کالم لسٹ "Amar Jaleel"


کوئی جو چاہے کہے، میں اپنی حرکتوں اور علتوں سے باز نہیں آتا۔ سنتا سب کی ہوں، مگر کام اپنی مرضی کے کرتا ہوں بلکہ ہر کام اپنی مرضی کے مطابق کرتا ہوں۔ فائر بریگیڈ والے آگ بجھا کر چلے جاتے ہیں۔ ان کے چلے جانے کے بعد میں جائے وقوع پہنچ جاتا ہوں اور راکھ میں چھپی ہوئی چنگاریاں کریدنے لگتا ہوں۔ میں ایسا کیوں کرتا ہوں؟ کیا میں تفتیشی افسرہوں، اور دوسروں کے عیب نیب تک پہنچاتا ہوں؟ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ میں ایک سیدھا سادہ اللہ سائیں کا آدمی ہوں۔ میں دال میں کچھ کالے کی نشاندہی نہیں کرتا۔ میں کالے میں دال کی نشاندہی نہیں کرتا۔ آپ مسکرائیں مت۔ میں اپنے آپ کو پارسا اور صاف ستھرا ثابت کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔ میں جو کچھ کرتا ہوں اپنی مرضی کے مطابق کرتا ہوں۔ دوست احباب اور رشتہ دار میت دفنانے کے بعد جب چلے جاتے ہیں، تب میں قبرستان میں وارد ہوتا ہوں۔ گڑا مردہ اکھاڑنے لگتا ہوں۔ گڑے مردے اکھاڑنے کی میری عادت بہت پرانی ہے۔ تب ملک مالی بحران سے دوچار نہیں ہوا تھا۔ پیسے کی ریل پیل تھی۔ ساہوکار کیڑے لگے ہوئے دانت پر سونے کا ملمع چڑھواتے تھے۔ کچھ دولت مند ایسے بھی ہوتے تھے جو صحت مند دانتوں پر سونے کا ملمع چڑھواتے تھے۔ اور جو ضرورت سے زیادہ دولت مند ہوتے تھے وہ ناقص دانتوں کی جگہ خالص سونے کے دانت لگواتے تھے۔ ان دنوں ایسا کبھی نہیں ہوتا تھا کہ میت دفنانے سے پہلے میت کے منہ سے سونے کے دانت نکال دیئے جاتے۔ مجھے نہیں یاد کہ کبھی ایسا ہوا ہو۔ مردے کو منہ میں لگے ہوئے سونے کے دانتوں سمیت دفنا دیا جاتا تھا۔ جب تک شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ سے پانی پیتے تھے، اور کوے ہنس کی چال نہیں چلتے تھے تب تک مجھ جیسے پاپی قبرستانوں کا رخ نہیں کرتے تھے۔ مگر حالات تبدیل ہونے میں دیر نہیں لگتی۔ دیدہ دانستہ کوے ہنس کی چال چلنے لگے۔ اور پھر ایسا رواج پڑا کہ کوے اپنے آپ کو اصلی ہنس اور اصلی ہنس کو کوا کہنے لگے۔ ہنس جو کبھی اتراتے ہوئےپانی پر تیرتے رہتے تھے ، بہت شرمندہ ہوئے۔ہنسوں نے چلو بھر پانی میں ڈوب مرنے کا فیصلہ کیا۔ اور پھر ایک روز ہنسوںنے ہنستے ہوئے چلو بھر پانی میں ڈوب کر خودکشی کرلی۔ تب ہم نے قبرستانوں کا رخ کیا اور اردو زبان کو گڑے مردے اکھاڑنے کا محاورہ دیا۔ ہم مستعدی سے گڑے مردے اکھاڑتے تھے اور ان کے منہ سے سونے کے دانت نکال کر جیب میں ڈالتے تھے اور مردوں کو دوبارہ اسی قبر میں دفن کردیتے تھے۔

اب مجھ جیسے پاپی گڑے مردے نہیں اکھاڑتے۔ معیشت کا بیڑا غرق ہونے کے بعد ساہوکاروں نے منہ میں سونے کے دانت لگوانا چھوڑ دیئے ہیں۔ بحران کے ابتدائی دنوں میں ایک سو مردے اکھاڑنے کے بعد مشکل سے ایک مردے کے منہ سے ایک دوسونے کے دانت مل جاتے تھے۔ اور پھر ایسے دن بھی آئے جب دس ہزار مردے اکھاڑنے کے بعد ایک مردے کے منہ سے ایک سونے کا دانت نکلتا تھا۔ وہ دانت بھی اصل میں چاندی کا دانت ہوتا تھا۔ اور پھر معیشت کے چوپٹ ہونے کا پتہ تب چلا جب ایک لاکھ گڑے مردے اکھاڑنے کے باوجود کسی ایک مردے کے منہ سے ہمیں سونے ، چاندی، پیتل یا تانبے کا ایک دانت تک نہیں ملا۔ تب ہم نے گڑے مردے اکھاڑنے کو بے سود جانا اور گڑے مردے اکھاڑنے کے کام سے دستبردار ہوگئے۔ اب ہمارے ملک میں گڑے مردے اکھاڑنے کا کام سیاستدانوں نے اپنے ذمے لے لیا ہے۔ اور وہ لوگ گڑے مردے اکھاڑنے کا کام بڑی خیرو خوبی سے انجام دے رہے ہیں۔

کہتے ہیں کہ اللہ سائیں جب روزگار کا ایک دروازہ بند کردیتا ہے تب دس دروازے کھول دیتا ہے۔ یہ سنی سنائی بات نہیں ہے۔ یہ میرے اپنے مشاہدے کی بات ہے۔ گڑے مردے اکھاڑنے سے پہلے کسی نہ کسی طور پر میری روزی روٹی لگی رہتی تھی۔ مثلاً گڑے مردے اکھاڑنے سے پہلے میں گورکن تھا۔ قبریں کھودا کرتا تھا۔

کراچی میں لوگ کثرت سے آتے ہیں اور کثرت سے مرتے ہیں۔ اگر لوگ بیمار پڑنا چھوڑ دیں اور صحت مند رہنے لگیں تو اسپتالوں کو تالے لگ جائیں اور ڈاکٹر بیچارے بھوکے مرنے لگیں۔ اسی طرح لوگ اگر مرنا چھوڑ دیں تو گورکن بیچارے بیروزگار ہوجائیں اور فاقوں کا شکار ہو جائیں۔ کراچی میں روزانہ دو چار قبریں کھودنے کا کام مل جاتا ہے۔ ایک پتے کی بات بتادوں آپ کو۔ کراچی میں بیسیوں قبرستان ہیں۔ گورکنی ٹھیکے پر دی جاتی ہے۔ لہٰذا ایک ٹھیکیدار کے ماتحت آپ کو گورکنی کرنا پڑتی ہے۔ مجھے روزانہ دو تین قبریں کھودنے اور مردے دفن کرنے کا کام مل جاتا تھا۔ اچھی خاصی آمدنی ہو جاتی تھی۔ وائے قسمت ! ایک مرتبہ ٹھیکیدار نے مجھے ایک ایسی پرانی قبر کھودنے کو دی جس میں چالیس پچاس برس پرانے مردے کی ہڈیاں پڑی ہوئی تھیں۔ میں نے واویلا مچایا اور قبر میں قبر کھودنے اور مردے پر مردہ دفن کرنے سے انکار کردیا۔ ٹھیکیدار نے کھڑے کھڑے مجھے کام سے فارغ کردیا۔ ایک دروازہ بند ہوگیا۔ کچھ ہی دنوں بعد مجھے گڑے مردے اکھاڑنے کا کام مل گیا۔

ملکی معیشت کے چوپٹ ہو جانے کے بعد لوگوںنے منہ میں سونے کے دانت لگوانے کا شوق چھوڑ دیا ہے۔ اس لئے ہم نے بھی گڑے مردے اکھاڑنے سے کنارہ کشی کرلی ہے۔ میرے کچھ جاننے والے ، جو میری طرح گڑے مردے اکھاڑتے تھے، معیشت کے چوپٹ ہو جانے کے باوجود گڑے مردے اکھاڑنے کا کام کرتے رہتے ہیں۔ وہ مردوں کے منہ میں سونے کے دانت تلاش نہیں کرتے۔ وہ مردوں کی کھوپڑیاں میڈیکل کے طلبا یعنی ایم بی بی ایس کے طلبا کو بیچتے ہیں۔ اب ان بیچاروں کا کام بھی ٹھپ پڑنے کو ہے۔ حکومت نے چین سے کھوپڑیاں منگوانے کا معاہدہ کرلیا ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

ہمارے ملک میں لوگوں کو خواب دیکھنا اچھا لگتا ہے۔ایک مرتبہ ایک سیانے سے ہم بیوقوفوں نے پوچھا تھا:لوگ خواب کیوں دیکھتے ہیں؟سیانے نے جواب دیتے ہوئے کہا تھا:جو لوگ کچھ نہیں دیکھتے وہ خواب دیکھتے ہیں۔ سیانے کا جواب سن کر ہم بیوقوف کچھ کچھ سیانے ہو گئے تھے۔ خوابوں کے حوالے سے بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں آنے لگی تھیں۔ تب ہم نے محسوس کیا تھا کہ ہماری سمجھ اس قدر ناقص نہ تھی جتنا کہ ہم اپنی سمجھ کو ناقص سمجھتے تھے۔ فلسفی صرف عقلمندوں کے درمیان پیدا نہیں ہوتے۔ ہم احمقوں کے درمیان بھی فلسفی پیدا ہوتے ہیں۔ امکانات روشن تب ہوتے ہیں جب ایک بیوقوف کا واسطہ کسی سیانے سے پڑتا ہے۔ سیانے سے ہم کلام ہونے کے بعد ہم ناقص سوچ رکھنے والے سیانے بن جاتے ہیں۔ ہمارے درمیان ایک دو لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو فلسفی بن جاتے ہیں اور فلسفیانہ باتیں کرنے لگتے ہیں۔ میں آپ کو ایک دیسی فلسفی کا قول سناتا ہوں۔ اچھا قول ہے۔ انٹرنیٹ پر وائرل ہو چکا ہے۔اس لیے آپ کو سنا رہا ہوں۔ میں نے اس قول پر عمل کرکے دیکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں خوش رہتا ہوں اور خرم بھی رہتا ہوں۔ اس قول پر عمل کرنے سے آپ بھی میری طرح خوش و خرم رہ سکتے ہیں۔ قول سنیے:خوش رہنا چاہتے ہو، تو سوچنا چھوڑ دو۔یہ میرا ذاتی اور مخفی تجربہ ہے۔ اس قول پر عمل کرنے سے میں مستفید ہو چکا ہوں۔ اس قول پر عمل کرنے سے آپ بھی مستفید ہو سکتے ہیں۔ بس،سوچنا چھوڑ دیجیے۔ میں نے جب تک سوچنا نہیں چھوڑا تھا تب تک میں بہت دکھی رہتا تھا۔ غمگین گانے گایا کرتا تھا:تیری دنیا میں دل لگتا نہیں،مجھ کو اے مالک اٹھا لے۔ میں چھوٹی چھوٹی اور نظرانداز کرنے جیسی باتوں پر سوچتا تھا۔ کڑھتا تھا۔پریشان رہتا تھا۔ دیواروں سے سر ٹکراتے ٹکراتے لہولہان ہو جاتا تھا۔معمولی باتوں پر میں سوچنے لگتا تھا اور پھر سر میں دھول ڈال کر،گریباں چاک کر کے بیابانوں کا رخ کرتا تھا ۔ایک مرتبہ اچانک ایک کلرک کی منہ پھٹ بیوی مر گئی۔ کچھ روز بعد کلرک کو بائیس گریڈ میں ترقی دے دی گئی۔ میں سوچتے سوچتے پاگل ہو گیا۔بیوی کی اچانک موت کا کلرک کی بائیس گریڈ میں ترقی سے کیا واسطہ تھا؟نیند آنکھوں سے اوجھل ہو گئی۔ میں کھانا پینا بھول گیا۔ سوکھ کر کانٹا ہو گیا۔ میں گلی کوچوں میں گاتا پھرتا تھا: تیری دنیا میں دل لگتا نہیں، مجھ کو اے مالک اٹھا لے۔ تب، ایسے میں کسی نے مجھے دیسی فلسفیانہ قول سے آگاہ کیا:خوش رہنا چاہتے ہو، تو سوچنا چھوڑ دو۔

اس دن سے میں نے سوچنا چھوڑ دیا ہے۔ بھاڑ میں جائے کلرک اور بھاڑ میں جائے اس کی منہ پھٹ بیوی۔ تب سے میں خوش رہتا ہوں اور خرم بھی رہتا ہوں۔ گاتا پھرتا ہوں: تیری دنیا میں اب بہت دل لگتا ہے مالک، مجھے مت اٹھانا۔ مجھے قیامت تک زندہ رکھنا اور موج مستی کرنے دینا۔ مانا کہ یہ دنیا فانی ہے، پھر بھی جانی پہچانی ہے۔ ابھی کچھ من مانی کرنی ہے۔ لوٹی ہوئی دولت واپس لانی ہے۔ مانا کہ دنیا آنی فانی ہے، پھر بھی دلبر جانی ہے۔

بات بہت پرانی ہے۔ برصغیر کے بڑے برے دن تھے۔ چوریاں نہیں ہوتی تھیں۔ڈاکے نہیں پڑتے تھے۔ایسا بھی نہیں تھا کہ تب برصغیر میں صرف فرشتے رہتے تھے۔ کسی طرح سے برصغیر میں قدرت کے قانون کی نفی نہیں ہوتی تھی۔ قدرت کے قانون کے مطابق اندھیرا اور اجالا ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ ایک دوسرے کے پیچھے لگے رہتے ہیں۔ عروج اور زوال کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے۔تب برصغیر میں برائی ہوتی تھی تو بھلائی بھی ہوتی تھی۔ ناانصافی ہوتی تھی تو انصاف بھی ہوتا تھا۔کانٹے ہوتے تھے تو پھول بھی ہوتے تھے۔ قمار خانے ہوتے تھے تو کتب خانے بھی ہوتے تھے۔ ڈاکو ہوتے تھے تو پولیس والے بھی ہوتے تھے۔ چوریوں اور ڈکیتیوں کی نہ ہونے والی وارداتوں کا سبب پولیس کا نظام اور ان کی فرض شناسی نہ تھی۔ اس کا سب سے بڑا سبب تھا چوکیدار۔ محلوں اور گلی کوچوں سے لے کر بند بازاروں میں چوکیدار پہرہ دیتےتھے۔ہاتھ میں ان کے لمبی لاٹھی ہوتی تھی۔ دوسرے ہاتھ میں لالٹین ہوتی تھی۔ لاٹھی زمین پر مارتے تھے اور رات بھر چلّاتے پھرتے تھے:جاگتے رہو ۔جاگتے رہو۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب حکمراں انگریز ہندو اور مسلمانوں کے ساتھ ہندوستان کے بٹوارے سے متعلق گفت و شنید کر رہے تھے۔ تب میں نہ تو بہت چھوٹا تھا اور نہ ہی بہت بڑا تھا۔ میں بس اتنا تھا کہ ہندوستان کے بٹوارے کی باتیں اور فریقین کے دلائل میری سمجھ میں آتے تھے۔ اس دور کی باتیں مجھے آج تک یاد ہیں۔بڑے بوڑھے ایک ہی موضوع پر مختلف زاویوں سے بولتے رہتے تھے۔انگریز نے ہندوستان چھوڑنے سے پہلے ہندوستان کو دولخت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ایک حصّہ بڑا ہو گا اور دوسرا حصّہ چھوٹا ہو گا۔ ہندوستان کے چھوٹے حصّے پر برصغیر کے مسلمانوں کیلئے الگ تھلگ ملک پاکستان بنے گا۔ پاکستان میں انصاف کا بول بالا ہو گا اور دشمن کا منہ کالا ہو گا۔شیر اور بکری ایک گھاٹ سے پانی پئیں گے۔ گائے ذبح کرنے پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہو گی۔ آپ جب چاہیں،جہاں چاہیں گائے کاٹ سکیں گے۔ آپ چاہیں تو فٹ پاتھ پر بھینس یا گائے ذبح کر سکیں گے۔آپ سڑک کے بیچوں بیچ گائے کے گلے پر چھری پھیر سکیں گے۔ آپ بیچ چوراہے پر گائے،بیل، بھینس اور بھینسے کو حلال کر سکیں گے۔ آپ پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہو گی۔ایسا ہو گا برصغیر کے مسلمانوں کیلئے ایک الگ تھلگ ملک پاکستان۔ ایک اسلامی ملک ہونے کے ناتے پاکستان میں تالا لگانے کا رواج نہیں ہو گا۔ لوگ گھروں، دفتروں اور دکانوں کے کواڑ بند نہیں کریں گے۔ آپ دروازوں پر تالا نہیں لگائیں گے۔ دفتر جاتے ہوئے آپ گھر کے دروازے پر تالا نہیں لگائیں گے۔ آپ دفتر اور دکان سے نماز پڑھنے کیلئے مسجد کا رخ کریں گے تو دفتر اور دکان کے دروازے کھلے چھوڑ جائیں گے۔ یہ تب کی باتیں ہیں جب چوکیدار ہمیں سونے نہیں دیتے تھے۔ اور رات بھر بلند آواز میں کہتے پھرتے تھے:جاگتے رہو۔چوکیدار نہ خود سوتے تھے اور نہ ہمیں سونے دیتے تھے۔ آپ جب تک سوتے نہیں،تب تک آپ خواب نہیں دیکھ سکتے۔ بٹوارے سے پہلے برصغیر کے مسلمان عجیب و غریب کیفیت سے گزر رہے تھے۔ چوکیدار انہیں سونے نہیں دیتے تھے۔ اس لیے وہ خواب نہیں دیکھتے تھے۔ چونکہ چوکیدار خود بھی رات رات بھر جاگتے رہتے تھے، اس لیے وہ بھی خواب نہیں دیکھتے تھے۔ تب ہم سب جاگتے رہتے تھے اور مزیدار خیالی پلائو پکاتے رہتے تھے۔ اب جا کر پتہ چلا ہے کہ تب ہم خیالوں میں افغانی پلائو پکایا کرتے تھے۔



پچھلے ہفتہ ایک افسوس ناک واقعے نے پڑھے لکھے پاکستان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ تعلیم یافتہ لوگوں کے سر شرم سے جھک گئے تھے۔ پنجاب یونیورسٹی کے ریٹائرڈ وائس چانسلر کو ہتھکڑیاں لگا کر نیب کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ المناک واقعہ میڈیا نے وائرل کردیا۔ اس کے بعد کیا کچھ ہوا، ملک کے کونے کونے سے کس قسم کا ردّعمل سامنے آیا، آپ سب اس سے واقف ہیں۔ یہ کمال میڈیا کی کوریج کا تھا۔ مگر اسی نوعیت کا ایک دل خراش واقعہ میڈیا کی کوریج سے رہ گیا تھا۔ اس بات کو تین برس گزر چکے ہیں۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ کیا ہوا تھا۔

آج سے تین برس پہلے ہزارہ یونیورسٹی اور عبدالولی خان یونیورسٹیز کے ریٹائرڈ وائس چانسلرز اور چار ریٹائرڈ پروفیسرز کو پوچھ گچھ کے لیے نیب پشاور بلایا گیا تھا۔ سب عمر رسیدہ تھے۔ ستّر، اسّی برس کی عمر کے لگ بھگ تھے۔ کچھ نحیف تھے۔ کچھ بیمار تھے۔ معاملہ تھا ایک میڈیکل کالج کے الحاق کا۔ طلبہ سے فیس وصول کرنے، امتحان لینے اور ایم بی بی ایس کی ڈگری عطا کرنے کا۔ منی لانڈرنگ کا کیس نہیں تھا۔ دونوں ریٹائرڈ وائس چانسلرز اور ریٹائرڈ پروفیسرز کو نیب نے وہیں کے وہیں گرفتاری کا حکم سنا دیا۔ دونوں وائس چانسلرز اور پروفیسرز دنیا کی اعلیٰ یونیورسٹیوں کے پی ایچ ڈی تھے۔ اعلیٰ تعلیم و تربیت کے محقق تھے۔ دنیا بھر کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں لیکچر دیتے، سیمینار اور کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے تھے مگر نیب نے انہیں گرفتار کر کے ایک بدنما کوٹھڑی میں بند کر دیا۔ وائس چانسلر اور پروفیسر پشاور شہر کے رہنے والے نہیں تھے۔ وہ پختون خوا کے مختلف شہروں سے نیب کی طرف سے بلانے پر پشاور آئے تھے۔ وہ اپنے بال بچّوں سے یہ کہہ کر آئے تھے کہ شام تک وہ گھر لوٹ آئیں گے مگر وہ شام تک گھر نہیں لوٹے۔ رات ہو گئی۔ وہ گھر نہیں آئے۔ گرفتار کرنے کے بعد نیب کے اہلکاروں نے ان سے موبائل فون چھین لیے تھے۔رات بھر لواحقین پشاور کے نیب دفتر میں فون کرتے رہے۔ کوئی جواب نہیں ملا۔ بال بچّوں کی تشویش بڑھ گئی۔ وائس چانسلرزاور پروفیسرز ستّر ، اسّی برس کے لگ بھگ تھے۔ بال بچّے پریشان ہو گئے کہ سفر کے دوران ان کے ساتھ کوئی حادثہ پیش نہ آگیا ہو؟ہارٹ اٹیک نہ ہو گیا ہو؟دوسرے روز صبح کے وقت پروفیسرز اور وائس چانسلرز کے بال بچّے پشاور پہنچے ۔ نیب کے دفتر گئے۔ تب جا کر ان کو پتہ چلا کہ ان کے ابّو، ان کے دادا گرفتار ہو چکے ہیں۔ نیب کی تحویل میں ہیں۔ وہ سکتے میں آ گئے۔ لواحقین کو وائس چانسلرز اور پروفیسرز کے لیے وکیل کرنے اور ضمانت لینے میں تین، چار دن لگ گئے۔ پانچ، چھ راتیں سینئر سٹیزنز، وائس چانسلرز اور پروفیسرز نے ناگفتہ بہ حالات میں گزاریں۔ آپ تصوّر نہیں کر سکتے جن بدترین حالات میں بوڑھے پروفیسروں کو رکھا گیا تھا۔ وہ کہاں پڑے رہتے تھے۔ کھانے، پینے میں ان کو کیا دیا جاتا تھا، ان کے ساتھ کیسا برتائو روا رکھا جاتا تھا، آپ اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ عمر رسیدہ ہم لوگ دوائوں اور دعائوں پہ چلتے ہیں۔ نیب کی تحویل میں وہ لواحقین کی دعائوں سے زندہ رہے۔ پانچ، چھ روز کے بعد وائس چانسلرز اور پروفیسرز کو ایک ماہ کی ضمانت پر رہا کیا گیا۔ ایک ماہ کے بعد وہ دوبارہ نیب کے سامنے پیش ہوئے۔ مقدمہ نہیں چلا۔ انہیں پھر سے ایک ماہ کی ضمانت پر چھوڑا گیا۔ ایک ماہ گزرنے کے بعد پھر سے ستّر،اسّی برس کے سینئر سٹیزن اور اعلیٰ سطح کے اساتذہ نیب کے سامنے پیش ہوئے۔ مقدمہ نہیں چلا۔ انہیں ایک ماہ کے بعد پھر سے نیب کے سامنے پیش ہونے کا حکم سنایا گیا۔ پچھلے تین برس سے دو وائس چانسلرز اور چار پروفیسرز اسی طرح ہر ماہ سفر کر کے پشاور آتے ہیں اور نیب کے سامنے پیش ہوتے ہیں۔ اس کام کے لیے انہوں نے وکیلوں سے رجوع کیا ہوا ہے جو انہیں ضمانتیں دلواتے ہیں، نیب کے سامنے پیش کرتے ہیں اور پھر انہیں گھر لوٹ جانے کی اجازت لے کر دیتے ہیں۔ ہر بار جب وہ نیب کے سامنے پیش ہونے کے لیے گھر سے روانہ ہوتے ہیں تب ان کے بال، بچّے یہی سوچ کر ڈپریشن میں ڈوب جاتے ہیں کہ ان کے ابّو، ان کے دادا اس بار لوٹ کر آئیں گےیا نہیں؟ آپ اندازہ لگائیے۔ پچھلے تین برس سے چھ اعلیٰ تعلیم یافتہ بزرگ اساتذہ اور ان کی فیملیز کو ذہنی عذاب میں مبتلا رکھا گیا ہے۔ کاش کہ ان کو ملنے والے مینٹل ٹارچر کی خبر ہمارے چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب تک پہنچے۔ تین برس سے چھ اعلیٰ تعلیم یافتہ سینئر سٹیزن اور ان کی فیملیز ذہنی عذاب میں مبتلا ہیں۔ وہ کب تک ذہنی عذاب میں مبتلا رہیں گے، کوئی نہیں جانتا۔

ان دو واقعات نے آپ کے اس فقیر کو روح کی گہرائیوں تک خوفزدہ کر دیا ہے۔ میں بہت ڈر گیا ہوں۔ آپ کا یہ فقیر بدقسمتی سے اسلام آباد میں مرکزی حکومت کی ایک یونیورسٹی کا وائس چانسلر رہ چکا ہے۔ اس بات کو اٹھائیس برس گزر چکے ہیں۔ ان دو واقعات میں وائس چانسلرز اور پروفیسرز کے ساتھ نیب کے ہاتھوں ہتک آمیز رویّے کے بعد میں کانپ گیا ہوں۔ یونیورسٹی میں اسّی کے قریب ایسے ملازم تھے جو دس، پندرہ برس سے عارضی تھے اور کبھی بھی ملازمت سے فارغ کیے جا سکتے تھے۔ میں نے ایک ہی آرڈر میں ان سب کو مستقل کر دیا تھا۔ بیس ملازمین ایسے تھے جو دس، پندرہ برس سے ایک ہی گریڈ میں پڑے ہوئے تھے۔ ان کو بھی میں نے ایک ہی آرڈر میں اگلے گریڈ میں ترقی دے دی تھی۔ اگر نیب والے مجھے اس الزام میں پکڑ کر ڈربے میں بند کر دیں کہ تم نے ایک سو ملازمین سے فی کس ایک ہزار روپے لے کر ان کو مستقل کیا تھا اور اگلے گریڈ میں ترقی دی تھی اور اس طرح تم نے ایک لاکھ روپے کی کرپشن کی تھی، تب میں اپنی صفائی میں نیب سے کیا کہوں گا؟اٹھائیس برس پہلے والے ایک سو ملازمین کو میں کہاں سے تلاش کر کے لائوں گا اور مقدّس کتاب پر ہاتھ رکھوا کر ان سے گواہی دلوائوں گا کہ انہوں نے مجھے رشوت نہیں دی تھی؟اگر نیب کے تفتیشی افسر نے کہہ دیا کہ ریٹائرڈ وائس چانسلر جھگی میں رہتے ہیں۔ تم کیسے اور کس طرح ساتویں منزل پر دو بیڈروم کی عالیشان کوٹھی میں اس قدر ٹھاٹ بھاٹ سے رہتے ہو؟تم نیب کی آنکھوں میں دھول نہیں جھونک سکتے۔ تم کروڑوں روپے کی گاڑی پر اٹھارہ برس پرانی گاڑی کا نشان لگا کر نیب کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔ بتائو، عیاشی کے لیے تمہارے پاس پیسے کہاں سے آتے ہیں؟ میرے پاس ان سوالوں کے جواب میں کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ میں گھبرا گیا ہوں۔ نیب سے ڈر گیا ہوں۔ مجھے دل کا عارضہ ہے۔ کل رات خواب میں نیب کے ایک خرانٹ افسر نے مجھے ڈانٹ پلاتے ہوئے کہا:کوئی ڈاکٹر کا بچہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ تمہارے دل کا بائی پاس ہونا چاہیے یا اوپن ہارٹ سرجری۔ اس کا فیصلہ نیب کرے گا۔ نیب سے گھبرا گیا ہوں میں۔


amar jaleel , amar jaleel columns today,  amar jaleel best columns,   amar jaleel columns 2018, amar jaleel books, amar jaleel biography, amar jaleel poetry, amar jaleel stories, amar jaleel short stories, amar jaleel novels pdf, amar jaleel family, amar jaleel religion

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget