اسمبلی میں وزارت تجارت کی جانب سے یہ انکشاف کیا جائے کہ پچھلے پانچ برسوں میں چین سے ہم نے پچاس ارب ڈالر کی اشیا کیش پر منگوائی ہیں‘ جبکہ چالیس ارب ڈالرز کا قرضہ لے کر یہ اشیا خرید رہے تھے‘ تو بھی کسی کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔ نئی قومی اسمبلی بھی وہیں سے شروع ہوئی ہے جہاں نواز شریف چھوڑ کر گئے تھے۔ نواز شریف نے جو اسمبلی راجہ پرویز اشرف اور گیلانی سے سنبھالی تھی ویسی ہی وہ چلاتے رہے۔ میں نواز شریف کو اس لیے بھی اسمبلی کی ناکامی کا ذمہ دار سمجھتا ہوں کہ وہ آٹھ آٹھ ماہ تک اسمبلی نہیں آئے۔ اب وزیراعظم عمران خان بھی اسی راستے پر چل پڑے ہیں‘ وہ بھی اسمبلی سے دور رہتے ہیں ۔ حیران ہوتا ہوں ‘ نتیجہ مختلف کیسے نکلے گا؟ اسمبلی وہ فورم ہے جس سے یہ سیاستدان طاقت حاصل کرتے ہیں‘اقتدار لیتے ہیں‘ لیکن اقتدار لیتے ہی وہ اس اعلیٰ فورم کو نگلنے کی فکر میں پڑ جاتے ہیں۔ ان کے نزدیک اسمبلی ایک ذریعہ ہے پاور تک پہنچنے کا‘ اس سے آگے اس کی کوئی اوقات نہیں ۔ 
سولہ برس کے اس عرصہ میں دیکھا کہ پارلیمنٹ کا سب سے اہم ایک گھنٹہ وہ ہوتا ہے جب وقفہ سوالات شروع ہوتا ہے اور یقین کریں اس وقت اس ہاؤس میں سب سے کم حاضری ہوتی ہے۔ سب سے کم وزیر اور نہ ہونے کے برابر حکومتی بینچوں پر ایم این ایز۔ اپوزیشن کو بھی اس میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہوتی۔ جس نے کبھی تحریری سوال پوچھا ہوتا ہے وہ موجود ہوتا ہے۔ کبھی کبھار تو وہ بھی سوال پوچھ کر بھول جاتا ہے اور ہاؤس میں موجود نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ سے کئی اہم سوالات کے جوابات جن پر ہمارے خیال میں اہم بحث ہونی چاہیے تھی اور حکومت کو رگڑا ملنا چاہیے تھا ‘وہ چھوٹ جاتا ہے اور سپیکر اگلے سوال پر چلا جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر کو حکومتی ارکان بالکل سنجیدہ نہیں لیتے۔ وہ بے چارابولتا رہ جاتا ہے کہ آرام سے بیٹھ جائیں‘ لیکن کوئی وزیر ان کی بات نہیں سنتا ۔ اسد قیصر صاحب میں زیادہ جرأت نہیں کہ وہ ایسے ایم این ایز اور وزرا کو ہاؤس سے نکال دیں جو وہاں بیٹھک کا سا سماں بنا کر‘ہال میں چلتے پھرتے اور گپیں لگا رہے ہوتے ہیں‘ جیسے وہ انار کلی بازار میں دوستوں کے ساتھ واک کرنے اور فالودہ کھانے آئے ہوں ۔ اگرچہ اسد قیصر نے پچھلے تین ماہ میں بہت سیکھنے کی کوشش کی ہے ۔ اگرچہ ان کے اندر وہ صبر ہے جو اپوزیشن کی لمبی اور بعض دفعہ بے تکی تقریریں سننے کے لیے درکار ہوتا ہے‘ لیکن اسد قیصر کی حد سے زیادہ شرافت ان کے خلاف جارہی ہے‘ کیونکہ ان کو کوئی سنجیدہ نہیں لیتا۔
اسمبلی میں پچھلے ہفتے ایک عجیب سماں دیکھا جب حکومت کی طرف سے کورم پوائنٹ آئوٹ کیا گیا تاکہ اجلاس نہ ہو سکے۔ میں دو ہزار دو سے پارلیمنٹ جارہا ہوں۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کسی حکومت نے یہ حرکت کی ہو جو تحریک انصاف نے کی کہ سب ایم این ایز اُٹھ کر گیلریوں میں چلے گئے ہوں اور ایک سرکاری ایم این اے نے کہا ہو: کورم پورا نہیں ہے لہٰذا اجلاس جاری نہیں رہ سکتا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس بات پر تحریک انصاف کے لوگ بڑے خوش ہوئے اور ایک دوسرے کو مبارکبادیں دیتے پائے گئے اور کہا: دیکھا ہم نے اجلاس نہیں چلنے دیا ۔
ایک طرف یہ رونا رویا جاتا ہے کہ حکومت کے پاس پیسے نہیں‘ دوسری طرف ایک اجلاس پر قوم کے دس کروڑ روپے خرچ ہوجاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر دس کروڑ روپے لے کر بھی حکومتی اور اپوزیشن کے لوگ سنجیدہ پن کا مظاہرہ نہیں کرتے تو پھر ان کا کیا ہوسکتا ہے؟ اس وقت جتنے بھی ایم این ایز اسمبلی میں موجود ہیں وہ سب کاروبار کرتے ہیںیا جاگیردار ہیں۔ ان میں سے کتنے ایسے ہوں گے جو اپنی ان فیکٹریوں کے ملازمین کو ماہانہ تنخواہ کے علاوہ روزانہ الاؤنس دے کر یہ برداشت کر یں گے کہ وہ ملازم فیکٹری میں کوئی کام نہ کریں اور یوں ہی جتھوں کی شکل میں گھومتے پھرتے رہیں ،یا کوئی جاگیردار برداشت کرے گا کہ اس کا زرعی مزدور کھیت کو پانی لگانے کے لیے انجن چلا کر آرام سے حقہ پینے بیٹھ جائے اور کھیت میں پانی جائے نہ جائے‘ اس کی بلا سے؟ 
ہمارے اندر کیوں یہ مرض آگیا ہے کہ ہم ہر سرکاری کام میں حرام خوری پر اتر آتے ہیں۔ یہی لوگ اپنے ذاتی کام زیرو ٹالرنس پر کرتے ہیں مگر اسمبلی پہنچتے ہیں تو اس کے برعکس کرتے ہیں۔ انہیں ڈھائی تین لاکھ روپے تنخواہ ملتی ہے، ہرماہ اسی نوے ہزار سیشن الاؤنس ملتا ہے، ہر کمیٹی کا اجلاس اٹینڈ کرنے پر انہیں پچاس ساٹھ ہزار الاوٰنس الگ ملتا ہے۔ انہیں لاہور، ملتان، کراچی، کوئٹہ، سکھر سے سیشن میں شرکت کے لیے مفت پی آئی اے ٹکٹس فراہم کرتا ہے‘ ورنہ پٹرول کا پورا خرچہ۔ بیرون ملک پارلیمانی دوروں کا سب خرچہ عوام کی جیب سے ادا ہوتا ہے۔ انہیں دوائیاں مفت عوام کے ٹیکس سے ملتی ہیں، سرکاری گاڑیاں، پٹرول، گھر ، سب کچھ عوام کی جیب سے ملتا ہے اور اگر یہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں شریک ہوجائیں تو بھی ان کو کیش الاؤنس علیحدہ پیش کیا جاتا ہے کہ آپ کا شکریہ آپ تشریف لائے اور پھر بھی چند گھنٹے آپ سیشن کو سنجیدہ نہ لیں تو پھر آپ کو کیا کہا جائے؟ 
آپ بتائیں اس سے اہم ایشو کیا ہوسکتا تھاکہ گوادر میں ستر ہزار بلوچ ماہی گیروں کی معاشی زندگیاں اس وقت گوادر ایکسپریس وے کی وجہ سے خطرے میں ہیں اور وہ سب خاندان وہاں احتجاج کررہے ہیں؟ اسی طرح کیماڑی کراچی کے ہزاروں ماہی گیر بھی ایسے ہی خطرے کا شکار ہیں۔ وہ غیرملکی ٹرالرز کو لائسنس دینے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ اب ان کو بٹھا کر مسائل سننے اور حل کرنے کی کوشش کون کرے گا‘ جب پوری پارلیمنٹ کو اس میں دلچسپی ہی نہیں اور وفاقی وزیر علی زیدی خود آنے کی بجائے پارلیمانی سیکرٹری کو کہہ دیتے ہیں: یار ذرا دیکھ لینا ۔ 
اسی طرح یہ سوچنے کو کوئی تیار نہیں ہے کہ چین سے یہ کون بات کرے گا ‘ وہ ہمارا دوست ہے اور اسے علم ہے کہ ہمارے پاس ڈالرز نہیں ہیں‘ لہٰذا وہ ہمیں چینی کہاوت کے بقول مچھلی کھلانے کی بجائے مچھلی کا شکار سکھائے۔ کیا یہ ممکن نہ تھا؟ ہم اربوں روپے کے لیپ ٹاپس اور موبائل فون چین سے منگوا کر ڈالروں میں ادائیگی کررہے ہیں جو ہمارے پاس نہیں ہیں اور ہم قرضہ مانگ کر ادائیگیاں کررہے ہیں۔ چین پاکستان میں لیپ ٹاپ اور موبائل فونز بنانے کے کارخانے لگا دیتا ؟ ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے علاوہ ہزاروں نوکریاں پیدا ہوتیں اور ڈالر بچتے۔کیا ہمارے کسی وزیراعظم نے کبھی چین کے ساتھ تجارت کے اعدادوشمار نہیں پڑھے کہ ہمیں چین کہاں کہاں ٹیکنالوجی ٹرانسفر میں مدد کرسکتا ہے؟ ملکوں کی دوستیاں کس کام آتی ہیں اگر ان دوستیوں سے عوام کو فائدہ نہ ہو ؟ حکمران تو چین سے پروٹوکول لے کر خوش خوش لوٹ آتے ہیں‘ لیکن عوام کے لیے اس میں کیا ہے ؟ عوام تو وہی عالمی گاہک بن کر رہ گئے ہیں۔ ستر برس بعد بھی ہم دنیا بھر سے چیزیں خرید رہے ہیں، کچھ بنا کر فروخت نہیں کررہے۔ اس سے بڑی ہماری ناکامی کیا ہوگی کہ پاکستان سال بھر میں جو اٹھارہ بیس ارب ڈالرز کے قریب پوری دنیا کو ایکسپورٹ کر کے کماتا ہے‘ وہی رقم ہر سال اکیلا چین ہم سے لے جاتا ہے۔ اکیلا چین ہم سے تجارت میں اتنا کما رہا ہے‘ جتنا پورا پاکستان پوری دنیا کو اپنی سب اشیا بیچ کر نہیں کما پا رہا۔ چین کا یقینا قصور نہیں لیکن ہم کہاں کھڑے ہیں ؟
یہ ہے ہماری پالیسی، ہمارے پالیسی میکرز اور ہم عوام‘جبکہ ہمارے پارلیمنٹیرینز کے پاس ان اہم ایشوز پر بات کرنے کے لیے نہ وقت ہے، نہ ہی دلچسپی۔جتنی بور موجودہ پارلیمنٹ ہوچکی ہے‘ اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔ وہی ایم این ایز جو پارلیمنٹ کو سنجیدہ نہیں لیتے اس وقت اچانک چیخنا شروع ہوجائیں گے، ہنگامہ ہوجائے گا اگر کوئی ایم این اے زرداری ، نواز شریف یا عمران خان کی شان میں گستاخی کر بیٹھے۔ کیا پارلیمنٹ ان چند لیڈروں کے تقدس کے لیے بنائی گئی ہے یا اس سے عوام کو بھی کچھ فائدہ ہونا چاہیے جو ایک اجلاس پر روزانہ دس کروڑ رو پے ادا کررہے ہیں؟ سب پارٹیوں کے ایم این ایز کو اگر پروا ہے تو دو باتوں کی‘ ایک تو ان کے لیڈر زرداری، نواز شریف یا عمران خان کی شان میں کوئی گستاخی اسمبلی فلور پر نہ ہواور دوسرا انہیں پانچ ہزار روپے روزانہ الاؤنس ملتا رہے ،چاہے انہیں جعلی حاضریاںہی کیوں نہ لگانا پڑیں ۔ باقی ستے خیراں! 

زمین میں آفتاب دفن کردیا اوریا مقبول جان کالمساری زندگی ان کے سامنے مؤدب کھڑے ہو کر گزار دو، رات دن ان کے درجات کی بلندی اور مغفرت کی دعائیں کرتے رہو لیکن محسوس یہ ہوتا ہے کہ ان کے احسانات کا قرض نہیں اتر سکے گا۔ ہدایت کے راستے پر انگلی پکڑ کر کھڑا کرنے کا احسان اتنا بڑا ہے کہ میں اس شخص کی تعریف میں عمر بھر بھی لکھتا رہوں تو یہ قرض ادا نہ ہو سکے۔ یقینا انسان ناشکرا ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ’’لایشکراللہ من لا یشکرالناس، جو انسانوں کا شکرگزار نہیں ہوتا، وہ اللہ کا شکرگزار نہیں ہوسکتا (بخاری، ترمذی، ابودائود)۔ یہاں معاملہ یہ آن پڑا ہے کہ مجھے جس شخص کے اس دنیا سے گزر جانے کا نوحہ لکھنا ہے، وہ تو مجھے اللہ کے شکر گزار ہونے کے راستے پر ڈالنے والا تھا۔ یوں لگتا ہے زمین میں ایک آفتاب کو دفن کردیا۔ جلالپور جٹاں کی خاک کس قدر معتبر ہے کہ جب تک وہ شخص اس زمین پر چلتا رہا، ہدایت کے چراغ روشن کرتا رہا اور پھر اسی زمین کی تاریکیوں میں اپنے ایمان کی روشنی لے کر روز حشر ایمان کی روشنی سے مزین چہرے کے ساتھ اٹھنے کے لیے ابدی نیند سو گیا، ایسی نیند جو ہم سب کا مقدر ہے۔ مدینہ میں جنت البقیع میں پہلے مدفون صحابی سیدنا عثمان بن مظعون کو رسول اکرم ﷺ دفن کرنے لگے تو رونے لگ گئے، اتنا روئے کہ آپ کے آنسو سیدنا عثمان کی گال پر بہنے لگ گئے، آپ نے ان کی گال پر بوسہ دیا اور ارشاد فرمایا ’’ اے ابو سائب! تم اس دنیا سے اس طرح چلے گئے کہ تم نے اس کی کسی چیز سے تعلق نہ رکھا۔‘‘ فرمایا، ’’تم ہم سے پہلے اللہ کے حضور جانے والوں میں ہو اور ہم سب بھی تمہارے بعد اسی راستے کے مسافر ہیں۔‘‘ سب اس زمین پہ خاک میں جانے کو آئے ہیں لیکن خوش نصیب وہ ہیں کہ زمین جنہیں آغوش میں سمیٹتے ہوئے فخر کرے، انبساط سے جھوم اٹھے۔ شیخ ظہور احمد… کتنے لوگ ہیں جو اس ملک میں اس شخص کو جانتے ہوں گے لیکن کتنے ایسے میری طرح کے بھٹکے ہوئے، گم گشتہ راہ نوجوان تھے جنہوں نے شیخ صاحب کے حلم، علم، فہم سے ہدایت کا راستہ پایا اور آج ان کی ہر نیکی شیخ صاحب کے اعمال کے ترازو میں مسلسل اضافہ کر رہی ہوگی۔ بہت کم لوگ اس کشمیری شیخ کی جادو بھری شخصیت کو جانتے ہیں۔ علامہ اقبال کو جب سر کا خطاب دیئے جانے لگا تو انہوں نے کہا سب سے پہلے میرے استاد مولوی میر حسن کو شمس العلماء کا خطاب دو، پھر میں سر کا خطاب لوں گا کیونکہ آج میں جو کچھ ہوں اس مسجد کے چٹائی نشین استاد مولوی میر حسن کی بدولت ہوں۔ اس سے پہلے کوئی میر حسن کو نہیں جانتا تھا لیکن سیالکوٹ کے محلے کی مسجد کا یہ استاد آج دنیا بھر میں اس حوالے سے جانا جاتا ہے کہ اگر اس کا علم اور تربیت نہ ہوتی تو آج اقبال ہمارے سامنے ایسے جلوہ گر نہ ہوتے۔ میری کیا نسبت اور کیا قیام کہ میں اقبال سے موازنہ بھی اپنا کر سکوں، لیکن اگر شیخ ظہور احمد کی ذات نہ ہوتی تو میں آج الحاد کی بھول بھلیوں میں گم ہوتا، کسی انقلابی تحریک کا ایندھن بن گیا ہوتا یا پھر سوویت یونین کی موت کے بعد کسی این جی او کے فرد کی حیثیت سے امریکہ کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہو کر تشکر کی موم بتیاں جلا رہا ہوتا۔ ایسا شخص تو میرے لیے مولوی میر حسن سے بھی زیادہ محسن اور معتبر ہے۔ کیا سفر تھا۔ پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو سوائے اللہ کے کرم اور مہربانی کے اور کچھ نظر نہیں آتا۔ میرے والد بہت پریشان تھے۔ مولوی خدا بخش کا پوتا، وہ مولوی خدا بخش جسے مرشد نے حکم دیا کہ مکیریاں میں اپنی کئی مربعے زمین اور جائیداد چھوڑو، مسجد و مدرسہ کسی اور کے سپرد کرو اور اپنے بھائی مولوی احمد بخش کے ساتھ جا کر امرتسر میں مسجد خیرالدین کی بنیاد رکھو۔ 1870ء میں جس مسجد کی بنیاد رکھی، آج اسی کے دروازے پر دفن ہیں۔ وہی مسجد جس میں عطاء اللہ شاہ بخاری اور انور شاہ کشمیری جیسے خطابت اور علم کا جوہر دکھاتے رہے۔ وہ دادا جس کے ہاتھ پر علامہ اقبال کے دوست اور اسلامیہ کالج کے پرنسپل مولوی حاکم علی نے اسلام قبول کیا۔ مکیریاں کے سردار پنجاب سنگھ کا بیٹا حاکم سنگھ مولوی حاکم علی بن گیا۔ جسے بیک وقت علامہ اقبال اور مولانا احمد رضا خان کی محبت اور صحبت حاصل رہی۔ اس دادا کا پوتا جس کا نام باپ نے ’’اوریا‘‘ رکھا کہ عبرانی میں اسی کا مطلب ’’اللہ کا نور‘‘ ہے، ملحد ہو گیا ہے جس نے اس کائنات کو تخلیق کیا، اس ہستی کے وجود سے منکر ہوگیا ہے اور وہ بھی صرف بارہ سال کی عمر میں میٹرک کے امتحان کے بعد جو چند ماہ فرصت کے ملے اس میں اپنے زمانے کے مقبول فلسفے کمیونزم کا مطالعہ کیا، ڈ ارون کی تھیوری اور کارل مارکس اور اینگلز کی کتابوں کا خمار ایسا تھا کہ دنیا بدلنے کی دھن سر پر سوار ہو گئی۔ کالج میں داخلہ، ایک دو استاد ایسے ملے جو فلسفہ اور نفسیات پڑھاتے تھے، انہوں نے دلیلوں کی بھول بھلیوں میں خدا کے وجود سے انکار کا بیج بو دیا۔ والد پریشان رہتے، متذبذب، میرے طرف دیکھتے اور پھر آسمان کی جانب منہ کر کے میری ہدایت کی دعا فرماتے، بس اتنا کہتے، تم بھٹک لو، جتنا بھٹکنا چاہتے ہو، واپس آئو گے، اس لیے کہ میں نے تمہیں درود پاک کی لوریاں دے کر پالا ہے۔ والد صاحب کے لہجے کا تیقن اور دعائوں پر اعتماد مجھے عجیب لگتا تھا۔ یہ زمانہ تھا جب تمام انقلابی، کمیونسٹ انقلاب لانے کے لیے پیپلزپارٹی میں جمع تھے۔ بھٹو کی شکل میں انہیں مائوزے تنگ نظر آتا تھا، میں بھی ان میں شامل تھا۔ الیکشن نزدیک آئے تو بھٹو کی ساری سیاست جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی چوکھٹ کے سامنے سجدہ ریز ہو گئی۔گجرات کے سرمایہ دار مشتاق پگانوالہ کو پارٹی کا صدر بنایا تو عثمان فتح کی قیادت میں ہم انقلابیوں کا سارا قافلہ بھٹو کو خیرآباد کہہ گیا۔ اسی دن گجرات کے زمیندارہ بینک کے ہال میں پرویز کا لیکچر تھا جیسے آج کا سیکولر غامدی صاحب کو پسند کرتا ہے، ویسے اس دور کے انقلابی پرویز کو پسند کرتے تھے۔ الیکشن ہوا، ملک دو لخت ہوگیا، وہ رات مجھ پر بڑی قیامت کی تھی۔ اس شکست نے لگتا تھا مجھ پر بہت اثر کیا، جس کی میں خود وجہ آج تک سمجھ نہ سکا۔ بھٹو نے بنگلہ دیش کو منظور کرنے کی مہم شروع کی تو اسی وقت صرف جماعت اسلامی بنگلہ دیش نامنظور مہم چلا رہی تھی۔ سرکلر روڈ پر جماعت اسلامی کے دفتر کی سیڑھیاں میں نے کیا چڑھیں، دنیا ہی بدل گئی۔ بنگلہ دیش نامنظور مہم کے جلسوں جلوسوں میں جاتا لیکن الحاد پر قائم تھا۔ میرے ایک اور محسن سید محمود ضیغم اسی دفتر میں ’’الحدید‘‘ اخبار نکالتے تھے۔ ان کے دفتر میں بیٹھ کرجماعت اسلامی اس کے نظریے اور مولانا مودودی پر بے نقط سناتا اور وہ مسکراتے ہوئے کہتے، تمہارے لیے چائے منگوائی ہے۔ اس مسکراہٹ میں اس خوبصورت کشمیری شیخ ظہور احمد کی مسکراہٹ ایک دن شامل ہو گئی۔ گفتگو سے میرا مرض بھانپ گئے، سمجھ گئے فلسفے نے بگاڑا ہے۔ مولانا مودودی کے دو مضامین پڑھنے کو دیئے، ایک ’’عقلیت کا فریب‘‘ اور دوسرا ’’سلامتی کاراستہ‘‘۔ پتہ نہیں مجھے کیا ہوا کہ میں مضمون پڑھتا جاتا تھا اور آنکھوں سے آنسوئوں کی جھڑی تھی کہ بہے جا رہی تھی۔ اگلے دن میں اس کشمیری شیخ کے خوبصورت چہرے کی زیارت کو بے تاب تھا، میری دنیا بدل چکی تھی۔ میرے جیسے چراغوں کا اس سورج کے سامنے کیا جلنا۔ یوں تو سب کا مقدر یہ خاک ہے لیکن اس روشن چہرے والے شیخ ظہور کو زمین نے کسی سرخوشی سے قبول کیا ہوگا۔ عمر بھر جس شخص کے لیے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے رکھوں تو احسان ادا نہ ہو سکے۔ چشم تصور میں سوچتا ہوں کہ جب والد گرامی کی روح شیخ صاحب کا استقبال کرنے کے لیے بڑھی ہو گی تو شاید پہلا فقرہ یہ ہوگا، آپ کا شکریہ قرض تھا، آپ نے میرے بیٹے کو گمراہی کے تاریک غار سے نکالا۔ 

جناب عمران خان کے حکومت سنبھالنے کا مجھے اور میرے قارئین کو یہ بڑا فائدہ ہوگیا کہ ان کے ہنی مون پیریڈ کو بدمزہ نہ کرنے کی خاطر سیاسی موضوعات سے کنارہ کشی اختیار کرکے بچوں کی تربیت کے حوالے سے ایک پوری سیریز چلانے کا موقع میسر آگیا۔ قارئین کے زبردست رسپانس سے اس موضوع میں ان کی بے پناہ دلچسپی کا اندازہ ہوتا رہا جس سے مجھے لکھنے میں بھی لطف آیا۔ اور یہ لطف اس قدر بھرپور رہا کہ اب تو جی کرنے لگا ہے کہ اگلے چند ماہ میں ایک بار پھر کوئی نیا وزیر اعظم آئے اور ایک بار پھر کسی ہنی مون پیریڈ کی رعایت سے سیاست کے بجائے کسی ’’مفید‘‘ موضوع پر کھل کر مفصل لکھنے کا موقع میسر آجائے۔ تربیت اولاد والی سیریز میں آج آخری کالم ہے اور اس کالم میں بچوں کی تربیت کے حوالے سے میں اپنی ہی دو بڑی غلطیوں کا اعتراف کرنا چاہتا ہوں تاکہ قارئین اس کا بھی فائدہ اٹھا کر اپنے بچوں کے معاملے میں انہیں دہرانے سے بچ سکیں۔ یہاں ایک بنیادی بات یہ سمجھنی ضروری ہے کہ اس پوری سیریز میں آپ کے سامنے جو کچھ پیش کیا ہے وہ کوئی کتابی یا نصابی باتیں نہ تھیں بلکہ ذاتی تجربات تھے۔ جب بات تجربات کی ہو تو پھر امکانات دو ہوتے ہیں۔ یا تو تجربہ فیل ہوجاتا ہے یا کامیاب۔ اگر مطلوبہ مقاصد و نتائج حاصل ہوجائیں تو تجربہ کامیاب شمار ہوتا اور اگر مطلوبہ مقاصد کے بجائے نقصانات ظاہر ہوجائیں تو ظاہر ہے تجربہ ناکام شمار ہوتا ہے۔ میں نے آپ کو وہی کرنے کا کہا جو میں نے ایک نہیں اپنے تین بچوں کی تربیت کے دوران کیا اور بہترین نتائج حاصل کئے۔ آج میں آپ کے سامنے اپنی جو غلطیاں رکھنے جا رہا ہوں ان اقدامات کے غلط ہونے کا بھی مجھے اسی طرح پتہ چلا کہ ان کے نتائج برے نکلے۔ اگر یہ درست اقدامات ہوتے تو ان کے نتائج مفید نکلتے۔ اپنے بچے کی تعلیم کے معاملے میں ہم مذہبی فکر کے لوگوں میں یہ خواہش بڑی شدت کے ساتھ پائی جاتی ہے کہ بچہ سب سے پہلے قرآن مجید حفظ کر جائے۔ ایسا ہم فضائل کی وجہ سے بھی چاہتے ہیں اور ساتھ ہی اس تجربے کی وجہ سے بھی کہ حافظ بچے کا دماغ بہت تیز طرار ہوجاتا ہے اور تعلیم کے دیگر مراحل میں بھی وہ نسبتاً زیادہ کامیاب ثابت ہوتا ہے۔ میری بھی یہی خواہش تھی ۔ چنانچہ مونٹیسوری لیول کے بعد میں نے پہلے دونوں بچوں کو حافظ قرآن بنانے کی کوششیں شروع کردیں۔ اس کوشش میں خدا نخواستہ کوئی برائی نہ تھی، یہ بہت ہی نیک اور سعید کوشش تھی۔ غلطی بس یہ ہوئی کہ بچوں کا ذاتی شوق نہ تھا جس کی وجہ سے کار کردگی بہت کمزور تھی اور میں پھر بھی انہیں حافظ قرآن بنانے پر تلا رہا۔ یہ بہت ہی بڑی غلطی تھی، مجھے ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا اور بچوں کا حفظ روک دینا چاہئے تھا۔ میں نے کچھ منت سماجت تو کچھ آنکھیں وانکھیں دکھا کر ان سے حفظ تو کروا لیا لیکن بہت جلد یہ اپنا پورا قرآن مجید بھول بھال گئے۔ سکول کالج لیول پر چونکہ حافظ بچے کو کچھ ایکسٹرا نمبرز بھی ملتے ہیں تو الحمدللہ یہ نمبر میرے بچوں نے کبھی کلیم نہیں کئے۔ انہوں نے کبھی بھی اپنے حافظ ہونے کا دعویٰ کرکے وہ نمبر نہیں مانگے اور اپنا سٹیٹس ہمیشہ غیر حافظ بچے کا ہی رکھا لیکن یہ ہے تو صدمے کا مقام کہ حفظ کرکے قرآن مجید بھول گئے اور اس غلطی کا ذمہ دار میں انہیں نہیں بلکہ خود کو سمجھتا ہوں۔میری والدین سے یہ گزارش ہوگی کہ اگر آپ اپنے بچے کو حافظ قرآن بنانا چاہتے ہیں تو یہ بڑے سعادت کی بات ہے، ضرور حفظ کروائیں۔ لیکن اگر بچے کی کار کردگی ٹھیک نہیں جا رہی تو پھر اس کا وقت اور توانائی ضائع مت کیجئے۔ میری دوسری غلطی کا میرا بڑا بیٹا شکار ہوا۔ ہوا کچھ یوں کہ یہ بچہ آٹھ دس ماہ کی عمر سے ہی میرے والد مرحوم سے بہت زیادہ اٹیچ ہوگیا۔ شروعات اس کی یوں ہوئی کہ روز فجر کی نماز کے فوراً بعد حمایت اللہ والد صاحب کو منزل سنایا کرتے تھے۔ صلاح الدین اس دوران میرے بھائی کی گود میں بیٹھ کر اس عمل کا باقاعدہ حصہ ہوتا۔ گھر مسجد سے متصل تھا، والد صاحب مسجد جاتے تو یہ بھی ساتھ جانے کی ضد کرتا۔ جب یہ دو برس کا ہوا تو صورتحال یہ ہوگئی کہ وہ جمعے کے روز مسجد کے منبر پر بیٹھ کر بیان فرما رہے ہوتے اور یہ جا کر ان کی گود میں بیٹھ جاتا۔ بڑی مشکل سے انہوں نے اسے اس بات پر قائل کیا کہ اسے گود کے بجائے پہلی صف میں بیٹھنا چاہئے۔ چنانچہ یہ عجیب و غریب منظر اس مسجد میں دیکھا جانے لگا کہ جمعے کے بیان اور خطبے کے دوران پہلی صف میں عین منبر کے سامنے دو ڈھائی برس کا بچہ بھی ساٹھ ستر سال کے بزرگوں کے بیچ پوری پابندی کے ساتھ بیٹھا ہوتا ہے۔ بات صرف یہیں تک نہ رہی بلکہ دن کے عام اوقات میں اگر کبھی اچانک نوٹ کیا گیا کہ صلاح الدین گھر پر نہیں ہے تو دوڑ کر اسے مسجد سے لانا پڑتا جہاں یہ خالی ہال میں منبر پر بیٹھا کسی کھلونے سے کھیل رہا ہوتا، یعنی اس کے کھیلنے کی فیورٹ جگہ مسجد کا منبر تھا۔ اور جب تین برس کی عمر ہوئی تو اس بچے نے باقاعدہ ضد شروع کردی کہ ’’مجھے بابا کی طرح بننا ہے‘‘ ہم نے سکول میں داخل کرایا تو اس نے احتجاج شروع کردیا کہ مجھے تو مدرسے میں پڑھنا ہے۔ مدرسے سے یہ یوں واقف تھا کہ میرے بھائی پڑھنے وہیں جاتے تھے۔ چنانچہ بڑی مشکل سے سمجھایا کہ پہلے سکول ضروری ہے پھر مدرسے کا مرحلہ بھی آجائے گا۔ جب مدرسے کی تعلیم کا مرحلہ آیا تو آغاز اسلام آباد میں ہی کیا گیا لیکن دو سال بعد بارہ برس کی عمر میں اسے بہتر تعلیم کے لئے کراچی بھیج دیا کیونکہ وہاں کے مدارس کا معیار نسبتاً بہتر ہے۔ چونکہ کراچی میں میری والدہ محترمہ اور آٹھ بھائی ہی نہیں بلکہ بچے کا ننھیال بھی وہیں موجود تھا، سو خیال یہی تھا کہ سب کچھ بہت اچھا ہوجائے گا۔ پہلا سال اچھی طرح گزر گیا، بچے کی تعلیم بھی ٹھیک ٹھاک رہی اور اس نے کسی پریشانی کا بھی اظہار نہیں کیا۔ دوسرے سال سے اس نے بعض شکایات شروع کردیں جن کا تعلق مدرسے سے نہیں بلکہ فیملی سے تھا۔ یہ شکایات بڑھتی چلی گئیں اور میں اس کا یہی مطلب لے کر نظر انداز کرتا گیا کہ یہ کراچی سے نکلنے کے بہانے ہیں۔ میں نے مسلسل یہ شکایات تین برس نظر انداز کئے رکھیں۔ جن میں وہ تین انتہائی قریبی عزیزوں کے ناروا رویے کی شکایت کرتا رہا۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ میرے انتہائی قریبی خونی رشتے میرے بچے کو اس طرح کے نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنائیں گے۔ کوئی جسمانی تشدد نہیں کیا گیا بلکہ زہریلے جملوں کی مدد سے اس کی نفسیات تباہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ اور یہ سزا اسے اس جرم کی دی گئی کہ وہ پڑھائی میں بہت اچھا تھا۔اس نفسیاتی تشدد کا نتیجہ یہ ہے کہ میرا یہ بچہ مجھ سے بے پناہ قربت رکھنے کے باوجود اس طرح کا تال میل بٹھانے میں کامیاب نہیں ہو پاتا جس طرح باقی دو بچے ملا لیتے ہیں۔ لیکن میں اس معاملے کو اس سطح پر نہیں دیکھتا کہ ان تین عزیزوں میں کوئی مسئلہ تھا، عین ممکن ہے کہ ان کا بچہ میرے پاس ہوتا تو شاید میںبھی ایسا ہی بے رحم ثابت ہوتا لہٰذا میری سوچ یہ ہے کہ بنیادی غلطی میری تھی، اپنے اس بچے کی شکایات کو نظر انداز کرنا اور اسے تعلیم کے لئے کراچی ہی میں رکھنا میری بدترین غلطی تھی۔ میری ہر ماں باپ سے یہ دست بستہ التجا ہے کہ اپنے دس سے اٹھارہ سال کے بچے کو اسی شہر میں پڑھائیے جہاں آپ خود موجود ہوں۔ بچے کے کسی چاچے مامے یا گارڈین پر کسی صورت بھروسہ مت کیجئے۔ 

ساری زندگی ان کے سامنے مؤدب کھڑے ہو کر گزار دو، رات دن ان کے درجات کی بلندی اور مغفرت کی دعائیں کرتے رہو لیکن محسوس یہ ہوتا ہے کہ ان کے احسانات کا قرض نہیں اتر سکے گا۔ ہدایت کے راستے پر انگلی پکڑ کر کھڑا کرنے کا احسان اتنا بڑا ہے کہ میں اس شخص کی تعریف میں عمر بھر بھی لکھتا رہوں تو یہ قرض ادا نہ ہو سکے۔ یقینا انسان ناشکرا ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ’’لایشکراللہ من لا یشکرالناس، جو انسانوں کا شکرگزار نہیں ہوتا، وہ اللہ کا شکرگزار نہیں ہوسکتا (بخاری، ترمذی، ابودائود)۔ یہاں معاملہ یہ آن پڑا ہے کہ مجھے جس شخص کے اس دنیا سے گزر جانے کا نوحہ لکھنا ہے، وہ تو مجھے اللہ کے شکر گزار ہونے کے راستے پر ڈالنے والا تھا۔ یوں لگتا ہے زمین میں ایک آفتاب کو دفن کردیا۔ جلالپور جٹاں کی خاک کس قدر معتبر ہے کہ جب تک وہ شخص اس زمین پر چلتا رہا، ہدایت کے چراغ روشن کرتا رہا اور پھر اسی زمین کی تاریکیوں میں اپنے ایمان کی روشنی لے کر روز حشر ایمان کی روشنی سے مزین چہرے کے ساتھ اٹھنے کے لیے ابدی نیند سو گیا، ایسی نیند جو ہم سب کا مقدر ہے۔ مدینہ میں جنت البقیع میں پہلے مدفون صحابی سیدنا عثمان بن مظعون کو رسول اکرم ﷺ دفن کرنے لگے تو رونے لگ گئے، اتنا روئے کہ آپ کے آنسو سیدنا عثمان کی گال پر بہنے لگ گئے، آپ نے ان کی گال پر بوسہ دیا اور ارشاد فرمایا ’’ اے ابو سائب! تم اس دنیا سے اس طرح چلے گئے کہ تم نے اس کی کسی چیز سے تعلق نہ رکھا۔‘‘ فرمایا، ’’تم ہم سے پہلے اللہ کے حضور جانے والوں میں ہو اور ہم سب بھی تمہارے بعد اسی راستے کے مسافر ہیں۔‘‘ سب اس زمین پہ خاک میں جانے کو آئے ہیں لیکن خوش نصیب وہ ہیں کہ زمین جنہیں آغوش میں سمیٹتے ہوئے فخر کرے، انبساط سے جھوم اٹھے۔ شیخ ظہور احمد… کتنے لوگ ہیں جو اس ملک میں اس شخص کو جانتے ہوں گے لیکن کتنے ایسے میری طرح کے بھٹکے ہوئے، گم گشتہ راہ نوجوان تھے جنہوں نے شیخ صاحب کے حلم، علم، فہم سے ہدایت کا راستہ پایا اور آج ان کی ہر نیکی شیخ صاحب کے اعمال کے ترازو میں مسلسل اضافہ کر رہی ہوگی۔ بہت کم لوگ اس کشمیری شیخ کی جادو بھری شخصیت کو جانتے ہیں۔ علامہ اقبال کو جب سر کا خطاب دیئے جانے لگا تو انہوں نے کہا سب سے پہلے میرے استاد مولوی میر حسن کو شمس العلماء کا خطاب دو، پھر میں سر کا خطاب لوں گا کیونکہ آج میں جو کچھ ہوں اس مسجد کے چٹائی نشین استاد مولوی میر حسن کی بدولت ہوں۔ اس سے پہلے کوئی میر حسن کو نہیں جانتا تھا لیکن سیالکوٹ کے محلے کی مسجد کا یہ استاد آج دنیا بھر میں اس حوالے سے جانا جاتا ہے کہ اگر اس کا علم اور تربیت نہ ہوتی تو آج اقبال ہمارے سامنے ایسے جلوہ گر نہ ہوتے۔ میری کیا نسبت اور کیا قیام کہ میں اقبال سے موازنہ بھی اپنا کر سکوں، لیکن اگر شیخ ظہور احمد کی ذات نہ ہوتی تو میں آج الحاد کی بھول بھلیوں میں گم ہوتا، کسی انقلابی تحریک کا ایندھن بن گیا ہوتا یا پھر سوویت یونین کی موت کے بعد کسی این جی او کے فرد کی حیثیت سے امریکہ کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہو کر تشکر کی موم بتیاں جلا رہا ہوتا۔ ایسا شخص تو میرے لیے مولوی میر حسن سے بھی زیادہ محسن اور معتبر ہے۔ کیا سفر تھا۔ پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو سوائے اللہ کے کرم اور مہربانی کے اور کچھ نظر نہیں آتا۔ میرے والد بہت پریشان تھے۔ مولوی خدا بخش کا پوتا، وہ مولوی خدا بخش جسے مرشد نے حکم دیا کہ مکیریاں میں اپنی کئی مربعے زمین اور جائیداد چھوڑو، مسجد و مدرسہ کسی اور کے سپرد کرو اور اپنے بھائی مولوی احمد بخش کے ساتھ جا کر امرتسر میں مسجد خیرالدین کی بنیاد رکھو۔ 1870ء میں جس مسجد کی بنیاد رکھی، آج اسی کے دروازے پر دفن ہیں۔ وہی مسجد جس میں عطاء اللہ شاہ بخاری اور انور شاہ کشمیری جیسے خطابت اور علم کا جوہر دکھاتے رہے۔ وہ دادا جس کے ہاتھ پر علامہ اقبال کے دوست اور اسلامیہ کالج کے پرنسپل مولوی حاکم علی نے اسلام قبول کیا۔ مکیریاں کے سردار پنجاب سنگھ کا بیٹا حاکم سنگھ مولوی حاکم علی بن گیا۔ جسے بیک وقت علامہ اقبال اور مولانا احمد رضا خان کی محبت اور صحبت حاصل رہی۔ اس دادا کا پوتا جس کا نام باپ نے ’’اوریا‘‘ رکھا کہ عبرانی میں اسی کا مطلب ’’اللہ کا نور‘‘ ہے، ملحد ہو گیا ہے جس نے اس کائنات کو تخلیق کیا، اس ہستی کے وجود سے منکر ہوگیا ہے اور وہ بھی صرف بارہ سال کی عمر میں میٹرک کے امتحان کے بعد جو چند ماہ فرصت کے ملے اس میں اپنے زمانے کے مقبول فلسفے کمیونزم کا مطالعہ کیا، ڈ ارون کی تھیوری اور کارل مارکس اور اینگلز کی کتابوں کا خمار ایسا تھا کہ دنیا بدلنے کی دھن سر پر سوار ہو گئی۔ کالج میں داخلہ، ایک دو استاد ایسے ملے جو فلسفہ اور نفسیات پڑھاتے تھے، انہوں نے دلیلوں کی بھول بھلیوں میں خدا کے وجود سے انکار کا بیج بو دیا۔ والد پریشان رہتے، متذبذب، میرے طرف دیکھتے اور پھر آسمان کی جانب منہ کر کے میری ہدایت کی دعا فرماتے، بس اتنا کہتے، تم بھٹک لو، جتنا بھٹکنا چاہتے ہو، واپس آئو گے، اس لیے کہ میں نے تمہیں درود پاک کی لوریاں دے کر پالا ہے۔ والد صاحب کے لہجے کا تیقن اور دعائوں پر اعتماد مجھے عجیب لگتا تھا۔ یہ زمانہ تھا جب تمام انقلابی، کمیونسٹ انقلاب لانے کے لیے پیپلزپارٹی میں جمع تھے۔ بھٹو کی شکل میں انہیں مائوزے تنگ نظر آتا تھا، میں بھی ان میں شامل تھا۔ الیکشن نزدیک آئے تو بھٹو کی ساری سیاست جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی چوکھٹ کے سامنے سجدہ ریز ہو گئی۔گجرات کے سرمایہ دار مشتاق پگانوالہ کو پارٹی کا صدر بنایا تو عثمان فتح کی قیادت میں ہم انقلابیوں کا سارا قافلہ بھٹو کو خیرآباد کہہ گیا۔ اسی دن گجرات کے زمیندارہ بینک کے ہال میں پرویز کا لیکچر تھا جیسے آج کا سیکولر غامدی صاحب کو پسند کرتا ہے، ویسے اس دور کے انقلابی پرویز کو پسند کرتے تھے۔ الیکشن ہوا، ملک دو لخت ہوگیا، وہ رات مجھ پر بڑی قیامت کی تھی۔ اس شکست نے لگتا تھا مجھ پر بہت اثر کیا، جس کی میں خود وجہ آج تک سمجھ نہ سکا۔ بھٹو نے بنگلہ دیش کو منظور کرنے کی مہم شروع کی تو اسی وقت صرف جماعت اسلامی بنگلہ دیش نامنظور مہم چلا رہی تھی۔ سرکلر روڈ پر جماعت اسلامی کے دفتر کی سیڑھیاں میں نے کیا چڑھیں، دنیا ہی بدل گئی۔ بنگلہ دیش نامنظور مہم کے جلسوں جلوسوں میں جاتا لیکن الحاد پر قائم تھا۔ میرے ایک اور محسن سید محمود ضیغم اسی دفتر میں ’’الحدید‘‘ اخبار نکالتے تھے۔ ان کے دفتر میں بیٹھ کرجماعت اسلامی اس کے نظریے اور مولانا مودودی پر بے نقط سناتا اور وہ مسکراتے ہوئے کہتے، تمہارے لیے چائے منگوائی ہے۔ اس مسکراہٹ میں اس خوبصورت کشمیری شیخ ظہور احمد کی مسکراہٹ ایک دن شامل ہو گئی۔ گفتگو سے میرا مرض بھانپ گئے، سمجھ گئے فلسفے نے بگاڑا ہے۔ مولانا مودودی کے دو مضامین پڑھنے کو دیئے، ایک ’’عقلیت کا فریب‘‘ اور دوسرا ’’سلامتی کاراستہ‘‘۔ پتہ نہیں مجھے کیا ہوا کہ میں مضمون پڑھتا جاتا تھا اور آنکھوں سے آنسوئوں کی جھڑی تھی کہ بہے جا رہی تھی۔ اگلے دن میں اس کشمیری شیخ کے خوبصورت چہرے کی زیارت کو بے تاب تھا، میری دنیا بدل چکی تھی۔ میرے جیسے چراغوں کا اس سورج کے سامنے کیا جلنا۔ یوں تو سب کا مقدر یہ خاک ہے لیکن اس روشن چہرے والے شیخ ظہور کو زمین نے کسی سرخوشی سے قبول کیا ہوگا۔ عمر بھر جس شخص کے لیے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے رکھوں تو احسان ادا نہ ہو سکے۔ چشم تصور میں سوچتا ہوں کہ جب والد گرامی کی روح شیخ صاحب کا استقبال کرنے کے لیے بڑھی ہو گی تو شاید پہلا فقرہ یہ ہوگا، آپ کا شکریہ قرض تھا، آپ نے میرے بیٹے کو گمراہی کے تاریک غار سے نکالا۔ 

کسی مطلق العنان بادشاہ‘ قبائلی سردار‘ آمریت پسند جمہوری لیڈر‘ مذہبی پیشوا یا مسند انصاف پر بیٹھے جج کو اگر اس بات کی قوت حاصل ہو جائے کہ وہ اپنی توہین کرنے والوں کو قانوناً یا غیر قانوناً سزا دے سکیں تو ان میں لاشعوری طور پر کچھ خدائی صفات پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں جس کا اظہار ان کے لہجے سے ٹپکتا ہے۔ یہی حال ان سائنسدانوں ‘ فلسفیوں اور کائنات کے سربستہ رازوں کا کھوج لگانے والوں میں سے ان لوگوں کا ہوتا ہے جو اپنے علم کے نشے میں یہ سوچنا شروع کر دیتے ہیں کہ ہم نے اس کائنات کو اتنا جان لیا ہے کہ ہم اسے بزعم خود چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اگر ہماری ہدایات پر عمل نہ کیا گیا تو یہ دنیا تباہ و برباد ہو جائے گی۔ ایسا جہالت میں ڈوبا ہوا علم جب کسی ایسے فرد کی زبان سے ادا ہونے لگے جو قوت و طاقت کے بل بوتے پر خدائی لہجے میں بول رہا ہو تو یہ خطرناک ترین مقام ہے لیکن میرے ملک میں ایسا ہونے جا رہا ہے۔13فروری 1766کو برطانیہ میں پیدا ہونے والے پادری اور سیاسی معاشیات کے ماہر تھامس رابرٹ مالتھس Thamas Robert Malthusکا دعویٰٔ پروردگاری بھی اس ذہنیت کا تسلسل ہے۔ مالتھس نے 1798ء میں ایک مضمون تحریر کیا جس کا عنوان تھا’’آبادی کے اصول‘‘ Principals of Population۔ اس نے کہا کہ دنیا کی آبادی جیومیٹری کے اصولوں کے مطابق بڑھتی ہے یعنی 2‘4‘8‘ 16‘ 32جبکہ وسائل حساب کے اصولوں کے مطابق بڑھتے ہیں جیسے 1‘2‘3‘4‘5۔ ایک دن ایسا آئے گا کہ آبادی اتنی بڑھ جائے گی کہ وسائل کو چٹ کر جائے گی اور لوگ ایک دوسرے کو کھانے پر مجبور ہوں گے۔1798ء سے 1826ء تک اس کی کتاب کے چھ ایڈیشن شائع ہوئے۔ علمی طور پر اس پر بحثیں ہوئیں لیکن اس زمانے کے غریب یورپ کو اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے پوری دنیا میں وسائل کی فراوانی رکھی ہے اور اگر افرادی قوت نہ ہوئی تو ہم ان وسائل سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ کسی نے مالتھس کی ان خرافات پر کان نہ دھرا اور تمام یورپی ممالک اپنی افرادی قوت میں اضافہ میں مگن رہے اور اسی قوت سے پوری دنیا کے وسائل سے لطف اندوز ہوئے۔1846ء سے 1890ء تک یورپ سے نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد 30لاکھ70ہزار تھی جوو 1910ء تک 90لاکھ 11ہزار ہوئی اور 1930ء تک یہ گوری نسل پانچ کروڑ کی تعداد میں دنیا کے ان خطوں میں جا کر آبادی ہوئی جو وسائل سے مالا مال تھے۔ عربوں کا تیل‘ افریقہ کی معدنیات‘ امریکہ کے وسائل‘ ہند چینی کاربڑ‘ برصغیر کی کپاس اور مصالحہ جات سے وہ تجارتی فائدہ اٹھا ہی نہیں سکتے تھے‘ اگر ان کے پاس اس قدر وافر افرادی قوت نہ ہوتی‘ جو ان کی معاشی ترقی میں حصہ لیتی۔ جب یہ ملک ترقی کی معراج پر پہنچ گئے تو پھر ان کا دوسرا مقصد یہ تھا کہ باقی تمام ممالک کو کیسے ترقی سے روکا جائے۔ اس کا صرف ایک ہی راستہ تھا کہ انہیں آبادی کم کر کے ترقی کا گر سکھایا جائے۔ ڈیڑھ سو سال پرانی مالتھس کی تھیوری کی گرد جھاڑی گئی اور آبادی کی کمی کو عالمی معیشت کی نجات کے اصول کے طور پر اپنا لیا گیا۔ یہ اچانک نہیں ہو گیا۔ سب سے بڑا خوف یہ تھا کہ اگر مسلمانوں کی آبادی بڑھتی چلی گئی تو یہ ہمارے لیے بہت بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ سی آئی اے‘ محکمہ دفاع اور سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی 1954ء کی قومی سلامتی کی یادداشت نمبر NSSM200میں شرح آبادی اور امریکی سلامتی پر پالیسی اختیار کی گئی کہ کیسے غریب ملکوں میں آبادی کو کم کرنے کے پروگرام شروع کرنے چاہئیں۔ اس کے تحت بڑے بڑے لیڈروں‘ دانشوروں اور ادیبوں کو خریدنے کا پروگرام بنایا گیا۔ کیا اصول تھے ۔ امداد اس کو دو جو آبادی کم کرے۔ خوراک اس کو دو جو آبادی کم کرے۔ دوائی اس کو دو جو آبادی کم کرے۔ رپورٹ کہتی ہے کہ اگر شمالی افریقہ کے مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ ہو گیا تو یہ ایک دن ہمارے لئے ایک دوسرے ’’مہدی سوڈانی‘‘ کا خطرہ کھڑا کر سکتے ہیں۔ اس رپورٹ کے بعد اقوام متحدہ ہو یا ورلڈ بنک‘ آئی ایم ایف ‘ ایک ہی نعرہ بلند ہوا‘ بچے کم خوشحال گھرانہ ‘جان ہاپکنز یونیورسٹی میں 23ملین ڈالر سے تحقیق کا پروگرام شروع ہوا ‘امپیکٹ پروگرام‘ ایسڈ پروگرام‘ کولمبیا یونیورسٹی پروگرام‘ خرچہ بڑھتا گیا‘ مانع حمل ادویات کی اقسام میں اضافہ ہوتا گیا۔ حیرت کی بات یہ کہ دنیا کی آبادی کو کم کرنے کا ٹھیکہ اس امریکہ نے لیا جس کی ساری ترقی افرادی قوت میں اضافے کی وجہ سے ہے۔1777ء میں جب اس نے آزادی حاصل کی تو اس کی آبادی 40لاکھ تھی‘ پچاس سال بعد 1کروڑ 80لاکھ ہو گئی۔ اگلے تیس سال بعد 3کروڑ 85لاکھ‘ اگلے دس سالوں میں پانچ کروڑ اور 1900ء میں سات کروڑ ساٹھ لاکھ ہو گئی اگر امریکہ کی آبادی 44لاکھ پر روک لی جاتی تو آج وہ دنیا کے نقشے پر افریقہ سے بھی پسماندہ ملک تصور ہوتا۔ آبادی میں اضافے کے حوالے سے پریشان جناب چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب! ذرا ان ملکوں کا حال ملاحظہ کریں جنہوں نے آبادی کی کمی کے لیے اقدامات کئے اور آج سر پکڑ کر بیٹھے ہیں کہ ہم تباہ و برباد ہو گئے۔ آج سے ٹھیک دس سال پہلے ’’اکانومسٹ‘‘ نے ایک پچاس صفحات پر مشتمل رپورٹ شائع کی جس میں کہا کہ مالتھس کی تھیوری ناکام ہو گئی۔ دنیا میں آج بھی لاتعداد وسائل ہیں لیکن 18ملک آبادی کی کمی وجہ سے اس حالت کو پہنچ چکے ہیں کہ اگر باہر سے لوگ نہ آئیں تو ان کی بجلی‘ پانی‘ سیوریج اور دیگر سہولیات کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہ ہو‘ کسی بھی معاشرے کے مضبوط اور مستحکم ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ایک بوڑھے پر پانچ نوجوان موجود ہوں یا پھر اس ملک کی آبادی بڑھنے کی شرح 2.1فیصد سے زیادہ ہو۔ اس وقت جاپان پولینڈ‘ آسٹریا ‘ سواکیہ ‘ اٹلی‘ یونان‘سلووینیا میں یہ شرح صفر ہے۔ جرمنی‘ کروشیا‘ رومانیہ ایسٹونیا میں 0.2فیصد ہے ۔روس‘بیلا روس میں 0.6فیصد جبکہ باقی یورپی ممالک میں بھی یہ شرح ایک فیصد سے ڈیڑھ فیصد کے درمیان ہے‘ یعنی سب سے زیادہ شرح والے ملک میں دو بوڑھوں پر تین نوجوان رہ گئے ہیں۔ آبادی کو کنٹرول اور مانع حمل ادویات کے استعمال کے تین نقصانات ہوئے۔ لوگوں نے یہ سوچنا چھوڑ دیا کہ ایسی اولاد کیوں حاصل کریں۔ جس نے کل کو انہیں چھوڑ جانا ہے۔ اپنی زندگی خوشی خوشی گزارو اور اس دنیا سے چلے جائو۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان ملکوں میں اکثریت بوڑھوں کی ہو چکی ہے جو اولڈ ایج ہومز میں پڑی ہے۔ دوسرا نقصان یہ ہوا کہ اخلاقیات اور خاندانی زندگی کا جنازہ نکل گیا۔ آپ دس سال بھی بغیر شادی کے اکٹھے رہ کر زندگی گزارسکتے ہیں اور علیحدگی کے وقت آپ کی اولاد عورت کی کوئی ذمہ داری نہیں ہو گی۔ خاندان ‘ آئندہ نسل کا فروغ اور معاشرہ کی افزودگی سب تباہ ہو کررہ گئے۔ اس وقت خوف یہ سوار ہے کہ اگر یہی رفتار قائم رہی تو 2025ء سے 2050ء تک یورپ گوری نسل نام کی چڑیا سے بھی خالی ہو جائے گا۔ پورے یورپ میں اب بچے پیدا کرنے کے لیے عورتوں کو میٹرنٹی چھٹی کے ساتھ ساتھ مردوں کو پیٹنرنٹی یعنی باپ ہونے کی بھی چھٹی ملتی ہے تاکہ وہ اولاد پیدا کرے اور یورپ کی نسل میں اضافہ کرے۔ جس مغرب نے آبادی کو کنٹرول کر کے اپنے زوال اور موت پر دستخط کئے تھے اور آج ماتم کر رہا ہے‘ اسے مسلمانوں کی بڑھتی آبادی سے اس قدر نفرت ہے کہ ہنری کسنجر کی وہ پالیسی گائڈ لائن کہ ’’ہمیں مسلمانوں کی آبادی کو کم کرنا ہے اگر ممکن ہو تو منصوبہ بندی سے اور اگر ناممکن ہو تو فوج کے استعمال سے‘‘ یہی وجہ ہے کہ اس نے افغانستان اور عراق میں فوج اتاری اور باقی عرب دنیا میں فسادات کروائے۔ لیکن شاید 1954ء میں جو پرچم امریکی سلامتی کی یادداشت نے بلند کیا‘ جان ہاپکنز سے ہوتا ہوا آبادی کے کنٹرول کے پروگراموں تک پہنچا۔اب اسے ہم نے اٹھا لیا ہے۔ مالتھس کی ناکام تھیوری کا پرچم۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اللہ اتنا بھی مدبر و معاملہ ساز نہیں کہ زمین پر انسان کو بھیج دے اور اس کے رزق کا بندوبست نہ کرے۔ اس سے بڑھ کر شرک اور کیا ہو سکتا ہے۔ یگانہ یاد آتے ہیں: خودی کا نشہ چڑھا‘ آپ میں رہا نہ گیا خدا بنے تھے یگانہ‘ مگر بنا نہ گیا 



طاہر انور کا مختصر سا ٹیکسٹ میسج مجھے اپنے ماضی کے ان اٹھارہ برسوں میں لے گیا‘ جن سے دور رہنے کی ہر وقت ناکام کوشش کرتا رہتا ہوں۔ڈاکٹر ظفر الطاف کے بڑے بھائی جاوید الطاف لاہور میں وفات پا گئے تھے۔ جاوید الطاف سے میرا تعارف 1998ء میں ہوا‘ جب ڈاکٹر ظفرالطاف فیڈرل سیکرٹری زراعت تھے اور ان کا دفتر اسلام آباد کے صحافیوں سے بھرا رہتا تھا۔ وہ فاروق لغاری کے سول سروس میں بیچ میٹ تھے۔ اسلام آباد کی بیوروکریسی میں ڈاکٹر صاحب کا واحد دفتر تھا‘ جہاں کسی کو پی اے کو چٹ دینے کی ضرورت نہ تھی۔ ہر خاص و عام دروازہ کھول کر اندر جاسکتا تھا ۔ ڈاکٹر صاحب جتنی بھی اہم میٹنگ میں مصروف ہوتے، ہاتھ سے اشارہ کرتے‘ پیچھے صوفوں پر بیٹھ جائو۔ کئی دفعہ ہوا ہم صحافی اہم میٹنگ کے درمیان سب گفتگو سن رہے ہوتے۔ کئی افسروں نے سمجھانے کی کوشش کی کہ سرجی یہ کیا کررہے ہیں‘ خبریں‘ باتیں لیک ہوجائیں گی‘ مسئلہ ہوجائے گا ۔ وہ مسکرا کر کہتے :چھوڑو یار ہم کوئی یہاں کہوٹہ پلانٹ چلا رہے ہیں کہ قومی راز نکل جائیں گے‘ زراعت کی وزارت چلاتے ہیں۔ اچھا ہے یہ صحافی لوگ سب کچھ سنیں اور انہیں پتہ چلے اور یہ رپورٹس کریں۔ کون زراعت کے بارے لکھنا ، پڑھنا، جاننا یا رپورٹ کرنا چاہتا ہے۔ ان سب کی مہربانی یہ سب بڑی بڑی بیٹس چھوڑ کر زراعت کی خبر لینے آتے ہیں۔ انہیں چائے‘کافی پلائو اور بسکٹ کھلائو۔ 
ایک دن میں ان کے دفتر بیٹھا تھا کہ ایک صاحب اندر داخل ہوئے‘ ڈاکٹر صاحب احترام میں کھڑے ہوئے‘میں بھی کھڑا ہوگیا۔ مجھے لگا دفتر میں دو ڈاکٹر ظفرالطاف ہیں‘ کبھی ڈاکٹر صاحب کو دیکھوں اور کبھی دوسرے صاحب کو ۔ لگتا تھا خدا نے ڈاکٹر صاحب کی کاپی بنا دی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے میرے چہرے پر پھیلی حیرانی دیکھی تو ہنس کر کہا: یہ Jہیں‘ میرے بڑے بھائی۔ وہ جاوید الطاف کو جے کہتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے کرسی چھوڑی اور ہمارے ساتھ آکر صوفے پر بیٹھ گئے۔اتنی دیر میں ایک صاحب ایک فائل لائے اور ڈاکٹر صاحب کو ایک جگہ پر دستخط کرنے کا کہا۔ عموماً ڈاکٹر صاحب اپنے سٹاف اور افسران پر بے پناہ اعتبار کرتے تھے اور آنکھیں بند کر کے فائل پر دستخط کر دیتے تھے۔ ان کے اس اعتماد کو کئی افسران اور دوستوں نے غلط استعمال کیا ‘ لیکن وہ آخری دم تک لوگوں پر بھروسہ کرتے رہے اور دوست انہیں چکمہ دیتے رہے۔ نہ وہ اعتماد کرنے سے باز آئے نہ ہی ان کے کچھ افسران اور دوستوں نے دھوکے دینے میں رعایت کی۔ پتہ نہیں اس دن کیا ہوا کہ ڈاکٹر صاحب نے فائل پڑھنا شروع کر دی۔ اچانک ڈاکٹر صاحب کے چہرے پر ناراضگی کے تاثرات ابھرے۔ اس افسر کی طرف دیکھا اور بولے: یہ کرنے کو کس نے کہا تھا ؟ وہ افسر جو توقع کررہا تھا کہ وہ نوٹی فکیشن دیکھ کر ڈاکٹر صاحب خوشی سے اچھل پڑیں گے‘ کچھ افسردہ ہوا اوربولا :سر یہ اُس افسر کی فائل ہے جس نے فاروق لغاری کی نگران حکومت میں آپ کے خلاف ریفرنس بنوایا تھا اور آپ نے بہت مشکلات کا سامنا کیا تھا۔ اب اس کی ہم نے ایک چوری پکڑ کر انکوائری کرائی ہے۔ اب اس فائل پر دستخط کردیں تو ہم اس کی برطرفی کا نوٹی فکیشن جاری کردیتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے فائل ایک طرف رکھی اور بولے: آپ جانتے ہیں یہ بندہ کون ہے؟ میں جانتا ہوں ‘کیونکہ جب اس نے ایک نگران وزیر تجارت کو خوش کرنے کے لیے میرے اوپر مقدمات بنوائے تھے تو میںنے سب پتہ کرایا تھا۔ اس کا ایک بیٹا کالج، بیٹی ہائی سکول اور چھوٹا بچہ پرائمری میں پڑھتا ہے۔ اسے سرکاری مکان بھی ملا ہوا ہے۔ اگر ہم آج اسے برطرف کردیں تو یہ پورا گھرانہ سڑک پر آجائے گا ۔ مجھے سمجھائو اس کے بچوں کو ایک ایسے جرم کی سزا ملنی چاہیے جو انہوں نے نہیں کیا؟ وہ بھی اس لیے کہ ان کے باپ نے میرے خلاف کیس بنوایا اور گواہی دی تھی۔ کیا مجھے اسے برطرف کرنا چاہیے تاکہ میرے جذبۂ انتقام کو سکون ملے؟ کیا ہمیں ان تین بچوں کا مستقبل تباہ کرنا چاہیے؟ اس افسر نے پھر بھی قائل کرنے کی کوشش کی ۔اس پر جاوید الطاف جو خاصی دیر سے یہ سب گفتگو سن رہے تھے پہلی بار صرف اتنا بولے: ظفر ٹھیک کہہ رہا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے وہ فائل اس افسر کو لوٹا دی۔ پتہ نہیں پھر انہیں کیا خیال آیا بولے: مجھے پتہ ہے تم لوگ باز نہیں آئو گے۔و ہ فائل اس کے ہاتھ سے لے کر اپنے پاس رکھ لی۔ 
یہ تھا 'جے ‘سے میرا پہلا تعارف اور اس خاندان سے بھی‘ جن کے نزدیک اپنی انا اورانتقام اتنا اہم نہ تھا ‘جتنا مخالف یا دشمن کے بچوں کے مستقبل کا خیال ۔ مجھے پتہ نہیں چلا کب میں اور جاوید الطاف ایک دوسرے کے گرویدہ ہوئے۔ ڈاکٹرصاحب نے ایک دن مجھے فون کیا اور کہا: یار جے آرہا ہے اور اس نے کہا ہے کہ رئوف کو بھی بلائو‘ جلدی آجانا۔ ان دنوں ڈاکٹر صاحب حسب معمول نواز شریف کے ہاتھوں سزا پا کر اوایس ڈی بن چکے تھے۔ جنرل مشرف کے ساتھ بھی تین چار ماہ چل سکے‘ لہٰذا اب ان کے پاس بہت وقت تھا۔ دوپہر سے گپ شپ شروع ہوتی‘ اکٹھے کھانا کھاتے اور پھر شام کو ان کے اپنے پرائیویٹ دفتر سے واپسی ‘جہاں وہ دنیا بھر کے ملکوں کو زرعی پالیسی بنا کر دیتے۔ رات کو پھر میرے دفتر کے باہر فون کرتے ‘باہر نکلو۔ پھر رات کو کہیں چائے، کافی ، سنیکس۔
میں نے زندگی میں بہن ‘بھائیوں کا بہت پیار دیکھا اور سنا تھا‘ لیکن جاوید الطاف اور ظفرالطاف کا نرالہ دیکھا ۔ ان اٹھارہ برسوں میں مجھے ایک دفعہ بھی یاد نہیں پڑتا کہ ڈاکٹر صاحب نے کبھی اپنے بڑے بھائی کے سامنے ایک لفظ اونچی آواز میں کہا ہو یا اگر جے نے کچھ کہہ دیا تو بحث کی ہو۔ جس دن جاوید الطاف نے آنا ہوتا تو خوشی سے نہال ہوتے۔ جاوید الطاف دھیمے لہجے کے مالک اور نفیس انسان تھے ۔ اگر میرے جیسے کسی کی بات اچھی نہ لگتی تو مسکرا کر چپ کرجاتے‘ لیکن ان کی یہ فرمائش ضرور ہوتی کہ ظفر ذرا رئوف کو بلالینا میں اسلام آباد آرہا ہوں۔ ان محفلوں میں اکثر نواب یوسف تالپور بھی شریک ہوتے اور دیر تک گپ لگتی۔ جب جنرل مشرف دور میں شاہین صہبائی کا جینا حرام کیا گیا اور ان کے برادر اِن لا اور ایک بھتیجے کو کراچی سے گرفتار کر کے اڈیالہ جیل میں بند کر دیا گیا تھا‘ تو میں اور ڈاکٹر ظفر الطاف کوششیں کررہے تھے کہ ان مظلوموں کی ضمانت کرائی جائے۔ اللہ بھلا کرے سینیٹر ظفر علی شاہ کا جو ان مظلوموں کی وکالت کر کے مدد کر رہے تھے۔ ایک دن میں اور ڈاکٹر صاحب عدالت جانے لگے تو جاوید الطاف بھی بیٹھے ہوئے تھے‘ کہنے لگے: میں بھی ساتھ چلتا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب بولے: ظفر علی شاہ ہیں۔ بولے: کوئی بات نہیں میں وہاں موجود رہوں گا‘ اگر ضرورت پڑی تو میں بھی دلائل دوں گا۔ وہ عدالت میں پورے دو گھنٹے ایک کونے میں کھڑے رہے۔ اپنے تئیں وہ اپنا حصہ ڈال رہے تھے کہ جن کے ساتھ ظلم ہورہا تھا‘ انہیں یہ احساس نہ ہو کہ وہ اکیلے ہیں۔ 
جاوید الطاف کو بھی ڈاکٹر صاحب کے مزاج کا علم تھا کہ جو بھی ان کے پاس چلا جاتا‘ وہ ساتھ چل پڑتے کہ کیا فرق پڑتا ہے۔ جے الطاف دھیمے لہجے میں مختصر اشاروں کنایوں میں بات کرجاتے اور ہنس کر کہتے: ظفر فلاں بندہ تمہیں استعمال کررہا ہے‘ بس دیکھ لینا ۔ ڈاکٹر صاحب خاموش رہتے‘ لیکن اگلے دن وہ عادت سے مجبور‘ پھر چل پڑتے۔ڈاکٹر ظفر الطاف‘ بھائی جاوید الطاف کے بچوں پر اپنی جان چھڑکتے تھے۔ وہ رافع الطاف سے بہت خوش تھے اور کہتے یار اب رافع نے جے الطاف کا وکالت کا کام سنبھال لیا ہے اور بہت محنت کررہا ہے۔ ان کے دوسرے بچوں کے بھی دیوانے تھے۔ 
لاہور میں اتوار کے روز جاوید الطاف کی رسم قل پر میں ان کے گھر کے ایک کونے میںبیٹھا اس جگہ کو دیکھ رہا تھا جہاں تین سال پہلے میں ڈاکٹر ظفر الطاف کی وفات پر جے کی وہیل چیئر کے ساتھ بیٹھا ان کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر بیٹھا تھا تاکہ انہیں تسلی دے سکوں۔اس دن ان کے چہرے سے نہیں لگ رہا تھا کہ وہ کتنے بڑے صدمے سے گزر رہے ہیں۔ مجھے بھی اس دن لگا کہ ظفر الطاف ان کے چھوٹے بھائی نہیں بلکہ بیٹے کی طرح تھے اور ان کی موت کے بعد زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکیں گے۔ پچھلے پانچ سال کچھ ایسے گزرے ہیں‘ یقین نہیں آتا ۔ سب کچھ بدل گیا ہے۔ پہلے نعیم بھائی گئے، پھر ڈاکٹر ظفر الطاف اور اب جاوید الطاف ۔ یہ چند برس پوری زندگی پر بھاری گزرے ہیں ۔ محسوس ہوتا ہے ایک صدی بیت گئی ‘ایک مکمل جہاں کہیں کھوگیا ہے ۔ جاوید الطاف جیسا ایک اور اچھا انسان رخصت ہوا ۔ ڈاکٹر ظفر الطاف کے ساتھ گزارے اٹھارہ برسوں کی طویل یادوں کی ایک طویل داستان کا آخری باب بھی تمام ہوا ! 

You can find here Ayaz Ameer, Ayaz Ameer latest Urdu Columns, amar jaleel columns, amar jaleel, amar jaleel latest columns, Haroon ur Rasheed Columns, Nusrat Javed Columns, Ajmal Niazi Urdu Columns, javed chaudhry, Javed Chaudhry Columns, irshad bhatti, sohail warraich, Sohail Warraich, Sohail Warraich  Columns, Ayaz Ameer Urdu Columns Today, Ayaz Ameer Columns, Ayaz Ameer,rauf klasra, rauf klasra columns, jang columns, hassan nisar, hassan nisar columns, orya maqbool jan columns, orya maqbool jan, Mazhar Barlas Urdu Columns Today,  Mazhar Barlas Latest Columns etc.


سیدنا علی ؓ نے فرمایا تھا، ’’الدنیا جیفۃ و طلبہا کلاب‘‘ دنیا ایک مردار ہے اور اس کے طلبگار کتے ہیں۔ میرے آقا و مولیٰ حضرت محمد ﷺ کسی بلندی سے مدینہ منورہ میں داخل ہورہے تھے۔ سیدنا جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ صحابہ اس وقت آپ کے دونوں طرف تھے۔ آپ ﷺ نے بھیڑ کا ایک بچہ جو چھوٹے کانوں والا تھا اسے مرا ہوا دیکھا۔ آپؐ نے اس کا کان پکڑ کر فرمایا، تم میں کون ہے جو اسے ایک درہم میں لینا پسند کرے گا؟ صحابہ کرام نے عرض کیا ہم میں سے کوئی بھی اسے کسی چیز کے بدلے میں لینا پسند نہیں کرتا اور ہم اسے لے کر کیا کریں گے۔ آپؐ نے فرمایا تم چاہتے ہو کہ یہ تمہیں مل جائے؟ صحابہ کرام نے عرض کی، اللہ کی قسم اگر یہ زندہ بھی ہوتا تو پھر بھی اس میں عیب تھا کیونکہ اس کا کان چھوٹا ہے حالانکہ اب تو یہ مردار ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم یہ دنیا اللہ کے ہاں اس سے بھی زیادہ ذلیل ہے جس طرح تمہارے نزدیک یہ مردار ذلیل ہے۔ (صحیح مسلم: کتاب الزہد و الرقائق)۔ یادش بخیر ہمارے دوست افتخار عارف جب آغا حسن عابدی کے لطف و کرم سے لندن میں مقیم تھے تو انہوں نے خوب کہا تھا: شکم کی آگ لئے پھر رہی ہے شہر بہ شہر سگ زمانہ ہیں‘ ہم کیا ہماری ہجرت کیا دنیا کی طلب جب ہوس بن جائے تو پھر انسان کا وہ روپ سامنے آتا ہے جس کے لیے لندن اس کی نسبت کتے سے کی جائے تو اذن الٰہی سے اگر کتے کو زبان مل جائے تو پکار پکار کر کہے، میں تو پیٹ بھر جائے تو سو جاتا ہوں، روکھی سوکھی کھاتا ہوں لیکن مالک کا دروازہ نہیں چھوڑتا، دشمن پر بھونکتا ہوں، دشمن کے ساتھ مل کر مالک پر نہیں بھونکتا لیکن تم انسان تو یہ سب کرتے ہو اور پھر بھی مجھ سے برتر کہلاتے ہوئے، تمہیں اشرف المخلوقات کہلاتے ہوئے شرم نہیں آتی ہے۔ تلاش رزق نہیں بلکہ ہوس رزق میں سرگرداں تمام اخلاقی معیارات سے عاری گروہ میرے ملک میں ہمیشہ رہے ہیں۔ یہ وہ سگ زمانہ ہیں جو چند روٹی کے ٹکڑوں کے لیے دشمن کتوں کے ساتھ مل کر اس مالک پر بھونکتے ہیں جس کی آغوش میں جنم لیتے ہیں جس کی زمین میں ان کے آبائو اجداد دفن ہیں جہاں دفن ہونے کی وصیتیں کرتے ہیں اور جہاں یہ اپنے علاقے میں دھاک بٹھانے کے لیے عالی شان گھر نہ بنائیں تو انہیں چین نہیں آتا۔ ہوس زر میں ڈوبے ہوئے ان ’’سگان زمانہ‘‘ کا سب سے بڑا ٹھکانہ پورے یورپ اور برطانیہ میں اس وقت قادیانی جماعت بن چکی ہے۔ جرمنی کا اخبار "Der Spiegle" ایک کثیرالاشاعت اخبار ہے۔ اس نے اپنی 24 نومبر 2014ء کی اشاعت میں قادیانیوں کے بارے میں ایک مفصل تحقیقی رپورٹ شائع کی جس کی جرمن زبان میں بینر ہیڈ لائن یہ تھی۔ "Die Ahmdiya gilt als islamic he vorzeige Gemenenide" (احمدیہ ایک مسلم شو پیس کمیونٹی ہے)۔ دوسری ہیڈ لائن یہ ہے کہ ’’یہ کئی سالوں سے تارکین وطن کو بلیک میل کر رہی ہے۔‘‘ اس رپورٹ میں ایک انجینئر لقمان احمد تارڑ کا کیس مثال کے طور پر پیش کیا گیا جو دس سال سے تارک وطن ہے اور اس کی سیاسی پناہ کا مقدمہ آج بھی چل رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے پناہ لینے کے لیے وسبیڈن "Wiesbaden" کے احمدیہ مرکز میں جا کر قادیانیت کا اقرار کیا، وہاں جا کر اس نے روزانہ ان کے مرکز جا کر عبادت شروع کی، کئی سال گزرنے کے بعد اس کو قادیانیوں کے مرکز فرینکفرٹ سے مناسب "Averge" کا سرٹیفکیٹ دیا گیا جس کا مطلب تھا کہ وہ ابھی تک پکا قادیانی نہیں ہوا، اس لیے اس کے مقدمے میں جماعت اسے سپورٹ نہیں کرے گی۔ اس کے بعد اخبار نے پورے جرمنی میں قادیانی جماعت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور اس اخبار کے ساتھ Ard Hagazine کی صحافتی ٹیم بھی شامل ہو گئی۔ ان کے مطابق احمدیہ سربراہان نے پاکستان اور دیگر ملکوں میں سیاسی پناہ حاصل کروانے کا ایک دھندا شروع کر رکھا ہے۔ پاکستان میں اس جماعت کے نمائندے ایک شخص کو جرمنی میں پناہ دلانے کے لیے بیس ہزار یورو لیتے ہیں۔ ایک عام پاکستانی کو ان کے خط پر جرمنی میں داخلہ مل جاتا ہے۔ اس لیے کہ جرمنی میں 2013ء میں احمدیہ (قادیانی) جماعت کو جرمن چرچ کے برابر کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ جرمن سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما لیل آگھن Lale Aghan نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ مذہبی نہیں بلکہ ایک سیاسی تماشا ہے۔ جب ایک عام پاکستانی ان کے خط پر جرمنی میں داخل ہوتا ہے تو پھر وہ ان کی بدترین غلامی میں چلا جاتا ہے۔ چندہ نہ دینے، ان کے اجتماعات میں شرکت نہ کرنے، احتجاج نہ کرنے پر اسے پاکستان واپس ڈی پورٹ کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں اور اس کے لیے قادیانی (احمدیہ) جماعت کا یہ سرٹیفکیٹ ہی کافی ہے کہ اس کا احمدیہ جماعت سے تعلق غلط ثابت ہوا ہے۔ جرمنی کے محکمہ خارجہ کی ایک رپورٹ کا تذکرہ بھی اخبار نے کیا ہے جس کے مطابق ان پاکستانیوں کی تعداد میں بے شمار اضافہ ہوا ہے جو یہاں کام کرنے آئے لیکن پھر وہ سیاسی پناہ لینے کے لیے قادیانی ہو گئے۔ 2011ء میں جرمنی کے پراسیکیوشن محکمہ نے قادیانی جماعت کے چار ارکان پر مقدمہ بنایا کہ انہوں نے لاتعداد پاکستان سے آئے لوگوں کو غیرقانونی طور پر جرمنی میں داخل کروایا۔ جرمنی کے محکمہ مائیگریشن و مہاجرین کے ترجمان نے کہا ہے کہ ہم نے اپنے محکمہ کے افراد کو خاص طور پر ہدایات دی ہیں کہ قادیانیوں کی طرف سے جاری کئے گئے اکثر سرٹیفکیٹ مشکوک ہیں اس لیے ان کا سختی سے جائزہ لینا ضروری ہے۔ یہ صرف ایک ملک کی کہانی نہیں ہے۔ قادیانی جس ملک جا کر آباد ہوئے۔ انہوں نے اس مکروہ دھندے سے اپنی تعداد میں اضافہ کیا اور پھر ان تارکین وطن کو مسلسل غلاموں کی طرح بلیک میل کیا۔ میرے سامنے اس وقت برطانیہ کی اعلیٰ عدالت کا ایک فیصلہ موجود ہے جو تین ججوں Lord Jusitce Moore Brich (لارڈ جسٹس مورے برگ)، Lord Justice Tomilson (لارڈ جسٹس ٹاملسن) اور Lord Justice Kitchen (لارڈ جسٹس کچن) نے چودہ جولائی 2016ء کو تحریر کیا۔ اس میں ایک قادیانی نے درخواست کی تھی کہ وہ پاکستان میں خوف اور دہشت کی زندگی گزار رہا تھا اس لیے اسے سیاسی پناہ دی جائے۔ اس کی اس کہانی کو نیچے کی دو عدالتیں مسترد کر چکی تھیں۔ یہ قادیانی ایک استاد تھا اور اس کے بقول اسے دو جگہوں سے قادیانی ہونے کی وجہ سے نکلنا پڑا لیکن پھر 2004ء میں اسے پولیس میں ملازمت مل گئی، وہ دس سال تک پولیس ملازمت کرتا رہا اور پھر اپنے بھائی کی شادی میں شرکت کے لیے اس نے 2014ء میں برطانیہ کا ویزہ لیا اور احمدیہ جماعت کے سالانہ جلسے میں بھی شریک ہوا۔ جب وہ واپس گیا تو اس نے اپنے موبائل میں جو قادیانی جلسے کی تصویریں بنائی تھیں وہ ایک کلرک نے دیکھیں جو ختم نبوت سے تعلق رکھتا تھا، اس نے اسے ہراساں کرنا شروع کردیا، اس لیے وہ ’’پولیس والا‘‘ اب پاکستان میںنہیں رہ سکتا۔ عدالت نے بنیادی سوال اٹھائے، کہا کیا آپ کو پاکستان کے مجوزہ قانون کے مطابق عبادت کرنے کی اجازت ہے، اپنے آپ کو قادیانی (احمدی) کہہ کر ملازمت کرنے، مکان خریدنے، گاڑی لینے، مکان کھولنے، فیکٹری لگانے کی آزادی ہے۔ ظاہر یہ سب آزادیاں تو میسر ہیں۔ اس کا جب وہ جواب نہ دے سکا تو عدالت نے فیصلہ کیا کہ قادیانی یہ ثابت کرنے میں ناکام ہیں کہ وہ پاکستان میں دہشت و خوف کا شکار ہیں۔ لیکن سگ زمانہ اور ہوس مال کے لیے دنیا کے مردار پر ٹوٹ پڑنے والوں کا کیا کریں جو اس دنیا میں تو اپنے ملک کو بدنام کرکے سیاسی پناہ لے لیتے ہیں لیکن کیا وہ آخرت میں اللہ کی ناراضگی اور رسول اکرم ﷺ کی شفاعت سے محرومی کا طوق پہننے کی سکت رکھتے ہیں؟ لیکن سگ زمانہ تو کتوں سے بھی بدتر ہوتا ہے۔ مسلسل مردار پر ہی بسیرا کرتا ہے۔ 

You can find here Ayaz Ameer, Ayaz Ameer latest Urdu Columns, amar jaleel columns, amar jaleel, amar jaleel latest columns, Haroon ur Rasheed Columns, Nusrat Javed Columns, Ajmal Niazi Urdu Columns, javed chaudhry, Javed Chaudhry Columns, irshad bhatti, sohail warraich, Sohail Warraich, Sohail Warraich  Columns, Ayaz Ameer Urdu Columns Today, Ayaz Ameer Columns, Ayaz Ameer,rauf klasra, rauf klasra columns, jang columns, hassan nisar, hassan nisar columns, orya maqbool jan columns, orya maqbool jan, Mazhar Barlas Urdu Columns Today,  Mazhar Barlas Latest Columns etc.



ڈاکٹر مبشر حسن پاکستان کے ماہرین معاشیات میں بہت بڑا نام ہے۔ پیپلز پارٹی کا قیام ان کے لاہور والے گھر میں ہوا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی کابینہ کے وزیر خزانہ تھے۔ ان سے ملاقات ہمیشہ علم اور زندگی کے تجربے کے نچوڑ میں رچی گفتگو کا خزانہ تحفے میں دیتی ہے۔ آج پاکستان کے معاشی حالات پر گفتگو کرتے اور مضامین تحریر کرتے لوگوں کے علم کا جائزہ لیتا ہوں تو ڈاکٹر صاحب جیسے لوگ بہت یاد آتے ہیں وہ جو مغرب سے تعلیم حاصل کر کے آئے تھے مگر مغرب سے مرعوب نہیں تھے۔ یہ شاید اس نسل کے آخری نمائندوں میں سے ہیں جنہوں نے برطانوی تسلط میں آنکھ کھولی ۔انہیں کے نظام میں اوائل عمر گزاری‘ برطانیہ اور امریکہ کی یونیورسٹیوں میں علم حاصل کیا لیکن نہ تو وہ اس علم کی چھاپ لے کر لوٹے اور نہ ہی اس تہذیب سے مرعوب ہوئے یہ وہ نسل تھی جس کے سرخیل قائد اعظم اور علامہ اقبال تھے۔ لنکن ان سے بیرسٹری اور لندن میں وکالت کے باوجود پاکستان کی تاریخ میں مغربی معاشی نظام کا قائد اعظم سے بڑا ناقد کوئی نہ تھا۔ اقبال تو روح عصر تھے۔ جرمنی اور برطانیہ کے تعلیمی اداروں میں تعلیم نے ان کا رشتہ اسلام اور مشرق سے مزید مستحکم کیا وہ تو یہ دعویٰ بھی کرتے تھے: خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانش فرنگ سُرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ ونجف ڈاکٹر مبشر بھی گزشتہ صدی میں جنم لینے والے اور آج اس دنیا پر چھا جانے والے مالیاتی نظام کے بہت بڑے ناقد ہیں۔ آج جب معیشت دانوں کی فصل در فصل اور نسل در نسل اپنے معاشی مسائل کا حل اسی دکان سے حاصل کرنے کے لیے کہتے ہیں تو میر کے اس شعر کے مصداق کہ جس میں عطاّر کے لونڈے کا ذکر ہے‘ مہاتیر محمد کی کتاب کا وہ فقرہ کانوں میں گونجتا ہے جو اس نے ان معیشت دانوں کے جواب میں کہا تھا جو اسے حالات بہتر بنانے کے لیے آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے دروازے پر لانا چاہتے تھے۔ اس نے کہا تھا۔ "We belive that the medicine suggested to us is worse than the disease we have." ’’ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جو دوا ہمیں تجویز کی جا رہی ہے وہ اس بیماری سے زیادہ خطرناک ہے جو ہمیں لاحق ہے‘‘ ۔ یہ جو بیماریاں ہمیں آج لاحق ہیں‘ یہ جو رونے ہم روز رو رہے ہیں‘ یہ جو ماتم ہمارے ہاں برپا ہے‘ اقتصادی بحران ‘ معاشی زوال اور صنعتی تباہی کے جو قصے ہمیں سنائے جاتے ہیں‘ عالمی برادری میں ہماری ساکھ‘ ہماری کرنسی کی بے قدری اور ہماری مصنوعات کی عدم پذیرائی کا رونا رویا جاتا ہے‘ کیا اس ملک میں بسنے والے بائیس کروڑ عوام میں سے ننانوے فیصد سے بھی زیادہ لوگوں کو علم ہے کہ اس ’’مجلس شام غریباں‘‘ کے معاشی نوحہ گریا تو اپنے فن تقریر کی داد کے لیے اس میں روز بروز رنگ بھرتے ہیں‘ یا پھر کچھ ایسے ہیں جنہیں زندگی میں اس کام کے علاوہ کوئی اور کام آتا ہی نہیں۔ ان کا مبلغ علم دنیا بھر کے ان معاشی سانحات سے متعلق ہوتا ہے۔ وہ نہیں جانتے یہ سب سانحات ایک ترتیب سے کیوں ہو رہے ہیں‘ کون ان کو برپا کرتا ہے اور یہ صرف وہیں برپا کیوں ہوتے ہیں جہاں کئی دہائیوں سے بحرانوں نے ٹھکانہ کر رکھا ہے۔ کیا ورلڈ بنک ‘آئی ایم ایف‘ بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹ ‘ اور جدید مالیاتی نظام کے وجود میں آنے سے پہلے دنیا ایسی تھی جیسی آج ہے۔ ہرگز نہیں اس سوال کا جواب ڈھونڈتا ہوا جب میں ڈاکٹر مبشر حسن کی اس تحریر پر پہنچا جو انہوں نے ایک کتاب کا پیش لفظ میں لکھی تو حیرت کا جہان کھل گیا۔ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں ’’غریب اور امیر ملکوں میں تفاوت کی ایک مثال یہ ہے کہ 1946ء میں ایک ڈالر کے بدلے میں 3روپے 6آنے ملتے تھے(یعنی 3روپے 37پیسے) راقم الحروف جیسا حکومت سے 230روپے تنخواہ لینے والے آفیسر کو جب وظیفہ دے کر تعلیم کے لیے امریکہ بھیجا گیا تو وہ نیو یارک کے فیشن ایبل ترین علاقے سے اپنے لیے 65ڈالر کا سوٹ خرید سکتا تھا۔ اس وقت نیو یارک میں کافی کی پیالی 5پنس یعنی ہمارے 16پیسے کی تھی اور بس کا کرایہ بھی 16پیسے تھا خواہ کہیں سے کہیں چلے جائیں۔1962ء میں راقم الحروف ایک پروفیسر تھا جس کی تنخواہ 1800روپے ماہوار تھی اور اس تنخواہ پر وہ لندن میں ایک سیل کرنے والی دکان سے 25ڈالر کا سوٹ خریدنے کا متحمل تھا،1974ء میں وزیر خزانہ پاکستان کی حیثیت میں وہ لندن کی ایک دکان سے پانچ چھ ڈالر کا سو ئٹر ہی خرید سکا۔ انگریزی سوٹ کی خرید اس کی استطاعت سے باہر تھی۔ اس سال 2001نیو یارک میں کافی کے پیالے کی قیمت‘ بس اور سب وے کے ٹکٹ کی قیمت 90روپے ہے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان جیسے ملکوں کی امیر ملکوں کا مال خریدنے کی صلاحیت نہیں ہے‘‘ کیا اس تمام عرصے میں پاکستان میں کھیتوں نے غلہ اگانا بند کر دیا۔ فیکٹریوں کو آگ لگا دی گئی‘ مزدوروں نے کام کرنے سے انکار کر دیا‘ گھر بننے بند ہو گئے‘ دکانوں پر تالے لگ گئے۔ سب کچھ تو پہلے سے ہزار درجے بہتر ہوا ہے لیکن ہم دنیا میں مفلس و نادار ہو گئے۔ ہم غربت کی اتھاہ گہرائیوں میں چلے گئے۔ ایسا نہیں ہے ہم ایک جال میں پھنس چکے ہیں اور جب تک اس کو توڑ کر باہر نہیں نکلتے ہم نہ آزاد فضائوں میں پرواز کر سکتے ہیں اور نہ وسیع سمندروں کی گہرائیوں میں موتی تلاش کر سکتے ہیں۔ ہمارا حال اس پرندے یا مچھلی کی طرح ہے جو جال میں پھنسے ہوئے ہیں اور یہ جال عالمی اقتصادی ‘ مالیاتی نظام کا ہے جو ملٹی نیشنل کمپنیوں نے بُنا ہے۔ یہ وہ جال ہے جس نے ہر غریب ملک کو مزید مفلوک الحال بنا دیا ہے۔ چند دن پہلے میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب میرے بہت ہی پیارے دوست گلے کے سرطان کے آپریشن کے بعد کیمو تھراپی سے صحت مند ہو گئے مگر ان کے گلے کی سوجن بڑھنے لگی‘ بہت علاج کے بعد جو دوا تجویز کی گئی وہ انگلینڈ سے آتی تھی جو صرف اور صرف ہلدی کو کیپسولوں میں بند کر کے اس کا نام Curcuminرکھ کر بیچی جاتی تھی۔ اس دوا سے حیرت انگیز فائدہ ہوا۔ لیکن کیا ہم جہاں یہ ہلدی پیدا ہوتی ہے‘ یہ کیپسول بنا کر نہیں بیچ سکتے۔ شاید اس ملک کے عام آدمی کو اس مالیاتی نظام کے شکنجے کا علم نہیں جو ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے تحت ہونے والے عالمی معاہدے(TRIPS) Trade Related intellectual property rights. نے کس دیا ہے۔ اب ہر ایجاد کا کوئی نہ کوئی مالک ہے جو اسے اپنے نام سے بیچتا ہے۔ حیرت ہے کہ انگلینڈ میں بیٹھا ایک شخص برصغیر کی کتابوں سے ہلدی کے فوائد کا علم لے کر دوا رجسٹرڈ کرواتا ہے اور جہاں ہلدی پیدا ہوتی ہے ان لوگوں کو اس کی مالی منفعت سے محروم کر دیتا ہے۔ یہ گزشتہ تیس سال کی دردناک کہانی ہے جس میں غریب ملکوں کو یہ پڑھا دیا گیا ہے کہ تم اتنے نکمے اور ناکارہ ہو کہ تم جوتوں کی پالش ‘ ٹوتھ پیسٹ ‘ صابن ‘ شیمپو ‘ خوشبو ‘ دلیہ‘ چپس‘ کپڑے‘ جوتے‘ نپل ‘ قلم اور ربڑ جیسی چیزیں بھی نہیں بنا سکتے۔ ہم معیار دیتے ہیں اور بیچتے ہیں۔ یہ معیار بھی میرے ملک میں تیار ہوتا ہے۔ اسی ملک کا مزدور ان فیکٹریوں میں مصنوعات بناتا ہے۔ جسے خوبصورت ماڈلز اور چکا چوند میڈیا کی روشنی میں بیچا جاتا ہے۔ دنیا کی چار کمپنیاں مارکیٹ کے چالیس فیصد کو کنٹرول کرتی ہیں۔ ان کی مرضی سے عالمی کرنسیوں کے نرخ اوپر نیچے ہوتے ہیں اور اشیاء کی قیمتیں بدلتی ہیں۔ اس جال کو توڑنا معاشی تبدیلی کی پہلی منزل ہے‘ لیکن کیا کریں‘ میرے ملک کا معیشت دان تو اس جال کو عافیت سمجھتا ہے۔ 

You can find here amar jaleel columns, amar jaleel, amar jaleel latest columns, Haroon ur Rasheed Columns, Nusrat Javed Columns, Ajmal Niazi Urdu Columns, javed chaudhry, Javed Chaudhry Columns, irshad bhatti, sohail warraich, Sohail Warraich, Sohail Warraich  Columns, Ayaz Ameer Urdu Columns Today, Ayaz Ameer Columns, Ayaz Ameer,rauf klasra, rauf klasra columns, jang columns, hassan nisar, hassan nisar columns, orya maqbool jan columns, orya maqbool jan, Mazhar Barlas Urdu Columns Today,  Mazhar Barlas Latest Columns etc.




نیویارک میں اس سال 23مارچ کو یومِ پاکستان کی تقریب میں شرکت کے لیے جب میں لاہور ایئرپورٹ پر اپنی پرواز پر سوار ہونے کے لیے پہنچا تو ایک عرب ملک کی سرکاری ایئر لائن کے افراد نے مجھے لائن میں لگنے سے روک دیا اور کہا کہ پاکستان میں امریکی سفارت خانے سے احکامات آئے ہیں کہ آپ امریکہ کے لیے کسی پرواز سے بھی روانہ نہیں ہو سکتے۔ میں نے سوال کیا کہ پاکستان کی سرزمین پر امریکہ کا حکم کیسے چل سکتا ہے۔ میرے پاس جائز سفری دستاویزات ہیں۔ پاسپورٹ ہے، امریکی ویزہ ہے، امریکہ یہ حکم اس وقت جاری کرے جب میں اس کی سرزمین پر قدم رکھوں، مجھے وہاں سے واپس بھیجے، لیکن سرزمین پاکستان پر اس کا حکم کیسے چلتا ہے لیکن مجھے سوار نہیں ہونے دیا گیا۔ یہ کوئی رات ایک بجے کا وقت تھا، اس کے ٹھیک دو گھنٹے بعد قادیانیوں کے سرکاری اخبار ’’ربوہ ٹائمز‘‘ نے اسے ایک فاتحانہ انداز سے اپنی ویب سائٹ پر پوری تفصیل سے لگایا اور ساتھ وہ تاریخ بھی بیان کر دی کہ کب سے مجھے امریکہ میں داخل ہونے پر پابندی کے لیے مہم چلائی جا رہی تھی۔ انہوں نے گزشتہ سال دس مئی 2017ء کو مشہور زمانہ حسین حقانی کی بیوی اور ممبر پارلیمنٹ کا امریکی ایمبیسی کو متوجہ کر کے لکھے گئے اس ٹوئیٹ کو بھی خبر میں لگایا۔ Dear US embi Islamabad: Who issued Oraya Maqbool Jan a Visa? Jan Critical of Ahmadiya Jamat, Feminism, atheism, Secularism etc. محترم امریکی ایمبیسی اسلام آباد:کس نے اوریا مقبول جان کو امریکہ کا ویزا دیا ہے؟ جان احمدیہ جماعت،حقوق نسواں، الحاد اور سیکولر ازم کا سخت مخالف ہے۔ اس کے ساتھ ہی خبر میں کہا گیا کہ یہ ویزا اوبامہ کے زمانے میں دیا گیا تھا اور ٹرمپ ایڈمنسٹریشن کی اوریا مقبول جان پر پابندی ظاہر کرتی ہے کہ وہ پاکستان جیسے "High Risk"(خطرناک) ملک کے ساتھ سختی سے پیش آ رہی ہے۔ آج ٹھیک سات ماہ بعد جب میں حضرت داتا گنج بخش کے عرس کے سلسلے میں 27اکتوبر 2018ء کو منعقد ہونے والی تقریب میں شرکت کے سلسلے میں جانے والا تھا تو ناروے کی اخباروں میں ایک طوفان کھڑا کیا گیا کہ میں وہاں نفرت پھیلانے آ رہا ہوں۔ اس ساری تحریک کی سرخیل ہیگی سٹورہاگ "Hege Storhaug"نامی ایک خاتون ہے جو 2015ء میں منظر عام پر آنے والی اپنی متعصبانہ کتاب "Islam, den 11, Landeplage"(اسلام دھرتی کا گیارہواں طاعون) ہے۔ اس معاشرے میں یہ غلیظ کتاب سب سے زیادہ بکنے والی کتابوں میں سے ایک ہے او راس کے کے کئی زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں۔ یہ نوے کی دہائی میں دو سال پاکستان میں بھی رہی ہے اور اس نے پاکستان کے بارے میں ایک سفرنامہ بھی تحریر کیا ہے۔ اس نے ناروے میں جبری شادی اور ختنوں کے خلاف ڈاکومنٹریاں بنائیں اور اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔ اس کے خلاف غم و غصہ کا عالم یہ تھا کہ 2007ء میں جب وہ گھر سے نکل رہی تھی تو اسے نامعلوم افراد نے زدوکوب کیا اور بے ہوش کر کے چھوڑ دیا۔ میری ناروے آمد سے پانچ روز قبل 22اکتوبر کو اس کے اخبار "Reselt"میں میرے خلاف دو مضامین شائع کیے، جن کا عنوان تھا ’’پاکستانی شدت پسند، ناروے میں مہمانِ خصوصی‘‘ مضامین کا آغاز یوں ہوتا ہے۔ ’’سیکولر آلائنس کو اتوار کو خبر ملی کہ 27اکتوبر کو پاکستانی شدت پسند اوریا مقبول جان کو زہرہ منظور سوسائٹی نے مدعو کیا ہے۔ یہ وہی اوریا مقبول جان ہے جو احمدیوں کو قتل کرنے کی بات کرتا ہے۔ اس کی یہودیوں سے دشمنی بھی چھپی ہوئی نہیں، جس کی وجہ سے گزشتہ مارچ میں اس کی امریکہ میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ اس کے بعد اخبار نے میرے ایک پروگرام ’’حرف راز‘‘ کے ایک حصے کو بددیانتی سے کاٹ چھانٹ کر وہ گفتگو لگائی جس میں مدیان نبوت کے خلاف رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکرؓ کے عمل کا میں حوالہ دے رہا تھا۔ لیکن بعد کے حصے کو ہذف کر دیا گیا جس میں ان کے بحیثیت اقلیت حقوق کے بارے میں گفتگو کی گئی تھی۔ میرے خلاف اخبار میں شروع کی گئی اس مہم کا نتیجہ یہ نکلا کہ جس ہال میں یہ کانفرنس ہو رہی تھی انہوں نے بکنگ کینسل کر دی اور پوسٹر بازی کی مہم شروع کر دی گئی۔ اب یہ کانفرنس ایک مسجد میں ہو رہی ہے لیکن میں اپنے میزبان کو کسی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتا۔ اس لیے میں نے وہاں جانا منسوخ کر دیا ہے۔ البتہ اس اخبار میں غلط، بے بنیاد اور توڑ موڑ کر رپورٹ کے ضمن میں مقدمہ درج کروانے کی تیاری میں ہوں۔ ناروے اور امریکہ کا یہ کنکشن جس کی تار قادیانیوں کے ساتھ بندھی ہے۔ میرے خلاف اسی طرح کے بہت سے افسانے تراش کر مغربی میڈیا کو بیچنے میں مصروف ہے۔ ایک مضحکہ خیز کہانی 20ستمبر 2016ء کو امریکی پریس میں پھیلائی گئی۔ یہ دراصل ڈونلڈ ٹرمپ کی الیکشن مہم کا حصہ تھا۔ کہانی کا عنوان تھا: Taliban Activist who met with clintan in Pakistan Promotes Hatered for Jews. ’’طالبان کے لیے سرگرم عمل شخص کی پاکستان میں کلنٹن سے ملاقات، وہ شخص جو یہودیوں کے خلاف نفرت کا پرچار کرتا ہے‘‘۔ اس دور کی کوڑی اور سازشی تھیوری گھڑنے کے عمل کا تو تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ 2009ء کی بات ہے جب میں ڈائریکٹر جنرل والڈ سٹی لاہور تھا تو ہیلری کلنٹن پاکستان آئی جسے میں نے کوئی ایک گھنٹہ تک بادشاہی مسجد اور ملحقہ جگہوں کا سرکاری طور پر دورہ کروایا۔ سات سال بعد مضمون نگار نے ایک کہانی گھڑی کہ دراصل ہیلری کلنٹن اور اوریا مقبول جان کی یہ ملاقات اخوان المسلمون کی خاتون ہما عابدین نے کروائی۔ اس کے ساتھ مجھے کوئٹہ کا ظاہر کر کے یہ کہا گیا کہ نیوجرسی اور نیویارک میں بم دھماکے کرنے والے میرے پڑوس میں تیار ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مجھے خواتین دشمن، مغربی لائف سٹائل کا ناقد، مرضی سے جنسی تعلقات کا مخالف، ملالہ یوسف زئی سے نفرت کرنے والا اور خصوصی طور پر احمدیوں کا دشمن بنا کر پیش کیا گیا۔ یہاں ناروے کنکشن کا اظہار ہوتا ہے۔ مئی 2016ء میں ناروے کی ایک جامع مسجد میں میرے خطبۂ جمعہ کا موضوع یاجوج اور ماجوج کے ساتھ یہودیوں سے آخری جنگ یعنی ملحمتہ الکبریٰ تھا۔ اس 45منٹ کے پورے خطبے کو انگریزی میں ترجمہ کر کے اس مضمون کا حصہ بنایا گیا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ میں مسلمانوں کو یہودیوں کے خلاف لڑنے پر اکساتا ہوں۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ میرے خلاف اتنی زیادہ محنت، عرض ریزی کیوں۔ کیا میں واقعی ایک خطرناک انسان ہوں جو ہر سیکولر، ملحد اور قادیانی کی نیندیں اڑا سکتا ہے۔ ایسا تو ہرگز نہیں۔ ایک کمزور، ناتواں شخص جس کے ہاتھ میں اللہ نے قلم تھمایا ہے اور شاید زبان میں تاثیر دی ہے۔ یہ سب لوگ مجھ سے نہیں اللہ کی ان دونوں نعمتوں سے خائف ہیں۔ میں اللہ سے نعمتوں کے زوال سے پناہ مانگتا ہوں۔ 

You can find here amar jaleel columns, amar jaleel, amar jaleel latest columns, Haroon ur Rasheed Columns, Nusrat Javed Columns, Ajmal Niazi Urdu Columns, javed chaudhry, Javed Chaudhry Columns, irshad bhatti, sohail warraich, Sohail Warraich, Sohail Warraich  Columns, Ayaz Ameer Urdu Columns Today, Ayaz Ameer Columns, Ayaz Ameer,rauf klasra, rauf klasra columns, jang columns, hassan nisar, hassan nisar columns, orya maqbool jan columns, orya maqbool jan, Mazhar Barlas Urdu Columns Today,  Mazhar Barlas Latest Columns etc.

اسلام آباد میں بیس برس کی صحافت کے بعد یہ تو مجھے اندازہ ہوگیا ہے کہ حکمران صحافی اور صحافت سے ہمیشہ خوفزدہ رہتے ہیں۔اس خوف کا ایک ہی حل پاکستان جیسے ملکوں میں نکالا جاتا ہے کہ آپ صحافی اور صحافت کو خرید لو یا انہیں کرپٹ کر دو۔اگر صحافی بکنے سے انکاری ہو‘ درباری نہ بنے تو پھر مالکان کو ہی خرید لو۔ پھر انہی صحافیوں میں سے چند ایک کو اپنا مشیر بنا لو یا اعلیٰ عہدے دے کر اپنی کرپشن اور نااہلی کے دفاع پر لگا دو۔ اگر زیادہ غصہ آیا ہوا ہے تو پھر جنرل مشرف کی طرح شاہین صہبائی اور عامر متین جیسے نڈر صحافیوں کو ڈرایا دھمکایا جائے ۔ اگر وہ پھر بھی نہ ڈریں تو اخباری مالکان کے ذریعے ان صحافیوں کو نوکریوں سے نکلوا دیا جائے۔ صحافیوں کو دبانے کا کام تو جنرل ایوب سے شروع ہوا تھا ۔ بھٹو نے صحافیوں کو قید میں ڈالا ‘ جنرل ضیا ایک قدم آگے نکل گئے ‘ناصر زیدی جیسے صحافیوں کو کوڑے مارے گئے اور شاہی قلعے میں قید کیا گیا‘ جہاں ان کی جوانیاں ڈھل گئیں‘ بچے رل گئے۔

صحافی جس قوم کے لیے لڑ رہے تھے وہ بھٹو کو عظیم قائد اور جنرل ضیا کو مرد مومن‘ مرد حق کا درجہ دے کر خوش تھی۔ بینظیر بھٹو کو دوسری حکومت میں سمجھ آگئی تھی کہ صحافیوں کا اپنا گروہ ہونا چاہیے جو ان کی بات سنتا اور سمجھتا ہو۔ زرداری نے اپنا ناشتہ گروپ تشکیل دے دیا ۔ نواز شریف کاروباری انداز میں ڈیل کرنے کے قائل تھے۔ لاہور کے ایک صحافی نے بتایا کہ وہ نواز شریف سے لفافہ لیتے تھے‘ کیونکہ اس کے بغیر وہ بھروسہ نہیں کرتے تھے۔ جب تک وہ صحافی کو لفافے سے’ کانا‘ نہ کر لیتے اسے قریب نہ آنے دیتے۔ خبر لینے کیلئے ضروری تھا شریفوں کے قریب ہوا جائے ‘ قریب ہونے کیلئے ضروری تھا کہ حلف وفاداری دیا جائے اور ان کا حلف وفاداری لفافہ تھا ‘تاکہ وہ کل کو ان کے خلاف نہ لکھ سکے۔ یوں چند ہزار روپوں میں سب معاملات طے ہوجاتے تھے۔ بعد میں نواز شریف کے اس گروپ کو ہیلی کاپٹر گروپ کا نام دیا گیا۔ جہاں صاحب نے جانا ہے وہاں ہیلی کاپٹر میں چند صحافی اور کالم نگار بھی جائیں گے‘ جو واپسی پر اپنے کالموں میں ان کی کرامات اور جلالی انداز کو عوام کے سامنے پیش کریں گے۔ ہرجھوٹ کو سچ اور ہر نکمے اور کرپٹ لیڈر کو نیلسن منڈیلا اور چارلس ڈیگال بنا کر پیش کیا گیا ۔ جو ایوریج قسم کی سوچ بھی نہیں رکھتا تھا ‘اسے انقلابی اور عظیم لیڈر کے طور پر پیش کیا ۔ یوں پاکستان میں درمیانے درجے کی قیادت اوپر ابھری‘ جسے عوام سے زیادہ ان صحافیوں نے لیڈر کا درجہ دے رکھا تھا ۔

عوام ایک سے لٹ کر دوسرے کی طرف گئے تو وہاں پہلے ہی صحافیوں کا گروہ موجود تھا‘ جو دوسرے لیڈرز کی کرامات بیان کررہا تھا۔ یوں مقابلہ چلتا رہا ۔ کبھی ایک صحافی گروپ کا لیڈر جیت گیا تو کبھی دوسرے کا۔ اور ایک دن پتہ چلا سب فراڈ تھا ۔ سب جھوٹ تھا ۔ جنہوں نے عوام کو لوٹا‘ انہیں ٹی وی شوز میں جمہوریت اور کرپشن کے خلاف مبصرین کے طور پر بلا کر عوام کو سیدھا کرنے کے طریقے بتانے شروع ہوگئے۔ یوں کرپشن کوئی ایشو نہ رہا ۔ بس چند صحافی آپ کی جیب میں ہوں۔ وہ آپ کو اپنے لیڈر کی وہ خوبیان ڈھونڈ کر بیان کردیں‘ جس کا انہیں خود بھی علم نہ ہو۔

سپریم کورٹ سے نااہل جہانگیر ترین ایک ٹی وی انٹرویو میں کہہ رہے تھے: اب بجلی اور گیس چوروں کی خیر نہیں ‘ ہم ان کا جینا حرام کردیں گے۔ موصوف وہی ہیں جنہوں نے اپنے گھر کے مالی اور کک کے نام پر کروڑوں روپوں کا فراڈ کیا تھا ۔ پکڑے گئے تو اپنا اثرورسوخ استعمال کر کے بچ گئے۔ جو فراڈ اور جرم جہانگیر ترین صاحب نے کیا ‘اس کی سزا چودہ سال قید تھی۔ جو خود چوری کرتے پکڑا گیا تھا وہی اب بجلی چوروں کو دھمکیاں دے رہا ہے اور عام لوگوں سے داد بھی وصول کررہا ہے۔ جہانگیر ترین جیسے کاروباری نے اس ملک اور عوام کو درست سمجھا۔پہلے عوام کو لوٹ لو اور پھر لٹیروں کو دھمکیاں دے کر عوام کے ہیرو بن جائو۔
سوال یہ ہے اس سے ان لیڈروں کو کیا ملا؟ کیا نواز شریف دنیا کے پانچ براعظموں میں جائیدادیں بنا کر‘ اتنی بڑی سوشل میڈیا ٹیم بھرتی کر کے مریم نواز کی قیادت میں مخالفوں کو برا بھلا کہلوا کر انجام سے بچ سکے؟ کیا ملا ؟ بچے مفرور‘ باپ بیٹی مقدمات میں گھرے اور سمدھی اشتہاری۔ اسے کامیابی کا گُر سمجھنا چاہیے؟ چند سال کی حکمرانی پھر عمر بھر کی ذلت۔ کیا یہی انسان کی معراج ہے ؟ کیا یہی زندگی ہے؟ جہانگیر ترین کو اپنے گھر کے مالی اور کک کے نام پر فراڈ اور لوٹ مار کر کے کیا ملا؟ کیا قدرت نے اسے بخش دیا؟ کروڑوں اربوں کی سرمایہ کاری ضائع گئی۔ گلیاں سنجیاں ہیں پھر بھی مرزا یار کہیں نظر نہیں آتا ۔ اربوں کی منی لانڈرنگ کے بعد زرداری اب دربدر پھرتے ہیں۔

زرداری اور نواز کے کرپٹ سیاستدانوں کے ٹولے کو عمران خان صاحب نے گلے لگا لیا ۔ وہ بھول گئے کہ جو زرداری اور نواز شریف کو اس کے انجام سے نہ بچا سکے وہ انہیں کیسے بچائیں گے۔دوسری طرف عوام اتنے بھولے ہیں کہ رشک آتا ہے۔ میرے کل کے کالم ‘طارق باجوہ اور بابوگیری‘ پر اکثر لوگ مذاق اڑاتے پائے گئے کہ جناب کون سے دو سو ارب ڈالرز ؟ جب ہمیں پتا ہی نہیں تھا کہ کتنے سو ارب ڈالرز سوئس بینکوں میں پڑے ہیں‘ تو کہاں سے آتے؟ ان کے نزدیک دو سو ارب ڈالرز کا عدد ہی غلط ہے ۔ میں رشک کرتا ہوں ان فراڈیوں پر جو عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر مزے کرتے ہیں۔ کوئی سمجھنے کو تیار نہیں ہے۔ یہ معاہدہ اس لیے ہورہا تھا کہ سوئس بینک آپ کو پورا ڈیٹا دیں کہ کتنے پاکستانیوں کے سوئس بینکوں میں اکاؤنٹس ہیں اور کتنی رقم پڑی ہے۔ جب معاہدہ ہونے سے پہلے ہی سبوثار کردیا گیا تو پھر آپ کو پورا ڈیٹا کیسے ملتا ؟ آپ نے ڈیٹا لیا ہی نہیں۔ مان لیتے ہیں آپ کو سوئس بینکوں سے ایک ڈالربھی نہ ملتا‘ لیکن کم از کم آپ کو پتاتو چل جاتا کہ کن پاکستانیوں کے کتنے ڈالرز وہاں پڑے ہیں۔ آپ اسی بات پر خوش ہیں کہ ہمارے وہاں ڈالرز نہیں تھے۔ آپ کو کیسے پتا ہے کہ وہاں ڈالرز نہیں تھے؟ اگر نہیں تھے تو پھر سوئس حکام آپ کے ساتھ معاہدہ کیوں کررہے تھے؟ آپ ہونے دیتے معاہدہ‘ چاہے ایک ڈالر بھی واپس نہ آتا۔ اب آپ بتائیں اس ملک اور عوام کو طارق باجوہ جیسے ہوشیار لوگ چونا کیوں نہ لگائیں ‘جو اب کہتے ہیں جانے دیں جناب ”غلطی‘‘ہوگئی تھی ۔ میں نے ”غلطی‘‘ سے دو سو ارب ڈالرز کی سمری کابینہ کو بھیج دی تھی۔ میں نے ”غلطی‘‘ سے ہی دو افسران کی ٹیم مذاکرات کے لیے جنیوا بھیج دی تھی۔ ”غلطی‘‘سے ہی وہ ڈرافٹ روک کر دونوں افسران کو معطل کر کے ان کے خلاف انکوائری شروع کرادی تھی۔
سوال یہ ہے کہ اگر اس وقت طارق باجوہ دو سو ارب ڈالرز کی ”غلطی ‘‘کررہے تھے‘ تو آج وہ گورنر سٹیٹ بینک کے طور پر کیا کچھ نہیں کررہے ہوں گے؟ طارق باجوہ کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے اسد عمر صاحب کو بھی اپنی دو سو ارب ڈالرز کی ”غلطی‘‘سمجھا بجھا کر بیچ دی ا ور اسد عمر صاحب نے خرید بھی لی۔ اسد عمر میرے خیال میں پاکستانی تاریخ کے سب سے Over Rated وزیرخزانہ کے طور پر یاد رکھے جائیں گے‘ جنہیں اپوزیشن میں لگتا تھا کہ وہ پوری دنیا کا فنانس جانتے ہیں لیکن وزیر بنتے ہی لگتا ہے وہ اِدھر اُدھر ٹامک ٹوئیاں مار کر کام چلا رہے ہیں ۔ اور تو اور طارق باجوہ جیسے ایک عام بابو نے انہیں دھوکہ دے دیا۔

اور سنیں ہمارے دوست ارشاد بھٹی نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ ہم چند صحافی نئے وزیراعظم عمران خان صاحب کے اعصاب پر سوار ہیں ۔ عمران خان صاحب نے کہا کہ آئندہ ملاقات میں تین ناقدین: عامر متین‘ ارشد شریف اور رئوف کلاسرا کونہ بلایا جائے‘ سخت سوالات کرتے ہیں ۔ عمران خان بھی بھٹو‘ جنرل ضیا‘ بینظیر بھٹو‘ نواز شریف کی راہ پر گامزن ہورہے ہیں ۔ چلیں مجھے اپنی اور عامر متین کی سمجھ آتی ہے کہ ہم نے عمران خان سے پہلی ملاقات میں سخت سوالات پوچھ لیے تھے جن کے جوابات ان کے پاس نہ تھے اور الٹا میرا مذاق اڑانا شروع ہوگئے تھے۔ لیکن حیرانی ہوتی ہے وہ ارشد شریف سے کیوں ڈر گئے؟ ارشد شریف تو اس دن پوری ملاقات میں خاموش بیٹھا رہا تھا ۔ اس نے تو ایک بھی سوال نہیں کیا تھا ۔

ویسے کمال نہیں جو 22 کروڑ انسانوں کی بڑی ریاستیں چلاتے ہیں‘ وہ اندر سے اتنے کمزور اور ڈرے ہوئے ہیں کہ وہ دو صحافیوں کے سوالات اور ایک صحافی کی خاموشی سے ڈر جاتے ہیں ۔ ایک عرب بادشاہ ایک کالم نگار خشوگی سے ڈر گیا جبکہ ہمارا وزیراعظم عمران خان ارشد شریف کی ڈیڑھ گھنٹے کی طویل خاموشی‘ عامر متین اور میرے دو تین سوالات سے ڈر گیا۔ بس اتنی جرات ‘کردار ‘ ظرف اور
بڑا پن ہوتا ہے ایک بادشاہ اور ایک وزیراعظم کا ؟ بس ۔۔؟

You can find here amar jaleel columns, amar jaleel, amar jaleel latest columns, Haroon ur Rasheed Columns, Nusrat Javed Columns, Ajmal Niazi Urdu Columns, javed chaudhry, Javed Chaudhry Columns, irshad bhatti, sohail warraich, Sohail Warraich, Sohail Warraich  Columns, Ayaz Ameer Urdu Columns Today, Ayaz Ameer Columns, Ayaz Ameer,rauf klasra, rauf klasra columns, jang columns, hassan nisar, hassan nisar columns, orya maqbool jan columns, orya maqbool jan, Mazhar Barlas Urdu Columns Today,  Mazhar Barlas Latest Columns etc.



کوئٹہ سے چمن جائیں تو افغانستان سے چند کلو میٹر پہلے خوجک کا بلند و بالا پہاڑی سلسلہ آتا ہے اس کی ہر بلندی پر برطانوی فوج نے پختہ مورچے بنائے ہوئے ہیں۔ اسی پہاڑ کے اندر ساڑھے تین میل لمبی ریلوے کی سرنگ نکال کر چمن کے شہر کو بقیہ ہندوستان سے ملایا گیا تھا۔ پہاڑ پر بل کھاتی ہوئی سڑک ایک مقام پر آتی ہے جہاں کھڑے ہو کر آپ میلوں دور تک دیکھ سکتے ہیں۔ اس بلندی سے نیچے وسیع و عریض میدان میں چمن کا شہر‘ اس کی ملحقہ آبادیاں، عین افغان سرحد پر واقعہ ریلوے اسٹیشن، ایک جانب سمگلنگ کے سامان کی خریدو فروخت کے لیے بظاہر عارضی لیکن مسلسل اور مستقل ’’رنگین منڈی‘‘ سرحد کے ساتھ ساتھ برساتی پانی کے بہائو کا نالہ اور دور افغانستان میں ’’سپن بلدک‘‘ کا قصبہ ہے۔ یہ قصبہ قندھار میں گزشتہ دنوں قتل ہونے والے جنرل عبدالرزاق اچکزئی کی جائے پیدائش ہے۔ عبدالرزاق عین اس سال پیدا ہوا جب افغانستان میں یادش بخیر سوویت یونین کی افواج اپنی قوت کے نشے میں داخل ہوئی تھیں۔ پورا علاقہ دو بڑے قبیلوں میں تقسیم تھا۔ نورزئی اور اچکزئی۔ دونوں قبائلی طور پر ایک دوسرے سے چپقلش میں تھے۔ اچکزئی قبیلے نے بالعموم افغان حکومت اور روسی افواج کا ساتھ دیا اور نورزئی قبیلے کے لوگ ہجرت کر کے چمن کے ساتھ پہاڑوں کے دامن میں ’’بوغرہ کاریز‘‘ میں آباد ہو گئے۔ 80ء کی دہائی میں دونوں جانب سے ایک دوسرے پر گولہ باری ہوتی اور چمن کا شہر رات بھر اس گھن گھرج میں جاگتا رہتا۔ سپن بلدک میں عبدالرزاق اچکزئی کے قبیلے کے عصمت اللہ مسلم اچکزئی کو اسی طرح نجیب اللہ نے بارڈر کی ملیشیا کا جرنیل مقرر کر رکھا تھا۔ لیکن عصمت کی اصل شہرت سپن بلدک میں قائم اس عقوبت خانے کی وجہ سے تھی جسے وہ ’’قرار گاہ‘‘ کہتا تھا۔ یہاں اس نے کچھ کنٹینر رکھے ہوئے تھے جن میں وہ چمن سے شہریوں کو اغوا کر کے لے جاتا۔ اذیتیں دیتا اور تاوان طلب کرتا۔ اس کے نمائندے پاکستان میں آباد اچکزئی قبیلے کے افراد تھے جو لوگوں سے تاوان لے کر اس تک پہنچاتے اور لوگوں کو چھڑواتے۔1988ء میں روس تو چلا گیا لیکن عصمت جیسے وارلارڈ اور ظالم افراد کی بالادستی قائم رہی۔ مجاہدین کی آپس میں لڑائیوں نے افغانستان میں ان گروہوں کو مختلف علاقوں میں اپنی ظالمانہ بادشاہت قائم کرنے کا موقع فراہم کیا۔ عبدالرزاق اچکزئی نے اپنی پوری زندگی اس ظلم ‘ تشدد‘ اغوا و تاوان اور جرم کے ماحول میں گزاری۔ سپن بلدک اور قندھار میں ان لوگوں کے مظالم کی بازگشت پورے افغانستان اور پاکستان کے سرحدی شہروں میں سنائی دیتی تھی۔ یہ 24جون 1994ء کو جمعہ کا مبارک دن تھا جب پچاس کے قریب افراد ملا محمد عمر کی قیادت میں جمع ہوئے اور قندھار کے اردگرد ایسے لاتعداد اڈوں اور عقوبت خانوں کے خاتمے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ یہ وہ دور تھا جب پورا افغانستان ان جبہ کمندان‘ وار لارڈز اور خود ساختہ جرنیلوں کے ظلم سے سسک رہا تھا۔ راستے میں پہلی دیوار ضلع ڈنڈ اور پنچوائی کی سڑک پر قائم ’’داروخان‘‘ کی چیک پوسٹ آتی تھی۔ جہاں اس نے دو پھاٹک لگا کر ہر گزرنے والے سے بھتہ خوری کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا۔ یہ پہلا معرکہ تھا جو صرف آدھے گھنٹے میں سر کر لیا گیا۔ اگلا بڑا ہدف کمانڈر صالح کی وہ خود ساختہ چیک پوسٹ تھی جس کے ساتھ اس کا بہت بڑا عقوبت خانہ تھا۔ اس کے پاس تین جرگے بھیجے گئے وہ نہ مانا اسے الٹی میٹم دیا گیا اور وقت ختم ہونے کے بعد تین حصوں میں یہ پچاس کا گروہ منقسم ہو گیا۔ دو حصے ملا عبدالقدوس اور ملا ندا محمد کی سربراہی میں براہ راست اس کی طرف بڑھے۔ وہ ساتھیوں سمیت بھاگ نکلا تو راستہ روکے ہوئے تیسرا گروپ ملا عبدالسلام ضعیف کی سربراہی میں موجود تھا، صالح پکڑا گیا۔ اب سپن بلدک کی باری تھی۔11نومبر 1994ء کو صرف چالیس افراد نے اس مضبوط ترین مرکز پر حملہ کیا اور صرف پندرہ منٹ کی جنگ کے بعد وہاں سفید پرچم لہرا دیا۔ اس اڈے سے لاتعداد پاکستانی مغوی اور پاکستان سے اغوا کی گئی ۔ درجنوں گاڑیاں برآمد ہوئیں۔ اس وقت سپن بلدک سے تھوڑی ہی دور تختہ پل کے پاس پاکستان سے جانے والے 35ٹرکوں کو کئی دنوں سے یرغمال بنایا ہوا تھا۔ قندھار کی جانب طالبان کی پیش قدمی شروع ہوئی تو تختہ پل کا قابض بھاگ نکلا۔ صرف دو دن کے بعد 13نومبر کو گورنر قندھار ملا نقیب نے شہر طالبان کے حوالے کر دیا اور امارات اسلامی افغانستان کی بنیاد رکھ دی گئی۔ اس ساری چند روزہ کارروائی میں جو چند ظالم کردار مارے گئے یا جنہیں ظلم و دہشت اور قتل و غارت کے مقدموں پر سزا دی گئی ان میں عبدالرزاق اچکزئی کا والد اور چچا بھی شامل تھے۔ یہ اس وقت صرف پندرہ سال کا تھا اور چھوڑ دیا گیا۔ یہ بھاگ کر پاکستان آ گیا۔ یہاں اس کی دوستی اور تعلق ان لوگوں کے ساتھ ہوا جو پاکستان کے اندر مدتوں سے نفرت کی سیاست کے علمبردار تھے۔ وہ اپنی تقریروں‘ وال چاکنگ اور مجلسی زندگی میں چونکہ پاکستان اور فوج کو براہ راست مطعون نہیں کر سکتے تھے، اس لیے پنجاب کو گالی دیتے تھے۔ شمالی اتحاد اور امریکہ نے اس کی مالی اور عسکری مدد کی اور گیارہ ستمبر 2001ء میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے بعد جب افغانستان پر امریکہ نے حملہ کیا تو قندھار پر قبضے کے لیے گل آغا شیرازی کی سربراہی میں لشکر ترتیب دیا گیا جس میں عبدالرزاق بھی شامل تھا۔ یہ وہی گل آغا شیرازی ہے جس نے ایک لڑکے سے اپنی شادی کے کارڈ تقسیم کئے تھے اور تقریب منعقد کی تھی۔ عبدالرزاق اچکزئی‘ امریکی افواج کا چہیتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کی Comitte on tortureکمیٹی برائے تشدد نے عبدالرزاق کو تشدد‘ قتل اور لاپتہ افراد کا مجرم قرار دے کر اس پر مقدمہ چلانے کے لیے کہا لیکن امریکہ نے اسے لیفٹیننٹ جنرل کی پوسٹ پر قائم رکھا۔ وہ قندھار کا قصاب مشہور تھا اور مسخ شدہ لاشوں کا ذمہ دار کہا جاتا تھا۔ عبدالرزاق اچکزئی کی موت پر امریکہ تو خاموش ہے لیکن بھارت اور ایران کا میڈیا اسے ایک ہیرو بنا کر پیش کر رہا ہے۔ پیٹر مارسیڈن petar marsdenکی تحریریں یاد آ رہی ہیں۔ یہ شخص 1989ء سے 2005ء تک برطانوی امدادی ایجنسیوں کا افغانستان میں کوآرڈی نیٹر رہا ہے۔ اس نے دو کتابیں تحریر کیں۔ پہلی Talban, Ascent to powerاور دوسری Afganistan aid, Armies Empires۔ وہ لکھتا ہے کہ یہ تمام ظالم کمندان قندھار میں طالبان کی فتح کے بعد کابل میں اکٹھے ہو گئے تھے۔ پیٹر مارسیڈن نے ان عقوبت خانوں کی ایک ایسی تصویر کھینچی ہے کہ آدمی خوف سے تھر تھرا اٹھتا ہے۔ عبدالرزاق جس نے سترہ سال کی عمر میں بندوق اٹھائی۔ اسی تشدد کے گر سیکھتا آگے بڑھا اس پر بائیس دفعہ قاتلانہ حملہ ہوا۔ وہ ان تمام قوتوں کا محبوب تھا جو پاکستان سے بغض رکھتی ہیں۔ جو آج اس کا غائبانہ جنازہ پڑھتے ہیں اور دو ملک ایسے ہیں جو اسے ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں۔ لیکن شاید وقت کا پہیہ کسی اور سمت روانہ ہو گیا ہے۔ امریکی جنرل جیفری شدید زخمی ہے لیکن حیرت ہے کہ امریکیوں نے طالبان سے مذاکرات بہتر بنانے کے لیے قطر کے ذریعے طالبان کی بڑی شخصیت ملا عبدالغنی برادر کو پاکستان سے رہا کروایا ہے۔ پاکستان دشمنوں کی بیس سال کی محنت ضائع ہونے والی ہے۔ 

You can find here amar jaleel columns, amar jaleel, amar jaleel latest columns, Haroon ur Rasheed Columns, Nusrat Javed Columns, Ajmal Niazi Urdu Columns, javed chaudhry, Javed Chaudhry Columns, irshad bhatti, sohail warraich, Sohail Warraich, Sohail Warraich  Columns, Ayaz Ameer Urdu Columns Today, Ayaz Ameer Columns, Ayaz Ameer,rauf klasra, rauf klasra columns, jang columns, hassan nisar, hassan nisar columns, orya maqbool jan columns, orya maqbool jan, Mazhar Barlas Urdu Columns Today,  Mazhar Barlas Latest Columns etc.

وزیرخزانہ اسد عمر کے منہ سے یہ سن کر ایک دھچکا لگا کہ سوئس بینکوں کے دو سو ارب ڈالرز کی کہانی اب ختم ہی سمجھیں ۔ارشد شریف نے اسد عمر سے پوچھا کہ ان دو سو ارب ڈالرز کا کیا بنا‘ جو سوئس بینکوں میں پڑے ہوئے تھے؟ اسد عمر نے ایک قہقہہ مارا اور بولے: وہ کہانی ختم ہوگئی۔ ارشد شریف کو جھٹکا لگا اور بولے :آپ تو خود کہتے تھے کہ دو سو ارب ڈالرز سوئس بینکوں سے لائیں گے۔ اسد عمر نے جواب دیا: میرے سوال کے جواب میں ہی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں کنفرم کیا تھا کہ دو سو ارب ڈالرز سوئس بینکوں میں پڑے ہیں‘لیکن اب پتا چلا ہے کہ سب کچھ غلطی فہمی کا نتیجہ تھا ۔ارشد شریف مزید حیران ہوئے اور کہا کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ا س وقت کے چیئر مین ایف بی آر طارق باجوہ نے باقاعدہ ایک سمری کابینہ کو بھیجی تھی‘ جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق سوئس بینکوں میں دو سو ارب ڈالرز پڑے ہیں۔ جب ایف بی آر چیئر مین کہہ رہے ہیں تو پھر غلط کیسے ہوسکتا ہے؟ اسد عمر نے جواب دیا کہ ان کی طارق باجوہ سے بات ہوئی تھی ‘وہ کہتے ہیں کہ بس غلطی ہوگئی تھی۔ ارشد شریف حیرت سے منہ تکتے رہ گئے ۔ اسد عمر کے قہقے میں ہی دو سو ارب ڈالرز غائب ہوگئے۔
اسد عمر اور ارشد شریف کے درمیان ہونے والی اس گفتگو کو سنتے ہوئے میں حیرانی سے سوچتا رہا کہ اس ملک میں دھوکہ دینا کتنا آسان ہے۔ان بابوز کو سیاستدانوں کو گولی دے کر خوش رکھنے کا فن کتنا آتا ہے‘اسی طارق باجوہ نے جب چیئرمین ایف بی آر تھے تو اسحاق ڈار کو بھی خوش رکھا اور اب جب وہ گورنر سٹیٹ بینک ہیں تو اسد عمر کو بھی مطمئن کردیا ہے۔ دو ہزار چودہ میں یہی طارق باجوہ سمری لے کر کابینہ کے پاس گئے اور انکشاف فرمایا کہ ان کے مصدقہ ذرائع کے مطابق سوئس بینکوں میں دو سو ارب ڈالرز پڑے ہیں۔ نواز شریف کابینہ نے منظوری دے دی کہ جائیں سوئس حکام سے بات کریں۔ ایک تین رکنی وفد بنایا گیا‘ جس کی صدارت چیئرمین ایف بی آر طارق باجوہ نے ہی کرنی تھی۔ جس شام اس وفد نے جنیوا جانا تھا‘ اسی شام اچانک طارق باجوہ نے جانے سے انکار کر دیا اور ایک اور افسر اشفاق احمد خان کو اس کا سربراہ بنا کر بھیج دیا ۔ وہ وفد سوئس حکام سے ملا تو انہوں نے فوری رضامندی ظاہر کر دی کہ وہ پاکستان کے ساتھ معاہدہ کرنے کو تیار ہیں‘ جس کے تحت ان تمام پاکستانیوں کے نام اور بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات دیں گے کہ کس کا کتنا پیسہ ان بینکوںمیں پڑا ہے۔ اس مجوزہ معاہدے کے تحت پاکستان اپنے ان شہریوں کو نوٹس دے کر پوچھ سکتا تھا کہ ان کے سوئس بینکوں میں جو پیسے پڑے ہیں‘وہ کہاں سے آئے اور کیسے سوئس بینکوں میں بھیجے گئے ؟ کیا انہوں نے انہیں گوشواروں میں ظاہر کیا اور کتنا ٹیکس دیا ؟ اگر وہ شہری تفصیلات دینے میں ناکام رہتے ہیں تو حکومت پاکستان ان پر کل ڈالروں کا تیس فیصد ٹیکس اور تیس فیصد جرمانہ عائد کر کے سوئس حکام کو بتا سکتی تھی اور وہ ساٹھ فیصد رقم اس پاکستانی کے بینک اکاؤنٹ سے کاٹ کر پاکستان کو دے سکتے تھے۔
اس معاہدے کے بدلے سوئس حکام نے کہا کہ ہمیں پاکستان موسٹ فیورڈ نیشن کا درجہ دے اور جو سوئس کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کررہی ہیں‘ ان کے پرافٹ پر دس فیصد کی بجائے پانچ فیصد ٹیکس لگایا جائے۔ اس پر پاکستانی وفد خوشی سے جھوم اٹھا‘ کیونکہ اگر ٹیکس پر رعایت دی جاتی‘ تو وہ تقریباً ایک ڈیرہ لاکھ ڈالرز سالانہ بنتی تھی‘ کیونکہ اس وقت سوئس کمپنیوں کی پاکستان میں سرمایہ کاری دو ڈھائی سو ملین ڈالرز سے زیادہ نہ تھی۔ سوئس وفد کے سربراہ نے پاکستانی ٹیم کو بتایا کہ وہ پاکستان سے خاص محبت رکھتے ہیں‘ کیونکہ ان کا بیٹا وہیں پر ہوا تھا اور وہ اسے پاکستان کا حصہ سمجھتے ہیں۔ پاکستانی وفد کو کہا گیا‘ وہ اگلے تین ماہ میں اس معاہدے پر دستخط کرلیں‘ کیونکہ تین ماہ بعد وہ ریٹائر ہورہا ہے۔ جب پاکستانی وفد واپس پہنچا تو ایک بم شیل ان کے انتظار میں تھا۔ طارق باجوہ نے ایک نوٹ لکھ کر اسحاق ڈار کو بھیجا کہ انہیں یہ ڈرافٹ معاہدہ منظور نہیں ہے‘ کیونکہ اس سے پاکستان کو ٹیکس کی مد میں کچھ رعایت کرناپڑے گی ‘لہٰذا آپ جنیوا میں پاکستانی سفارت خانے کو کہیں کہ وہ سوئس حکام کو بتائیں کہ پاکستان ابھی اس معاہدے پر دستخط کے لیے تیار نہیں‘ مزید مذاکرات کی ضرورت ہے۔ سارا بہانہ اور مقصد اس
معاہدے کو سبوتاژ کرنا تھا۔ یوں جو معاہدہ ہونے والا تھا‘ جس کے تحت پاکستان کے شہریوں کے اکاؤنٹس کی تفصیلات مل سکتی تھیں‘ وہ وہیں روک دیا گیا اور اگلے چار سال تک‘ اسحاق ڈار اور طارق باجوہ دور میں دوبارہ مذاکرات نہ ہوئے۔ اس دوران جن پاکستانیوں کے ڈالرز ان سوئس بینکوں میں پڑے تھے ‘ان سب کو پورا موقع فراہم کیا گیا کہ جن کے اربوں ڈالرز وہاں پڑے ہیں وہ کہیں اور شفٹ کر لیں ۔ ان میں آصف زرداری کے ساٹھ ملین ڈالرز بھی شامل تھے۔
سوئس حکام کو یہ بہانہ دیا گیا کہ جو ایف بی آر افسران ان سے ڈرافٹ معاہدہ کرنے آئے تھے وہ جونیئر تھے اور ان کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ اس پر بس نہ کی گئی‘ بلکہ جو افسران ڈرافٹ معاہدہ کر کے آئے تھے‘ انہیں سبق سکھانے کا پروگرام بنایا گیا۔ اس وفد کے سربراہ اشفاق احمد خان حیران رہ گئے جب انہیں ایک شو کاز نوٹس دیا گیا کہ وہ کس حیثیت میں سوئٹزرلینڈ ڈرافٹ معاہدہ کرنے گئے تھے؟ اس افسر کو فورا ًکھڈے لائن لگا کر چارج شیٹ کر دیا گیا۔ ساتھ ہی ایک اور خاتون افسر کو بھی سزا دے کر ایک انکوائری ٹیم بنا دی گئی کہ ان افسران کی انکوائری کریں‘ کیونکہ انہوں نے سوئس حکام سے ڈرافٹ معاہدہ تیار کیا۔ اس انکوائری میں جن سینئر افسران کو مقرر کیا گیا تھا‘ انہوں نے ان ایف بی آر افسران کو کلیئر کر کے کہا کہ ان کا کیا قصور ہے‘ انہیں تو طارق باجوہ نے خود ہی جنیوا بھیجا تھا ۔ انکوائری افسر پر بہت دبائو ڈالا گیا‘ لیکن اس نے وفد کے افسران کو کلیئر کر دیا۔ اشفاق احمد خان نے جو دس صفحات پر اپنا جواب انکوائری ٹیم کو جمع کرایا وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس میں انہوں نے طارق باجوہ اور دیگر افسران کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں کہ آپ نے خود ہمیں بھیجا اور اب خود ہی ہمارے خلاف کارروائی کررہے ہیں۔ ہمارا قصور یہ تھا کہ ہم پاکستان کے دو سو ارب ڈالرز واپس لانے کے لیے کوششیں کررہے تھے۔ اشفاق احمد خان نے اپنے اس جواب میں تفصیل کے ساتھ بتایا کہ اس معاہدے سے پاکستان کو کتنا بڑا فائدہ ہونا تھا۔ اس دوران طارق باجوہ کو اسحاق ڈار نے انعام کے طور پر گورنر سٹیٹ بینک لگا دیا تو ڈار نے اپنے ایک اور سیکرٹری طارق پاشا‘ جو اس پورے کھیل میں شامل تھے ‘کو چیئرمین ایف بی آر لگا دیا‘ تاکہ اس معاہدے پر کام نہ ہوسکے۔ جب یہ سب کہانی میرے پاس پہنچی اور پوری فائل پڑھی تو گورنر سٹیٹ بنک طارق باجوہ کو فون کیا اور پوچھا کہ انہوں نے یہ سب کیسے کیا ؟ طارق باجوہ نے سارا الزام عمران خان پر ڈال دیا اور کہا کہ یہ معاہدہ نہ ہونے کی وجہ عمران خان کا دھرنا تھا ۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا بھلا وہ کیسے؟ تو طارق باجوہ بولے :میں تو جانے کو تیار تھا‘ لیکن عمران خان نے ہمارے دفتر کے ساتھ ہی دھرنا دیا ہوا تھا۔ اس دھرنے کی وجہ سے میں دفتر سے نہیں نکل پاتا تھا ‘لہٰذا خود نہیں گیا اور دوافسران کو بھیج دیا۔ میں نے طارق باجوہ سے پوچھا :تو اگر ہر طرف دھرنے کے لوگ تھے ‘توپھر افسران کیسے نکل کر ائیرپورٹ پہنچے اور جنیوا چلے گئے؟ وہ بولے :وہ پچھلے دروازے سے گئے تھے‘ تو آپ کیوں پچھلے دروازے سے نکل کر نہ چلے گئے؟ طارق باجوہ بولے: دیکھیں ناں وہ سوئس ہم سے پانچ فیصد ٹیکس میں رعایت مانگ رہے تھے۔ میں نے کہا: جو آپ کو دو سو ارب ڈالرز تک رسائی دے رہے تھے‘ وہ اگر پانچ فیصد رعایت مانگ رہے تھے تو کون سا آسمان ٹوٹ پڑنا تھا؟طارق باجوہ کا کمال دیکھیں‘ خود جونیئر افسران جنیوا بھیج کر خود ہی ان پر اعتراض کر کے معاہدہ روک دیا اور بعد میں انہی کی انکوائری شروع کرادی۔
جس نے وہ دو سو ارب ڈالرز ڈبوائے وہ اسحاق ڈار کے دور میں چیئرمین ایف بی آر تھا اور اسد عمر کے دور میں گورنر سٹیٹ بینک ہے۔ یہ بابوز ہر دور میں سیاستدانوں کو گولی دے لیتے ہیں ۔ اُس وقت طارق باجوہ نے اسحاق ڈار کو راضی کرنا تھا‘ لہٰذا اس نے دو سو ارب ڈالرز کا معاہدہ نہ ہونے دیا اور سارا ملبہ عمران خان اور اس کے دھرنے پر ڈال دیا اور آج اپنی نوکری بچانے کے لیے اسد عمر کو کہانی سنا دی کہ سمری بھیجنا چھوٹی سی غلطی تھی ۔اسد عمر نے بھی ایک قہقہے میں اس ”چھوٹی‘‘سی غلطی کو اڑا دیا ۔کچھ زیادہ نہیں وہ غلطی اس قوم کو دو سو ارب ڈالرز میں پڑی۔ طارق باجوہ کی نوکری اسحاق ڈار دور میں بھی پکی تھی اور اسد عمر دور میں بھی پکی ہے۔ رند کے رند رہے‘ ہاتھ سے جنت نہ گئی۔

You can find here amar jaleel columns, amar jaleel, amar jaleel latest columns, Haroon ur Rasheed Columns, Nusrat Javed Columns, Ajmal Niazi Urdu Columns, javed chaudhry, Javed Chaudhry Columns, irshad bhatti, sohail warraich, Sohail Warraich, Sohail Warraich  Columns, Ayaz Ameer Urdu Columns Today, Ayaz Ameer Columns, Ayaz Ameer,rauf klasra, rauf klasra columns, jang columns, hassan nisar, hassan nisar columns, orya maqbool jan columns, orya maqbool jan, Mazhar Barlas Urdu Columns Today,  Mazhar Barlas Latest Columns etc.

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget