کالم لسٹ "Orya Maqbool Jan"


دنیا بھر کا جدید ‘ سیکولر ‘ لبرل اور مغربی تہذیب کا پرستار طبقہ اس قدر متعصب اور جانبدار ہے کہ اس جدید مغربی تہذیب کے ہر ادارے کی بڑی سے بڑی برائی پر چپ سادھ لیتا ہے۔ وہ اس برائی کو افراد کی بددیانتی اور چوری پر محمول بتاتا ہے‘ لیکن بحیثیت مجموعی نہ اس سسٹم کو برا کہتا ہے اور نہ اس ادارے کو جو اس سسٹم نے جنم دیا ہے۔ آج کی جدید جمہوری سیکولر‘ لبرل اور کارپوریٹ معیشت جن بنیادوں پر قائم ہے وہ 1694ء میں بنک آف انگلینڈ کے چارٹر سے جنم لینے والا سودی بینکاری نظام ہے۔ اس پورے نظام نے آکٹوپس کی طرح پوری دنیا کی حکومتوں‘ کاروبار زندگی اور معیشتوں کو گھیرے میں لیا ہوا ہے۔ ایک عام آدمی تو اس بینکاری نظام سے صدیوں پہلے معاشرے میں موجود سود خور سرمایہ داروں کے شکنجے میں تھا‘ لیکن جدید بینکاری نے سود کو سرکاری سرپرستی میں جس طرح سکہ رائج الوقت بنا کر ہر ملک کے بچے بچے سے سود وصول کرنے کا راستہ نکالا وہ اس سارے سودی نظام کے قائم کرنے والوں کی عیاری کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ یورپ جس کی تاریخ جنگوں سے عبارت ہے، جہاں پوری صدی پر محیط جنگیں بھی ہوتی رہی ہیں۔ ان جنگوں میں سے ایک جنگ ’’بڑے اتحاد کی جنگ‘‘ War of the Grand Allianceکہلاتی ہے۔ یہ آٹھ سالہ جنگ جو 1689ء میں شروع ہو کر 1697ء میں ختم ہوئی‘ فرانس کے بادشاہ لوئی15کے توسیع پسندانہ حملوں کے خلاف برطانیہ اور ولندیزی متحدہ صوبہ جاتUnited Provinces of Nether Landsکے باہمی اتحاد کے ساتھ تھی۔ اس جنگ میں انگلینڈ کو جب سرمائے کی ضرورت پیش آئی تو یہودی سرمایہ داروں کا سرخیل چارلس مونٹیگو Charles Montagueاور اس کے ساتھیوں نے 1692ء میں حکومت برطانیہ کو قرض فراہم کیا اور جس طرح آج کل آئی ایم ایف شرائط عائد کرتا ہے ویسے ہی یہ شرط عائد کی گئی کہ جو قرضہ حکومت لے رہی ہے‘ زر ضمانت کے طور پر شراب کی تیاری اور فروخت پر جو ٹیکس حاصل کیا جاتا ہے اس سے قرضے کی اصل زر اورسود ادا کیا جائے گا۔ یہ انسانی تاریخ کا پہلا سودی قرضہ تھا جو کسی حکومت نے حاصل کیا اور آج پوری دنیا اس جال میں پھنسی ہوئی ہے۔ اس قرضے کو ایک نظام میں جکڑنے کے لیے برطانوی پارلیمنٹ میں Tonnage Act 1694منظور ہوا جس کے تحت پارلیمنٹ نے جہاں بادشاہ کو شراب کے ڈرم برآمد کرنے والے جہازوں اور عام صارف کے لیے فروخت ہونے والی بوتلوں پر ٹیکس لگانے کی منظوری دی، وہیں بنک آف انگلینڈ کے قیام کی 199 سالہ منظوری بھی دی گئی یعنی 1694 سے لے کر 1892ء تک یہ ایک کارپوریشن کے طور پر کام کرے گا اور اس کے پرائیویٹ کنٹرول کو قانونی تحفظ حاصل ہو گا۔ یوں پوری برطانوی قوم کا بچہ بچہ مقروض ہو گیا اور بغیر کچھ جانے بوجھے وہ ٹیکس ادا کرنے لگا جو اس بنک کو سود کے طور پر ادا کئے جاتے تھے یعنی سرکاری ڈنڈے اور سرپرستی سے عام آدمی کو اس کی مرضی کے غیر مقروض بنایا گیا اور پھر اس کی مرضی کے بغیر اس سے سود بھی وصول کیا جانے لگا۔ اس دن سے آج تک پوری دنیا اس سودی گھن چکر میں پھنسی ہوئی ہے۔ اس کے بعد ان بینکاروں نے اس سودی معیشت کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک اور منصوبے پر کام شروع کیا۔ بنک کے قیام سے پہلے دنیا کے ہر ملک میں ایک ٹکسال (Mint)ہوتا تھا جس میں سونے اور چاندی کے سکے ڈھالے جاتے تھے۔ چارلس مونٹیگو جس کو اس وقت برطانیہ نے اپنے بہت بڑے خطاب ارل آف ہیلی فیکس Earl of Halifaxسے نواز دیا تھا، یہ خطاب پوری تاریخ میں صرف چار افراد کو دیا گیا ہے اور چارلس مونٹیگو ان میں پہلا تھا اس کی زیر کفالت دنیائے سائنس کا بہت بڑا کردار آئزک نیوٹنIssac Newtonبھی تھا جس کو اس نے اپنے سرمائے کی مدد سے بہتر زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیا۔ نیوٹن کی سوتیلی بہن کا انتقال ہوا تو اس کہانی میں ایک دلفریب و دلربا کردار کی آمد ہوئی جو نیوٹن کی بھانجی کیتھرین بارٹون Catherine Bartonتھی۔ یہ اپنے حسن و شباب ‘ ناز و انداز اور دلفریبی کی وجہ سے شمع محفل بن گئی اور پھر چارلس مونٹیگو نے اسے اپنے گھر کی نگہداشت کے لیے رکھ لیا۔ جب کہ مؤرخین اسے اس کی کنیز Mistressبتاتے ہیں۔ چارلس مونٹیگو نے اس خاتون کے رکھ رکھائو اور تہذیب و شائستگی سے مزین خوبصورتی کو بہت استعمال کیا اس نے دونوں کو لندن بھیجا جہاں نیوٹن کے سائنسی علم کی دھاک اور کیتھرین کے حسن و جمال نے تمام ارباب اختیار کو گرویدہ بنا لیا۔ ایسے میں چارلس مونٹیگو کی سفارش نے اپنا کام کر دکھایا اور فزکس کے اس سائنس دان کو ٹکسال کا سربراہ (Master of Mint)بنا دیا گیا۔ یہ تینوں لندن کے مشہور کٹ کیٹ Kit katکلب کے ممبر بھی بن گئے جو بنایا ہی اس لیے گیا تھا کہ سیاسی اور حکومتی افراد پر غلبہ حاصل کیا جائے۔یہاں سے بینکاری اور سودی نظام کے عیارانہ منصوبے کا آغاز ہوا۔ صدیوں سے انسانوں نے چاندی اور سونے کے سکوں کے درمیان ایک شرح مقرر کی تھی اور وہ یہ تھی کہ ایک سونے کا سکہ چاندی کے بیس سکوں کے برابر ہے لیکن نیوٹن نے اس شرح کو بدل دیا اور اسے ایک کے مقابلے میں 15کر دیا۔ یوں مارکیٹ میں سونا سستا اور چاندی مہنگی ہو گئی اور ان قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومتی اختیار استعمال کیا گیا۔ دوسری جانب بینک آف انگلینڈ کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ اپنی طرف سے کاغذ کے نوٹ جاری کر سکے گا جسے Promissory Noteکہتے تھے۔ بینکوں کے پاس لوگ سونا رکھتے اور وہ اس کے بدلے میں یہ کاغذی نوٹ جاری کرتے۔ سونے اور چاندی کی قیمتوں میں ردوبدل شروع ہوا تو بازار میں کاغذ کا نوٹ سکہ رائج الوقت بننے لگا۔ ایک ایسا سکہ جس کی بظاہر کوئی قدرو قیمت نہ تھی ایک کاغذ پر دس سے لے کر پانچ ہزار تک جو چاہے لکھ دو وہی قیمت ہے جس کے بدلے کسی سے جو چاہے خرید لو۔ چالاکی ‘ عیاری ‘ مکاری‘ حسن‘ شباب اور عشوہ و ادا کے اس کھیل سے جو سودی نظام مرتب ہوا‘ آج وہ دنیائے اقتدار کا اصل حاکم ہے۔ دنیا بھر میں پینتالیس ہزار کارپوریشنیں ہیں جنہیں پانچ سو بنیادی (Core)کارپوریشنیں کنٹرول کرتی ہیں اور انہیں دنیا میں موجود بائیس بنک اسی مصنوعی ‘ جعلی ‘ کاغذی کرنسی کے ہیر پھیر سے سرمایہ فراہم کرتے ہیں، یہی کاغذی سرمایہ پارٹیوں کو الیکشن فنڈ دیتا ہے یہی بینکاری نظام ہے جو دنیا کے چور حکمرانوں کی لوٹی ہوئی دولت کو تحفظ دیتا ہے۔ یہی حکومتوں کو قرض دیتا ہے اور ان کی قوت سے عوام پر ٹیکس لگا کر زبردستی سود وصول کرواتا ہے۔ یہ نظام ڈوبتا ہے تو کروڑوں کھاتے داروں کا سرمایہ ڈوب جاتا ہے۔ صرف دس سال پہلے 2008ء میں عام لوگوں کے کئی سو ارب ڈالر ڈوب گئے اسی بددیانت ‘ چور بازار اور سود خور بینکاری نظام کی وجہ سے قلفی والے‘ ریڑھی والے ‘ ویلڈر اور دیگر لوگوں کے اکائونٹ سے اربوں روپے برآمد ہوتے ہیں اور یہ سودی نظام اس ساری چور بازاری کو راستہ بھی دیتا ہے اور ان کا تحفظ بھی کرتا ہے۔ دنیا بھر کا جدید سیکولر ‘ لبرل‘ مغربی تہذیب کا پرستار طبقہ کس قدر متعصب ہے کہ وہ ان برائیوں‘ چوریوں اور ڈاکوئوں کا ذمہ دار زرداری‘ نواز شریف‘ پنوشے‘ مارکوس کو بتاتے ہیں لیکن کوئی اس سودی نظام کو گالی نہیں دیتا۔ اگر یہ سودی بنکاری نظام نہ ہوتا تو کیا ایسے منی لانڈرنگ ہو سکتی تھی ۔ ایسے سوئس اکائونٹس کھل سکتے تھے۔ ایسے حکمران اپنی چوریاں چھپا سکتے تھے۔ لیکن کوئی سود بینکاری کو برا نہیں کہے گا کہ یہ ان کی جمہوری سیکولر‘ لبرل معاشرت کو سرمایہ فراہم کرتا ہے۔ 



زمین میں آفتاب دفن کردیا اوریا مقبول جان کالمساری زندگی ان کے سامنے مؤدب کھڑے ہو کر گزار دو، رات دن ان کے درجات کی بلندی اور مغفرت کی دعائیں کرتے رہو لیکن محسوس یہ ہوتا ہے کہ ان کے احسانات کا قرض نہیں اتر سکے گا۔ ہدایت کے راستے پر انگلی پکڑ کر کھڑا کرنے کا احسان اتنا بڑا ہے کہ میں اس شخص کی تعریف میں عمر بھر بھی لکھتا رہوں تو یہ قرض ادا نہ ہو سکے۔ یقینا انسان ناشکرا ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ’’لایشکراللہ من لا یشکرالناس، جو انسانوں کا شکرگزار نہیں ہوتا، وہ اللہ کا شکرگزار نہیں ہوسکتا (بخاری، ترمذی، ابودائود)۔ یہاں معاملہ یہ آن پڑا ہے کہ مجھے جس شخص کے اس دنیا سے گزر جانے کا نوحہ لکھنا ہے، وہ تو مجھے اللہ کے شکر گزار ہونے کے راستے پر ڈالنے والا تھا۔ یوں لگتا ہے زمین میں ایک آفتاب کو دفن کردیا۔ جلالپور جٹاں کی خاک کس قدر معتبر ہے کہ جب تک وہ شخص اس زمین پر چلتا رہا، ہدایت کے چراغ روشن کرتا رہا اور پھر اسی زمین کی تاریکیوں میں اپنے ایمان کی روشنی لے کر روز حشر ایمان کی روشنی سے مزین چہرے کے ساتھ اٹھنے کے لیے ابدی نیند سو گیا، ایسی نیند جو ہم سب کا مقدر ہے۔ مدینہ میں جنت البقیع میں پہلے مدفون صحابی سیدنا عثمان بن مظعون کو رسول اکرم ﷺ دفن کرنے لگے تو رونے لگ گئے، اتنا روئے کہ آپ کے آنسو سیدنا عثمان کی گال پر بہنے لگ گئے، آپ نے ان کی گال پر بوسہ دیا اور ارشاد فرمایا ’’ اے ابو سائب! تم اس دنیا سے اس طرح چلے گئے کہ تم نے اس کی کسی چیز سے تعلق نہ رکھا۔‘‘ فرمایا، ’’تم ہم سے پہلے اللہ کے حضور جانے والوں میں ہو اور ہم سب بھی تمہارے بعد اسی راستے کے مسافر ہیں۔‘‘ سب اس زمین پہ خاک میں جانے کو آئے ہیں لیکن خوش نصیب وہ ہیں کہ زمین جنہیں آغوش میں سمیٹتے ہوئے فخر کرے، انبساط سے جھوم اٹھے۔ شیخ ظہور احمد… کتنے لوگ ہیں جو اس ملک میں اس شخص کو جانتے ہوں گے لیکن کتنے ایسے میری طرح کے بھٹکے ہوئے، گم گشتہ راہ نوجوان تھے جنہوں نے شیخ صاحب کے حلم، علم، فہم سے ہدایت کا راستہ پایا اور آج ان کی ہر نیکی شیخ صاحب کے اعمال کے ترازو میں مسلسل اضافہ کر رہی ہوگی۔ بہت کم لوگ اس کشمیری شیخ کی جادو بھری شخصیت کو جانتے ہیں۔ علامہ اقبال کو جب سر کا خطاب دیئے جانے لگا تو انہوں نے کہا سب سے پہلے میرے استاد مولوی میر حسن کو شمس العلماء کا خطاب دو، پھر میں سر کا خطاب لوں گا کیونکہ آج میں جو کچھ ہوں اس مسجد کے چٹائی نشین استاد مولوی میر حسن کی بدولت ہوں۔ اس سے پہلے کوئی میر حسن کو نہیں جانتا تھا لیکن سیالکوٹ کے محلے کی مسجد کا یہ استاد آج دنیا بھر میں اس حوالے سے جانا جاتا ہے کہ اگر اس کا علم اور تربیت نہ ہوتی تو آج اقبال ہمارے سامنے ایسے جلوہ گر نہ ہوتے۔ میری کیا نسبت اور کیا قیام کہ میں اقبال سے موازنہ بھی اپنا کر سکوں، لیکن اگر شیخ ظہور احمد کی ذات نہ ہوتی تو میں آج الحاد کی بھول بھلیوں میں گم ہوتا، کسی انقلابی تحریک کا ایندھن بن گیا ہوتا یا پھر سوویت یونین کی موت کے بعد کسی این جی او کے فرد کی حیثیت سے امریکہ کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہو کر تشکر کی موم بتیاں جلا رہا ہوتا۔ ایسا شخص تو میرے لیے مولوی میر حسن سے بھی زیادہ محسن اور معتبر ہے۔ کیا سفر تھا۔ پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو سوائے اللہ کے کرم اور مہربانی کے اور کچھ نظر نہیں آتا۔ میرے والد بہت پریشان تھے۔ مولوی خدا بخش کا پوتا، وہ مولوی خدا بخش جسے مرشد نے حکم دیا کہ مکیریاں میں اپنی کئی مربعے زمین اور جائیداد چھوڑو، مسجد و مدرسہ کسی اور کے سپرد کرو اور اپنے بھائی مولوی احمد بخش کے ساتھ جا کر امرتسر میں مسجد خیرالدین کی بنیاد رکھو۔ 1870ء میں جس مسجد کی بنیاد رکھی، آج اسی کے دروازے پر دفن ہیں۔ وہی مسجد جس میں عطاء اللہ شاہ بخاری اور انور شاہ کشمیری جیسے خطابت اور علم کا جوہر دکھاتے رہے۔ وہ دادا جس کے ہاتھ پر علامہ اقبال کے دوست اور اسلامیہ کالج کے پرنسپل مولوی حاکم علی نے اسلام قبول کیا۔ مکیریاں کے سردار پنجاب سنگھ کا بیٹا حاکم سنگھ مولوی حاکم علی بن گیا۔ جسے بیک وقت علامہ اقبال اور مولانا احمد رضا خان کی محبت اور صحبت حاصل رہی۔ اس دادا کا پوتا جس کا نام باپ نے ’’اوریا‘‘ رکھا کہ عبرانی میں اسی کا مطلب ’’اللہ کا نور‘‘ ہے، ملحد ہو گیا ہے جس نے اس کائنات کو تخلیق کیا، اس ہستی کے وجود سے منکر ہوگیا ہے اور وہ بھی صرف بارہ سال کی عمر میں میٹرک کے امتحان کے بعد جو چند ماہ فرصت کے ملے اس میں اپنے زمانے کے مقبول فلسفے کمیونزم کا مطالعہ کیا، ڈ ارون کی تھیوری اور کارل مارکس اور اینگلز کی کتابوں کا خمار ایسا تھا کہ دنیا بدلنے کی دھن سر پر سوار ہو گئی۔ کالج میں داخلہ، ایک دو استاد ایسے ملے جو فلسفہ اور نفسیات پڑھاتے تھے، انہوں نے دلیلوں کی بھول بھلیوں میں خدا کے وجود سے انکار کا بیج بو دیا۔ والد پریشان رہتے، متذبذب، میرے طرف دیکھتے اور پھر آسمان کی جانب منہ کر کے میری ہدایت کی دعا فرماتے، بس اتنا کہتے، تم بھٹک لو، جتنا بھٹکنا چاہتے ہو، واپس آئو گے، اس لیے کہ میں نے تمہیں درود پاک کی لوریاں دے کر پالا ہے۔ والد صاحب کے لہجے کا تیقن اور دعائوں پر اعتماد مجھے عجیب لگتا تھا۔ یہ زمانہ تھا جب تمام انقلابی، کمیونسٹ انقلاب لانے کے لیے پیپلزپارٹی میں جمع تھے۔ بھٹو کی شکل میں انہیں مائوزے تنگ نظر آتا تھا، میں بھی ان میں شامل تھا۔ الیکشن نزدیک آئے تو بھٹو کی ساری سیاست جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی چوکھٹ کے سامنے سجدہ ریز ہو گئی۔گجرات کے سرمایہ دار مشتاق پگانوالہ کو پارٹی کا صدر بنایا تو عثمان فتح کی قیادت میں ہم انقلابیوں کا سارا قافلہ بھٹو کو خیرآباد کہہ گیا۔ اسی دن گجرات کے زمیندارہ بینک کے ہال میں پرویز کا لیکچر تھا جیسے آج کا سیکولر غامدی صاحب کو پسند کرتا ہے، ویسے اس دور کے انقلابی پرویز کو پسند کرتے تھے۔ الیکشن ہوا، ملک دو لخت ہوگیا، وہ رات مجھ پر بڑی قیامت کی تھی۔ اس شکست نے لگتا تھا مجھ پر بہت اثر کیا، جس کی میں خود وجہ آج تک سمجھ نہ سکا۔ بھٹو نے بنگلہ دیش کو منظور کرنے کی مہم شروع کی تو اسی وقت صرف جماعت اسلامی بنگلہ دیش نامنظور مہم چلا رہی تھی۔ سرکلر روڈ پر جماعت اسلامی کے دفتر کی سیڑھیاں میں نے کیا چڑھیں، دنیا ہی بدل گئی۔ بنگلہ دیش نامنظور مہم کے جلسوں جلوسوں میں جاتا لیکن الحاد پر قائم تھا۔ میرے ایک اور محسن سید محمود ضیغم اسی دفتر میں ’’الحدید‘‘ اخبار نکالتے تھے۔ ان کے دفتر میں بیٹھ کرجماعت اسلامی اس کے نظریے اور مولانا مودودی پر بے نقط سناتا اور وہ مسکراتے ہوئے کہتے، تمہارے لیے چائے منگوائی ہے۔ اس مسکراہٹ میں اس خوبصورت کشمیری شیخ ظہور احمد کی مسکراہٹ ایک دن شامل ہو گئی۔ گفتگو سے میرا مرض بھانپ گئے، سمجھ گئے فلسفے نے بگاڑا ہے۔ مولانا مودودی کے دو مضامین پڑھنے کو دیئے، ایک ’’عقلیت کا فریب‘‘ اور دوسرا ’’سلامتی کاراستہ‘‘۔ پتہ نہیں مجھے کیا ہوا کہ میں مضمون پڑھتا جاتا تھا اور آنکھوں سے آنسوئوں کی جھڑی تھی کہ بہے جا رہی تھی۔ اگلے دن میں اس کشمیری شیخ کے خوبصورت چہرے کی زیارت کو بے تاب تھا، میری دنیا بدل چکی تھی۔ میرے جیسے چراغوں کا اس سورج کے سامنے کیا جلنا۔ یوں تو سب کا مقدر یہ خاک ہے لیکن اس روشن چہرے والے شیخ ظہور کو زمین نے کسی سرخوشی سے قبول کیا ہوگا۔ عمر بھر جس شخص کے لیے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے رکھوں تو احسان ادا نہ ہو سکے۔ چشم تصور میں سوچتا ہوں کہ جب والد گرامی کی روح شیخ صاحب کا استقبال کرنے کے لیے بڑھی ہو گی تو شاید پہلا فقرہ یہ ہوگا، آپ کا شکریہ قرض تھا، آپ نے میرے بیٹے کو گمراہی کے تاریک غار سے نکالا۔ 

ساری زندگی ان کے سامنے مؤدب کھڑے ہو کر گزار دو، رات دن ان کے درجات کی بلندی اور مغفرت کی دعائیں کرتے رہو لیکن محسوس یہ ہوتا ہے کہ ان کے احسانات کا قرض نہیں اتر سکے گا۔ ہدایت کے راستے پر انگلی پکڑ کر کھڑا کرنے کا احسان اتنا بڑا ہے کہ میں اس شخص کی تعریف میں عمر بھر بھی لکھتا رہوں تو یہ قرض ادا نہ ہو سکے۔ یقینا انسان ناشکرا ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ’’لایشکراللہ من لا یشکرالناس، جو انسانوں کا شکرگزار نہیں ہوتا، وہ اللہ کا شکرگزار نہیں ہوسکتا (بخاری، ترمذی، ابودائود)۔ یہاں معاملہ یہ آن پڑا ہے کہ مجھے جس شخص کے اس دنیا سے گزر جانے کا نوحہ لکھنا ہے، وہ تو مجھے اللہ کے شکر گزار ہونے کے راستے پر ڈالنے والا تھا۔ یوں لگتا ہے زمین میں ایک آفتاب کو دفن کردیا۔ جلالپور جٹاں کی خاک کس قدر معتبر ہے کہ جب تک وہ شخص اس زمین پر چلتا رہا، ہدایت کے چراغ روشن کرتا رہا اور پھر اسی زمین کی تاریکیوں میں اپنے ایمان کی روشنی لے کر روز حشر ایمان کی روشنی سے مزین چہرے کے ساتھ اٹھنے کے لیے ابدی نیند سو گیا، ایسی نیند جو ہم سب کا مقدر ہے۔ مدینہ میں جنت البقیع میں پہلے مدفون صحابی سیدنا عثمان بن مظعون کو رسول اکرم ﷺ دفن کرنے لگے تو رونے لگ گئے، اتنا روئے کہ آپ کے آنسو سیدنا عثمان کی گال پر بہنے لگ گئے، آپ نے ان کی گال پر بوسہ دیا اور ارشاد فرمایا ’’ اے ابو سائب! تم اس دنیا سے اس طرح چلے گئے کہ تم نے اس کی کسی چیز سے تعلق نہ رکھا۔‘‘ فرمایا، ’’تم ہم سے پہلے اللہ کے حضور جانے والوں میں ہو اور ہم سب بھی تمہارے بعد اسی راستے کے مسافر ہیں۔‘‘ سب اس زمین پہ خاک میں جانے کو آئے ہیں لیکن خوش نصیب وہ ہیں کہ زمین جنہیں آغوش میں سمیٹتے ہوئے فخر کرے، انبساط سے جھوم اٹھے۔ شیخ ظہور احمد… کتنے لوگ ہیں جو اس ملک میں اس شخص کو جانتے ہوں گے لیکن کتنے ایسے میری طرح کے بھٹکے ہوئے، گم گشتہ راہ نوجوان تھے جنہوں نے شیخ صاحب کے حلم، علم، فہم سے ہدایت کا راستہ پایا اور آج ان کی ہر نیکی شیخ صاحب کے اعمال کے ترازو میں مسلسل اضافہ کر رہی ہوگی۔ بہت کم لوگ اس کشمیری شیخ کی جادو بھری شخصیت کو جانتے ہیں۔ علامہ اقبال کو جب سر کا خطاب دیئے جانے لگا تو انہوں نے کہا سب سے پہلے میرے استاد مولوی میر حسن کو شمس العلماء کا خطاب دو، پھر میں سر کا خطاب لوں گا کیونکہ آج میں جو کچھ ہوں اس مسجد کے چٹائی نشین استاد مولوی میر حسن کی بدولت ہوں۔ اس سے پہلے کوئی میر حسن کو نہیں جانتا تھا لیکن سیالکوٹ کے محلے کی مسجد کا یہ استاد آج دنیا بھر میں اس حوالے سے جانا جاتا ہے کہ اگر اس کا علم اور تربیت نہ ہوتی تو آج اقبال ہمارے سامنے ایسے جلوہ گر نہ ہوتے۔ میری کیا نسبت اور کیا قیام کہ میں اقبال سے موازنہ بھی اپنا کر سکوں، لیکن اگر شیخ ظہور احمد کی ذات نہ ہوتی تو میں آج الحاد کی بھول بھلیوں میں گم ہوتا، کسی انقلابی تحریک کا ایندھن بن گیا ہوتا یا پھر سوویت یونین کی موت کے بعد کسی این جی او کے فرد کی حیثیت سے امریکہ کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہو کر تشکر کی موم بتیاں جلا رہا ہوتا۔ ایسا شخص تو میرے لیے مولوی میر حسن سے بھی زیادہ محسن اور معتبر ہے۔ کیا سفر تھا۔ پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو سوائے اللہ کے کرم اور مہربانی کے اور کچھ نظر نہیں آتا۔ میرے والد بہت پریشان تھے۔ مولوی خدا بخش کا پوتا، وہ مولوی خدا بخش جسے مرشد نے حکم دیا کہ مکیریاں میں اپنی کئی مربعے زمین اور جائیداد چھوڑو، مسجد و مدرسہ کسی اور کے سپرد کرو اور اپنے بھائی مولوی احمد بخش کے ساتھ جا کر امرتسر میں مسجد خیرالدین کی بنیاد رکھو۔ 1870ء میں جس مسجد کی بنیاد رکھی، آج اسی کے دروازے پر دفن ہیں۔ وہی مسجد جس میں عطاء اللہ شاہ بخاری اور انور شاہ کشمیری جیسے خطابت اور علم کا جوہر دکھاتے رہے۔ وہ دادا جس کے ہاتھ پر علامہ اقبال کے دوست اور اسلامیہ کالج کے پرنسپل مولوی حاکم علی نے اسلام قبول کیا۔ مکیریاں کے سردار پنجاب سنگھ کا بیٹا حاکم سنگھ مولوی حاکم علی بن گیا۔ جسے بیک وقت علامہ اقبال اور مولانا احمد رضا خان کی محبت اور صحبت حاصل رہی۔ اس دادا کا پوتا جس کا نام باپ نے ’’اوریا‘‘ رکھا کہ عبرانی میں اسی کا مطلب ’’اللہ کا نور‘‘ ہے، ملحد ہو گیا ہے جس نے اس کائنات کو تخلیق کیا، اس ہستی کے وجود سے منکر ہوگیا ہے اور وہ بھی صرف بارہ سال کی عمر میں میٹرک کے امتحان کے بعد جو چند ماہ فرصت کے ملے اس میں اپنے زمانے کے مقبول فلسفے کمیونزم کا مطالعہ کیا، ڈ ارون کی تھیوری اور کارل مارکس اور اینگلز کی کتابوں کا خمار ایسا تھا کہ دنیا بدلنے کی دھن سر پر سوار ہو گئی۔ کالج میں داخلہ، ایک دو استاد ایسے ملے جو فلسفہ اور نفسیات پڑھاتے تھے، انہوں نے دلیلوں کی بھول بھلیوں میں خدا کے وجود سے انکار کا بیج بو دیا۔ والد پریشان رہتے، متذبذب، میرے طرف دیکھتے اور پھر آسمان کی جانب منہ کر کے میری ہدایت کی دعا فرماتے، بس اتنا کہتے، تم بھٹک لو، جتنا بھٹکنا چاہتے ہو، واپس آئو گے، اس لیے کہ میں نے تمہیں درود پاک کی لوریاں دے کر پالا ہے۔ والد صاحب کے لہجے کا تیقن اور دعائوں پر اعتماد مجھے عجیب لگتا تھا۔ یہ زمانہ تھا جب تمام انقلابی، کمیونسٹ انقلاب لانے کے لیے پیپلزپارٹی میں جمع تھے۔ بھٹو کی شکل میں انہیں مائوزے تنگ نظر آتا تھا، میں بھی ان میں شامل تھا۔ الیکشن نزدیک آئے تو بھٹو کی ساری سیاست جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی چوکھٹ کے سامنے سجدہ ریز ہو گئی۔گجرات کے سرمایہ دار مشتاق پگانوالہ کو پارٹی کا صدر بنایا تو عثمان فتح کی قیادت میں ہم انقلابیوں کا سارا قافلہ بھٹو کو خیرآباد کہہ گیا۔ اسی دن گجرات کے زمیندارہ بینک کے ہال میں پرویز کا لیکچر تھا جیسے آج کا سیکولر غامدی صاحب کو پسند کرتا ہے، ویسے اس دور کے انقلابی پرویز کو پسند کرتے تھے۔ الیکشن ہوا، ملک دو لخت ہوگیا، وہ رات مجھ پر بڑی قیامت کی تھی۔ اس شکست نے لگتا تھا مجھ پر بہت اثر کیا، جس کی میں خود وجہ آج تک سمجھ نہ سکا۔ بھٹو نے بنگلہ دیش کو منظور کرنے کی مہم شروع کی تو اسی وقت صرف جماعت اسلامی بنگلہ دیش نامنظور مہم چلا رہی تھی۔ سرکلر روڈ پر جماعت اسلامی کے دفتر کی سیڑھیاں میں نے کیا چڑھیں، دنیا ہی بدل گئی۔ بنگلہ دیش نامنظور مہم کے جلسوں جلوسوں میں جاتا لیکن الحاد پر قائم تھا۔ میرے ایک اور محسن سید محمود ضیغم اسی دفتر میں ’’الحدید‘‘ اخبار نکالتے تھے۔ ان کے دفتر میں بیٹھ کرجماعت اسلامی اس کے نظریے اور مولانا مودودی پر بے نقط سناتا اور وہ مسکراتے ہوئے کہتے، تمہارے لیے چائے منگوائی ہے۔ اس مسکراہٹ میں اس خوبصورت کشمیری شیخ ظہور احمد کی مسکراہٹ ایک دن شامل ہو گئی۔ گفتگو سے میرا مرض بھانپ گئے، سمجھ گئے فلسفے نے بگاڑا ہے۔ مولانا مودودی کے دو مضامین پڑھنے کو دیئے، ایک ’’عقلیت کا فریب‘‘ اور دوسرا ’’سلامتی کاراستہ‘‘۔ پتہ نہیں مجھے کیا ہوا کہ میں مضمون پڑھتا جاتا تھا اور آنکھوں سے آنسوئوں کی جھڑی تھی کہ بہے جا رہی تھی۔ اگلے دن میں اس کشمیری شیخ کے خوبصورت چہرے کی زیارت کو بے تاب تھا، میری دنیا بدل چکی تھی۔ میرے جیسے چراغوں کا اس سورج کے سامنے کیا جلنا۔ یوں تو سب کا مقدر یہ خاک ہے لیکن اس روشن چہرے والے شیخ ظہور کو زمین نے کسی سرخوشی سے قبول کیا ہوگا۔ عمر بھر جس شخص کے لیے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے رکھوں تو احسان ادا نہ ہو سکے۔ چشم تصور میں سوچتا ہوں کہ جب والد گرامی کی روح شیخ صاحب کا استقبال کرنے کے لیے بڑھی ہو گی تو شاید پہلا فقرہ یہ ہوگا، آپ کا شکریہ قرض تھا، آپ نے میرے بیٹے کو گمراہی کے تاریک غار سے نکالا۔ 

کسی مطلق العنان بادشاہ‘ قبائلی سردار‘ آمریت پسند جمہوری لیڈر‘ مذہبی پیشوا یا مسند انصاف پر بیٹھے جج کو اگر اس بات کی قوت حاصل ہو جائے کہ وہ اپنی توہین کرنے والوں کو قانوناً یا غیر قانوناً سزا دے سکیں تو ان میں لاشعوری طور پر کچھ خدائی صفات پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں جس کا اظہار ان کے لہجے سے ٹپکتا ہے۔ یہی حال ان سائنسدانوں ‘ فلسفیوں اور کائنات کے سربستہ رازوں کا کھوج لگانے والوں میں سے ان لوگوں کا ہوتا ہے جو اپنے علم کے نشے میں یہ سوچنا شروع کر دیتے ہیں کہ ہم نے اس کائنات کو اتنا جان لیا ہے کہ ہم اسے بزعم خود چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اگر ہماری ہدایات پر عمل نہ کیا گیا تو یہ دنیا تباہ و برباد ہو جائے گی۔ ایسا جہالت میں ڈوبا ہوا علم جب کسی ایسے فرد کی زبان سے ادا ہونے لگے جو قوت و طاقت کے بل بوتے پر خدائی لہجے میں بول رہا ہو تو یہ خطرناک ترین مقام ہے لیکن میرے ملک میں ایسا ہونے جا رہا ہے۔13فروری 1766کو برطانیہ میں پیدا ہونے والے پادری اور سیاسی معاشیات کے ماہر تھامس رابرٹ مالتھس Thamas Robert Malthusکا دعویٰٔ پروردگاری بھی اس ذہنیت کا تسلسل ہے۔ مالتھس نے 1798ء میں ایک مضمون تحریر کیا جس کا عنوان تھا’’آبادی کے اصول‘‘ Principals of Population۔ اس نے کہا کہ دنیا کی آبادی جیومیٹری کے اصولوں کے مطابق بڑھتی ہے یعنی 2‘4‘8‘ 16‘ 32جبکہ وسائل حساب کے اصولوں کے مطابق بڑھتے ہیں جیسے 1‘2‘3‘4‘5۔ ایک دن ایسا آئے گا کہ آبادی اتنی بڑھ جائے گی کہ وسائل کو چٹ کر جائے گی اور لوگ ایک دوسرے کو کھانے پر مجبور ہوں گے۔1798ء سے 1826ء تک اس کی کتاب کے چھ ایڈیشن شائع ہوئے۔ علمی طور پر اس پر بحثیں ہوئیں لیکن اس زمانے کے غریب یورپ کو اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے پوری دنیا میں وسائل کی فراوانی رکھی ہے اور اگر افرادی قوت نہ ہوئی تو ہم ان وسائل سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ کسی نے مالتھس کی ان خرافات پر کان نہ دھرا اور تمام یورپی ممالک اپنی افرادی قوت میں اضافہ میں مگن رہے اور اسی قوت سے پوری دنیا کے وسائل سے لطف اندوز ہوئے۔1846ء سے 1890ء تک یورپ سے نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد 30لاکھ70ہزار تھی جوو 1910ء تک 90لاکھ 11ہزار ہوئی اور 1930ء تک یہ گوری نسل پانچ کروڑ کی تعداد میں دنیا کے ان خطوں میں جا کر آبادی ہوئی جو وسائل سے مالا مال تھے۔ عربوں کا تیل‘ افریقہ کی معدنیات‘ امریکہ کے وسائل‘ ہند چینی کاربڑ‘ برصغیر کی کپاس اور مصالحہ جات سے وہ تجارتی فائدہ اٹھا ہی نہیں سکتے تھے‘ اگر ان کے پاس اس قدر وافر افرادی قوت نہ ہوتی‘ جو ان کی معاشی ترقی میں حصہ لیتی۔ جب یہ ملک ترقی کی معراج پر پہنچ گئے تو پھر ان کا دوسرا مقصد یہ تھا کہ باقی تمام ممالک کو کیسے ترقی سے روکا جائے۔ اس کا صرف ایک ہی راستہ تھا کہ انہیں آبادی کم کر کے ترقی کا گر سکھایا جائے۔ ڈیڑھ سو سال پرانی مالتھس کی تھیوری کی گرد جھاڑی گئی اور آبادی کی کمی کو عالمی معیشت کی نجات کے اصول کے طور پر اپنا لیا گیا۔ یہ اچانک نہیں ہو گیا۔ سب سے بڑا خوف یہ تھا کہ اگر مسلمانوں کی آبادی بڑھتی چلی گئی تو یہ ہمارے لیے بہت بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ سی آئی اے‘ محکمہ دفاع اور سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی 1954ء کی قومی سلامتی کی یادداشت نمبر NSSM200میں شرح آبادی اور امریکی سلامتی پر پالیسی اختیار کی گئی کہ کیسے غریب ملکوں میں آبادی کو کم کرنے کے پروگرام شروع کرنے چاہئیں۔ اس کے تحت بڑے بڑے لیڈروں‘ دانشوروں اور ادیبوں کو خریدنے کا پروگرام بنایا گیا۔ کیا اصول تھے ۔ امداد اس کو دو جو آبادی کم کرے۔ خوراک اس کو دو جو آبادی کم کرے۔ دوائی اس کو دو جو آبادی کم کرے۔ رپورٹ کہتی ہے کہ اگر شمالی افریقہ کے مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ ہو گیا تو یہ ایک دن ہمارے لئے ایک دوسرے ’’مہدی سوڈانی‘‘ کا خطرہ کھڑا کر سکتے ہیں۔ اس رپورٹ کے بعد اقوام متحدہ ہو یا ورلڈ بنک‘ آئی ایم ایف ‘ ایک ہی نعرہ بلند ہوا‘ بچے کم خوشحال گھرانہ ‘جان ہاپکنز یونیورسٹی میں 23ملین ڈالر سے تحقیق کا پروگرام شروع ہوا ‘امپیکٹ پروگرام‘ ایسڈ پروگرام‘ کولمبیا یونیورسٹی پروگرام‘ خرچہ بڑھتا گیا‘ مانع حمل ادویات کی اقسام میں اضافہ ہوتا گیا۔ حیرت کی بات یہ کہ دنیا کی آبادی کو کم کرنے کا ٹھیکہ اس امریکہ نے لیا جس کی ساری ترقی افرادی قوت میں اضافے کی وجہ سے ہے۔1777ء میں جب اس نے آزادی حاصل کی تو اس کی آبادی 40لاکھ تھی‘ پچاس سال بعد 1کروڑ 80لاکھ ہو گئی۔ اگلے تیس سال بعد 3کروڑ 85لاکھ‘ اگلے دس سالوں میں پانچ کروڑ اور 1900ء میں سات کروڑ ساٹھ لاکھ ہو گئی اگر امریکہ کی آبادی 44لاکھ پر روک لی جاتی تو آج وہ دنیا کے نقشے پر افریقہ سے بھی پسماندہ ملک تصور ہوتا۔ آبادی میں اضافے کے حوالے سے پریشان جناب چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب! ذرا ان ملکوں کا حال ملاحظہ کریں جنہوں نے آبادی کی کمی کے لیے اقدامات کئے اور آج سر پکڑ کر بیٹھے ہیں کہ ہم تباہ و برباد ہو گئے۔ آج سے ٹھیک دس سال پہلے ’’اکانومسٹ‘‘ نے ایک پچاس صفحات پر مشتمل رپورٹ شائع کی جس میں کہا کہ مالتھس کی تھیوری ناکام ہو گئی۔ دنیا میں آج بھی لاتعداد وسائل ہیں لیکن 18ملک آبادی کی کمی وجہ سے اس حالت کو پہنچ چکے ہیں کہ اگر باہر سے لوگ نہ آئیں تو ان کی بجلی‘ پانی‘ سیوریج اور دیگر سہولیات کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہ ہو‘ کسی بھی معاشرے کے مضبوط اور مستحکم ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ایک بوڑھے پر پانچ نوجوان موجود ہوں یا پھر اس ملک کی آبادی بڑھنے کی شرح 2.1فیصد سے زیادہ ہو۔ اس وقت جاپان پولینڈ‘ آسٹریا ‘ سواکیہ ‘ اٹلی‘ یونان‘سلووینیا میں یہ شرح صفر ہے۔ جرمنی‘ کروشیا‘ رومانیہ ایسٹونیا میں 0.2فیصد ہے ۔روس‘بیلا روس میں 0.6فیصد جبکہ باقی یورپی ممالک میں بھی یہ شرح ایک فیصد سے ڈیڑھ فیصد کے درمیان ہے‘ یعنی سب سے زیادہ شرح والے ملک میں دو بوڑھوں پر تین نوجوان رہ گئے ہیں۔ آبادی کو کنٹرول اور مانع حمل ادویات کے استعمال کے تین نقصانات ہوئے۔ لوگوں نے یہ سوچنا چھوڑ دیا کہ ایسی اولاد کیوں حاصل کریں۔ جس نے کل کو انہیں چھوڑ جانا ہے۔ اپنی زندگی خوشی خوشی گزارو اور اس دنیا سے چلے جائو۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان ملکوں میں اکثریت بوڑھوں کی ہو چکی ہے جو اولڈ ایج ہومز میں پڑی ہے۔ دوسرا نقصان یہ ہوا کہ اخلاقیات اور خاندانی زندگی کا جنازہ نکل گیا۔ آپ دس سال بھی بغیر شادی کے اکٹھے رہ کر زندگی گزارسکتے ہیں اور علیحدگی کے وقت آپ کی اولاد عورت کی کوئی ذمہ داری نہیں ہو گی۔ خاندان ‘ آئندہ نسل کا فروغ اور معاشرہ کی افزودگی سب تباہ ہو کررہ گئے۔ اس وقت خوف یہ سوار ہے کہ اگر یہی رفتار قائم رہی تو 2025ء سے 2050ء تک یورپ گوری نسل نام کی چڑیا سے بھی خالی ہو جائے گا۔ پورے یورپ میں اب بچے پیدا کرنے کے لیے عورتوں کو میٹرنٹی چھٹی کے ساتھ ساتھ مردوں کو پیٹنرنٹی یعنی باپ ہونے کی بھی چھٹی ملتی ہے تاکہ وہ اولاد پیدا کرے اور یورپ کی نسل میں اضافہ کرے۔ جس مغرب نے آبادی کو کنٹرول کر کے اپنے زوال اور موت پر دستخط کئے تھے اور آج ماتم کر رہا ہے‘ اسے مسلمانوں کی بڑھتی آبادی سے اس قدر نفرت ہے کہ ہنری کسنجر کی وہ پالیسی گائڈ لائن کہ ’’ہمیں مسلمانوں کی آبادی کو کم کرنا ہے اگر ممکن ہو تو منصوبہ بندی سے اور اگر ناممکن ہو تو فوج کے استعمال سے‘‘ یہی وجہ ہے کہ اس نے افغانستان اور عراق میں فوج اتاری اور باقی عرب دنیا میں فسادات کروائے۔ لیکن شاید 1954ء میں جو پرچم امریکی سلامتی کی یادداشت نے بلند کیا‘ جان ہاپکنز سے ہوتا ہوا آبادی کے کنٹرول کے پروگراموں تک پہنچا۔اب اسے ہم نے اٹھا لیا ہے۔ مالتھس کی ناکام تھیوری کا پرچم۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اللہ اتنا بھی مدبر و معاملہ ساز نہیں کہ زمین پر انسان کو بھیج دے اور اس کے رزق کا بندوبست نہ کرے۔ اس سے بڑھ کر شرک اور کیا ہو سکتا ہے۔ یگانہ یاد آتے ہیں: خودی کا نشہ چڑھا‘ آپ میں رہا نہ گیا خدا بنے تھے یگانہ‘ مگر بنا نہ گیا 


سیدنا علی ؓ نے فرمایا تھا، ’’الدنیا جیفۃ و طلبہا کلاب‘‘ دنیا ایک مردار ہے اور اس کے طلبگار کتے ہیں۔ میرے آقا و مولیٰ حضرت محمد ﷺ کسی بلندی سے مدینہ منورہ میں داخل ہورہے تھے۔ سیدنا جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ صحابہ اس وقت آپ کے دونوں طرف تھے۔ آپ ﷺ نے بھیڑ کا ایک بچہ جو چھوٹے کانوں والا تھا اسے مرا ہوا دیکھا۔ آپؐ نے اس کا کان پکڑ کر فرمایا، تم میں کون ہے جو اسے ایک درہم میں لینا پسند کرے گا؟ صحابہ کرام نے عرض کیا ہم میں سے کوئی بھی اسے کسی چیز کے بدلے میں لینا پسند نہیں کرتا اور ہم اسے لے کر کیا کریں گے۔ آپؐ نے فرمایا تم چاہتے ہو کہ یہ تمہیں مل جائے؟ صحابہ کرام نے عرض کی، اللہ کی قسم اگر یہ زندہ بھی ہوتا تو پھر بھی اس میں عیب تھا کیونکہ اس کا کان چھوٹا ہے حالانکہ اب تو یہ مردار ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم یہ دنیا اللہ کے ہاں اس سے بھی زیادہ ذلیل ہے جس طرح تمہارے نزدیک یہ مردار ذلیل ہے۔ (صحیح مسلم: کتاب الزہد و الرقائق)۔ یادش بخیر ہمارے دوست افتخار عارف جب آغا حسن عابدی کے لطف و کرم سے لندن میں مقیم تھے تو انہوں نے خوب کہا تھا: شکم کی آگ لئے پھر رہی ہے شہر بہ شہر سگ زمانہ ہیں‘ ہم کیا ہماری ہجرت کیا دنیا کی طلب جب ہوس بن جائے تو پھر انسان کا وہ روپ سامنے آتا ہے جس کے لیے لندن اس کی نسبت کتے سے کی جائے تو اذن الٰہی سے اگر کتے کو زبان مل جائے تو پکار پکار کر کہے، میں تو پیٹ بھر جائے تو سو جاتا ہوں، روکھی سوکھی کھاتا ہوں لیکن مالک کا دروازہ نہیں چھوڑتا، دشمن پر بھونکتا ہوں، دشمن کے ساتھ مل کر مالک پر نہیں بھونکتا لیکن تم انسان تو یہ سب کرتے ہو اور پھر بھی مجھ سے برتر کہلاتے ہوئے، تمہیں اشرف المخلوقات کہلاتے ہوئے شرم نہیں آتی ہے۔ تلاش رزق نہیں بلکہ ہوس رزق میں سرگرداں تمام اخلاقی معیارات سے عاری گروہ میرے ملک میں ہمیشہ رہے ہیں۔ یہ وہ سگ زمانہ ہیں جو چند روٹی کے ٹکڑوں کے لیے دشمن کتوں کے ساتھ مل کر اس مالک پر بھونکتے ہیں جس کی آغوش میں جنم لیتے ہیں جس کی زمین میں ان کے آبائو اجداد دفن ہیں جہاں دفن ہونے کی وصیتیں کرتے ہیں اور جہاں یہ اپنے علاقے میں دھاک بٹھانے کے لیے عالی شان گھر نہ بنائیں تو انہیں چین نہیں آتا۔ ہوس زر میں ڈوبے ہوئے ان ’’سگان زمانہ‘‘ کا سب سے بڑا ٹھکانہ پورے یورپ اور برطانیہ میں اس وقت قادیانی جماعت بن چکی ہے۔ جرمنی کا اخبار "Der Spiegle" ایک کثیرالاشاعت اخبار ہے۔ اس نے اپنی 24 نومبر 2014ء کی اشاعت میں قادیانیوں کے بارے میں ایک مفصل تحقیقی رپورٹ شائع کی جس کی جرمن زبان میں بینر ہیڈ لائن یہ تھی۔ "Die Ahmdiya gilt als islamic he vorzeige Gemenenide" (احمدیہ ایک مسلم شو پیس کمیونٹی ہے)۔ دوسری ہیڈ لائن یہ ہے کہ ’’یہ کئی سالوں سے تارکین وطن کو بلیک میل کر رہی ہے۔‘‘ اس رپورٹ میں ایک انجینئر لقمان احمد تارڑ کا کیس مثال کے طور پر پیش کیا گیا جو دس سال سے تارک وطن ہے اور اس کی سیاسی پناہ کا مقدمہ آج بھی چل رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے پناہ لینے کے لیے وسبیڈن "Wiesbaden" کے احمدیہ مرکز میں جا کر قادیانیت کا اقرار کیا، وہاں جا کر اس نے روزانہ ان کے مرکز جا کر عبادت شروع کی، کئی سال گزرنے کے بعد اس کو قادیانیوں کے مرکز فرینکفرٹ سے مناسب "Averge" کا سرٹیفکیٹ دیا گیا جس کا مطلب تھا کہ وہ ابھی تک پکا قادیانی نہیں ہوا، اس لیے اس کے مقدمے میں جماعت اسے سپورٹ نہیں کرے گی۔ اس کے بعد اخبار نے پورے جرمنی میں قادیانی جماعت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور اس اخبار کے ساتھ Ard Hagazine کی صحافتی ٹیم بھی شامل ہو گئی۔ ان کے مطابق احمدیہ سربراہان نے پاکستان اور دیگر ملکوں میں سیاسی پناہ حاصل کروانے کا ایک دھندا شروع کر رکھا ہے۔ پاکستان میں اس جماعت کے نمائندے ایک شخص کو جرمنی میں پناہ دلانے کے لیے بیس ہزار یورو لیتے ہیں۔ ایک عام پاکستانی کو ان کے خط پر جرمنی میں داخلہ مل جاتا ہے۔ اس لیے کہ جرمنی میں 2013ء میں احمدیہ (قادیانی) جماعت کو جرمن چرچ کے برابر کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ جرمن سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما لیل آگھن Lale Aghan نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ مذہبی نہیں بلکہ ایک سیاسی تماشا ہے۔ جب ایک عام پاکستانی ان کے خط پر جرمنی میں داخل ہوتا ہے تو پھر وہ ان کی بدترین غلامی میں چلا جاتا ہے۔ چندہ نہ دینے، ان کے اجتماعات میں شرکت نہ کرنے، احتجاج نہ کرنے پر اسے پاکستان واپس ڈی پورٹ کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں اور اس کے لیے قادیانی (احمدیہ) جماعت کا یہ سرٹیفکیٹ ہی کافی ہے کہ اس کا احمدیہ جماعت سے تعلق غلط ثابت ہوا ہے۔ جرمنی کے محکمہ خارجہ کی ایک رپورٹ کا تذکرہ بھی اخبار نے کیا ہے جس کے مطابق ان پاکستانیوں کی تعداد میں بے شمار اضافہ ہوا ہے جو یہاں کام کرنے آئے لیکن پھر وہ سیاسی پناہ لینے کے لیے قادیانی ہو گئے۔ 2011ء میں جرمنی کے پراسیکیوشن محکمہ نے قادیانی جماعت کے چار ارکان پر مقدمہ بنایا کہ انہوں نے لاتعداد پاکستان سے آئے لوگوں کو غیرقانونی طور پر جرمنی میں داخل کروایا۔ جرمنی کے محکمہ مائیگریشن و مہاجرین کے ترجمان نے کہا ہے کہ ہم نے اپنے محکمہ کے افراد کو خاص طور پر ہدایات دی ہیں کہ قادیانیوں کی طرف سے جاری کئے گئے اکثر سرٹیفکیٹ مشکوک ہیں اس لیے ان کا سختی سے جائزہ لینا ضروری ہے۔ یہ صرف ایک ملک کی کہانی نہیں ہے۔ قادیانی جس ملک جا کر آباد ہوئے۔ انہوں نے اس مکروہ دھندے سے اپنی تعداد میں اضافہ کیا اور پھر ان تارکین وطن کو مسلسل غلاموں کی طرح بلیک میل کیا۔ میرے سامنے اس وقت برطانیہ کی اعلیٰ عدالت کا ایک فیصلہ موجود ہے جو تین ججوں Lord Jusitce Moore Brich (لارڈ جسٹس مورے برگ)، Lord Justice Tomilson (لارڈ جسٹس ٹاملسن) اور Lord Justice Kitchen (لارڈ جسٹس کچن) نے چودہ جولائی 2016ء کو تحریر کیا۔ اس میں ایک قادیانی نے درخواست کی تھی کہ وہ پاکستان میں خوف اور دہشت کی زندگی گزار رہا تھا اس لیے اسے سیاسی پناہ دی جائے۔ اس کی اس کہانی کو نیچے کی دو عدالتیں مسترد کر چکی تھیں۔ یہ قادیانی ایک استاد تھا اور اس کے بقول اسے دو جگہوں سے قادیانی ہونے کی وجہ سے نکلنا پڑا لیکن پھر 2004ء میں اسے پولیس میں ملازمت مل گئی، وہ دس سال تک پولیس ملازمت کرتا رہا اور پھر اپنے بھائی کی شادی میں شرکت کے لیے اس نے 2014ء میں برطانیہ کا ویزہ لیا اور احمدیہ جماعت کے سالانہ جلسے میں بھی شریک ہوا۔ جب وہ واپس گیا تو اس نے اپنے موبائل میں جو قادیانی جلسے کی تصویریں بنائی تھیں وہ ایک کلرک نے دیکھیں جو ختم نبوت سے تعلق رکھتا تھا، اس نے اسے ہراساں کرنا شروع کردیا، اس لیے وہ ’’پولیس والا‘‘ اب پاکستان میںنہیں رہ سکتا۔ عدالت نے بنیادی سوال اٹھائے، کہا کیا آپ کو پاکستان کے مجوزہ قانون کے مطابق عبادت کرنے کی اجازت ہے، اپنے آپ کو قادیانی (احمدی) کہہ کر ملازمت کرنے، مکان خریدنے، گاڑی لینے، مکان کھولنے، فیکٹری لگانے کی آزادی ہے۔ ظاہر یہ سب آزادیاں تو میسر ہیں۔ اس کا جب وہ جواب نہ دے سکا تو عدالت نے فیصلہ کیا کہ قادیانی یہ ثابت کرنے میں ناکام ہیں کہ وہ پاکستان میں دہشت و خوف کا شکار ہیں۔ لیکن سگ زمانہ اور ہوس مال کے لیے دنیا کے مردار پر ٹوٹ پڑنے والوں کا کیا کریں جو اس دنیا میں تو اپنے ملک کو بدنام کرکے سیاسی پناہ لے لیتے ہیں لیکن کیا وہ آخرت میں اللہ کی ناراضگی اور رسول اکرم ﷺ کی شفاعت سے محرومی کا طوق پہننے کی سکت رکھتے ہیں؟ لیکن سگ زمانہ تو کتوں سے بھی بدتر ہوتا ہے۔ مسلسل مردار پر ہی بسیرا کرتا ہے۔ 

You can find here Ayaz Ameer, Ayaz Ameer latest Urdu Columns, amar jaleel columns, amar jaleel, amar jaleel latest columns, Haroon ur Rasheed Columns, Nusrat Javed Columns, Ajmal Niazi Urdu Columns, javed chaudhry, Javed Chaudhry Columns, irshad bhatti, sohail warraich, Sohail Warraich, Sohail Warraich  Columns, Ayaz Ameer Urdu Columns Today, Ayaz Ameer Columns, Ayaz Ameer,rauf klasra, rauf klasra columns, jang columns, hassan nisar, hassan nisar columns, orya maqbool jan columns, orya maqbool jan, Mazhar Barlas Urdu Columns Today,  Mazhar Barlas Latest Columns etc.



ڈاکٹر مبشر حسن پاکستان کے ماہرین معاشیات میں بہت بڑا نام ہے۔ پیپلز پارٹی کا قیام ان کے لاہور والے گھر میں ہوا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی کابینہ کے وزیر خزانہ تھے۔ ان سے ملاقات ہمیشہ علم اور زندگی کے تجربے کے نچوڑ میں رچی گفتگو کا خزانہ تحفے میں دیتی ہے۔ آج پاکستان کے معاشی حالات پر گفتگو کرتے اور مضامین تحریر کرتے لوگوں کے علم کا جائزہ لیتا ہوں تو ڈاکٹر صاحب جیسے لوگ بہت یاد آتے ہیں وہ جو مغرب سے تعلیم حاصل کر کے آئے تھے مگر مغرب سے مرعوب نہیں تھے۔ یہ شاید اس نسل کے آخری نمائندوں میں سے ہیں جنہوں نے برطانوی تسلط میں آنکھ کھولی ۔انہیں کے نظام میں اوائل عمر گزاری‘ برطانیہ اور امریکہ کی یونیورسٹیوں میں علم حاصل کیا لیکن نہ تو وہ اس علم کی چھاپ لے کر لوٹے اور نہ ہی اس تہذیب سے مرعوب ہوئے یہ وہ نسل تھی جس کے سرخیل قائد اعظم اور علامہ اقبال تھے۔ لنکن ان سے بیرسٹری اور لندن میں وکالت کے باوجود پاکستان کی تاریخ میں مغربی معاشی نظام کا قائد اعظم سے بڑا ناقد کوئی نہ تھا۔ اقبال تو روح عصر تھے۔ جرمنی اور برطانیہ کے تعلیمی اداروں میں تعلیم نے ان کا رشتہ اسلام اور مشرق سے مزید مستحکم کیا وہ تو یہ دعویٰ بھی کرتے تھے: خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانش فرنگ سُرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ ونجف ڈاکٹر مبشر بھی گزشتہ صدی میں جنم لینے والے اور آج اس دنیا پر چھا جانے والے مالیاتی نظام کے بہت بڑے ناقد ہیں۔ آج جب معیشت دانوں کی فصل در فصل اور نسل در نسل اپنے معاشی مسائل کا حل اسی دکان سے حاصل کرنے کے لیے کہتے ہیں تو میر کے اس شعر کے مصداق کہ جس میں عطاّر کے لونڈے کا ذکر ہے‘ مہاتیر محمد کی کتاب کا وہ فقرہ کانوں میں گونجتا ہے جو اس نے ان معیشت دانوں کے جواب میں کہا تھا جو اسے حالات بہتر بنانے کے لیے آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے دروازے پر لانا چاہتے تھے۔ اس نے کہا تھا۔ "We belive that the medicine suggested to us is worse than the disease we have." ’’ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جو دوا ہمیں تجویز کی جا رہی ہے وہ اس بیماری سے زیادہ خطرناک ہے جو ہمیں لاحق ہے‘‘ ۔ یہ جو بیماریاں ہمیں آج لاحق ہیں‘ یہ جو رونے ہم روز رو رہے ہیں‘ یہ جو ماتم ہمارے ہاں برپا ہے‘ اقتصادی بحران ‘ معاشی زوال اور صنعتی تباہی کے جو قصے ہمیں سنائے جاتے ہیں‘ عالمی برادری میں ہماری ساکھ‘ ہماری کرنسی کی بے قدری اور ہماری مصنوعات کی عدم پذیرائی کا رونا رویا جاتا ہے‘ کیا اس ملک میں بسنے والے بائیس کروڑ عوام میں سے ننانوے فیصد سے بھی زیادہ لوگوں کو علم ہے کہ اس ’’مجلس شام غریباں‘‘ کے معاشی نوحہ گریا تو اپنے فن تقریر کی داد کے لیے اس میں روز بروز رنگ بھرتے ہیں‘ یا پھر کچھ ایسے ہیں جنہیں زندگی میں اس کام کے علاوہ کوئی اور کام آتا ہی نہیں۔ ان کا مبلغ علم دنیا بھر کے ان معاشی سانحات سے متعلق ہوتا ہے۔ وہ نہیں جانتے یہ سب سانحات ایک ترتیب سے کیوں ہو رہے ہیں‘ کون ان کو برپا کرتا ہے اور یہ صرف وہیں برپا کیوں ہوتے ہیں جہاں کئی دہائیوں سے بحرانوں نے ٹھکانہ کر رکھا ہے۔ کیا ورلڈ بنک ‘آئی ایم ایف‘ بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹ ‘ اور جدید مالیاتی نظام کے وجود میں آنے سے پہلے دنیا ایسی تھی جیسی آج ہے۔ ہرگز نہیں اس سوال کا جواب ڈھونڈتا ہوا جب میں ڈاکٹر مبشر حسن کی اس تحریر پر پہنچا جو انہوں نے ایک کتاب کا پیش لفظ میں لکھی تو حیرت کا جہان کھل گیا۔ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں ’’غریب اور امیر ملکوں میں تفاوت کی ایک مثال یہ ہے کہ 1946ء میں ایک ڈالر کے بدلے میں 3روپے 6آنے ملتے تھے(یعنی 3روپے 37پیسے) راقم الحروف جیسا حکومت سے 230روپے تنخواہ لینے والے آفیسر کو جب وظیفہ دے کر تعلیم کے لیے امریکہ بھیجا گیا تو وہ نیو یارک کے فیشن ایبل ترین علاقے سے اپنے لیے 65ڈالر کا سوٹ خرید سکتا تھا۔ اس وقت نیو یارک میں کافی کی پیالی 5پنس یعنی ہمارے 16پیسے کی تھی اور بس کا کرایہ بھی 16پیسے تھا خواہ کہیں سے کہیں چلے جائیں۔1962ء میں راقم الحروف ایک پروفیسر تھا جس کی تنخواہ 1800روپے ماہوار تھی اور اس تنخواہ پر وہ لندن میں ایک سیل کرنے والی دکان سے 25ڈالر کا سوٹ خریدنے کا متحمل تھا،1974ء میں وزیر خزانہ پاکستان کی حیثیت میں وہ لندن کی ایک دکان سے پانچ چھ ڈالر کا سو ئٹر ہی خرید سکا۔ انگریزی سوٹ کی خرید اس کی استطاعت سے باہر تھی۔ اس سال 2001نیو یارک میں کافی کے پیالے کی قیمت‘ بس اور سب وے کے ٹکٹ کی قیمت 90روپے ہے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان جیسے ملکوں کی امیر ملکوں کا مال خریدنے کی صلاحیت نہیں ہے‘‘ کیا اس تمام عرصے میں پاکستان میں کھیتوں نے غلہ اگانا بند کر دیا۔ فیکٹریوں کو آگ لگا دی گئی‘ مزدوروں نے کام کرنے سے انکار کر دیا‘ گھر بننے بند ہو گئے‘ دکانوں پر تالے لگ گئے۔ سب کچھ تو پہلے سے ہزار درجے بہتر ہوا ہے لیکن ہم دنیا میں مفلس و نادار ہو گئے۔ ہم غربت کی اتھاہ گہرائیوں میں چلے گئے۔ ایسا نہیں ہے ہم ایک جال میں پھنس چکے ہیں اور جب تک اس کو توڑ کر باہر نہیں نکلتے ہم نہ آزاد فضائوں میں پرواز کر سکتے ہیں اور نہ وسیع سمندروں کی گہرائیوں میں موتی تلاش کر سکتے ہیں۔ ہمارا حال اس پرندے یا مچھلی کی طرح ہے جو جال میں پھنسے ہوئے ہیں اور یہ جال عالمی اقتصادی ‘ مالیاتی نظام کا ہے جو ملٹی نیشنل کمپنیوں نے بُنا ہے۔ یہ وہ جال ہے جس نے ہر غریب ملک کو مزید مفلوک الحال بنا دیا ہے۔ چند دن پہلے میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب میرے بہت ہی پیارے دوست گلے کے سرطان کے آپریشن کے بعد کیمو تھراپی سے صحت مند ہو گئے مگر ان کے گلے کی سوجن بڑھنے لگی‘ بہت علاج کے بعد جو دوا تجویز کی گئی وہ انگلینڈ سے آتی تھی جو صرف اور صرف ہلدی کو کیپسولوں میں بند کر کے اس کا نام Curcuminرکھ کر بیچی جاتی تھی۔ اس دوا سے حیرت انگیز فائدہ ہوا۔ لیکن کیا ہم جہاں یہ ہلدی پیدا ہوتی ہے‘ یہ کیپسول بنا کر نہیں بیچ سکتے۔ شاید اس ملک کے عام آدمی کو اس مالیاتی نظام کے شکنجے کا علم نہیں جو ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے تحت ہونے والے عالمی معاہدے(TRIPS) Trade Related intellectual property rights. نے کس دیا ہے۔ اب ہر ایجاد کا کوئی نہ کوئی مالک ہے جو اسے اپنے نام سے بیچتا ہے۔ حیرت ہے کہ انگلینڈ میں بیٹھا ایک شخص برصغیر کی کتابوں سے ہلدی کے فوائد کا علم لے کر دوا رجسٹرڈ کرواتا ہے اور جہاں ہلدی پیدا ہوتی ہے ان لوگوں کو اس کی مالی منفعت سے محروم کر دیتا ہے۔ یہ گزشتہ تیس سال کی دردناک کہانی ہے جس میں غریب ملکوں کو یہ پڑھا دیا گیا ہے کہ تم اتنے نکمے اور ناکارہ ہو کہ تم جوتوں کی پالش ‘ ٹوتھ پیسٹ ‘ صابن ‘ شیمپو ‘ خوشبو ‘ دلیہ‘ چپس‘ کپڑے‘ جوتے‘ نپل ‘ قلم اور ربڑ جیسی چیزیں بھی نہیں بنا سکتے۔ ہم معیار دیتے ہیں اور بیچتے ہیں۔ یہ معیار بھی میرے ملک میں تیار ہوتا ہے۔ اسی ملک کا مزدور ان فیکٹریوں میں مصنوعات بناتا ہے۔ جسے خوبصورت ماڈلز اور چکا چوند میڈیا کی روشنی میں بیچا جاتا ہے۔ دنیا کی چار کمپنیاں مارکیٹ کے چالیس فیصد کو کنٹرول کرتی ہیں۔ ان کی مرضی سے عالمی کرنسیوں کے نرخ اوپر نیچے ہوتے ہیں اور اشیاء کی قیمتیں بدلتی ہیں۔ اس جال کو توڑنا معاشی تبدیلی کی پہلی منزل ہے‘ لیکن کیا کریں‘ میرے ملک کا معیشت دان تو اس جال کو عافیت سمجھتا ہے۔ 

You can find here amar jaleel columns, amar jaleel, amar jaleel latest columns, Haroon ur Rasheed Columns, Nusrat Javed Columns, Ajmal Niazi Urdu Columns, javed chaudhry, Javed Chaudhry Columns, irshad bhatti, sohail warraich, Sohail Warraich, Sohail Warraich  Columns, Ayaz Ameer Urdu Columns Today, Ayaz Ameer Columns, Ayaz Ameer,rauf klasra, rauf klasra columns, jang columns, hassan nisar, hassan nisar columns, orya maqbool jan columns, orya maqbool jan, Mazhar Barlas Urdu Columns Today,  Mazhar Barlas Latest Columns etc.




نیویارک میں اس سال 23مارچ کو یومِ پاکستان کی تقریب میں شرکت کے لیے جب میں لاہور ایئرپورٹ پر اپنی پرواز پر سوار ہونے کے لیے پہنچا تو ایک عرب ملک کی سرکاری ایئر لائن کے افراد نے مجھے لائن میں لگنے سے روک دیا اور کہا کہ پاکستان میں امریکی سفارت خانے سے احکامات آئے ہیں کہ آپ امریکہ کے لیے کسی پرواز سے بھی روانہ نہیں ہو سکتے۔ میں نے سوال کیا کہ پاکستان کی سرزمین پر امریکہ کا حکم کیسے چل سکتا ہے۔ میرے پاس جائز سفری دستاویزات ہیں۔ پاسپورٹ ہے، امریکی ویزہ ہے، امریکہ یہ حکم اس وقت جاری کرے جب میں اس کی سرزمین پر قدم رکھوں، مجھے وہاں سے واپس بھیجے، لیکن سرزمین پاکستان پر اس کا حکم کیسے چلتا ہے لیکن مجھے سوار نہیں ہونے دیا گیا۔ یہ کوئی رات ایک بجے کا وقت تھا، اس کے ٹھیک دو گھنٹے بعد قادیانیوں کے سرکاری اخبار ’’ربوہ ٹائمز‘‘ نے اسے ایک فاتحانہ انداز سے اپنی ویب سائٹ پر پوری تفصیل سے لگایا اور ساتھ وہ تاریخ بھی بیان کر دی کہ کب سے مجھے امریکہ میں داخل ہونے پر پابندی کے لیے مہم چلائی جا رہی تھی۔ انہوں نے گزشتہ سال دس مئی 2017ء کو مشہور زمانہ حسین حقانی کی بیوی اور ممبر پارلیمنٹ کا امریکی ایمبیسی کو متوجہ کر کے لکھے گئے اس ٹوئیٹ کو بھی خبر میں لگایا۔ Dear US embi Islamabad: Who issued Oraya Maqbool Jan a Visa? Jan Critical of Ahmadiya Jamat, Feminism, atheism, Secularism etc. محترم امریکی ایمبیسی اسلام آباد:کس نے اوریا مقبول جان کو امریکہ کا ویزا دیا ہے؟ جان احمدیہ جماعت،حقوق نسواں، الحاد اور سیکولر ازم کا سخت مخالف ہے۔ اس کے ساتھ ہی خبر میں کہا گیا کہ یہ ویزا اوبامہ کے زمانے میں دیا گیا تھا اور ٹرمپ ایڈمنسٹریشن کی اوریا مقبول جان پر پابندی ظاہر کرتی ہے کہ وہ پاکستان جیسے "High Risk"(خطرناک) ملک کے ساتھ سختی سے پیش آ رہی ہے۔ آج ٹھیک سات ماہ بعد جب میں حضرت داتا گنج بخش کے عرس کے سلسلے میں 27اکتوبر 2018ء کو منعقد ہونے والی تقریب میں شرکت کے سلسلے میں جانے والا تھا تو ناروے کی اخباروں میں ایک طوفان کھڑا کیا گیا کہ میں وہاں نفرت پھیلانے آ رہا ہوں۔ اس ساری تحریک کی سرخیل ہیگی سٹورہاگ "Hege Storhaug"نامی ایک خاتون ہے جو 2015ء میں منظر عام پر آنے والی اپنی متعصبانہ کتاب "Islam, den 11, Landeplage"(اسلام دھرتی کا گیارہواں طاعون) ہے۔ اس معاشرے میں یہ غلیظ کتاب سب سے زیادہ بکنے والی کتابوں میں سے ایک ہے او راس کے کے کئی زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں۔ یہ نوے کی دہائی میں دو سال پاکستان میں بھی رہی ہے اور اس نے پاکستان کے بارے میں ایک سفرنامہ بھی تحریر کیا ہے۔ اس نے ناروے میں جبری شادی اور ختنوں کے خلاف ڈاکومنٹریاں بنائیں اور اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔ اس کے خلاف غم و غصہ کا عالم یہ تھا کہ 2007ء میں جب وہ گھر سے نکل رہی تھی تو اسے نامعلوم افراد نے زدوکوب کیا اور بے ہوش کر کے چھوڑ دیا۔ میری ناروے آمد سے پانچ روز قبل 22اکتوبر کو اس کے اخبار "Reselt"میں میرے خلاف دو مضامین شائع کیے، جن کا عنوان تھا ’’پاکستانی شدت پسند، ناروے میں مہمانِ خصوصی‘‘ مضامین کا آغاز یوں ہوتا ہے۔ ’’سیکولر آلائنس کو اتوار کو خبر ملی کہ 27اکتوبر کو پاکستانی شدت پسند اوریا مقبول جان کو زہرہ منظور سوسائٹی نے مدعو کیا ہے۔ یہ وہی اوریا مقبول جان ہے جو احمدیوں کو قتل کرنے کی بات کرتا ہے۔ اس کی یہودیوں سے دشمنی بھی چھپی ہوئی نہیں، جس کی وجہ سے گزشتہ مارچ میں اس کی امریکہ میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ اس کے بعد اخبار نے میرے ایک پروگرام ’’حرف راز‘‘ کے ایک حصے کو بددیانتی سے کاٹ چھانٹ کر وہ گفتگو لگائی جس میں مدیان نبوت کے خلاف رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکرؓ کے عمل کا میں حوالہ دے رہا تھا۔ لیکن بعد کے حصے کو ہذف کر دیا گیا جس میں ان کے بحیثیت اقلیت حقوق کے بارے میں گفتگو کی گئی تھی۔ میرے خلاف اخبار میں شروع کی گئی اس مہم کا نتیجہ یہ نکلا کہ جس ہال میں یہ کانفرنس ہو رہی تھی انہوں نے بکنگ کینسل کر دی اور پوسٹر بازی کی مہم شروع کر دی گئی۔ اب یہ کانفرنس ایک مسجد میں ہو رہی ہے لیکن میں اپنے میزبان کو کسی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتا۔ اس لیے میں نے وہاں جانا منسوخ کر دیا ہے۔ البتہ اس اخبار میں غلط، بے بنیاد اور توڑ موڑ کر رپورٹ کے ضمن میں مقدمہ درج کروانے کی تیاری میں ہوں۔ ناروے اور امریکہ کا یہ کنکشن جس کی تار قادیانیوں کے ساتھ بندھی ہے۔ میرے خلاف اسی طرح کے بہت سے افسانے تراش کر مغربی میڈیا کو بیچنے میں مصروف ہے۔ ایک مضحکہ خیز کہانی 20ستمبر 2016ء کو امریکی پریس میں پھیلائی گئی۔ یہ دراصل ڈونلڈ ٹرمپ کی الیکشن مہم کا حصہ تھا۔ کہانی کا عنوان تھا: Taliban Activist who met with clintan in Pakistan Promotes Hatered for Jews. ’’طالبان کے لیے سرگرم عمل شخص کی پاکستان میں کلنٹن سے ملاقات، وہ شخص جو یہودیوں کے خلاف نفرت کا پرچار کرتا ہے‘‘۔ اس دور کی کوڑی اور سازشی تھیوری گھڑنے کے عمل کا تو تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ 2009ء کی بات ہے جب میں ڈائریکٹر جنرل والڈ سٹی لاہور تھا تو ہیلری کلنٹن پاکستان آئی جسے میں نے کوئی ایک گھنٹہ تک بادشاہی مسجد اور ملحقہ جگہوں کا سرکاری طور پر دورہ کروایا۔ سات سال بعد مضمون نگار نے ایک کہانی گھڑی کہ دراصل ہیلری کلنٹن اور اوریا مقبول جان کی یہ ملاقات اخوان المسلمون کی خاتون ہما عابدین نے کروائی۔ اس کے ساتھ مجھے کوئٹہ کا ظاہر کر کے یہ کہا گیا کہ نیوجرسی اور نیویارک میں بم دھماکے کرنے والے میرے پڑوس میں تیار ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مجھے خواتین دشمن، مغربی لائف سٹائل کا ناقد، مرضی سے جنسی تعلقات کا مخالف، ملالہ یوسف زئی سے نفرت کرنے والا اور خصوصی طور پر احمدیوں کا دشمن بنا کر پیش کیا گیا۔ یہاں ناروے کنکشن کا اظہار ہوتا ہے۔ مئی 2016ء میں ناروے کی ایک جامع مسجد میں میرے خطبۂ جمعہ کا موضوع یاجوج اور ماجوج کے ساتھ یہودیوں سے آخری جنگ یعنی ملحمتہ الکبریٰ تھا۔ اس 45منٹ کے پورے خطبے کو انگریزی میں ترجمہ کر کے اس مضمون کا حصہ بنایا گیا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ میں مسلمانوں کو یہودیوں کے خلاف لڑنے پر اکساتا ہوں۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ میرے خلاف اتنی زیادہ محنت، عرض ریزی کیوں۔ کیا میں واقعی ایک خطرناک انسان ہوں جو ہر سیکولر، ملحد اور قادیانی کی نیندیں اڑا سکتا ہے۔ ایسا تو ہرگز نہیں۔ ایک کمزور، ناتواں شخص جس کے ہاتھ میں اللہ نے قلم تھمایا ہے اور شاید زبان میں تاثیر دی ہے۔ یہ سب لوگ مجھ سے نہیں اللہ کی ان دونوں نعمتوں سے خائف ہیں۔ میں اللہ سے نعمتوں کے زوال سے پناہ مانگتا ہوں۔ 

You can find here amar jaleel columns, amar jaleel, amar jaleel latest columns, Haroon ur Rasheed Columns, Nusrat Javed Columns, Ajmal Niazi Urdu Columns, javed chaudhry, Javed Chaudhry Columns, irshad bhatti, sohail warraich, Sohail Warraich, Sohail Warraich  Columns, Ayaz Ameer Urdu Columns Today, Ayaz Ameer Columns, Ayaz Ameer,rauf klasra, rauf klasra columns, jang columns, hassan nisar, hassan nisar columns, orya maqbool jan columns, orya maqbool jan, Mazhar Barlas Urdu Columns Today,  Mazhar Barlas Latest Columns etc.

کوئٹہ سے چمن جائیں تو افغانستان سے چند کلو میٹر پہلے خوجک کا بلند و بالا پہاڑی سلسلہ آتا ہے اس کی ہر بلندی پر برطانوی فوج نے پختہ مورچے بنائے ہوئے ہیں۔ اسی پہاڑ کے اندر ساڑھے تین میل لمبی ریلوے کی سرنگ نکال کر چمن کے شہر کو بقیہ ہندوستان سے ملایا گیا تھا۔ پہاڑ پر بل کھاتی ہوئی سڑک ایک مقام پر آتی ہے جہاں کھڑے ہو کر آپ میلوں دور تک دیکھ سکتے ہیں۔ اس بلندی سے نیچے وسیع و عریض میدان میں چمن کا شہر‘ اس کی ملحقہ آبادیاں، عین افغان سرحد پر واقعہ ریلوے اسٹیشن، ایک جانب سمگلنگ کے سامان کی خریدو فروخت کے لیے بظاہر عارضی لیکن مسلسل اور مستقل ’’رنگین منڈی‘‘ سرحد کے ساتھ ساتھ برساتی پانی کے بہائو کا نالہ اور دور افغانستان میں ’’سپن بلدک‘‘ کا قصبہ ہے۔ یہ قصبہ قندھار میں گزشتہ دنوں قتل ہونے والے جنرل عبدالرزاق اچکزئی کی جائے پیدائش ہے۔ عبدالرزاق عین اس سال پیدا ہوا جب افغانستان میں یادش بخیر سوویت یونین کی افواج اپنی قوت کے نشے میں داخل ہوئی تھیں۔ پورا علاقہ دو بڑے قبیلوں میں تقسیم تھا۔ نورزئی اور اچکزئی۔ دونوں قبائلی طور پر ایک دوسرے سے چپقلش میں تھے۔ اچکزئی قبیلے نے بالعموم افغان حکومت اور روسی افواج کا ساتھ دیا اور نورزئی قبیلے کے لوگ ہجرت کر کے چمن کے ساتھ پہاڑوں کے دامن میں ’’بوغرہ کاریز‘‘ میں آباد ہو گئے۔ 80ء کی دہائی میں دونوں جانب سے ایک دوسرے پر گولہ باری ہوتی اور چمن کا شہر رات بھر اس گھن گھرج میں جاگتا رہتا۔ سپن بلدک میں عبدالرزاق اچکزئی کے قبیلے کے عصمت اللہ مسلم اچکزئی کو اسی طرح نجیب اللہ نے بارڈر کی ملیشیا کا جرنیل مقرر کر رکھا تھا۔ لیکن عصمت کی اصل شہرت سپن بلدک میں قائم اس عقوبت خانے کی وجہ سے تھی جسے وہ ’’قرار گاہ‘‘ کہتا تھا۔ یہاں اس نے کچھ کنٹینر رکھے ہوئے تھے جن میں وہ چمن سے شہریوں کو اغوا کر کے لے جاتا۔ اذیتیں دیتا اور تاوان طلب کرتا۔ اس کے نمائندے پاکستان میں آباد اچکزئی قبیلے کے افراد تھے جو لوگوں سے تاوان لے کر اس تک پہنچاتے اور لوگوں کو چھڑواتے۔1988ء میں روس تو چلا گیا لیکن عصمت جیسے وارلارڈ اور ظالم افراد کی بالادستی قائم رہی۔ مجاہدین کی آپس میں لڑائیوں نے افغانستان میں ان گروہوں کو مختلف علاقوں میں اپنی ظالمانہ بادشاہت قائم کرنے کا موقع فراہم کیا۔ عبدالرزاق اچکزئی نے اپنی پوری زندگی اس ظلم ‘ تشدد‘ اغوا و تاوان اور جرم کے ماحول میں گزاری۔ سپن بلدک اور قندھار میں ان لوگوں کے مظالم کی بازگشت پورے افغانستان اور پاکستان کے سرحدی شہروں میں سنائی دیتی تھی۔ یہ 24جون 1994ء کو جمعہ کا مبارک دن تھا جب پچاس کے قریب افراد ملا محمد عمر کی قیادت میں جمع ہوئے اور قندھار کے اردگرد ایسے لاتعداد اڈوں اور عقوبت خانوں کے خاتمے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ یہ وہ دور تھا جب پورا افغانستان ان جبہ کمندان‘ وار لارڈز اور خود ساختہ جرنیلوں کے ظلم سے سسک رہا تھا۔ راستے میں پہلی دیوار ضلع ڈنڈ اور پنچوائی کی سڑک پر قائم ’’داروخان‘‘ کی چیک پوسٹ آتی تھی۔ جہاں اس نے دو پھاٹک لگا کر ہر گزرنے والے سے بھتہ خوری کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا۔ یہ پہلا معرکہ تھا جو صرف آدھے گھنٹے میں سر کر لیا گیا۔ اگلا بڑا ہدف کمانڈر صالح کی وہ خود ساختہ چیک پوسٹ تھی جس کے ساتھ اس کا بہت بڑا عقوبت خانہ تھا۔ اس کے پاس تین جرگے بھیجے گئے وہ نہ مانا اسے الٹی میٹم دیا گیا اور وقت ختم ہونے کے بعد تین حصوں میں یہ پچاس کا گروہ منقسم ہو گیا۔ دو حصے ملا عبدالقدوس اور ملا ندا محمد کی سربراہی میں براہ راست اس کی طرف بڑھے۔ وہ ساتھیوں سمیت بھاگ نکلا تو راستہ روکے ہوئے تیسرا گروپ ملا عبدالسلام ضعیف کی سربراہی میں موجود تھا، صالح پکڑا گیا۔ اب سپن بلدک کی باری تھی۔11نومبر 1994ء کو صرف چالیس افراد نے اس مضبوط ترین مرکز پر حملہ کیا اور صرف پندرہ منٹ کی جنگ کے بعد وہاں سفید پرچم لہرا دیا۔ اس اڈے سے لاتعداد پاکستانی مغوی اور پاکستان سے اغوا کی گئی ۔ درجنوں گاڑیاں برآمد ہوئیں۔ اس وقت سپن بلدک سے تھوڑی ہی دور تختہ پل کے پاس پاکستان سے جانے والے 35ٹرکوں کو کئی دنوں سے یرغمال بنایا ہوا تھا۔ قندھار کی جانب طالبان کی پیش قدمی شروع ہوئی تو تختہ پل کا قابض بھاگ نکلا۔ صرف دو دن کے بعد 13نومبر کو گورنر قندھار ملا نقیب نے شہر طالبان کے حوالے کر دیا اور امارات اسلامی افغانستان کی بنیاد رکھ دی گئی۔ اس ساری چند روزہ کارروائی میں جو چند ظالم کردار مارے گئے یا جنہیں ظلم و دہشت اور قتل و غارت کے مقدموں پر سزا دی گئی ان میں عبدالرزاق اچکزئی کا والد اور چچا بھی شامل تھے۔ یہ اس وقت صرف پندرہ سال کا تھا اور چھوڑ دیا گیا۔ یہ بھاگ کر پاکستان آ گیا۔ یہاں اس کی دوستی اور تعلق ان لوگوں کے ساتھ ہوا جو پاکستان کے اندر مدتوں سے نفرت کی سیاست کے علمبردار تھے۔ وہ اپنی تقریروں‘ وال چاکنگ اور مجلسی زندگی میں چونکہ پاکستان اور فوج کو براہ راست مطعون نہیں کر سکتے تھے، اس لیے پنجاب کو گالی دیتے تھے۔ شمالی اتحاد اور امریکہ نے اس کی مالی اور عسکری مدد کی اور گیارہ ستمبر 2001ء میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے بعد جب افغانستان پر امریکہ نے حملہ کیا تو قندھار پر قبضے کے لیے گل آغا شیرازی کی سربراہی میں لشکر ترتیب دیا گیا جس میں عبدالرزاق بھی شامل تھا۔ یہ وہی گل آغا شیرازی ہے جس نے ایک لڑکے سے اپنی شادی کے کارڈ تقسیم کئے تھے اور تقریب منعقد کی تھی۔ عبدالرزاق اچکزئی‘ امریکی افواج کا چہیتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کی Comitte on tortureکمیٹی برائے تشدد نے عبدالرزاق کو تشدد‘ قتل اور لاپتہ افراد کا مجرم قرار دے کر اس پر مقدمہ چلانے کے لیے کہا لیکن امریکہ نے اسے لیفٹیننٹ جنرل کی پوسٹ پر قائم رکھا۔ وہ قندھار کا قصاب مشہور تھا اور مسخ شدہ لاشوں کا ذمہ دار کہا جاتا تھا۔ عبدالرزاق اچکزئی کی موت پر امریکہ تو خاموش ہے لیکن بھارت اور ایران کا میڈیا اسے ایک ہیرو بنا کر پیش کر رہا ہے۔ پیٹر مارسیڈن petar marsdenکی تحریریں یاد آ رہی ہیں۔ یہ شخص 1989ء سے 2005ء تک برطانوی امدادی ایجنسیوں کا افغانستان میں کوآرڈی نیٹر رہا ہے۔ اس نے دو کتابیں تحریر کیں۔ پہلی Talban, Ascent to powerاور دوسری Afganistan aid, Armies Empires۔ وہ لکھتا ہے کہ یہ تمام ظالم کمندان قندھار میں طالبان کی فتح کے بعد کابل میں اکٹھے ہو گئے تھے۔ پیٹر مارسیڈن نے ان عقوبت خانوں کی ایک ایسی تصویر کھینچی ہے کہ آدمی خوف سے تھر تھرا اٹھتا ہے۔ عبدالرزاق جس نے سترہ سال کی عمر میں بندوق اٹھائی۔ اسی تشدد کے گر سیکھتا آگے بڑھا اس پر بائیس دفعہ قاتلانہ حملہ ہوا۔ وہ ان تمام قوتوں کا محبوب تھا جو پاکستان سے بغض رکھتی ہیں۔ جو آج اس کا غائبانہ جنازہ پڑھتے ہیں اور دو ملک ایسے ہیں جو اسے ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں۔ لیکن شاید وقت کا پہیہ کسی اور سمت روانہ ہو گیا ہے۔ امریکی جنرل جیفری شدید زخمی ہے لیکن حیرت ہے کہ امریکیوں نے طالبان سے مذاکرات بہتر بنانے کے لیے قطر کے ذریعے طالبان کی بڑی شخصیت ملا عبدالغنی برادر کو پاکستان سے رہا کروایا ہے۔ پاکستان دشمنوں کی بیس سال کی محنت ضائع ہونے والی ہے۔ 

You can find here amar jaleel columns, amar jaleel, amar jaleel latest columns, Haroon ur Rasheed Columns, Nusrat Javed Columns, Ajmal Niazi Urdu Columns, javed chaudhry, Javed Chaudhry Columns, irshad bhatti, sohail warraich, Sohail Warraich, Sohail Warraich  Columns, Ayaz Ameer Urdu Columns Today, Ayaz Ameer Columns, Ayaz Ameer,rauf klasra, rauf klasra columns, jang columns, hassan nisar, hassan nisar columns, orya maqbool jan columns, orya maqbool jan, Mazhar Barlas Urdu Columns Today,  Mazhar Barlas Latest Columns etc. orya maqbool jan urdu columns today, orya maqbool jan urdu columns latest, orya maqbool jan urdu columns, orya maqbool jan .

کوئٹہ سے چمن جائیں تو افغانستان سے چند کلو میٹر پہلے خوجک کا بلند و بالا پہاڑی سلسلہ آتا ہے اس کی ہر بلندی پر برطانوی فوج نے پختہ مورچے بنائے ہوئے ہیں۔ اسی پہاڑ کے اندر ساڑھے تین میل لمبی ریلوے کی سرنگ نکال کر چمن کے شہر کو بقیہ ہندوستان سے ملایا گیا تھا۔ پہاڑ پر بل کھاتی ہوئی سڑک ایک مقام پر آتی ہے جہاں کھڑے ہو کر آپ میلوں دور تک دیکھ سکتے ہیں۔ اس بلندی سے نیچے وسیع و عریض میدان میں چمن کا شہر‘ اس کی ملحقہ آبادیاں، عین افغان سرحد پر واقعہ ریلوے اسٹیشن، ایک جانب سمگلنگ کے سامان کی خریدو فروخت کے لیے بظاہر عارضی لیکن مسلسل اور مستقل ’’رنگین منڈی‘‘ سرحد کے ساتھ ساتھ برساتی پانی کے بہائو کا نالہ اور دور افغانستان میں ’’سپن بلدک‘‘ کا قصبہ ہے۔ یہ قصبہ قندھار میں گزشتہ دنوں قتل ہونے والے جنرل عبدالرزاق اچکزئی کی جائے پیدائش ہے۔ عبدالرزاق عین اس سال پیدا ہوا جب افغانستان میں یادش بخیر سوویت یونین کی افواج اپنی قوت کے نشے میں داخل ہوئی تھیں۔ پورا علاقہ دو بڑے قبیلوں میں تقسیم تھا۔ نورزئی اور اچکزئی۔ دونوں قبائلی طور پر ایک دوسرے سے چپقلش میں تھے۔ اچکزئی قبیلے نے بالعموم افغان حکومت اور روسی افواج کا ساتھ دیا اور نورزئی قبیلے کے لوگ ہجرت کر کے چمن کے ساتھ پہاڑوں کے دامن میں ’’بوغرہ کاریز‘‘ میں آباد ہو گئے۔ 80ء کی دہائی میں دونوں جانب سے ایک دوسرے پر گولہ باری ہوتی اور چمن کا شہر رات بھر اس گھن گھرج میں جاگتا رہتا۔ سپن بلدک میں عبدالرزاق اچکزئی کے قبیلے کے عصمت اللہ مسلم اچکزئی کو اسی طرح نجیب اللہ نے بارڈر کی ملیشیا کا جرنیل مقرر کر رکھا تھا۔ لیکن عصمت کی اصل شہرت سپن بلدک میں قائم اس عقوبت خانے کی وجہ سے تھی جسے وہ ’’قرار گاہ‘‘ کہتا تھا۔ یہاں اس نے کچھ کنٹینر رکھے ہوئے تھے جن میں وہ چمن سے شہریوں کو اغوا کر کے لے جاتا۔ اذیتیں دیتا اور تاوان طلب کرتا۔ اس کے نمائندے پاکستان میں آباد اچکزئی قبیلے کے افراد تھے جو لوگوں سے تاوان لے کر اس تک پہنچاتے اور لوگوں کو چھڑواتے۔1988ء میں روس تو چلا گیا لیکن عصمت جیسے وارلارڈ اور ظالم افراد کی بالادستی قائم رہی۔ مجاہدین کی آپس میں لڑائیوں نے افغانستان میں ان گروہوں کو مختلف علاقوں میں اپنی ظالمانہ بادشاہت قائم کرنے کا موقع فراہم کیا۔ عبدالرزاق اچکزئی نے اپنی پوری زندگی اس ظلم ‘ تشدد‘ اغوا و تاوان اور جرم کے ماحول میں گزاری۔ سپن بلدک اور قندھار میں ان لوگوں کے مظالم کی بازگشت پورے افغانستان اور پاکستان کے سرحدی شہروں میں سنائی دیتی تھی۔ یہ 24جون 1994ء کو جمعہ کا مبارک دن تھا جب پچاس کے قریب افراد ملا محمد عمر کی قیادت میں جمع ہوئے اور قندھار کے اردگرد ایسے لاتعداد اڈوں اور عقوبت خانوں کے خاتمے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ یہ وہ دور تھا جب پورا افغانستان ان جبہ کمندان‘ وار لارڈز اور خود ساختہ جرنیلوں کے ظلم سے سسک رہا تھا۔ راستے میں پہلی دیوار ضلع ڈنڈ اور پنچوائی کی سڑک پر قائم ’’داروخان‘‘ کی چیک پوسٹ آتی تھی۔ جہاں اس نے دو پھاٹک لگا کر ہر گزرنے والے سے بھتہ خوری کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا۔ یہ پہلا معرکہ تھا جو صرف آدھے گھنٹے میں سر کر لیا گیا۔ اگلا بڑا ہدف کمانڈر صالح کی وہ خود ساختہ چیک پوسٹ تھی جس کے ساتھ اس کا بہت بڑا عقوبت خانہ تھا۔ اس کے پاس تین جرگے بھیجے گئے وہ نہ مانا اسے الٹی میٹم دیا گیا اور وقت ختم ہونے کے بعد تین حصوں میں یہ پچاس کا گروہ منقسم ہو گیا۔ دو حصے ملا عبدالقدوس اور ملا ندا محمد کی سربراہی میں براہ راست اس کی طرف بڑھے۔ وہ ساتھیوں سمیت بھاگ نکلا تو راستہ روکے ہوئے تیسرا گروپ ملا عبدالسلام ضعیف کی سربراہی میں موجود تھا، صالح پکڑا گیا۔ اب سپن بلدک کی باری تھی۔11نومبر 1994ء کو صرف چالیس افراد نے اس مضبوط ترین مرکز پر حملہ کیا اور صرف پندرہ منٹ کی جنگ کے بعد وہاں سفید پرچم لہرا دیا۔ اس اڈے سے لاتعداد پاکستانی مغوی اور پاکستان سے اغوا کی گئی ۔ درجنوں گاڑیاں برآمد ہوئیں۔ اس وقت سپن بلدک سے تھوڑی ہی دور تختہ پل کے پاس پاکستان سے جانے والے 35ٹرکوں کو کئی دنوں سے یرغمال بنایا ہوا تھا۔ قندھار کی جانب طالبان کی پیش قدمی شروع ہوئی تو تختہ پل کا قابض بھاگ نکلا۔ صرف دو دن کے بعد 13نومبر کو گورنر قندھار ملا نقیب نے شہر طالبان کے حوالے کر دیا اور امارات اسلامی افغانستان کی بنیاد رکھ دی گئی۔ اس ساری چند روزہ کارروائی میں جو چند ظالم کردار مارے گئے یا جنہیں ظلم و دہشت اور قتل و غارت کے مقدموں پر سزا دی گئی ان میں عبدالرزاق اچکزئی کا والد اور چچا بھی شامل تھے۔ یہ اس وقت صرف پندرہ سال کا تھا اور چھوڑ دیا گیا۔ یہ بھاگ کر پاکستان آ گیا۔ یہاں اس کی دوستی اور تعلق ان لوگوں کے ساتھ ہوا جو پاکستان کے اندر مدتوں سے نفرت کی سیاست کے علمبردار تھے۔ وہ اپنی تقریروں‘ وال چاکنگ اور مجلسی زندگی میں چونکہ پاکستان اور فوج کو براہ راست مطعون نہیں کر سکتے تھے، اس لیے پنجاب کو گالی دیتے تھے۔ شمالی اتحاد اور امریکہ نے اس کی مالی اور عسکری مدد کی اور گیارہ ستمبر 2001ء میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے بعد جب افغانستان پر امریکہ نے حملہ کیا تو قندھار پر قبضے کے لیے گل آغا شیرازی کی سربراہی میں لشکر ترتیب دیا گیا جس میں عبدالرزاق بھی شامل تھا۔ یہ وہی گل آغا شیرازی ہے جس نے ایک لڑکے سے اپنی شادی کے کارڈ تقسیم کئے تھے اور تقریب منعقد کی تھی۔ عبدالرزاق اچکزئی‘ امریکی افواج کا چہیتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کی Comitte on tortureکمیٹی برائے تشدد نے عبدالرزاق کو تشدد‘ قتل اور لاپتہ افراد کا مجرم قرار دے کر اس پر مقدمہ چلانے کے لیے کہا لیکن امریکہ نے اسے لیفٹیننٹ جنرل کی پوسٹ پر قائم رکھا۔ وہ قندھار کا قصاب مشہور تھا اور مسخ شدہ لاشوں کا ذمہ دار کہا جاتا تھا۔ عبدالرزاق اچکزئی کی موت پر امریکہ تو خاموش ہے لیکن بھارت اور ایران کا میڈیا اسے ایک ہیرو بنا کر پیش کر رہا ہے۔ پیٹر مارسیڈن petar marsdenکی تحریریں یاد آ رہی ہیں۔ یہ شخص 1989ء سے 2005ء تک برطانوی امدادی ایجنسیوں کا افغانستان میں کوآرڈی نیٹر رہا ہے۔ اس نے دو کتابیں تحریر کیں۔ پہلی Talban, Ascent to powerاور دوسری Afganistan aid, Armies Empires۔ وہ لکھتا ہے کہ یہ تمام ظالم کمندان قندھار میں طالبان کی فتح کے بعد کابل میں اکٹھے ہو گئے تھے۔ پیٹر مارسیڈن نے ان عقوبت خانوں کی ایک ایسی تصویر کھینچی ہے کہ آدمی خوف سے تھر تھرا اٹھتا ہے۔ عبدالرزاق جس نے سترہ سال کی عمر میں بندوق اٹھائی۔ اسی تشدد کے گر سیکھتا آگے بڑھا اس پر بائیس دفعہ قاتلانہ حملہ ہوا۔ وہ ان تمام قوتوں کا محبوب تھا جو پاکستان سے بغض رکھتی ہیں۔ جو آج اس کا غائبانہ جنازہ پڑھتے ہیں اور دو ملک ایسے ہیں جو اسے ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں۔ لیکن شاید وقت کا پہیہ کسی اور سمت روانہ ہو گیا ہے۔ امریکی جنرل جیفری شدید زخمی ہے لیکن حیرت ہے کہ امریکیوں نے طالبان سے مذاکرات بہتر بنانے کے لیے قطر کے ذریعے طالبان کی بڑی شخصیت ملا عبدالغنی برادر کو پاکستان سے رہا کروایا ہے۔ پاکستان دشمنوں کی بیس سال کی محنت ضائع ہونے والی ہے۔ 

You can find here amar jaleel columns, amar jaleel, amar jaleel latest columns, Haroon ur Rasheed Columns, Nusrat Javed Columns, Ajmal Niazi Urdu Columns, javed chaudhry, Javed Chaudhry Columns, irshad bhatti, sohail warraich, Sohail Warraich, Sohail Warraich  Columns, Ayaz Ameer Urdu Columns Today, Ayaz Ameer Columns, Ayaz Ameer,rauf klasra, rauf klasra columns, jang columns, hassan nisar, hassan nisar columns, orya maqbool jan columns, orya maqbool jan, Mazhar Barlas Urdu Columns Today,  Mazhar Barlas Latest Columns etc.

پاکستانی سیاست کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ کسی بھی معاملے میں سیاست دان عرق ریزی اور محنت کو توہین شان سمجھتے ہیں جو علم رکھتے ہیں ان کا مبلغ علم یونیورسٹیوں کی تعلیم کے دوران پڑھائے جانے والے سیاسیات و معاشیات کے نصابی اصولوں پر مبنی ہوتا ہے یا پھر اسی حوالے سے مغرب و مشرق میں جو مضامین چھپتے ہیں انہیں پڑھ کر اپنے ذہن میں ایک خیالی معاشرے کی ایک تصویر بنا لیتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ برسراقتدار آ کر ویسا ہی معاشرہ قائم کر دیں۔ ان کے خوابوں میں بسی اس جنت ارضی کو جدید و قدیم اصطلاحات میں یوٹوپیا "Utopia”کہتے ہیں۔ اس لفظ کو 1516ئمیں مشہور مصنف سرتھامس مور نے یونانی روایت سے تخلیق کیا۔ ان کی اس کتاب میں ایک ایسے تصوراتی جزیرے کا ذکر ہے جس میں انسانی ضروریات کی مکمل تسکین ہوتی ہے۔ تھامس مور کا یہ جزیرہ تخلیاتی تھا لیکن اس کا محل وقوع بحراوقیانوس میں جنوبی امریکہ کے ساحلوں کے آس پاس تھا۔ یونانی زبان میں ’’یوٹوپیا‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ایسی سرزمین جس کا وجود ہی نہ ہو۔ تھامس مور کی کتاب کے بعد سیاسیات، معاشیات اور معاشرتی علوم میں یہ لفظ ایک علامت بن گیا اور ہر وہ شخص جو زمینی حقائق سے بے خبر ہو کر تبدیلی کے خواب دیکھنا تھا۔ اسے کے خوابوں کو ’’یوٹوپیا‘‘ اور اسے ’’یوٹوپین‘‘ سیاست دان یا معیشت دان کہا جانے لگا۔ عملی طور پر اس کی مثال رابرٹ اوین”Robert own”تھا۔ اس کے خیالات کو آج تک "Utopean Socialism”تخیلاتی سوشلزم کہا جاتا ہے۔ چودہ مئی 1771ء کو پیدا ہونے والا یہ شخص اپنے زمانے میں کپڑے کے لاتعداد کارخانوں کا مالک تھا۔ اس کا کاروبار اسکاٹ لینڈ سے مانچسٹر اور لندن تک پھیلا ہوا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب مزدوروں کے حالات دگرگوں تھے اور برطانیہ میں چائلڈ لیبر اپنے عروج پر تھی۔ رابرٹ اوین نے پہلے اپنے کارخانوں میں اصلاحات نافذ کیں، مزدوروں کو بہتر اجرتیں دیں، صحت اور رہائش کی سہولتیں میسر کیں۔ اس کے بعد اس نے اپنی دولت سے 2500گھرانوں پر مشتمل ایک چھوٹا سا شہر نیو لنارک "New Lanark”کے نام سے آباد کیا جس کے رہنے والوں کو اس نے تمام سہولیات مہیا کیں۔ اس کا اندازہ تھا کہ یہ خیالی شہر جسے اس نے حقیقت کا روپ دے دیا ہے بہت ترقی کرے گا۔ لیکن ان تمام تصورات، خیالات اور خوابوں کا ایک ایسا انجام ہوا جس کا خیال بھی اس کے ذہن میں نہیں آیا تھا۔ یہ شہر نکموں، نکھٹوئوں اور کام کاج کے بغیر اناج برباد کرنے والوں کا مسکن بن گیا۔ وہ امریکہ چلا گیا، جہاں ایک بار پھر اس نے 1824ء میں انڈیانا میں ایک مختصر سی آبادی تخلیق کی جس کا نام "New Aarmony”یعنی ’’نیا حسنِ سلوک‘‘ رکھا۔ اس شہر میں نہ صرف خوراک، کپڑے اور مکان میسر تھے، بلکہ صحت، تعلیم اور بچوں کی دیکھ بھال کا بھی انتظام تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ اس کے بسنے والے بے غرضی سے اس خیالی دنیا کو آباد رکھیں گے مگر اس کا حشر بھی ویسا ہی ہوا بلکہ یہاں تو لوگ نشے میں دھت، عیش و عشرت کے ماحول میں مست ہوتے گئے۔ پاکستانی سیاست میں رابرٹ اوین کی طرح اپنی جائیداد بیچ کر خوابوں کی بستی تخلیق کرنے والا تو کوئی نہیں لیکن ایسی بستی کے خواب دیکھنے والے وقفے وقفے کے ساتھ ابھرے لیکن اکثر کامیاب نہیں ہو پائے۔ 2018ء کے انتخابات میں پہلی دفعہ ایسا ہوا کہ اس طرح خواب دیکھنے والوں کی اکثریت حکومت میں آ گئی ہے اور اس سے بڑھ کر جو المیہ ہوا ہے وہ یہ کہ لوگوں نے ان کے خوابوں پر یقین بھی کرنا شروع کر دیا ہے جبکہ مخالفین کا ایک بہت بڑا گروہ میڈیا سے لے کر عام نشست و برخاست تک یہ تاثر دے رہا ہے کہ یہ خواب تو پورے ہونے والے ہی نہیں ہیں۔ خواب خواہ شداد کی جنت ہو یا ساحر الموط کی برگ حشیش سے تخلیق کردہ بہشت، پورے ہو جاتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ آپ کو اپنے خواب کی تکمیل کے سازوسامان اور میٹریل کا علم ہو۔ آپ مکمل طور پر ایک زمینی حقائق سے جڑے ہوئے عملی (Practical)انسان ہوں۔ آپ کا علم صرف نصابی نہ ہو اور آپ کو زندگی کی چکی کے چلنے کا تجربہ ہو۔ تبدیلی کی خواہش اور خواب کے علمبردار گزشتہ دو ماہ سے اپنے نصابی علم اور افسانوی دنیا کے ساتھ پاکستان میں موجود سترسالہ بیورو کریسی کے اینٹ گارے سے ایک نیا شیش محل بنانا چاہتے ہیں۔ لیکن اس کا معاملہ یہ ہے کہ اس نظام کی ہر اینٹ اپنی جگہ سختی سے جڑی ہوئی ہے۔ آپ اس عمارت پر نیا رنگ و روغن تو کر سکتے ہیں، اسے شیش محل نہیں بنا سکتے۔ گزشتہ ساٹھ دنوں سے میں معیشت کے میدان میں عقل کے سرپٹ گھوڑے دوڑانے والوں کو دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ ایک دن یہ تھک ہار کر ہلکان ہو جائیں گے اور بیوروکریسی اپنی پرانی روش کی کامیابی پر شادیانے بجائے گی۔ ایسا کیوں ہو گا…پاکستان میں بجٹ بنانا دوسرے ملکوں کی طرح ایک تخلیقی کام نہیں بلکہ ایک جامد و ساکت روٹین ہے جو تقریباً دسمبر کے مہینے سے شروع ہو جاتی ہے۔ محکمۂ مالیات کے مراسلوں کے ساتھ کچھ فارم منسلک ہوتے ہیں جو محکموں کے اعلیٰ افسروں سے ہوتے ہوئے سب سے نچلی سطح تک پہنچتے ہیں۔ وہاں پر دفتر میں بیٹھا ایک بوڑھا تجربہ کار کلرک یا سپرنٹنڈنٹ اس میں اگلے سال کی ضروریات درج کرتا ہے۔ کچھ نئے منصوبے جو اس کی عقل کے مطابق ضروری ہوتے ہیں ان کے تخمینے لگاتا ہے اور بھیج دیتا ہے۔ محکمہ اپنی سطح پر ان کو اکٹھا کرتا ہے۔ وہاں پر موجود سیکشن آفیسر اپنی عقل کے مطابق کانٹ چھانٹ کرتا ہے۔ سیاست دان اور اعلیٰ آفیسر کی مرضی سے اس میں تبدیلی کرتا ہے۔ اس کے بعد اسی طرح کے سیکشن آفیسر، ڈپٹی سیکرٹری اور ایڈیشنل سیکرٹری فنانس کے محکمے میں ہوتے ہیں جو ہر محکمے سے میٹنگ کرتے ہیں جنہیں "Schadule of New expenditure SNE” کی میٹنگ کہتے ہیں۔ کانٹ چھانٹ ہوتی ہے۔ ایسے ہی ایک میٹنگ پلاننگ میں ہوتی ہے اور وہاں بھی سکیموں میں سیکشن آفیسر کا وژن اور تجربہ کامیاب ہوتا ہے۔ اس میں آپ ذرا اختیار ملاحظہ فرمائیں کہ اگر ایک وائس چانسلر چاہتا ہے کہ اسے فزکس کا پروفیسر چاہیے لیکن فنانس والے یونیورسٹی کا آڈیٹوریم بنانا چاہتے ہیںتو فنڈز آڈیٹوریم کے لیے جاری ہوتے ہیں۔ اگر پاکستان کے مرکزی اور چاروں صوبوں کے بجٹوں کا تفصیل سے جائزہ لیا جائے تو آپ کو یوں لگے گا جیسے 1947ء سے مکھی پر مکھی ماری جا رہی ہو۔ بجٹ میں مخصوص رقوم اور ہوتی ہیں اور اخراجات کہیں اور ہوتے ہیں۔ یہ اختیار بھی بڑے کمال کا ہے۔ سیاسی سطح پر صرف ٹیکس لگانے اور ریونیو بڑھانے کے فیصلے ہوتے ہیں۔ وہ بھی اگر نہ بڑھائے جائیں تو نوٹ چھاپنے اور قرض لینے کا فیصلہ ہوتا ہے۔ لیکن کوئی اللہ کا بندہ اس ساری محنت اور کوشش کا از سرنو جائزہ نہیں لیتا جو ایک عام کلرک یا سپرنٹنڈنٹ کی عقل سے بالا نہیں ہوتی۔ تازہ ترین بجٹ بھی ویسی ہی ایک دستاویز ہے جو ہزاروں صفحات پر مشتمل ہے، اس میں اسدعمر کی تقریر کا تڑکا ہے۔ خیر ابھی تو مہلت ہی نہیں تھی، لیکن اگر اگلے بجٹ کی تیاری جو دسمبر میں شروع ہو گی، وہ بھی ویسی ہی رہی، کوئی طریق کار میں تبدیلی نہ ہوئی۔ گھسے پٹے فارم اور تھکے تھکے سیکشن افیسران کی صلاحیتوں پر ہی بھروسہ کیا گیا تو پھر لوگ آئندہ صدی میں اس یوٹوپیائی سیاست کی مثالیں دیا کریں گے اور ملک واپس اندھیروں میں لوٹ جائے گا۔

You can find here amar jaleel columns, amar jaleel, amar jaleel latest columns, Haroon ur Rasheed Columns, Nusrat Javed Columns, Ajmal Niazi Urdu Columns, javed chaudhry, Javed Chaudhry Columns, irshad bhatti, sohail warraich, Sohail Warraich, Sohail Warraich  Columns, Ayaz Ameer Urdu Columns Today, Ayaz Ameer Columns, Ayaz Ameer,rauf klasra, rauf klasra columns, jang columns, hassan nisar, hassan nisar columns, orya maqbool jan columns, orya maqbool jan, Mazhar Barlas Urdu Columns Today,  Mazhar Barlas Latest Columns etc. orya maqbool jan, orya maqbool jan best columns, orya maqbool jan columns,  orya maqbool jan columns today, orya maqbool jan columns 2018, 


MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget