کالم لسٹ "Daily Jang"


کوئی جو چاہے کہے، میں اپنی حرکتوں اور علتوں سے باز نہیں آتا۔ سنتا سب کی ہوں، مگر کام اپنی مرضی کے کرتا ہوں بلکہ ہر کام اپنی مرضی کے مطابق کرتا ہوں۔ فائر بریگیڈ والے آگ بجھا کر چلے جاتے ہیں۔ ان کے چلے جانے کے بعد میں جائے وقوع پہنچ جاتا ہوں اور راکھ میں چھپی ہوئی چنگاریاں کریدنے لگتا ہوں۔ میں ایسا کیوں کرتا ہوں؟ کیا میں تفتیشی افسرہوں، اور دوسروں کے عیب نیب تک پہنچاتا ہوں؟ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ میں ایک سیدھا سادہ اللہ سائیں کا آدمی ہوں۔ میں دال میں کچھ کالے کی نشاندہی نہیں کرتا۔ میں کالے میں دال کی نشاندہی نہیں کرتا۔ آپ مسکرائیں مت۔ میں اپنے آپ کو پارسا اور صاف ستھرا ثابت کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔ میں جو کچھ کرتا ہوں اپنی مرضی کے مطابق کرتا ہوں۔ دوست احباب اور رشتہ دار میت دفنانے کے بعد جب چلے جاتے ہیں، تب میں قبرستان میں وارد ہوتا ہوں۔ گڑا مردہ اکھاڑنے لگتا ہوں۔ گڑے مردے اکھاڑنے کی میری عادت بہت پرانی ہے۔ تب ملک مالی بحران سے دوچار نہیں ہوا تھا۔ پیسے کی ریل پیل تھی۔ ساہوکار کیڑے لگے ہوئے دانت پر سونے کا ملمع چڑھواتے تھے۔ کچھ دولت مند ایسے بھی ہوتے تھے جو صحت مند دانتوں پر سونے کا ملمع چڑھواتے تھے۔ اور جو ضرورت سے زیادہ دولت مند ہوتے تھے وہ ناقص دانتوں کی جگہ خالص سونے کے دانت لگواتے تھے۔ ان دنوں ایسا کبھی نہیں ہوتا تھا کہ میت دفنانے سے پہلے میت کے منہ سے سونے کے دانت نکال دیئے جاتے۔ مجھے نہیں یاد کہ کبھی ایسا ہوا ہو۔ مردے کو منہ میں لگے ہوئے سونے کے دانتوں سمیت دفنا دیا جاتا تھا۔ جب تک شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ سے پانی پیتے تھے، اور کوے ہنس کی چال نہیں چلتے تھے تب تک مجھ جیسے پاپی قبرستانوں کا رخ نہیں کرتے تھے۔ مگر حالات تبدیل ہونے میں دیر نہیں لگتی۔ دیدہ دانستہ کوے ہنس کی چال چلنے لگے۔ اور پھر ایسا رواج پڑا کہ کوے اپنے آپ کو اصلی ہنس اور اصلی ہنس کو کوا کہنے لگے۔ ہنس جو کبھی اتراتے ہوئےپانی پر تیرتے رہتے تھے ، بہت شرمندہ ہوئے۔ہنسوں نے چلو بھر پانی میں ڈوب مرنے کا فیصلہ کیا۔ اور پھر ایک روز ہنسوںنے ہنستے ہوئے چلو بھر پانی میں ڈوب کر خودکشی کرلی۔ تب ہم نے قبرستانوں کا رخ کیا اور اردو زبان کو گڑے مردے اکھاڑنے کا محاورہ دیا۔ ہم مستعدی سے گڑے مردے اکھاڑتے تھے اور ان کے منہ سے سونے کے دانت نکال کر جیب میں ڈالتے تھے اور مردوں کو دوبارہ اسی قبر میں دفن کردیتے تھے۔

اب مجھ جیسے پاپی گڑے مردے نہیں اکھاڑتے۔ معیشت کا بیڑا غرق ہونے کے بعد ساہوکاروں نے منہ میں سونے کے دانت لگوانا چھوڑ دیئے ہیں۔ بحران کے ابتدائی دنوں میں ایک سو مردے اکھاڑنے کے بعد مشکل سے ایک مردے کے منہ سے ایک دوسونے کے دانت مل جاتے تھے۔ اور پھر ایسے دن بھی آئے جب دس ہزار مردے اکھاڑنے کے بعد ایک مردے کے منہ سے ایک سونے کا دانت نکلتا تھا۔ وہ دانت بھی اصل میں چاندی کا دانت ہوتا تھا۔ اور پھر معیشت کے چوپٹ ہونے کا پتہ تب چلا جب ایک لاکھ گڑے مردے اکھاڑنے کے باوجود کسی ایک مردے کے منہ سے ہمیں سونے ، چاندی، پیتل یا تانبے کا ایک دانت تک نہیں ملا۔ تب ہم نے گڑے مردے اکھاڑنے کو بے سود جانا اور گڑے مردے اکھاڑنے کے کام سے دستبردار ہوگئے۔ اب ہمارے ملک میں گڑے مردے اکھاڑنے کا کام سیاستدانوں نے اپنے ذمے لے لیا ہے۔ اور وہ لوگ گڑے مردے اکھاڑنے کا کام بڑی خیرو خوبی سے انجام دے رہے ہیں۔

کہتے ہیں کہ اللہ سائیں جب روزگار کا ایک دروازہ بند کردیتا ہے تب دس دروازے کھول دیتا ہے۔ یہ سنی سنائی بات نہیں ہے۔ یہ میرے اپنے مشاہدے کی بات ہے۔ گڑے مردے اکھاڑنے سے پہلے کسی نہ کسی طور پر میری روزی روٹی لگی رہتی تھی۔ مثلاً گڑے مردے اکھاڑنے سے پہلے میں گورکن تھا۔ قبریں کھودا کرتا تھا۔

کراچی میں لوگ کثرت سے آتے ہیں اور کثرت سے مرتے ہیں۔ اگر لوگ بیمار پڑنا چھوڑ دیں اور صحت مند رہنے لگیں تو اسپتالوں کو تالے لگ جائیں اور ڈاکٹر بیچارے بھوکے مرنے لگیں۔ اسی طرح لوگ اگر مرنا چھوڑ دیں تو گورکن بیچارے بیروزگار ہوجائیں اور فاقوں کا شکار ہو جائیں۔ کراچی میں روزانہ دو چار قبریں کھودنے کا کام مل جاتا ہے۔ ایک پتے کی بات بتادوں آپ کو۔ کراچی میں بیسیوں قبرستان ہیں۔ گورکنی ٹھیکے پر دی جاتی ہے۔ لہٰذا ایک ٹھیکیدار کے ماتحت آپ کو گورکنی کرنا پڑتی ہے۔ مجھے روزانہ دو تین قبریں کھودنے اور مردے دفن کرنے کا کام مل جاتا تھا۔ اچھی خاصی آمدنی ہو جاتی تھی۔ وائے قسمت ! ایک مرتبہ ٹھیکیدار نے مجھے ایک ایسی پرانی قبر کھودنے کو دی جس میں چالیس پچاس برس پرانے مردے کی ہڈیاں پڑی ہوئی تھیں۔ میں نے واویلا مچایا اور قبر میں قبر کھودنے اور مردے پر مردہ دفن کرنے سے انکار کردیا۔ ٹھیکیدار نے کھڑے کھڑے مجھے کام سے فارغ کردیا۔ ایک دروازہ بند ہوگیا۔ کچھ ہی دنوں بعد مجھے گڑے مردے اکھاڑنے کا کام مل گیا۔

ملکی معیشت کے چوپٹ ہو جانے کے بعد لوگوںنے منہ میں سونے کے دانت لگوانے کا شوق چھوڑ دیا ہے۔ اس لئے ہم نے بھی گڑے مردے اکھاڑنے سے کنارہ کشی کرلی ہے۔ میرے کچھ جاننے والے ، جو میری طرح گڑے مردے اکھاڑتے تھے، معیشت کے چوپٹ ہو جانے کے باوجود گڑے مردے اکھاڑنے کا کام کرتے رہتے ہیں۔ وہ مردوں کے منہ میں سونے کے دانت تلاش نہیں کرتے۔ وہ مردوں کی کھوپڑیاں میڈیکل کے طلبا یعنی ایم بی بی ایس کے طلبا کو بیچتے ہیں۔ اب ان بیچاروں کا کام بھی ٹھپ پڑنے کو ہے۔ حکومت نے چین سے کھوپڑیاں منگوانے کا معاہدہ کرلیا ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

سینیٹر رضا ربانی نے ایک اہم بات کردی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ’’تمام جماعتیں اقتدار کے لئے بے تاب ہیں، یہی بے تابی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔‘‘ سینیٹر رضا ربانی سیاستدان ہونے کےساتھ ساتھ ایک دانشوربھی ہیں۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں کا مسئلہ درست بیان کیا ہے۔ پچھلے کچھ عرصہ سے ہماری سیاسی جماعتوں نے اپنے نظریات کو پیچھے چھوڑ کر ہر قیمت پر اقتدار کے حصول کو اپنا نظریہ بنا لیا ہے۔ اسی نظریے نے مفادات کو جنم دیا۔ اسی نظریے کی پیدائش نے دولت کے حصول کا رواج ڈالا۔ اسی رواج نے کرپشن کے جن کو پیدا کیا۔ آج کرپشن کے اسی جن کے باعث ملک کا خزانہ خالی ہوچکا ہے۔ لوٹ مار نے پیارے پاکستان کومشکلات سے دوچار کررکھا ہے۔ بدقسمتی سے مفادات کے اس نظریے نے مذہبی سیاسی جماعتوں کوبھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اسی لئے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوا، ورنہ یہی معاشرہ تھا جس میں سب لوگ ہنسی خوشی رہتے تھے۔ یہ بھی بدقسمتی ہے کہ معاشرے کایہ رخ پچھلے تیس پینتیس برسوں میں سامنے آیا۔ شاید اسی لئے آج وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو کہنا پڑ رہا ہے کہ ’’پاکستان میں سیاسی نہیںفکری بحران ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پیدا ہونے والا بحران معاشرے کا بحران ہے۔ لوگ مذہب کا لبادہ اوڑھ کر بحران پیدا کر رہے ہیں۔ یہ لوگ ہر ہفتے ایک نیا مسئلہ نکال کر سیاست چمکاتے ہیں۔ یہ نظریات کی لڑائی ہے۔ یہ بندوق سے نہیں دلیل سے لڑی جاتی ہے۔ سپریم کورٹ کافیصلہ کسی نے پڑھا ہی نہیں۔ ریاست کی ناکامی یہ ہوئی کہ بندوق والوں کی دلیل کے سامنے دوسروں کو بچا نہ سکی۔‘‘ سیاسی معاملات پربات کرتے ہوئے چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ ’’ڈی جی نیب نے جیسے ہی شہبازشریف کوگرفتار کیا، ان کی ڈگری پرسوالات اٹھا دیئے گئے۔ ان کی ڈگری جعلی تھی تو سابق حکومت نے کارروائی کیوں نہیں کی؟ تحریک انصاف کا فیصلہ ہے کہ نواز شریف کے فیصلوں پر چیک کے لئے شہباز شریف کو پی اے سی کا چیئرمین نہیں بنانا، اگر اپوزیشن ہی سے بنانا ہے تو پھر بلاول بھٹوزرداری کو بنا دیں۔ خورشید شاہ کس کس کے ساتھ ہیں یہ توپیپلزپارٹی والوں کو بھی نہیں پتا‘‘

اگر ہم وزیر اطلاعات کی باتوںکو دو حصوں میں تقسیم کرلیں تو پہلا حصہ معاشرے کے فکری رجحانات سے متعلق ہے اور دوسرا حصہ سیاسی بے رحمی پر مشتمل ہے۔ پہلے معاشرے کی بات کرلیتے ہیں۔ یہ معاشرہ بہت عمدہ تھا، قریباً چالیس برس پہلے اس میں عدم برداشت کا زہرگھولا گیا۔ آج یہ معاشرہ زہر آلود ہو چکاہے۔ آپ اتفاق کریں یا نہ کریں اس آلودگی میں اضافہ سیاسی قیادتوں نے کیا۔ انہوں نے لوگوں کے مسائل حل نہیں کئے۔ ہر جماعت بے شمار سیاسی وعدوں کے ساتھ اقتدار میں آئی اور اقتدار میں آ کر تمام وعدے بھول گئی۔ اگلے الیکشن میں لوگ دوسری جماعت کے ہتھے چڑھ گئے۔ اس طرح جماعتیں باریاں لیتی رہیں اور معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتارہا۔ پچھلے تیس پینتیس برسوں کی سیاسی کمائی یہ ہے کہ اس نے معاشرے میں غربت، افلاس، جہالت اور بیروزگاری تقسیم کی۔ آج کے بگاڑ کی وجہ غربت ہے۔ دولت کی ہوس میں تمام حدیں پار کرنا لوگوںکا شیوہ بن گیا ہے۔ کیالوگوں کو یاد نہیں کہ پچھلے پانچ دس سالوں میں کچھ عیسائی بستیاں جلائی گئیں، اس وقت حکومتیں کیا کر رہی تھیں؟ جس فکری بحران کی بات فواد چوہدری کررہے ہیں، دراصل وہ سیاستدانوں ہی کا پیدا کردہ ہے۔ پچھلے چالیس سال میں فکر اقبال کو گم کیا گیاحالانکہ اقبال نے ملّا ازم سے زیادہ اہم صوفی ازم کوقرار دیا۔ بڑی بدقسمتی ہے کہ ہم صوفیا کا دیا ہوادرس بھول گئے۔ صوفیا تو امن کی بات کرتے تھے، برداشت کی بات کرتے تھے، حسن سلوک کی بات کرتے تھے۔ صوفیا نے کبھی بھی معاشرے میںنفرتوں کو تقسیم نہیں کیا تھابلکہ ہمیشہ محبتوںکو بانٹا۔ آج بھی وقت ہے ہم صوفی ازم کی طرف چلے جائیں تاکہ عدم برداشت ختم ہو تاکہ قائداعظم اور علامہ اقبال کی فکر پیداہوسکے۔ لوگوں کو سوچنا چاہئے کہ دو بڑے مذاہب کے مقدس مقامات پاکستان میں ہیں۔ ان دو مذاہب میں سکھ مذہب اور بدھ مت شامل ہیں۔ آپ کو یاد ہونا چاہئے کہ حالیہ مظاہروں کے باعث کچھ سکھ یاتریوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اس لئے کہ ٹریفک بند تھی۔ ہمیں فواد چوہدری کی باتوں سے بہت حد تک اتفاق ہے مگر انہیں چاہئے کہ وہ اپنی جماعت کی طرف بھی دیکھیں۔ ان کی جماعت کے کچھ اراکین ہمیں اسرائیل کو تسلیم کرنے کا بھاشن دے رہی ہیں۔ یہ نیا بحران کون لوگ پیدا کر رہے ہیں۔ کیا یہ نیا بحران پی ٹی آئی کی ایک رکن اسمبلی پیدا نہیں کررہیں۔ ایک طے شدہ معاملے کو چھیڑنے کی کیا ضرورت ہے؟ پھر ان کی کم علمی بھی ان کی تقریر سے جھلک رہی ہے۔ مجھے اس سلسلے میں اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن علامہ افتخار حسین نقوی نے قرآن و حدیث کی روشنی میں بہت کچھ بتایا ہے۔ سو، مہربانی کرکے فواد چوہدری صاحب اپنی پارٹی کے اراکین کو منع کریں کہ وہ ہمیں اسرائیل سے دوستی کادرس نہ دیں۔ باقی آپ کی بات درست ہے کہ اگر نیب کے ڈی جی کی ڈگری جعلی تھی تو پچھلی حکومت کوکارروائی کرنی چاہئے تھی۔

گزشتہ دنوں دو اہم فیصلے ہوئے ہیں۔ ایک تو خیبر پختونخوا حکومت نے اجمل وزیر کو اپنا ترجمان مقرر کیاہے۔ یہ فیصلہ خیبرپختونخوا حکومت کے لئے بڑا سودمند ثابت ہوگا کیونکہ اجمل وزیر بہت سمجھدار ہیں اور خوب سیاسی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں پھر فاٹا کے معاملات میں بھی وہ حکومت کے خاصے مددگارثابت ہوں گے۔ دوسرا فیصلہ پیپلزپارٹی نے کیا ہے۔ تین پی والی پارٹی نے چوہدری منور انجم کو ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات مقرر کیا ہے۔ منور انجم کام کرناجانتے ہیں۔ پارٹی کے نظریاتی آدمی ہیں۔ انہیں محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے ساتھ کام کرنے کابھی تجربہ ہے۔

صاحبو! جب تک دولت کی ہوس ختم نہیں ہوگی تب تک معاشرے سے غربت، افلاس، مہنگائی اور بیروزگاری کاخاتمہ نہیںہوگا۔ حکمرانوںکا یقین دولت جمع کرنے پر نہیں دولت تقسیم کرنے پر ہونا چاہئے تاکہ لوٹ مار اورکرپشن کا خاتمہ ہو۔ اگر غربت مٹ گئی توعدم برداشت بھی مٹ جائے گی ورنہ سمجھداروں کے لئے سرور ارمان کا یہ شعر کافی ہے کہ ؎

مقتل کھلے ہوئے ہیں مقفل خدا کا گھر

مذہب شکم پرست انائوں کی زد میں ہے

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے،والا مصرعہ ان دنوں کاروبار پر صادق آتا ہے ، اب ہر چیز کاروبار بن گئی ہے، تعلیم ، سیاست، صحافت، مذہب، ان میں سے ہر چیز بازار میں ارزاں نرخوں پر دستیاب ہے ، ہم بچپن میں ایک شعر پڑھا کرتے تھے

کدھر کوجاتے ہو کدھر کا خیال ہے

بیمار دانتوں کا یہی اسپتال ہے

اور وہ ’’بیمار دانتوں کا اسپتال ، ایک ڈاکٹر‘‘ پر مشتمل ہوتا تھا جو سڑک کے کنارے پنجوں کے بل بیٹھا ہوتا تھا جو پلاس سے مریض کا دانت نکالتا تھا، اکثر اوقات درد والے دانت کی بجائےوہ صحیح دانت نکال دیتا تھا۔کئی دکانوں پر ایک موٹے تازے اور ایک ہڈیوں کے ڈھانچےایسے شخص کی تصویر بھی بنی ہوتی تھی۔ موٹے شخص کے نیچے لکھا ہوتا تھا ’’نقد کی حالت‘‘ اور کمزور شخص کے نیچے درج ہوتا تھا ’’ادھار کا انجام‘‘ میں نے گزشتہ دنوں ایک دکان پر یہ بھی لکھا دیکھا کہ ’’کشمیر کی آزادی تک ادھار بند ہے۔‘‘

مگر کالم کی ابتدا میں جن شعبوں کا میں نے ذکر کیا ہے ، وہاں ادھار کا کوئی تصور ہی نہیں۔ سب کام ’’نقد و نقد‘‘ ہوتے ہیں۔ ان دنوں باقی شعبوں کے علاوہ جو کاروبار لوٹ مار کی میراتھن ریس میں آگے ہی آگے نظر آتا ہے، وہ تعلیم کا کاروبار ہے۔ ٹاٹوںپر بیٹھ کر پڑھنے والے والدین بھی اپنے بچوں کے ’’بہتر مستقبل‘‘ کے لئے انہیں ان تعلیمی اداروں میں داخلہ دلوانے کے لئے مرے جاتے ہیں جہاں فیس لاکھوں میں لی جاتی ہے۔اور عملی زندگی میں وہ وہاں تک بھی نہیں پہنچ پاتے۔ ٹاٹوں پر بیٹھ کر پڑھنے والے آج جس مقام تک پہنچے ہیں ۔ یہ کالج اور یہ یونیورسٹیاں حکومت کی منظور شدہ ہوتی ہیں اور ان کی ڈگریاں اصلی سمجھی جاتی ہیں۔ میں سب تعلیمی اداروں کی بات نہیں کررہا، ان میں سے کچھ کا معیارتو اعلیٰ سطح کو چھوتا نظر آتا ہے لیکن بہت سی یونیورسٹیوں اور کالجوں کا معیار، معیار کی پہلی میم تک نہیں پہنچتا۔

مگر اس وقت میں خصوصی طور پر پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کی بات کر رہا ہوں جن کے قیام کے لئے بظاہر بہت سخت شرائط ہوتی ہیں، جو عموماً پوری نہیں کی جاتیں مگر یہاں سے ہزاروں کی تعداد میں عطائی قسم کے ڈاکٹرز کی پروڈکشن جاری ہے۔مثلاًان کالجوں میں ایک سو کے قریب مختلف امراض کے مریضوں کا داخلہ ضروری ہے تاکہ پروفیسر حضرات طالب علموں کو ان کے علاج کی تربیت دے سکیں، مگر ایسا نہیں ہوتا۔ جب انہیں پتہ چلتا ہے کہ معائنہ ٹیم آ رہی ہے تو وہ اردگرد کی فیکٹریوں کے مزدوروں کو ان سینٹروں پر بطور مریض لٹا دیتے ہیں۔ آگے پیچھے چند ایک مریض نزلہ زکام اور بخار کے ہوتے ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ معائنہ اچانک کیا جائے۔ جہاں تک پروفیسروں کی تعیناتی کا تعلق ہے وہ فل ٹائم ہونا چاہئیں۔ ظاہر یہی کیا جاتا ہے ، مگر اکثر کالجوں میں وہ پارٹ ٹائم ہوتے ہیں ، ان میں سے بہت سے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں وہ مشینری بھی نہیں ہوتی، جو ناگزیر سمجھی جاتی ہے، مگر یہاں سے ہر سال ڈاکٹر کی ڈگری لئے انسانی جانوں سے کھیلنے والی مخلوق کی پروڈکشن جاری ہے۔ سب سے افسوسناک امر یہ ہے کہ ان کالجوں کے ممتحن بھی اس ادارے کے ہوتے ہیں۔ چنانچہ وہ اپنی مرضی کا رزلٹ تیار کرتے ہیں اور یوں عوام کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ان کے کالج کا رزلٹ دوسروں سے کہیں بہتر ہے۔

میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہیں ڈاکٹروں کے پاس جانے کا شوق ہوتا ہے اور چھوٹی موٹی مختلف بیماریوں کے لئے جو نسخہ وہ لکھتے ہیں وہ مجھے ازبر ہے ، چنانچہ اب میں خود ڈاکٹر ہوں اور میرے گرد بھی مریضوں کا جھمگھٹالگا رہتا ہے ۔ بہت معذرت کے ساتھ ان ڈاکٹروں کا علم ساری عمر اتنا ہی رہتا ہے جتنا دور طالب علمی میں انہیں ’’دان‘‘ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد انہیں نئی میڈیکل ریسرچ پڑھنے کی تو فیق ہی نہیں ہوتی۔کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ اس قسم کے ڈاکٹروں کا دو چار سال بعد ایک بار پھر امتحان لیا جائے۔مجھے زیادہ دکھ اس لئے ہے کہ میں نے ڈاکٹر امیر الدین، جنرل محی الدین ، ڈاکٹر جاوید اکرم، ڈاکٹر اسد اسلم، ڈاکٹر اظہر حمید، ڈاکٹر عاطف ، ڈاکٹر آصف، اور ڈاکٹر سعید کھوکھر اور ان کے علاوہ بیسیوں نوجوان اور بزرگ ڈاکٹر دیکھتے ہیں جن پر ہم فخر کر سکتے ہیں ، مگر اب انسانی جانوں کا بچانے والا یہ پیشہ روبہ زوال ہے ۔میری تجویز یہ ہے کہ پرانے پرائیویٹ کالجوں کے معیار پر مسلسل نظر رکھی جائے۔اور انہیں سختی سے قواعد و ضوابط کا پابند بنایا جائے۔ ان کی فیسیں کم کی جائیں اور نئے کالجوں کی منظوری ایک طویل پراسیس کے بعد دی جائے۔ منسٹری آف ہیلتھ کے افسران، ایسے کاموں میں رکاوٹ ڈالنے کی بجائے آسانیاں پیدا کریں۔

اور سب سے اہم بات یہ کہ ان کالجوں کے انٹرنل ایگزامینرز کی بجائے ایکسٹرنل ایگزامینرز ہونا چاہئے اور اس حوالے سے کوئی دبائو دقبول نہ کیا جائے۔ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم ہیں جو بہت بڑے فزیشن ہی نہیں، انتہائی محنتی اور انتہائی ایماندار شخصیت ہونے کے علاوہ بے شمار انسانی خوبیوں کے مالک ہیں ان کے ساتھ ایک بہترین ٹیم بھی ہے ۔ میں نے اوپر جن مسائل کا ذکر کیا ہے ، تقریباً ان سب کا تعلق یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز سے ہے اور یوں مجھے یقین ہے کہ حالات میں بہتری ضرور آئے گی اور اگر خدانخواستہ ایسا نہ ہوا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ اس طرح کےکچھ کالجوں کے فارغ التحصیل ڈاکٹروں کی طرف سے کسی دیوار پر لکھا نظر آئے۔

کدھر کو جاتے ہو کدھر کا خیال ہے

بیمار’’ لوگوں‘‘ کا یہی اسپتال ہے

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

ہمارے بہت سے پڑھے لکھوں کو بھی اندازہ نہیں کہ کرپشن کا مطلب اور اس کی Definationکیا ہے۔ مالی کرپشن تو کرپشن کی صرف ایک ننگی چٹی قسم ہے ورنہ اس کی بیشمار قسمیں اور جہتیں ہیں اور اگر میں یہ کہوں کہ اوقات کار کے دوران فون پر گپیں ہانکنا بھی کرپشن ہے تو یہ غلط نہ ہوگا۔ یہ واقعہ کسی مسلمان نے نہ پڑھا سنا ہوگا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز اپنی رہائش گاہ پر حکومتی منصب داروں کے ساتھ سرکاری امور پر محو کلام تھے۔ حکومتی امور پر مکالمہ ختم ہوا تو ذاتی قسم کی گفتگو شروع ہوتے ہی امیر المومنین نے چراغ بجھا دیا۔ حاضرین نے وجہ پوچھی تو فرمایا ’’چراغ میں تیل بیت المال کا تھا، نجی گفتگو کے دوران اس تیل کا جلنا خیانت ہوگی‘‘۔ یہ ہے کرپشن کی وہ قسم جو ہمارے بہت سے دانشوروں کو نہ سمجھ آتی ہے نہ آئے گی کیونکہ ان کے نزدیک سرکاری وسائل پر براہ راست ڈاکہ ہی کرپشن ہے۔ جنرل ضیاء الحق بے شک مالی طور پر کرپٹ ہرگز نہ تھے لیکن سیاسی طور پر سرتاپا کرپشن میں لتھڑے ہوئے تھے۔ بابائے قوم کے آخری ایام کا یہ واقعہ جب پڑھو رُلا دیتا ہے کہ بھوک تقریباً ختم ہو چکی تھی، جسمانی ضعف انتہا پر تھا جب سٹاف نے ان کے فیورٹ باورچیوں کو لائل پور سے بلوایا۔ ان کا تیار کیا گیا کھانا قائد کو سرو (SERVE)کیاگیا تو ذرا رغبت سے نوش فرمایا۔ اچانک اس حالت میں بھی یہ پوچھا کہ ’’آج کھانا کس نے بنایا؟‘‘ پس منظر سے آگہی پر خفا ہوئے اور سرزنش کی۔ بطور گورنر جنرل اور ’’بانی‘‘ کے گورنر جنرل ہائوس کی بتیاں بجھاتے دیکھے گئے اور وہ بھی کرپشن ہی کی ایک قسم تھی جس کے نتیجہ میں بالآخر مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بنا۔ قدرت اللہ شہاب راوی ہیں کہ کیبنٹ میٹنگ جاری تھی جس کے دوران کسی بنگالی وزیر نے جان کی امان پائے بغیر یہ عرض کیا کہ امریکہ سے سینیٹری کا جوسامان تحفے میں ملا ہے، اس میں سے کچھ مشرقی پاکستان کو بھی عطا ہو تو مغربی پاکستان کے توندوں اور مونچھوں والے وزرا نے بے ساختہ قہقہے بلند کرتے ہوئے حقارت سے کہا ......’’تم لوگوں نے یہ سامان کیا کرنا ہے کیونکہ تم لوگوں (بنگالیوں) کو تو رفع حاجت کیلئے کیلے کے درختوں کی گاچھ ہی بہت کافی ہے‘‘ یعنی تمہارے لئے کیلے کے پودوں کا جھنڈ ہی بطور’’باتھ روم‘‘ کافی ہے تو حضور! ایسی سوچ اور یہ رویہ بھی کرپشن ہی کی ایک بھیانک شکل ہے جس کا نتیجہ بنگلہ دیش کی شکل میں سامنے ہے۔میرٹ کو پامال کرتے ہوئے اپنے پروردہ لوگوں کو پروموٹ کرنا بھی کرپٹ پریکٹیسز کا حصہ ہے۔ نامعقول لیکن بظاہر مقبول فیصلے کر کے اپنا ووٹ بینک بنانا بڑھانا بھی کرپشن کا شہکار ہے جو موٹے دماغوں میں سما نہیں سکتا، موٹی کھالوں پر اثرانداز نہیں ہوسکتا۔ ناجائز منافع بھی ہے تو منافع ہی لیکن حد سے متجاوز منافع بھی، منافع کم اور کرپشن زیادہ ہے۔ میں نہیں جانتا کہ آج یہ معیار ممکن ہے یا نہیں لیکن پڑھنے میں کیا برائی ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ بازار سے گزر رہے تھے کہ ایک شخص پر نظر پڑی جو کھجوروں کی تین ڈھیریاں لگائے بیچ رہا تھا۔ فاروق اعظمؓ نے اس سے ان تین ڈھیریوں بارے سوال کیا تو وہ بولا ’’امیر المومنین! ایک ڈھیری درجہ اول، دوسری درجہ دوم، تیسری درجہ سوم‘‘ آپ نے تینوں ڈھیریوں کو آپس میں ملاتے ہوئے کہا ’’ تم میری موجودگی میں حضورؐ کی امت کو تین حصوں میں تقسیم کررہے ہو؟ ان کی اوسط قیمت طے کرو‘‘...... یہ ہے رویہ!معاف کیجئے میں بہت دور نکل گیا لیکن کیا کروں بچپن سے سنی پڑھی یہ باتیں میرے خون میں رچ بس چکی ہیں جن سے جان چھڑانا بھی چاہوں تو ممکن نہیں۔ جو مرضی کرلوں میرے رول ماڈلز تبدیل نہیں ہوسکتے اور اپنے تمام تر سیکولرازم کے باوجود میں اندر سے اپنی قسم کا ’’کٹھ ملا‘‘ ہی ہوں ورنہ 22سال پہلے تحریک انصاف کو ’’روٹی کپڑا مکان‘‘ جیسا کوئی دنیادار سلوگن دینے کی بجائے یہ منشور نہ دیتا۔’’حکم اللہ کاقانون قرآن کارستہ رسولؐ کاپاکستان سب پاکستانیوں کا‘‘ریاست مدینہ کی اس تعریف کے علاوہ نہ کوئی دوسری تعریف مجھے بھاتی ہے نہ سمجھ آتی ہے اور یہی میرا ’’نیا پاکستان‘‘ تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ ملے نہ ملے مجھے اس کی بھی پروا نہیں کہ اس کے تو خواب و خیال میں رہنا ہی جمال زیست ہے۔یہ تو ہوئے چند ’’جملہ ہائے معترضہ‘‘ جن کے بعد واپس ان کی طرف چلتے ہیں جن کے نزدیک صرف مالی کرپشن ہی کرپشن ہے جبکہ کرپشن کی تعریف بے کراں اور کثیرالجہت بھی ہے۔مالی، سیاسی، سماجی، روحانی، جذباتی، نفسیاتی، انتظامی، اخلاقی غرضیکہ ’’کرپشن‘‘ کی کئی قسمیں ہیں۔ یہاں تک کہ نیت اور آنکھ کی کرپشن کے بھی اپنے ہی کرشمے ہیں۔ جس نے مال مویشی یا کسی اور قسم کے سامان کا نقص بتائے بغیر اسے گاہک کے سر مڑھ دیا، وہ بھی کرپٹ ہے۔ راستے کا حق ادا نہ کرنے والا بھی کرپٹ ہے کیونکہ کرپشن صرف اقتدار کے ایوانوں اور غلام گردشوں تک محدود نہیں کہ خود غلام بھی کرپٹ، بدعنوان ہوسکتے ہیں، صرف اشراف ہی نہیں اجلاف بھی کرپٹ ہو سکتے ہیں کیونکہ درباروں کے طور طریقے بازاروں تک میں سرایت کر جاتے ہیں۔ کرپشن کی ایک تعریف یہ بھی ہے۔

According to the morlity of duty, every act is to be judged for its obedience or disobedience to law, and the basic moral distinction is between right and wrong."

اور کرپشن کی مختصر ترین Definationکچھ یوں ہے۔

"Lack of Basic distinction between good and evil."

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے۔’’اپنے ذاتی مفادات کیلئے طاقت کو Abuseکرنا کرپشن ہے‘‘اور ’’طاقت‘‘ صرف سیاسی، انتظامی، ادارہ جاتی ہی نہیں ہوتی۔ گھر کے سربراہ سے لیکر کسی ادارے کے سربراہ تک سب اپنی اپنی قسم کی ’’طاقت‘‘ کے حامل ہوتے ہیں اور اس کا غلط استعمال کرسکتے ہیں خواہ وہ غیر شعوری، غیر ارادی طور پر ہی کیوں نہ ہو۔ ’’لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام‘‘ والی بات ہے بلکہ یوں کہیں کہ کارزار ہستی میں پل صراط عبور کرنے جیسا کام ہے اور یہ بوجھ، عہدہ، منصب، پوزیشن، طاقت، اختیار، اقتدار کے ساتھ ساتھ بڑھتا چلا جاتا ہے اور نوبت اس تعریف تک جا پہنچی ہے۔’’ہائی لیول کی حکومتی سطح پر رہتے ہوئے عوامی بھلائی کے نام پر ریاستی پالیسیوں، رولز، پروسیچرز کو توڑ مروڑ کر اور وسائل کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپنی طاقت، رتبہ، دولت بڑھانا بھی کرپشن ہے‘‘مختصراً یہ کہ اگر نیت ہی پاک نہ ہو تو حضرت عمر بن العزیز کا نجی گفتگو کے دوران چراغ بجھا دینا سب کچھ سمجھا دینے کیلئے کافی ہے بصورت دیگر.......

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)

خوراک تہذیب کا تیسرا بڑا عنصر ہوتی ہے‘ آپ اگر کسی قوم‘ کسی خاندان یا کسی شخص کی تہذیب کا اندازہ لگانا چاہتے ہیں تو آپ صرف اتنا دیکھ لیں وہ کیا کھا رہا ہے اور وہ کیسے کھا رہا ہے آپ کو مزید تحقیق کی ضرورت نہیں رہے گی‘ ہمارے رسولؐ کے بہترین زندگی کے چالیس اصولوں میں سات اصول صرف کھانے سے متعلق ہیں‘میں دو اصول پچھلے کالم میں لکھ چکا ہوں باقی پانچ یہ ہیں‘ آپؐ نے فرمایا گرم کھانے کو پھونک سے ٹھنڈا نہ کرو‘ پنکھا استعمال کر لیا کرو‘ یہ فرمان بھی ہائی جین پر بیس کرتا ہے‘ ہم جب گرم کھانے کو پھونک مارتے ہیں تو ہمارے منہ کے بیکٹیریا کھانے کو زہریلا بنا دیتے ہیں۔

یہ حرکت تہذیب اور شائستگی کے منافی بھی ہے۔ فرمایا کھاتے ہوئے کھانے کو سونگھا نہ کرو‘ کھانے کو سونگھنا بدتہذیبی بھی ہوتی ہے اور کھانے کی خوشبو ہماری ناک کے اندر موجود سونگھنے کے خلیوں اور پھیپھڑوں کی دیواروں کو بھی زخمی کر دیتی ہے‘ ہمیں چھینک بھی آ سکتی ہے اور یہ چھینک سارے کھانے کو برباد کرسکتی ہے۔ فرمایا اپنے کھانے پر اداس نہ ہوا کرو‘ ہم عموماً کھانے کی مقدار اور کوالٹی پر اداس ہو جاتے ہیں‘ ہم ہمیشہ کھانا کھاتے وقت دوسروں کی پلیٹ کی طرف دیکھتے ہیں‘ یہ عادت ہمارے اندر ناشکری پیدا کرتی ہے‘ ہم اگر اپنے کھانے کو اللہ کا رزق سمجھیں‘ اس پر شکر کریں تو ہمارے اندر برداشت بھی بڑھے گی اور صبر اور شکر کی عادت بھی ڈویلپ ہو گی‘ یہ عادت ہماری زندگی کو بہتر بنا دے گی۔

فرمایا منہ بھر کر نہ کھاؤ‘ ہمارا منہ خوراک کے ہاضمے کا آدھا کام کرتا ہے باقی آدھا کام معدہ سرانجام دیتا ہے‘ ہم جب منہ بھر لیتے ہیں تو زبان اور دانتوں کو اپنا کام کرنے کے لیے جگہ نہیں ملتی‘ ہم جلدی جلدی نگلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور یوں ہمارے معدے کی ذمے داری بڑھ جاتی ہے‘معدہ یہ ذمے داری پوری نہیں کر پاتا‘ ہم بدہضمی کا شکار ہو جاتے ہیں‘ ہمارے رسولؐ ہمیشہ چھوٹا لقمہ لیتے تھے‘ دیر تک چباتے تھے اور آدھا معدہ بھرنے کے بعد ہاتھ کھینچ لیتے تھے۔
آپؐ پوری زندگی صحت مند رہے‘ آپؐ کے صحابہؓ نے بھی یہ عادت اپنا لی چنانچہ مدینہ کے طبیب بے روزگار ہو گئے اور وہ کھجوروں کی تجارت کرنے لگے۔فرمایا اندھیرے میں مت کھاؤ‘ اس فرمان کی دو وجوہات ہیں‘ اندھیرے میں کھانے سے کھانے میں کیڑے مکوڑے ملنے کا خدشہ ہوتا ہے اور دوسرا روشنی کا کھانے کے ساتھ گہرا تعلق ہوتا ہے‘ ہمیں روشنی میں کھایا ہوا کھانا زیادہ انرجی دیتا ہے‘ یہ وہ واحد وجہ ہے جس کی بنا پر دنیا بھر میں ڈنر کے وقت ہال اور کمرے کی تمام لائٹس آن کر دی جاتی ہیں‘ یہ ممکن نہ ہو تو میز پر موم بتیاں جلا دی جاتی ہیں‘ انگریز اس انتظام کو کینڈل لائٹ ڈنر کہتے ہیں‘ یہ روایت ہزاروں سال سے چلی آ رہی ہے اور یہ انتہائی مفید ہے‘ آپؐ نے بھی روشنی میں کھانے کا حکم دے کر اس روایت کی تائید فرمائی۔

آپؐ نے فرمایا دوسروں کے عیب تلاش نہ کرو‘ ہم جب دوسروں میں عیب ڈھونڈتے ہیںتو ہم چغلی‘ غیبت اور منافقت جیسی روحانی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں‘ یہ بیماریاں ہمیں حسد جیسے مہلک مرض میں مبتلا کر دیتی ہیں اور یوں ہم ذہنی‘ جسمانی اور روحانی تینوں سطحوں پر علیل ہو جاتے ہیں چنانچہ ہم اگر صرف دوسروں میں عیب تلاش کرنا بند کر دیں تو ہم حسد‘ منافقت‘ غیبت اور چغل خوری جیسے امراض سے بچ جائیں گے‘ ہم صحت مند زندگی گزاریں گے۔

فرمایا اقامت اور اذان کے درمیان گفتگو نہ کیا کرو‘ اللہ کائنات کا سب سے بڑا بادشاہ ہے‘ اذان اس بادشاہ کی طرف سے بلاوا ہوتا ہے اور اقامت شرف باریابی کی اجازت چنانچہ یہ دونوں اوقات پروٹوکول ہیں‘ اللہ تعالیٰ کو پروٹوکول کی خلاف ورزی اچھی نہیں لگتی‘ ہم اگر دنیاوی بادشاہوں کے پروٹوکول کا خیال رکھتے ہیں تو پھر ہمیں دنیا کے سب سے بڑے بادشاہ کے پروٹوکول کا سب سے زیادہ احترام کرنا چاہیے۔ فرمایا بیت الخلاء میں باتیں نہ کیا کرو‘ اس کی وجہ جراثیم ہیں‘ ہم پچھلے کالم میں اس کا تفصیل سے ذکر کر چکے ہیں۔

ہمارے رسولؐ دوستوں کو بہت اہمیت دیا کرتے تھے لہٰذا آپؐ نے فرمایا دوستوں کے بارے میں جھوٹے قصے بیان نہ کیا کرو‘ دوستوں کے بارے میں جھوٹے قصوں سے دوستوں کی دل آزاری بھی ہوتی ہے اور دوست بدنام بھی ہوتے ہیں چنانچہ اس عادت بد سے پرہیز دوستی کے لیے بہت اہم ہے۔ فرمایا دوست کو دشمن نہ بناؤ‘ یہ فرمان نفسیات اور معاشرت دونوں کے لیے انتہائی اہم ہے‘ ہمارے دوست ہماری تمام کمزوریوں سے واقف ہوتے ہیں‘ یہ جب دشمن بنتے ہیں تو یہ دنیا کے خوفناک ترین دشمن ثابت ہوتے ہیں چنانچہ ہمیں زندگی میں کبھی کسی دوست کو دشمن بناناچاہیے اور نہ کبھی کسی دوست کا دشمن بننا چاہیے۔ فرمایا دوستوں کے بارے میں شکوک نہ پالو ‘شک دوستی کے لیے زہر ہوتا ہے ‘ہم جب دوستوں کے بارے میں مشکوک ہو تے ہیں تو دوستی کا دھاگہ کمزور ہو جاتا ہے چنانچہ شک سے بچنا ضروری ہوتا ہے۔

فرمایا چلتے ہوئے بار بار پیچھے مڑ کر نہ دیکھو‘ چلتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھنا ایک نفسیاتی بیماری ہے‘ یہ بیماری خوفزدہ‘ ڈرے اور سہمے ہوئے لوگوں میں کامن ہے‘ ہم جب چلتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو ہم اس بیماری کا شکار ہوتے چلے جاتے ہیں‘ پیچھے مڑ کر دیکھنے سے ہماری توجہ بھی بٹ جاتی ہے‘ ایکسیڈنٹ کا خطرہ بھی پیدا ہو جاتا ہے‘ ہماری رفتار بھی آدھی رہ جاتی ہے اور ہم بلاوجہ دوسرے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ بھی کر لیتے ہیں۔

فرمایا ایڑھیاں مار کر نہ چلو‘ ایڑھیاں مار کرچلنا یا چلنے کے دوران دھمک یا آواز پیدا کرنا تکبر کی نشانی ہے اور تکبر مسلمانوں کو سوٹ نہیں کرتا‘ ہمارے پاؤں کا ہمارے دماغ کے ساتھ بھی گہرا تعلق ہوتا ہے‘ ایڑھیاں مارنے سے ہمارے دماغ کی چولیں ہل جاتی ہیں‘ ہم دماغی لحاظ سے کمزور ہو جاتے ہیں‘ آپ کو ایڑھیاں مار کر چلنے والے جلد یا بدیر دماغی امراض کی ادویات کھاتے ملیں گے۔ فرمایا کسی کے بارے میں جھوٹ نہ بولو‘ جھوٹ دنیا کی سب سے بڑی معاشرتی برائی اور گناہوں کی ماں ہے‘ ہم اگر صرف جھوٹ بند کر دیں تو معاشرہ ہزاروں برائیوں سے پاک ہو جاتا ہے۔ فرمایا ٹھہر کر صاف بولا کرو تا کہ دوسرے پوری طرح سمجھ جائیں‘ جھوٹ کے بعد غلط فہمی معاشرے کی سب سے بڑی برائی ہے‘ ہم جب گفتگو میں واضح نہیں ہوتے تو غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں اور یہ غلط فہمیاں معاشرتی بگاڑ کا باعث بنتی ہیں چنانچہ ہم جب بھی بولیں بلند‘ واضح اور صاف بولیں۔

آپ ؐ نے فرمایا اکیلے سفر نہ کیا کرو‘ یہ فرمان بھی حکمت سے بھرپور ہے‘ اکیلا آدمی خوفزدہ بھی رہتا ہے‘ پریشان بھی اور یہ عموماً حادثوں کا شکاربھی ہو جاتا ہے‘ تحقیق سے ثابت ہوا سفر کے دوران اکیلے آدمی زیادہ لٹتے ہیں‘ زیادہ جلدی بیمار ہوتے ہیں اور یہ زیادہ غلط فیصلے کرتے ہیں چنانچہ جب بھی سفر کریں ایک یا دو لوگوں کو ساتھ شامل رکھیں بالخصوص عورت کو کبھی اکیلے سفر نہ کرنے دیں۔ فرمایا فیصلے سے قبل مشورہ ضرور کیا کرو‘ انسان 16 کیمیکلز کا مجموعہ ہے‘ یہ کیمیکلز ہمارے موڈز طے کرتے ہیں اور یہ موڈز ہماری زندگی کے چھوٹے بڑے فیصلے کرتے ہیں‘ ہم جب بھی تنہا فیصلے کرتے ہیں ہم موڈز کے تابع فیصلے کرتے ہیں اوریہ عموماً غلط ہوتے ہیں چنانچہ فیصلے سے قبل مشورہ ضروری ہے اور مشورہ ہمیشہ سمجھ دار کے بجائے تجربہ کار شخص سے کرنا چاہیے‘ آپ کو کبھی نقصان نہیں ہوگا۔

فرمایا کبھی غرور نہ کرو‘ غرور ایک ایسی بری عادت ہے جس کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں نکلتا‘ میں نے پوری زندگی کسی مغرور شخص کو طبعی موت مرتے نہیں دیکھا‘ یہ غیر طبعی موت مرتے ہیں اورہمیشہ بے عزتی اور ذلت وراثت میں چھوڑتے ہیں۔ فرمایا شیخی نہ بگھارو‘ یہ بھی کمال اصول ہے‘ میں نے آج تک کسی شیخی خور کو باعزت نہیں دیکھا‘ ہم عزت بڑھانے کے لیے شیخی مارتے ہیں اور ہمیشہ پرانی عزت بھی گنوا بیٹھتے ہیں۔ فرمایا گدا گروں کا پیچھا نہ کیا کرو‘ ہم میں سے بے شمار لوگ فقیر کو دس بیس روپے دے کر یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں یہ واقعی حق دار تھا یا نہیں‘ یہ عادت ہمیں شکی بھی بنا دیتی ہے اور یہ صدقے اور خیرات سے بھی دور کر دیتی ہے۔

فرمایا مہمان کی کھلے دل سے خدمت کرو‘ یہ عادت ہماری شخصیت میں کشش پیدا کر دیتی ہے‘ آپ کو مہمان نوازوں میں ہمیشہ مقناطیسی کشش ملے گی‘ آزما کر دیکھ لیں۔ فرمایا غربت میں صبر کیا کرو‘ یہ فرمان بھی کیا شاندار فرمان ہے‘ صبر بہت بڑی دولت ہے‘یہ دولت کبھی کسی انسان کو غریب نہیں رہنے دیتی‘ آپ صابر ہو جائیں آپ کے حالات دنوں میں بدل جائیں گے‘ آپ یہ بھی آزما کر دیکھ لیں۔ فرمایا اچھے کاموں میں دوسروں کی مدد کیا کرو‘ اچھائی نیکی ہوتی ہے اور نیکی میں دوسروں کا ساتھ دینے والے بھی جلد نیک ہو جاتے ہیں‘ آپ صرف نیک لوگوں کے معاون بن جائیں آپ نیکوں سے بھی آگے نکل جائیں گے۔ فرمایا اپنی خامیوں پر غور کیا کرو اور توبہ کیا کرو‘ تحقیق بتاتی ہے ہم اگر اپنی کسی ایک خامی پر قابو پا لیں تو ہم میں دس خوبیاں پیدا ہو جاتی ہیں‘ آپ یہ بھی آزما کر دیکھ لیں۔

فرمایا برا کرنے والوں کے ساتھ ہمیشہ نیکی کرو‘ یہ بھی آزما کر دیکھیں‘ یہ عادت آپ کے دشمنوں کی تعداد کم کر دے گی۔ فرمایا اللہ نے جو دیا ہے اس پر خوش رہو‘ میرا تجربہ ہے ہم دوسرے پرندے کی کوشش میں ہاتھ کا پرندہ بھی اڑا بیٹھتے ہیں‘ ہمیں جو مل جائے ہم اگر اسے انجوائے کرنا سیکھ لیں تو یہ دنیا جنت ہو جاتی ہے۔فرمایا زیادہ نہ سویا کرو‘ زیادہ نیند یادداشت کو کمزور کر دیتی ہے‘ یہ بھی طبی لحاظ سے درست ہے‘ نیند موت کی پچھلی اسٹیج ہے‘یہ بڑھ جائے تو ہمارے برین سیل مرنے لگتے ہیں چنانچہ سات گھنٹے سے کم اور آٹھ گھنٹے سے زیادہ نیند نہیں لینی چاہیے اور چالیسواں فرمان‘ فرمایا روزانہ کم از کم سو بار استغفار کیا کرو‘ یہ عادت بھی عبادت ہے‘ آپ کر کے دیکھیں‘ آپ کو نتائج حیران کر دیں گے۔

ہمارے ملک میں لوگوں کو خواب دیکھنا اچھا لگتا ہے۔ایک مرتبہ ایک سیانے سے ہم بیوقوفوں نے پوچھا تھا:لوگ خواب کیوں دیکھتے ہیں؟سیانے نے جواب دیتے ہوئے کہا تھا:جو لوگ کچھ نہیں دیکھتے وہ خواب دیکھتے ہیں۔ سیانے کا جواب سن کر ہم بیوقوف کچھ کچھ سیانے ہو گئے تھے۔ خوابوں کے حوالے سے بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں آنے لگی تھیں۔ تب ہم نے محسوس کیا تھا کہ ہماری سمجھ اس قدر ناقص نہ تھی جتنا کہ ہم اپنی سمجھ کو ناقص سمجھتے تھے۔ فلسفی صرف عقلمندوں کے درمیان پیدا نہیں ہوتے۔ ہم احمقوں کے درمیان بھی فلسفی پیدا ہوتے ہیں۔ امکانات روشن تب ہوتے ہیں جب ایک بیوقوف کا واسطہ کسی سیانے سے پڑتا ہے۔ سیانے سے ہم کلام ہونے کے بعد ہم ناقص سوچ رکھنے والے سیانے بن جاتے ہیں۔ ہمارے درمیان ایک دو لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو فلسفی بن جاتے ہیں اور فلسفیانہ باتیں کرنے لگتے ہیں۔ میں آپ کو ایک دیسی فلسفی کا قول سناتا ہوں۔ اچھا قول ہے۔ انٹرنیٹ پر وائرل ہو چکا ہے۔اس لیے آپ کو سنا رہا ہوں۔ میں نے اس قول پر عمل کرکے دیکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں خوش رہتا ہوں اور خرم بھی رہتا ہوں۔ اس قول پر عمل کرنے سے آپ بھی میری طرح خوش و خرم رہ سکتے ہیں۔ قول سنیے:خوش رہنا چاہتے ہو، تو سوچنا چھوڑ دو۔یہ میرا ذاتی اور مخفی تجربہ ہے۔ اس قول پر عمل کرنے سے میں مستفید ہو چکا ہوں۔ اس قول پر عمل کرنے سے آپ بھی مستفید ہو سکتے ہیں۔ بس،سوچنا چھوڑ دیجیے۔ میں نے جب تک سوچنا نہیں چھوڑا تھا تب تک میں بہت دکھی رہتا تھا۔ غمگین گانے گایا کرتا تھا:تیری دنیا میں دل لگتا نہیں،مجھ کو اے مالک اٹھا لے۔ میں چھوٹی چھوٹی اور نظرانداز کرنے جیسی باتوں پر سوچتا تھا۔ کڑھتا تھا۔پریشان رہتا تھا۔ دیواروں سے سر ٹکراتے ٹکراتے لہولہان ہو جاتا تھا۔معمولی باتوں پر میں سوچنے لگتا تھا اور پھر سر میں دھول ڈال کر،گریباں چاک کر کے بیابانوں کا رخ کرتا تھا ۔ایک مرتبہ اچانک ایک کلرک کی منہ پھٹ بیوی مر گئی۔ کچھ روز بعد کلرک کو بائیس گریڈ میں ترقی دے دی گئی۔ میں سوچتے سوچتے پاگل ہو گیا۔بیوی کی اچانک موت کا کلرک کی بائیس گریڈ میں ترقی سے کیا واسطہ تھا؟نیند آنکھوں سے اوجھل ہو گئی۔ میں کھانا پینا بھول گیا۔ سوکھ کر کانٹا ہو گیا۔ میں گلی کوچوں میں گاتا پھرتا تھا: تیری دنیا میں دل لگتا نہیں، مجھ کو اے مالک اٹھا لے۔ تب، ایسے میں کسی نے مجھے دیسی فلسفیانہ قول سے آگاہ کیا:خوش رہنا چاہتے ہو، تو سوچنا چھوڑ دو۔

اس دن سے میں نے سوچنا چھوڑ دیا ہے۔ بھاڑ میں جائے کلرک اور بھاڑ میں جائے اس کی منہ پھٹ بیوی۔ تب سے میں خوش رہتا ہوں اور خرم بھی رہتا ہوں۔ گاتا پھرتا ہوں: تیری دنیا میں اب بہت دل لگتا ہے مالک، مجھے مت اٹھانا۔ مجھے قیامت تک زندہ رکھنا اور موج مستی کرنے دینا۔ مانا کہ یہ دنیا فانی ہے، پھر بھی جانی پہچانی ہے۔ ابھی کچھ من مانی کرنی ہے۔ لوٹی ہوئی دولت واپس لانی ہے۔ مانا کہ دنیا آنی فانی ہے، پھر بھی دلبر جانی ہے۔

بات بہت پرانی ہے۔ برصغیر کے بڑے برے دن تھے۔ چوریاں نہیں ہوتی تھیں۔ڈاکے نہیں پڑتے تھے۔ایسا بھی نہیں تھا کہ تب برصغیر میں صرف فرشتے رہتے تھے۔ کسی طرح سے برصغیر میں قدرت کے قانون کی نفی نہیں ہوتی تھی۔ قدرت کے قانون کے مطابق اندھیرا اور اجالا ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ ایک دوسرے کے پیچھے لگے رہتے ہیں۔ عروج اور زوال کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے۔تب برصغیر میں برائی ہوتی تھی تو بھلائی بھی ہوتی تھی۔ ناانصافی ہوتی تھی تو انصاف بھی ہوتا تھا۔کانٹے ہوتے تھے تو پھول بھی ہوتے تھے۔ قمار خانے ہوتے تھے تو کتب خانے بھی ہوتے تھے۔ ڈاکو ہوتے تھے تو پولیس والے بھی ہوتے تھے۔ چوریوں اور ڈکیتیوں کی نہ ہونے والی وارداتوں کا سبب پولیس کا نظام اور ان کی فرض شناسی نہ تھی۔ اس کا سب سے بڑا سبب تھا چوکیدار۔ محلوں اور گلی کوچوں سے لے کر بند بازاروں میں چوکیدار پہرہ دیتےتھے۔ہاتھ میں ان کے لمبی لاٹھی ہوتی تھی۔ دوسرے ہاتھ میں لالٹین ہوتی تھی۔ لاٹھی زمین پر مارتے تھے اور رات بھر چلّاتے پھرتے تھے:جاگتے رہو ۔جاگتے رہو۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب حکمراں انگریز ہندو اور مسلمانوں کے ساتھ ہندوستان کے بٹوارے سے متعلق گفت و شنید کر رہے تھے۔ تب میں نہ تو بہت چھوٹا تھا اور نہ ہی بہت بڑا تھا۔ میں بس اتنا تھا کہ ہندوستان کے بٹوارے کی باتیں اور فریقین کے دلائل میری سمجھ میں آتے تھے۔ اس دور کی باتیں مجھے آج تک یاد ہیں۔بڑے بوڑھے ایک ہی موضوع پر مختلف زاویوں سے بولتے رہتے تھے۔انگریز نے ہندوستان چھوڑنے سے پہلے ہندوستان کو دولخت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ایک حصّہ بڑا ہو گا اور دوسرا حصّہ چھوٹا ہو گا۔ ہندوستان کے چھوٹے حصّے پر برصغیر کے مسلمانوں کیلئے الگ تھلگ ملک پاکستان بنے گا۔ پاکستان میں انصاف کا بول بالا ہو گا اور دشمن کا منہ کالا ہو گا۔شیر اور بکری ایک گھاٹ سے پانی پئیں گے۔ گائے ذبح کرنے پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہو گی۔ آپ جب چاہیں،جہاں چاہیں گائے کاٹ سکیں گے۔ آپ چاہیں تو فٹ پاتھ پر بھینس یا گائے ذبح کر سکیں گے۔آپ سڑک کے بیچوں بیچ گائے کے گلے پر چھری پھیر سکیں گے۔ آپ بیچ چوراہے پر گائے،بیل، بھینس اور بھینسے کو حلال کر سکیں گے۔ آپ پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہو گی۔ایسا ہو گا برصغیر کے مسلمانوں کیلئے ایک الگ تھلگ ملک پاکستان۔ ایک اسلامی ملک ہونے کے ناتے پاکستان میں تالا لگانے کا رواج نہیں ہو گا۔ لوگ گھروں، دفتروں اور دکانوں کے کواڑ بند نہیں کریں گے۔ آپ دروازوں پر تالا نہیں لگائیں گے۔ دفتر جاتے ہوئے آپ گھر کے دروازے پر تالا نہیں لگائیں گے۔ آپ دفتر اور دکان سے نماز پڑھنے کیلئے مسجد کا رخ کریں گے تو دفتر اور دکان کے دروازے کھلے چھوڑ جائیں گے۔ یہ تب کی باتیں ہیں جب چوکیدار ہمیں سونے نہیں دیتے تھے۔ اور رات بھر بلند آواز میں کہتے پھرتے تھے:جاگتے رہو۔چوکیدار نہ خود سوتے تھے اور نہ ہمیں سونے دیتے تھے۔ آپ جب تک سوتے نہیں،تب تک آپ خواب نہیں دیکھ سکتے۔ بٹوارے سے پہلے برصغیر کے مسلمان عجیب و غریب کیفیت سے گزر رہے تھے۔ چوکیدار انہیں سونے نہیں دیتے تھے۔ اس لیے وہ خواب نہیں دیکھتے تھے۔ چونکہ چوکیدار خود بھی رات رات بھر جاگتے رہتے تھے، اس لیے وہ بھی خواب نہیں دیکھتے تھے۔ تب ہم سب جاگتے رہتے تھے اور مزیدار خیالی پلائو پکاتے رہتے تھے۔ اب جا کر پتہ چلا ہے کہ تب ہم خیالوں میں افغانی پلائو پکایا کرتے تھے۔

لوٹ مار کے بعد حالیہ مظاہروں میں توڑ پھوڑ کے مناظر، مفادات کی شکم پرستی کو عیاں کرتے ہیں، کیا لوگ ہیں کہ اپنے ہی ملک میں جلائو گھیرائو کرتے ہیں، اپنی سڑکیں بند، اپنی عمارتیں تباہ اور اپنوں ہی کی گاڑیوں کو آگ کی نذر کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ دیکھ کر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سب کچھ دین فطرت کی تعلیمات ہیں؟ جواب آتا ہے کہ نہیں، ہرگزنہیں،دینِ فطرت تو انسانوں میں محبتوں کی تقسیم کا نام ہے مگر موجودہ عہد میں یہ تقسیم نہیں ہو رہی، مسلمانوں کا پچھلی چند صدیوں سے یہی حال ہے۔ علم مومن کی کھوئی ہوئی میراث ہے، آج کا مسلمان علم سے کوسوں دور ہے۔ اس نے تعلیم کو علم سمجھ لیا ہے، اس کی سمجھ میں یہ کیوں نہیں آرہا کہ تعلیم ضرورت کا علم ہے جبکہ انسان کو زندگی میں علم کی ضرورت ہوتی ہے ، جو لوگ تاریخ سے واقف ہیں انہیں اندازہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاں علم کے دریا کیسے بہا کرتے تھے، مسلمانوں کی اکثریت نے اسی دن علم سے منہ موڑ لیا تھا جس دن رسول اللہ کے پیارے نواسےؓکو خاندان سمیت شہید کر دیاگیا تھا یہ کونسا علم تھا، یہ کونسی تعلیم تھی؟ مفادات کی چکی میں کربلا کی ریت پر عظیم علم پس گیا یہیں سے مسلمانوں کا زوال شروع ہوتا ہے، اس زوال کی داغ بیل تو اس واقعہ سے بھی بیس پچیس برس پہلے اس وقت ڈال دی گئی تھی جب شام کے ایک گورنر نے خلیفہ وقت کی اطاعت سے انکار کر دیا تھا۔یہ انکار ہی دراصل علم سے انکار تھا۔

علامہ اقبال ؒ کی شاعری میں یہ سب کچھ بڑے کھلے انداز میں بیان کر دیا گیا ہے، مذہب کے نام پر ہونے والی شکم پرستی بھی بیان کر دی گئی ہے ۔ایک صدی پہلے دنیا کے عظیم مفکر، فلاسفر اور حکیم الامت علامہ اقبال ؒنے جب اپنی دو یادگار نظمیں شکوہ اور جواب شکوہ رقم کیں تو انہیں مذہبی جنونیوں کی طرف سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے اسلامیہ کالج لاہور کے لان میں منعقدہ تقریب میں جونہی ’’شکوہ‘‘ کیا تو فتوے آ گئے شاید بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ علامہ اقبالؒ جیسے اسلام کے خدمت گار کیلئے موت کے فتوے دیئے گئے۔ان فتوئوں کے خلاف پھر ایک جوابی فتویٰ میاں شیر محمد شرقپوری ؒنے دیا۔

صاحبو! مفادات کی اس دنیا میں لوگ مفادات کے چکر میں توڑ پھوڑ بھی کرتے ہیں، اپنا خیال کئے بغیر رشتوں کی پروا نہیں کرتے، قتل وغارت کرتے ہیں، دھوکہ دہی معمولات ہیں، رہنما راہزن بن جاتے ہیں، اپنے ہی ملک کے خلاف عمل پیرا ہو جاتے ہیں، میں یہ سب کچھ دیکھتا ہوں تو مجھے موت کے بارے میں حضرت علیؓ کی وصیت یاد آ جاتی ہے جسے پڑھ کر آپ کی روح لرز جائے گی۔ علم کے دروازے سے صدا آتی ہے کہ ’’اے اللہ کے بندو!میں تمہیں دنیا کے چھوڑنے کی وصیت کرتا ہوں جو تمہیں چھوڑ دینے والی ہے حالانکہ تم اسے چھوڑنا پسند نہیں کرتے اور وہ تمہارے جسموں کو کہنہ وبوسیدہ بنانے والی ہے ۔تمہاری اور دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے چند مسافر کسی راہ پر چلیں اور چلتے ہی منزل طے کرلیں یعنی بہت جلد اپنے انجام کو پہنچ جائیں۔دنیا کی عزت اور اس میں سربلندی کی خواہش نہ کرو اور نہ ہی اس کی آرائشوں اور نعمتوں پر خوش ہوا کرو، اس کی سختیوں اور تنگیوں پر چیخنے چلانے نہ لگ جائو۔ اس لئے کہ اس کی عزت وفخر دونوں مٹ جانے والے ہیں، اس کی آرائشیں اور نعمتیں زائل ہو جانے والی ہیں اور یاد رکھو کہ اس کی سختیاں اور تنگیاں آخر ختم ہو جائیں گی۔ہر زندہ کا انجام فنا ہے، کیا پہلے لوگوں کے واقعات تمہارے لئے کافی تنبیہ کا سامان نہیں اور تمہارے لئے عبرت اور بصیرت نہیں ؟اگر تم سوچو سمجھو! کیا تم گزرے ہوئے لوگوں کو نہیں دیکھتے کہ وہ پلٹ کر نہیں آتے اور ان کے بعد باقی زندہ رہ جانے والے بھی زندہ نہیں رہتے۔ اور تم دنیا والوں پہ نظر نہیں کرتے جو وہ صبح و شام کرتے ہیں، کہیں کوئی میت ہے جس پہ رویا جا رہا ہے، کہیں کوئی مبتلائے مرض ہے، عیادت کرنے والا عیادت کر رہا ہے اور کہیں کوئی دم توڑ رہا ہے۔کوئی دنیا تلاش کرتا پھرتا ہے اور موت اسے تلاش کر رہی ہے اور کہیں کوئی غافل پڑا ہے لیکن موت اس سے غافل نہیں ہے ۔گزر جانے والوں کے نقش قدم پر ہی باقی رہ جانے والے چل رہے ہیں، میں تمہیں متنبہ کرتا ہوں کہ بداعمالیوں کے ارتکاب کے وقت ذرا موت کو بھی یاد کر لیا کرو کہ جو تمام لذتوں کو مٹا دینے والی ہے اور نفسانی مزوں کو کرکرا کر دینے والی ہے۔ اللہ کے واجب الادا حقوق ادا کرنے اور اس کی انگنت نعمتوں اور لاتعداد احسانوں کا شکربجالانے کیلئے اس سے مدد مانگتے رہو‘‘ اسی وصیت نامے میں بہت کچھ ہے، بس اس میں سے تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔جون ایلیا یاد آ گئے؎

یہ سنا ہے کہ میرے کوچ کے بعد
اس کی خوشبو کہیں بسی ہی نہیں


[next]
حضرت علی کرم اللہ وجہہ علم کے دروازے ہیں، ان کی عظمت کے حوالے سے بہت سی احادیث ہیں، ان کی شخصیت کا تذکرہ کئی چہروں کو بے نقاب کردیتا ہے۔ معاشرے کی اصلاح کے لئے ان کے ارشادات یقیناً سیاہ رات میں روشن چراغ کی مانند ہیں، آج میں ان کے دو اقوال کی روشنی میں اپنے معاشرے کو دیکھنے کی کوشش کروںگا مثلاً ان کا فرمان ہے کہ ’’زندگی کی اصل خوبصورتی یہ نہیں کہ آپ کتنے خوش ہیں بلکہ اصل خوبصورتی تو یہ ہے کہ دوسرے آپ سے کتنا خوش ہیں‘‘ دوسرا فرمان کچھ اس طرح ہے ’’تم کسی کے ساتھ بھلائی کرو، تمہیں اس کا بدلہ برائی کی صورت میں ملے تو سمجھ لو کہ تمہاری نیکی قبول ہوگئی‘‘۔

پتہ نہیں ہمارے حکمرانوں نے کبھی یہ اقوال پڑھے ہیں یا نہیں مگر میں ان اقوال کے آئینے میں حکمرانوں کا ’’چہرہ‘‘ پڑھ رہا ہوں، میں جانتا ہوں کہ میری زندگی اور موت کسی حکمران کے ہاتھ میں نہیں، عزت اور ذلت کے مقام بھی دنیاوی حکمرانوں سے کہیں دور ہیں۔ مذکورہ بالا اقوال میں سے پہلے قول کودیکھئے اور پھر سوچئے کہ ہم پر حکومتیں کرنے والے تو بہت خوش رہے، انہوں نے کبھی سوچا کہ کیا دوسرے لوگ ان سے خوش ہیں؟ موجودہ حکمران بھی ماضی کے حکمرانوں کی روش پر چل پڑے ہیں۔ بڑ ی بدقسمتی ہے کہ موجودہ حکومت کے حصے میں عوام دوست وزیر خزانہ نہ آسکا بلکہ ایک ایسا وزیر خزانہ براجمان ہے جس کے فیصلوں سے عوام دشمنی کی بو آتی ہے۔ اس وزیر خزانہ کے دور میں اسٹاک مارکیٹ کریش کر گئی، ڈالر تیزی سے بڑھا، گیس اور بجلی مہنگی ہوئی۔ چلو ان سب باتوں کو سابقہ حکومتوں سے منسوب کر بھی دیا جائے تو پٹرول کی قیمتوں کے بارے میں کیا کہا جائے گا، کیا یہ غریب عوام پرظلم نہیں؟ اب جبکہ ایک برادر اسلامی ملک سے تیل کے سلسلے میں سہولیات بھی مل چکی ہیں تو ایسے میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ سمجھ سے باہر ہے۔ یہ غریب دشمنی ہے، اس سے مہنگائی کے طوفان میں مزید تیزی آئے گی۔ موٹر سائیکل سواروں کی مشکلات اپنی جگہ، غریب عوام کیلئے پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ بھی ہوگا، مہنگا پٹرول ظاہر ہے ٹرکوں کے لئے بھی مہنگا ہے، ایک شہر سے دوسرے شہر تک مختلف چیزوں کولے جانے والے ٹرک اب زیادہ کرایہ لیں گے۔ یہ سارا اثر عوام پر پڑے گا۔ کیا یہ سب کچھ عوام کی زندگیوں میں آسانی پیدا کرے گا، کیا موجودہ حکمرانوں کے اس عمل سے لوگ خوش ہوں گے؟ اگر آج پاکستان قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہے تو کیا اس قرضے سے لوگوں کی زندگیوں میں آسانی آئی؟

نہیں صاحب! ایسا نہیں، پاکستان بہت اچھا ملک ہے، کاش اسے حکمران اچھے مل جاتے، اس کے سابقہ حکمرانوں نے اسے بہت لوٹا، لوٹ مار ہی سے پاکستان مقروض ہوا۔ سابقہ حکمران عوامی زندگیوں میں خوشیاں نہ لاسکے، رہے موجودہ حکمران تو وہ بھی پرانے حکمرانوں کی روش پر چل پڑے ہیں، وزیراعظم نہ سہی وزیر خزانہ تو چل پڑا ہے، کیسا انوکھا وزیر خزانہ ہے جو بات بات پر اپنے پیش رو اسحٰق ڈار کی تعریفیں کرتا ہے، کبھی اسمبلی میں کھڑے ہو کر کہتا ہے کہ ’’احسن اقبال نے سی پیک کیلئے بہت کام کیا، میں ان سے تجاویز لوں گا، شاہد خاقان عباسی سے بھی تجاویز لوں گا‘‘۔ اگر آپ نے انہی پرانے لوگوں سے تجاویز لینی ہیں تو آپ خود کس مرض کی دوا ہیں یا پھر آپ کو آتا جاتا کچھ نہیں۔

مغل بادشاہ جلال الدین اکبر نے برصغیر پر 51برس حکومت کی، نصف صدی پر مشتمل اس حکومت کی کامیابی کا راز اکبر کے نو رتن تھے، اس کے یہ نو مشیر بہت لائق فائق تھے، کئی معاملات میں دنیا آج بھی مجبور ہے کہ وہ اکبر کے مشیروں کے متعین کردہ راستوں پر چلے مگر عمران خان اس حوالے سے بدقسمت دکھائی دیتے ہیں، ان کی ٹیم ہی میں ان کے دشمن چھپے ہوئے ہیں، ان کے وزیر خزانہ نے اڑھائی ماہ میں کوئی کام ایسا نہیں کیا جسے بھلائی کہا جاسکے۔

خواتین و حضرات! اگر میں برے عمل کو اچھا لکھوں تو یہ قلم کے ساتھ ظلم ہوگا اور اگر میں اچھے عمل کو برا لکھوں تو یہ بھی زیادتی ہوگی، قلم و قرطاس کے رشتے میں سارے لفظ خدائے لم یزل کے عطا کردہ ہیں، سب اسی کی امانت ہے تو کیا میں حکمرانوں کی خوشنودی کیلئے امانت میں خیانت کروں؟ نہیں، ایسا نہیں ہوسکتا، خیانت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔

ہمارے معاشرے میں ظلم ہوئے، میں کیسے کہہ دوں کہ یہاں ظلم نہیں ہوئے،کیا یہاں یتیموں اور بیوائوں کی جائیدادوں پر قبضے نہیں ہوئے، کیا یہاں میرٹ کا قتل نہیں ہوا، کیا اس معاشرے کے مسائل میں حکومتیں کرنے والوں نے اضافہ نہیں کیا۔ آج وہ کس منہ سے کہتے ہیں کہ ’’منشا بم اور نیب میں کوئی فرق نہیں‘‘۔ کیا آپ کے دور میں منشا بم نےظلم نہیں کیا تھا، کیا آپ کے عہد میں منشا بم نے لوگوں کی جائیدادوں پر قبضے نہیں کئے تھے اور کیا آپ منشا بم کو گرفتار کرنے میں ناکام نہیں رہے؟ منشا بم بھی آپ کا پیدا کردہ ہے، چیئرمین نیب بھی آپ نے لگایا۔ ظلم کی بانہیں دراز ہوتی ہیں اور ایک دن ظلم مارا جاتا ہے، رہی بھلائی تو عرصہ دراز سے حکمرانوں نے عوام سے بھلائی کی ہی نہیں، بقول منصور آفاق؎

اس نے میرے ہاتھ پہ رکھا تھا اک وعدہ

جاتے ہوئے کچھ اور مسائل چھوڑ گئی تھی

حنیف خالد تخلیقی اور شگفتہ جملے لکھنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کے جملوں میں حکمت کی باتیں بھی ہوتی ہیں، طنز اور شگفتگی بھی ملتی ہے، مگر گندی زبان، گندا لہجہ اور گندا ایکسپریشن آپ کو کبھی نہیں ملے گا جبکہ بعض اینکر کے جملے تخلیقی کم اور گالی گلوچ کے حامل زیادہ ہوتے ہیں۔ فرعونیت ہماری سیاست اور صحافت میں در آئی ہے، دفع کریں یہ بات بھی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ہم سب کو اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے اور اس مقبولیت کی دعا کرنا چاہیے جو آپ کے قلم سے نکلے ہوئے خوبصورت جملوں کے صدقے میں آپ کو ملےکہ بازاری جملوں کی داد صرف ’’بازار‘‘ ہی سے مل سکتی ہے۔ میں آج آپ کو حنیف خالد کے چند خوبصورت جملے سناتا ہوں، مجھے یقین ہے آپ کوبھی پسند آئیں گے! یہ جملے بڑھاپے کے بارے میں ہیں، جو نوجوان بھی پڑھ سکتے ہیں!

٭ بڑھاپا پوچھ کر نہیں آتا اور نہ دھکے دینے سے جاتاہے۔
٭بڑھاپا مشرق میں مرض اور مغرب میں فراغت کو انجوائے کرنے کا اصل وقت سمجھا جاتا ہے۔
٭بڑھاپے میں دانت جانے لگتے ہیں اور عقل آنے لگتی ہے۔اولاد اور اعضاء جواب دینے لگتے ہیں۔
٭بیوی اور یادداشت کا ساتھ کم ہونے لگتا ہے۔
٭بڑھاپا آپ کے بڑھاپے کا ساتھی ہے، مرتے دم تک ساتھ نبھاتا ہے۔
٭بڑھاپے میں لڑکیاں انکل کہیں تو مائنڈ نہ کریں، ان کے کہنے سے کیا ہوتا ہے۔
٭انسان جرم اور اپنا بڑھاپا بہت مشکل سے قبول کرتا ہے۔
٭بچپن دوسروں کی دلجوئی اور خوشی، جوانی اپنے لئے اور بڑھاپا ڈاکٹروں کی مالی مدد کے لئے ہوتا ہے۔
٭بڑھاپا بے ضرر ہوتا ہے، اس عمر میں شادی نہیں کرنا چاہیے۔
٭اگر آپ کے منہ میں دانت بچ گئے ہیں تو تنہائی میں غم بھلانے کے لئے سیٹی بجائیں، بتیسی اگر ہے تو رسک نہ لیں ورنہ بتیسی باہر آ سکتی ہے۔ سیٹی بجانے سے پہلے ارد گرد نظر بھی دوڑا لیں، کوئی خاتون قریب سے نہ گزر رہی ہو۔
٭بڑھاپے میں اگر اولاد آپ کی خدمت کرتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ نے ان کی تربیت اور اپنی لائف انشورنس پر پورا دھیان دیا ہے۔
٭مرد کبھی بوڑھا نہیں ہوتا۔ یہ ایک نہیں ہزاروں بوڑھوں کا قول ہے۔
٭بوڑھے ہونے پر ضرور بوڑھا دکھائی بھی دینا، کس کتاب میں لکھا ہے؟
٭ہر بوڑھے میں ایک بچہ اور جوا ن بھی چھپا ہوتا ہے۔
٭اچھا خاندان اور اچھی حکومت ہمیشہ اپنے بوڑھوں کا خیال رکھتی ہے۔
٭بوڑھے نہ ہوتے تو چشموں اور دانتوں کی ’’انڈسٹری‘‘ مکمل تباہ ہو گئی ہوتی۔
٭وہ یقین کریں نہ کریں مگر آپ پریشان نہ ہوں عورتیں بھی بوڑھی ہوتی ہیں۔
٭دنیا نہ چل پاتی، اگر بوڑھے ہونے کا رواج نہ ہوتا۔
٭دنیا میں سب سے آسان کام دادا، دادی، نانا ، نانی بننا ہوتا ہے، کیونکہ اس میں آپ کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔
٭بچپن میں ہم ٹیسٹ دیا کرتے تھے، جوانی میں ٹیسٹ لیا کرتےتھے، اب ڈاکٹر ہمارے لئے ٹیسٹ لکھ رہے ہیں۔
٭ہر عمر رسیدہ کیلئے مفت مشورہ ہے کہ دنیا کو انجوائے کرو قبل اس کے کہ دنیا ہمیں انجوائے کرنے لگے۔

اور آخر میں کسی نامعلوم شاعر کی لاجواب نظم۔

ابلیس کا اعتراف
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کرلوں
تو نے جس وقت یہ انسان بنایا یارب
اس گھڑی مجھ کو تو اک آنکھ نہ بہایا یا رب
اس لئے میں نے سر اپنا نہ جھکایا یا رب
لیکن اب پلٹی ہے کچھ ایسی ہی کایا یا رب
عقل مندی ہے اسی میں کہ میں توبہ کرلوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کرلوں
ابتدا میں تھی بہت نرم طبیعت اس کی
قلب و جاں پاک تھے شفاف تھی طینت اس کی
پھر بتدریج بدلنے لگی خصلت اس کی
اب تو خود مجھ پہ مسلط ہے شرارت اس کی
اس سے پہلے کہ میں اپنا ہی تماشاکر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں
بھر دیا تو نے بھلا کونسا فتنہ اس میں
پکتا رہتا ہے ہمیشہ کوئی لاوا اس میں
ایک اک سانس ہے اس صورت شعلہ اس میں
آگ موجود تھی کیا مجھ سے زیادہ اس میں
اپنا آتش کدۂ ذات ہی ٹھنڈا کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو میں سجدہ کر لوں
اب تو یہ خوں کے بھی رشتوں سے اکڑ جاتا ہے
باپ سے بھائی سے بیٹے سے بھی لڑ جاتا ہے
جب کبھی طیش میں ہتھے سے اکھڑ جاتا ہے
خود میرے شر کا توازن بھی بگڑ جاتا ہے
اب تو لازم ہے کہ میں خود کو ہی سیدھا کرلوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کرلوں
میری نظروں میں تو بس مٹی کا مادھو تھا بشر
میں سمجھتا تھا اسے خود سے بہت ہی کمتر
مجھ پہ پہلے نہ کھلے اس کے سیاسی جوہر
کان میرے بھی کترتا ہے یہ قائد بن کر
شیطنت چھوڑ کے میں بھی یہی دھندا کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کرلوں
کچھ جھجکتا ہے، نہ ڈرتا ہے، نہ شرماتا ہے
نت نئی فتنہ گری روز ہی دکھلاتا ہے
اب یہ میرے بہکاوے میں کب آتا ہے
میں برا سوچتا رہتا ہوں یہ کرجاتا ہے
کیا ابھی اس کی مریدی کا ارادہ کرلوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کرلوں
اب جگہ کوئی نہیں میرے لئے دھرتی پر
میرے شر سے بھی سوا ہے یہاں انسان کا شر
اب لگتا ہے یہی فیصلہ مجھ کو بہتر
اس سے پہلے کہ پہنچ جائے وہاں سوپر پاور
میں کسی اور ہی سیارے پہ قبضہ کرلوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں
ظلم کے دام بچھائے ہیں نرالے اس نے
نت نئے پیچ مذاہب میں ہیں ڈالے اس نے
کر دیئے قید اندھیروں میں اُجالے اس نے
کام جتنے تھے میرے سارے سنبھالے اس نے
اب تو میں خود کو ہر اک بوجھ سے ہلکا کرلوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کرلوں

ایک تکلیف دہ موازنہ وئی فرنگیوں کو لاکھ برا بھلا غاصب، عیار،مکار کہے لیکن سچی بات ہے گورننس کی تمیز گورے کو ہی تھی کہ 90سال 1857ء تا 1947ء 90سال میں جہالت اور پسماندگی میں غرق برصغیر کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔سیاسی نظام سے عدالتی و انتظامی نظام تک، نہری نظام سے کئی نئے شہروں تک، میڈیکل کالجز سے زرعی کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں تک، ’’بمبمے‘‘یعنی ہینڈپمپ سے ریلوے اور ماچس تک، جدید منظم فوج سے لاء اینڈ آرڈر تک کمال ہی کمال ہے ۔رٹ تھی ایسی زبردست کہ ہندوئوں کے روحوں سے سَتّی کی بے رحم رسم اکھاڑ پھینکی، برہمنوں اور مسلمان اشرافیہ کو اس کی عدلیہ پر بڑی خار تھی کہ اچھوت اور کمی کمین بھی انہیں عدالتوں میں گھسیٹ سکتے ہیں۔حرام خور برہمن نے ریل کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کیا کہ اس میں شودر بھی برہمن کے برابر بیٹھ سکتا ہے لیکن گورے نے جو کیا ڈٹ کر کیا اور خوب کیا ..... ہم سے کہیں بہتر کیا کہ آج نہ وہ پولیس نہ عدالتیں نہ ریلوے نہ نہری نظام نہ ’’کمپنی باغ‘‘ کہ باغوں کیا ہم نے تو قبرستانوں پر قبضے شروع کر دیئے۔کوئی ہے جو قسم اٹھا کر کہہ سکے کہ آج کا گورنمنٹ کالج لاہور اور پنجاب یونیورسٹی اتنے ہی عالیشان تعلیمی ادارے ہیں جتنے کبھی تھے۔میں نے کہیں نہیں پڑھا کہ تب وکلاء ججوں پر اس طرح چڑھ دوڑتے تھے

،طلبہ اساتذہ کے گریبان پکڑتے تھے اور ڈاکٹرز اسی طرح مریضوں کو’’گاہکوں‘‘ کی طرح ٹریٹ کرتے تھے۔ حقیقت یہ کہ ہم نے ہمارے ساتھ اس سے کہیں برا کیا جتنا گورے نے کیا لیکن بہرحال ’’آزادی‘‘ بڑی بات ہے ۔ ’’اپنوں‘‘ کے ہاتھوں برباد ہونا غیروں کے ہاتھوں آباد ہونے سے کہیں بہتر ہے ۔ان لاکھوں کو کیا کہیں جو آزاد وطن چھوڑ کر سابق آقائوں کے ملکوں کی شہریت والی ’’غلامی‘‘ پر ناز کرتے ہیں۔محبت پاکستان سے لیکن شہریت انگلستان تا امریکہ ،کینیڈا، آسٹریلیا کی۔ جائیدادیں بھی وہیں، اولادیں بھی وہیں اور بضد اس بات پر کہ ’’یہ وطن ہمارا ہے، ہم ہیں پاسباں اس کے‘‘ تضادات کے یہ مائونٹ ایورسٹ کیوں؟ فرق کیا ہے ؟تب’’ رول آف لاء‘‘ تھا، اب ’’رول آف دی رولر‘‘ ہے ورنہ ہمارا وزیر باتدبیر یہ نہ کہتا کہ اگر وزیراعظم آئی جی پولیس نہیں بدل سکتا تو الیکشن کی کیا ضرورت؟ حضور! پروسیجرز، قواعدوضوابط، اصول قانون بھی کوئی شے ہے کہ مادر پدر آزاد ہو کر تو کائنات نہیں چل سکتی، ملک کیسے چلے گا؟ لمبی کہانی ہے جسے سمجھنے کیلئے ایک چھوٹا سا واقعہ عرض ہے ۔یہ 1930تا 35ء کی درمیانی کہانی ہے ۔لیجنڈپطرس بخاری تب پنجاب ٹیکسٹ بک کمیٹی کے چیئرمین تھے جب فیض احمد فیض جیسا لیجنڈ انہیں ملنے گیا۔وہاں ایک ضخیم فائل پر نظر پڑی جس پر جلی حروف میں لکھا تھا ʼʼOFFICE CATʼʼ فیض صاحب یہ عنوان دیکھ کر متجسس ہوئے اور پطرس بخاری صاحب سے پوچھا .....’’یہ کیا ہے ؟‘‘ جس پر بخاری صاحب نے فرمایا ۔’’قصہ یوں ہے کہ ایک دن میرے آفس میں بلی آگئی۔مجھے اچھی لگی تو میں نے کسی سے کہا اسے تھوڑا سا دودھ لادو۔پھر وہ بلی ہر روز آنے لگی اور ہر روز اسے دودھ بھی باقاعدگی سے ملنے لگا۔مہینے کے آخر پہ سپرنٹنڈنٹ نے دفتر کے اخراجات کا بل مجھے بھیجا تو اس کے ساتھ ایک تحریری سوال بھی منسلک تھا کہ بلی کے دودھ پر چودہ روپے چھ آنے کی جو رقم خرچ ہوئی ہے، وہ کس مد میں جائےگی ؟میں نے لکھ بھیجا CONTIGENCES یعنی متفرق خرچ میں ڈال دو۔چند روز کے بعد اکائونٹنٹ جنرل نے بل لوٹا دیا اور نوٹ لکھا کہ CONTIGENCYکی مد دفتر کے سازو سامان اور دیگر غیر جاندار اشیاء کے لئے مخصوص ہے ۔بلی جاندار شے ہے جس کے اخراجات اس میں شامل کرنا رولز کی خلاف ورزی ہے ۔اس پر آفس سپرنٹنڈنٹ نے مجھ سے تحریری ہدایت طلب کی۔میں نے لکھا کہ اگر جاندار غیر جان دار کا مسئلہ ہے تو ESTABLISHMENTیعنی عملے کی مد میں ڈال دو۔بل دوبارہ خزانے کو بھیجا گیا اور تھوڑے دنوں میں لوٹ آیا اور اس بار طویل مراسلے میں یہ استفسارات تھے کہ اگر یہ خرچ عملہ کی مدد میں جائے گا تو واضح کیا جائے کہ اس رقم کو تنخواہ تصور کیا جائے گا یا کہ الائونس ۔ اگر تنخواہ ہے تو بھی قاعدہ ضابطہ نمبر فلاں فلاں، دفتر کی پیشگی منظوری درکار ہے اور اگر یہ الائونس ہے تو بموجب رول اینڈ ریگولیشن فلاں فلاں متعلقہ افسر سے اس کی تصدیق لازمی ہے چنانچہ یہ فائل چھ مہینے سے چل رہی ہے اور اس میں ایسے ایسے باریک انتظامی قانونی نکتے بیان ہوئے ہیں جن کاتصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔‘‘یہ ہے گورننس اور قواعدوضوابط کا احترام جبکہ ’’آزادی‘‘ کے بعد کی مادر پدر آزادی میں تو قدم قدم پر ’’انہی ‘‘(اندھی) پڑی ہوئے ہے ۔حلوائی کی دکان پر نانا دادا سب کی فاتحہ، سکھا شاہی، واہی تباہی کا ناتمام سلسلہ ہے جس کا سب سے بڑا موجد نواز شریف جس نے رولز ریلیکس کرنے کی بدعت عام کی اور اپنا ووٹ بینک بنانے کیلئے 60،60سال کے بابوں کو پٹواری اور ʼʼWANTEDʼʼقسم کے جرائم پیشہ لوگوں کو پولیس میں بھرتی کیا۔پبلک پارکس ،چمچوں کو دان کئےکواپریٹوز کے ساتھ کھلواڑ کیا اور نوبت یہاں تک آپہنچی کہ آج وکیل وزیر یہ کہتا ہے کہ اگر وزیر اعظم IGپولیس بھی نہیں بدل سکتا تو الیکشن کی کیا ضرورت تھی؟وزیر اعظم کا قصور نہیں یہ ’’کٹلری بوکس‘‘ کا کام تھا کہ کوئی اسے بتاتا ’’پرائم منسٹر صاحب !آپ آئی جی کو تبدیل تو کر سکتے ہیں لیکن فون پر نہیں کہ اس کا ایک پراسیس پروسیجر اور طریق کار ہے ‘‘ لیکن آلات خورونوش ایسا رسک نہیں لیتے، یہ انسانوں کا کام ہے !

کیا منظر تھا ، زرداری صاحب اور شہباز شریف کا معانقہ بھرا مصافحہ کرنا، ایک دوسرے کو ضرورت بھرے پیار سے دیکھ دیکھ مسکرانا، پہلے آپ ،نہیں پہلے آپ کہہ کر اسمبلی ہال میں قدم رنجہ فرمانا ،مل بیٹھنے ، رابطے رکھنے کے عہدوپیماں کرنا۔ وقت بھی کیا ظالم شے ہے ، کل شہباز شریف جسے چوکوں ،چوراہوں میں لٹکانا چاہتے تھے ، جو چا لیس چوروں کا علی بابا تھا ، جسکا پیٹ چیرنا تھا ، جسے لاہور، لاڑکانہ کی سڑکوں پر گھسیٹنا تھا ، جسکے بار ے میں فرمایا کرتے ’’غیروں کے سامنے جھکنے والے زرداری تم نے تو ملک کا حشر نشر کر دیا ،بھکاری بنا دیا‘‘، وقت بدلا،مطلب پڑاتو اسی زرداری صاحب سے جپھی مارنے میں ایک سیکنڈ نہ لگایا ، زرداری صاحب کی سن لیں، کل تک ’شریفوں ‘ کا اصلی والا احتساب چاہتے تھے ،وہ مغل بادشاہ مطلب نواز شریف کی گرفتاری چاہتے تھے ، فرمایا کرتے ’’ میاں صاحب نے پاکستان کی جڑیں کاٹ دیں، وہ تو ’گریٹر پنجاب ‘ بنانے کے چکر میں ‘‘،منی لانڈرنگ کا گھیرا تنگ ہوا تو کل تک ’شریفوں‘ کو پکڑائی نہ دینے والے زرداری صاحب شہباز شریف کا ہاتھ پکڑے کھڑے ملے ، بھول گئے کہ نواز شریف کو دھرتی کا ناسور کہہ چکے ،مُک گیا تیرا شو نواز،گو نواز گو نوازکے نعرے مارچکے ، بھول گئے کہ جب نواز شریف ملنے کی درخواستیں کررہے تھے تو انکا جواب ہوتا ’’مومن ایک سوراخ سے بار بار نہیں ڈسا جاتا‘‘ وقت بھی کیا ظالم شے ہے،آج مومن پھر ڈسے جانے کی خواہش میں تڑپ رہا اور بلاول جس قاتل اعلیٰ سے ماڈل ٹاؤن قتلوں ،کمیشنوں ،کرپشنوں کا حساب لینا تھا ، کے پاپا اسی سے تجدید ِمحبت فرما رہے ۔

جب بھی سوچوں یہ کل جھوٹ بول رہے تھے یا آج اداکاریاں کر رہے ، یہ کل سچے تھے یا آج جھوٹے ،یہ کل صراطِ مستقیم پر تھے یاآج بھٹک گئے اوریہ کل دھوکے دے رہے تھے یا آج فراڈ کر رہے تو لگے یہی کہ کل بھی ہیراپھیریاں اور آج بھی گھمن گھیریاں ، کیونکہ یہ سب جماندرو سیانے ،ا ن کا بولنا، ان کی خاموشی ، ان کی تردیدیں ، انکی تصدیقیں ، ان کے دعوے ،انکے وعدے، انکی معصومیت ،انکی مظلومیت ،انکا ملنا، مل کر بچھڑنا ، بچھڑ کر ملنا،سب کچھ منصوبہ بندی سے ، سب کچھ اپنے فائدے کیلئے ،کل جب زرداری صاحب نے’ اینٹ سے اینٹ‘ بجانے والی تقریر فرمائی تو نواز شریف نے نہ صرف اگلی صبح طے شدہ ناشتہ میٹنگ کینسل کردی بلکہ پلٹ کرخبر ہی نہ لی کیوں ، اس لئے کہ تب نواز شریف کا اسی میں فائدہ تھا، جب میاں صاحب پاناما میں پھنسے تو زرداری صاحب نے خواجہ آصف کا فون سننا بھی گوارہ نہ کیاکیوں ،اس لئے کہ تب زرداری صاحب کا اسی میں فائدہ تھا، دھرنوں کے دورا ن دونوں اکٹھے تھے کیوں ،اس لئے کہ تب اسی میں دونوں کا فائد ہ تھا، یا د آیا برے وقتوں میں جس خواجہ آصف کا زرداری صاحب نے ایک فون بھی نہ سنا، اسی خواجہ آصف نے وصیت کے زور پر پارٹی چیئرمینی لے چکے زرداری صاحب کی تب مدد کی جب وہ وزارت عظمیٰ کی دوڑ سے امین فہیم کو آؤٹ کرنا چاہ رہے تھے ،پھر خواجہ آصف نے کیسے نواز شریف کی مرضی سے امین فہیم کے خلاف یہ بیان دے کر کہ ’’ ان کے تو اسٹیبلشمنٹ سے درپردہ تعلقات ہیں ‘‘ مخدوم صاحب کا پتا صاف کیا ،یہ سب ،سب کومعلوم ۔

آج چونکہ نواز شریف کو اوپر تلے 3ریفرنسز کا سامنا، شہباز شریف آشیانہ اور56کمپنیوں کے رُولوں میں اورزرداری صاحب، بہن اور چہیتوں سمیت منی لانڈرنگ دلدل میں،لہٰذا آج پھر فاصلے سمٹ رہے کیوں ،اس لئےکہ اسی میں ان کا فائدہ ، اس بار’ میلاپ گاڑی ‘کے ڈرائیور مولانافضل الرحمٰن ، وہ ڈرائیونگ سیٹ پر کیوں، اس لیے کہ اسی میں ان کا فائدہ ،ا س طرح تو ہوتا ہے ،اس طرح کے کاموں میں ،نواز شریف اقتدار میں تھے تو ڈان لیکس غلط ،اقتدار سے نکلے تو ڈان لیکس ٹھیک کیوں ،اس لئے کہ اسی میں ان کا فائدہ ،نواز شریف وزیراعظم تھے تو ’عمران دھرنوں‘ کے پیچھے کوئی خفیہ ہاتھ نہ تھا ،وزارت عظمیٰ گئی تو دھرنوں کے پیچھے خفیہ ہاتھ نظر آگیا کیوں، اس لئےکہ اسی میں ان کا فائدہ ،اقتدار میں تھے تو پرویز مشرف کو جانے دیا ،اقتدار سے نکلے تو مشرف کو واپس لانے کی صدائیں دینے لگے کیوں ،اس لئےکہ اسی میں ان کا فائدہ ، جلا وطن تھے تومیثاقِ جمہوریت کی جپھیاں، وطن واپسی ہوئی تو میثاقِ جمہوریت ہَوا ہوئی کیوں، اس لئےکہ اسی میں ان کا فائدہ ،حدیبیہ فیصلہ کرنے والی سپریم کورٹ کما ل کی ، نااہل کرنے والی سپریم کورٹ بغض وعناد سے بھری ہوئی کیوں ، اس لئے کہ اسی میں ان کا فائدہ ۔

شہباز شریف کی بات کر لیں ، راتوں کو مفاہمتیں ،دن کے اجالوں میں حبیب جالبیاں ،اس لئے کہ اسی میں ان کا فائدہ ، ریلی لاہور ائیرپورٹ نہ پہنچے ، فلائٹ اسلام آباد نہ آپائے ، مشکل وقت میں کمر درد نکل آئے کیوں ،اس لئے کہ اسی میں ان کا فائدہ ،زرداری صاحب تو کمال ہی کر چکے، رائے ونڈ جاکر پچاس کھانے کھا لیں یانواز شریف کو قومی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیدیں یابلاول سے نوازشریف کو مودی کا یار کہلو اکر،گلی گلی شور ہے ،نوا زشریف چور ہے کے نعرے لگوالیں ، بی بی کے قاتلوں کو جانتاہوں کہہ کر پھر 5سالہ صدارت میں قاتلوں کی بات نہ کریںکیوں ،اس لئے کہ اسی میں انکا فائدہ، ابھی انتخابات ہوئے ،پہلی اے پی سی ہوئی ،زرداری ،بلاول نہ تھے کیوں ،اس لئے کہ اسی میں ان کا فائدہ ،دوسری اے پی سی میں زرداری ،بلاول کیساتھ نواز،مریم بھی نہیں کیوں ،اس لئےکہ اس میں ان کا فائدہ ،سب نے کہا الیکشن جعلی ،اسمبلیاں نقلی ،سب کے سب اسی سیٹ اپ کا حصہ بن گئے کیوں ،اس لئےکہ اسی میں سب کا فائدہ ۔حال یہ کہ زرداری صاحب بول رہے لیکن خاموشی سے بہت کچھ کر بھی رہے ، نواز شریف بظاہر چپ لیکن اندر اندر بہت کچھ کہہ بھی رہے ، بتانے کا مقصد یہ کہ نواز شریف کی چپ ،زرداری صاحب کا بولنا ،مولانا کی بھاگ دوڑ، سب اپنے اپنے چکر ،سب اپنے اپنے ایجنڈے، سب اپنے اپنے مفادات ،کہیں کیسز ختم کرو، کہیں لاڈلوں کو کچھ نہ کہو ، کہیںمٹی پاؤ،ویسے آپس کی بات ہے جس طرح کا بھی ’ممی ڈیڈی‘ احتساب ہورہا ،قید میں گھر کے کھابے، رنگ برنگی ملاقاتیں ،صبح وشام کی واکیں اورمنڈیلا پن ،حالت یہ کہ شہباز شریف کو دیر سے لانے پر اپوزیشن واک آؤٹ کر جائے اور حکومت ترلے منتیں کرنے مطلب منانے پہنچ جائے، اس ’ممی ڈیڈی ‘ احتساب میں کچھ اگلوایا اور نہ نکلوایا جا سکے گا،اگر کوئی سنجیدہ ہے تو اگلوانے ،نکلوانے کے دوطریقے ،ایک چین کا ،دوسرا سعودی عرب کا ،خیر چھوڑیں ،ذرا یہ ملاحظہ کریں، مولانا، نواز شریف کو ’اے پی سی‘ میں شرکت کیلئے راضی کرنے گئے تو میاں صاحب بولے ’’میری اورمریم کی گرفتاری ‘ پر’ اے پی سی ‘تو کی نہیں ،اب کیوں ہور ہی ‘‘ یقین جانیے اس ایک فقرے میں گزشتہ تین دہائیوں کی سیاست کا نچوڑ ،مطلب مجھے بچایا جو میں اب بچاؤں ، مطلب مجھے بچاتے تو میں تمہیں بچاتا مطلب کل بھی سب کا سب کچھ اپنے اور اپنوں کیلئے، آج بھی سب کا سب کچھ اپنے اور اپنوں کیلئے ،پھر سے اپنا پرانا جملہ یا دآگیا کہ سب کا سب کچھ ’’حال بچاؤ،آل بچاؤ اور مال بچاؤ‘‘۔


کیا کیا بتایا جائے، ملک، ملکی ادارے، سب کچھ خسارے میں، شریفس سے زرداریز تک، بلاول سے حسن، حسین نواز، سلمان شہباز تک، سب سونے کی کانیں، انہیں چھوڑیں، انور مجید کو لے لیں، 2002ء میں پہلی شوگر مل لگائی، آج 2018ء میں 16شوگر ملیں، 19پاور جنریشن منصوبے اور 96کمپنیاں، 2006میں 25لاکھ قرضہ لینے کیلئے نیشنل بینک گئے، کاروباری ساکھ ایسی کہ سفارشوں کے باوجود قرضہ نہ ملا، آج 50ارب قرضہ لیا ہوا، 90ارب قرض لے کر واپس کر چکے، یہ علیحدہ کہانی کہ قرض لیا خود، واپس اوروں نے کیوں کیا، 2002میں پلّے نہ تھا دھیلا، آج صرف پاکستان میں اثاثے 110ارب کے، بیرون ملک جو وہ علیحدہ، کاروبار کس انوکھے طریقے سے ہو رہا، بظاہر شوگر ملیں نقصان میں لیکن capacityاگر 3ہزار ٹن چینی کی، ایکسپورٹ ہو رہی 10ہزار ٹن، کیوں اسلئے کہ فی کلو چینی پر 26روپے سبسڈی مل رہی، جس میں سے ساڑھے 9روپے وفاقی حکومت، باقی سندھ گورنمنٹ دے رہی، شوگر ملوں میں لگے پاور پلانٹس سے 2012-13ءتک 12سے 14 روپے فی یونٹ بجلی بیچی جا رہی تھی، نیپرا بنی تو کہا گیا 8روپے فی یونٹ بیچیں، یہ سندھ ہائیکورٹ چلے گئے، کیس ہار گئے، سپریم کورٹ جانے کے بجائے سندھ اسمبلی چلے گئے، قرارداد پاس ہوئی کہ 8روپے فی یونٹ ہی بجلی بیچیں گے، باقی 5چھ روپے فی یونٹ عوامی فلاح کی خاطر سندھ حکومت سبسڈی دے گی، یہ عوامی فلاح، سبحان اللہ۔

کیا کیا بتایا جائے، اب تک 42جعلی اکاؤنٹس سامنے آچکے، ان میں 47ارب آئے اور گئے، بے نامی اکاؤنٹس 107، ان میں 54جمع کروائے، نکلوائے گئے، کراچی کی بیوہ، لاڑکانہ، جھنگ کے طالبعلم، ریڑھی، رکشے والے، یہ جعلی اکاؤنٹس کہانیاں سب سن چکے، حلیم فروش، فالودے والے کے اکاؤنٹ سے اربوں نکلنے کے قصے بھی سب کو معلوم، پچھلے ماہ پتا چلا کہ 9مئی 2014ء کو فوت ہو کر کراچی کے سخی حسن قبرستان میں دفن اقبال آرائیں نے مرنے کے بعد سندھ بینک سمیت 3بینکوں میں 4ارب 60کروڑ کی ٹرانزیکشن کی، پوری دنیا میں یہ اعزاز سندھ کو کہ بندہ مر کر بھی بینکوں میں پیسے جمع کروا، نکلوا سکے، پاکستان کھپے...بلکہ مرُدوں کو ارب پتی کرتی ٹیکنالوجی کھپے، ابھی دو چار روز پہلے ٹنڈو محمد خان کے دھوبی طارق غوری کی کمپنی، ’اسٹیل آئرن‘ نکل آئی، خود دھوبی، کمپنی لوہے کی اور دھوبی نے ایک کروڑ 40لاکھ کا لوہا بھی خریدا، نوٹس ملا تو دھوبی چیخ اٹھا ’’میں 2سو روزانہ کمانے والا، 25ہزار قرض لے کر دکان بنائی، میرا بینک اکاؤنٹ نہ کمپنی‘‘ اس ننھے منے دھوبی کو کیا معلوم کہ چیف دھوبی اپنے گندے کپڑے دھو رہے، دو چار چھینٹے اس پر بھی آن پڑے۔

کیا کیا بتایا جائے، ایل این جی ٹرمینل کہانی بھی سن لیں، منصوبہ تھا 3ارب کا، راتوں رات ہوا 13ارب کا، پھر کراچی کے سیٹھ سے ٹرمینل معاہدہ کرتے ہوئے یہ سنہری شق بھی رکھ دی گئی کہ پیمنٹ ہو گی ڈالروں میں، مطلب معاہدہ پاکستانی حکومت اور پاکستانی کمپنی کے مابین، مگر ادائیگی ڈالروں میں، ٹرمینل استعمال ہو یا نہ ہو مگر 15سال تک 2لاکھ 72ہزار ڈالر روزانہ دینے اور پھر پوری دنیا میں ایسے منصوبوں پر شرح ریٹرن 18سے 20فیصد، اس معاہدے میں 44فیصد، ابھی معاہدے کو 4سال ہی ہوئے اور کراچی کا سیٹھ 35ارب کما چکا، یعنی منصوبے پر لگی لاگت سے ڈبل ٹرپل کمائے جا چکے اور ابھی 11سال باقی، آگے سنئے:یہ ٹرمینل استعمال ہو رہا تھا صرف 56فیصد، مطلب یہ ٹرمینل بھی مکمل استعمال نہیں ہو رہا تھا، فیصلہ ہوا دوسرا ٹرمینل لگانے کا اور یہاں لاہوری لاڈلے کو نوازا گیا، یہ معاہدہ بھی ڈالروں میں، 2لاکھ 40ہزار ڈالر روزانہ، 22فیصد منافع پر، اب جہاں حکومت کشکول لئے ایک ایک ڈالر مانگتی پھر رہی، وہاں ٹرمینلز استعمال ہوں یا نہ ہوں، حکومت کو روزانہ 5لاکھ ڈالر دینا پڑ رہے، یہ بھی سن لیں کہ دوسرا ٹرمینل جسے دیا گیا وہ کئی مقدموں میں نیب کا ملزم، نیب سے پلی بارگین بھی کر چکا اور بینکوں کا نادہندہ بھی۔ کیا کیا بتایا جائے، نواز دور، چیئرمین ایف بی آر طارق باجوہ نے ایک سمری کابینہ کو بھجوائی کہ میرے مصدقہ ذرائع کے مطابق ہمارے 2سو ارب ڈالر سوئس بینکوں میں پڑے ہوئے، اسحاق ڈار نے یہ بات اسمبلی میں کر دی، ملک میں بھونچال آگیا، وفاقی کابینہ نے منظوری دی کہ جاؤ سوئس حکام سے بات کرو، اشفاق احمد خان کی سربراہی میں 3رکنی وفد بنا، یہ جنیوا پہنچا، مذاکرات ہوئے، سوئس حکام نے رضا مندی ظاہر کردی کہ وہ پاکستان کے ساتھ معاہدہ کرنے کو تیار، مطلب تمام پاکستانیوں کے نام، بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات دیں گے، معاہدے کے بدلے سوئس حکام نے کہا کہ ہمیں موسٹ فیورٹ نیشن کا درجہ دیدیں اور جو سوئس کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہیں انکے منافع پر 10کے بجائے 5فیصد ٹیکس لگا دیا جائے، تب سوئس کمپنیوں کی پاکستان میں سرمایہ کاری دو، ڈھائی ملین ڈالر تھی، مطلب ایک ڈیڑھ لاکھ ڈالر ٹیکس رعایت دینا تھی، بدلے میں سوئس حکومت نے ہمیں 2سو ارب ڈالر کی معلومات دینا تھیں، وفد خوشی خوشی واپس آیا، مگر حیرت انگیز طور پر طارق باجوہ نے نہ صرف ٹیکس رعایت کو بنیاد بنا کر فرمادیا کہ یہ معاہدہ منظور نہیں بلکہ چند دنوں بعد الٹا وفد کے تینوں اراکین کو شوکاز نوٹسز دیکر کھڈے لائن لگا دیا۔ آگے سنئے:نواز حکومت کے ایف بی آر چیئرمین طارق باجوہ جو آج گورنر اسٹیٹ بینک، اب اسد عمر سے کہہ چکے کہ ’’کوئی 2سو ارب ڈالر نہیں پڑے ہوئے سوئٹزر لینڈ میں، بس اس وقت مجھ سے غلطی ہو گئی تھی، اندازہ لگائیں چیئرمین ایف بی آر ایک حکومت سے کہے کہ ہمارے 2سو ارب ڈالر پڑے ہوئے سوئٹزر لینڈ میں، دوسری حکومت سے کہہ دے ’’غلطی ہو گئی، وہاں پیسے نہیں پڑے ہوئے‘‘ اور موصوف کل بھی مزے میں، آج بھی موجیں کر رہے، کیا قسمت پائی طارق باجوہ نے، پچھلی حکومت خوش، موجودہ حکومت خوش اور وہ کرپٹ مافیا جنہوں نے وہاں پیسے رکھے ہوئے وہ بھی خوش، ہے نا فلمی بلکہ ویری فلمی کہانی۔

کیا کیا بتایاجائے، ن لیگ کو آج بھی دکھ کہ گاڈ فادر، سسلین مافیا کیوں کہا گیا مگر ’ڈیلی میل‘ نواز شریف کو ’پینٹ ہاؤس بحری قذاق‘ کہہ چکا، کسی کو کوئی اعتراض نہیں، عمران خان الزام لگا دے تو شہباز شریف 10ارب ہرجانے کا نوٹس بھجوا دیں مگر ’وال اسٹریٹ جنرل‘ کمیشن، کک بیکس کا الزام لگا دے تو لمبی چپ، کیا کیا بتایا جائے، دبئی میں 2583پاکستانیوں کی جائیدادوں کا ریکارڈ بتائے کہ علیمہ خان سے فریال تالپور تک سب ایک ہی صف میں کھڑے ہوئے، فرق صرف اتنا عمران خان کی بہن کی جائیداد اپنے نام پر جبکہ فریال تالپور کی دبئی جائیدادیں گھریلو ملازمین کے ناموں پر، کیا کیا بتایا جائے، نواز شریف سے سوال ہو، آصف زرداری سے کچھ پوچھ لیا جائے، کسی کا کوئی طوطا پکڑا جائے، خطرے میں پڑ جائے جمہوریت، یعنی جمہوری چوغے پہن کر چوری کرو، ڈاکے مارو، دھوکے، فراڈ کرو، کوئی بات نہیں، کوئی پروا نہیں، سب جائز، بلکہ الٹا نیب کو ڈانٹو، اسٹیبلشمنٹ کو اِن ڈائریکٹ دھمکیاں دو، حکومت پر چڑھ دوڑو، کیا کیا بتایا جائے، قصہ مختصر اور ہزار باتوں کی ایک بات، ہمارا قومی کھیل موقع ملے تو جی بھر کے لُٹّو، کڑا وقت آئے تو ڈیل فرما کر پھٹو، آج پھر دو چار گھاگ کھلاڑی وہی کھیل کھیلنے کے چکر میں، مطلب لُٹنے والے پھر سے پھٹنے کے چکر میں، جاگدے رہنا۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

You can find here amar jaleel columns, amar jaleel, amar jaleel latest columns, Haroon ur Rasheed Columns, Nusrat Javed Columns, Ajmal Niazi Urdu Columns, javed chaudhry, Javed Chaudhry Columns, irshad bhatti, sohail warraich, Sohail Warraich, Sohail Warraich  Columns, Ayaz Ameer Urdu Columns Today, Ayaz Ameer Columns, Ayaz Ameer,rauf klasra, rauf klasra columns, jang columns, hassan nisar, hassan nisar columns, orya maqbool jan columns, orya maqbool jan, Mazhar Barlas Urdu Columns Today,  Mazhar Barlas Latest Columns etc.

گو کہ چیف جسٹس نوٹس لے چکے ،سنا ہے کہ نیب بھی معذرت کر چکامگر جو تماشا بننا تھا وہ بن چکا ،سفید پوشوں کی سفید پوشی خا ک میں مل چکی ۔
الزام کسی پر بھی لگے ،تفتیش ہونی چاہئے ، قصور وار کوئی بھی ہو ،سزا ملنی چاہئے ، مگر صرف الزام پر ہتھکڑیاں ،وہ بھی استادوں کو ، سراسر ظلم ،پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر مجاہد کامران اور 5سابق رجسٹرار پر الزام 550غیر قانونی بھرتیوں کا ، خلافِ ضابطہ ٹھیکوں کا، من پسند طلباء کو وظائف دینے کا اور یہ کہ وی سی صاحب نے اپنی دوسری بیگم شازیہ قریشی کو غیر قانونی طور پر یونیورسٹی لاء کالج کا پرنسپل بنادیا ،اسی طرح نیب نے سرگودھا یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اکرم چوہدری، سابق رجسٹرار بریگیڈیئر راؤ جمیل اصغر سمیت اہم عہدیداروں کو گرفتار کیا ، ان پر الزام لاہور ،منڈی بہاؤ الدین سمیت 5غیر قانونی سب کیمپسز کا قیام ، مالی خورد برد اور رشوت کا، اب یہ ذکرکیا کرنا کہ مجاہد کامران کی تعلیمی خدمات کیا، یہ بات کیا کرنی کہ ڈاکٹر اکرم چوہدری کیا تعلیمی انقلاب برپا کر چکے کیونکہ جہاں ڈاکٹر عبدالسلام جیسے لوگ ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیئے جائیں،جہاں ڈاکٹر اے کیوخان جیسوں سے ٹیلی ویژن پر معافیاں منگوالی جائیں اور جہاں ثمر مبارک مند جیسے سائنسدان انکوائریاں بھگت رہے ہوں ،وہاں مجاہد کامران یا ڈاکٹر اکرم چوہدری جیسوں کی تعلیمی خدمات کی کیا حیثیت ، یہ ناشکروں کی بستی ، یہ محسن کش معاشرہ ، یہ سورج مکھی قوم کا دیس ، یہاں عالم ،لکھاری ،استاد، فالتو ،بے معنی ،کمی کمین،یہاں تعلیم ،تحقیق کی کوئی اہمیت ،حیثیت نہیں لہٰذا ان کی تعلیمی خدمات گنوانے میں کیا وقت ضائع کرنا ،اگر ان چیزوں کی کوئی وقعت ہوتی تو دادے کی عمر وں والے 2نسلوں کے معلّمین کو ہتھکڑیاں نہ لگائی جاتیں، جو چلنے سے قاصر ،انہوں نے بھلا کہاں بھاگ جانا تھا۔
ویسے تو 29اکتوبر 2015کو بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خواجہ علقمہ کو بھی ہتھکڑی لگائی گئی ،یہ علیحدہ بات کہ ڈھائی تین سال کی مقدمہ بازی کے بعد کچھ نہ نکلا ، ویسے تو چند دن پہلے مردان یونیورسٹی کے پروفیسر کو بھی ہتھکڑیوں میں دیکھا، الزام ریکارڈ جلانے کا، یہ علیحدہ بات کہ یہاں کتنے بڑے جوا پنے کرتوتوں کا ریکارڈ جلا چکے ، کیا کسی ایک کو بھی نیب ہتھکڑی لگا سکا اور پھر مجاہد کامران،ڈاکٹر اکرم چوہدری سے سنگین الزامات تو ڈاکٹر عاصم پر ، کیا کبھی نیب نے انہیں ہتھکڑی لگائی ، بلکہ یہ تو ٹہلتے آتے، ٹہلتے جاتے، الزامات کے بعد ہائیر ایجوکیشن کے چیئر مین بنے، انہیں یہ سہولت بھی ملی کہ وکیل کے ہمراہ عدالت سے سیدھے غیر ملکی سفارتخانے جاکر اپنی جائیدادکینیڈین نیشنل بیٹے کے نام منتقل کردی اور ان کا نام تو خصوصی طور پر ای سی ایل سے ہٹا کر باہر علاج کی اجازت دی گئی، حالانکہ کراچی میں ان کا اپنا جدید اسپتال، مجاہد کامران او ر ڈاکٹر اکرم چوہدری سے بڑے الزامات تو شرجیل میمن پر، کبھی یہ نیب کی ہتھکڑیوں میں نظر آئے ، انہیں تو اسیری میں بھی خالص شہد سے زیتون کے تیل تک سب کچھ میسر،پرفارمنس ایوارڈ الگ سے مل چکا اور قید کے دوران ہی پھر سے سندھ اسمبلی کے ممبر بھی بن چکے ۔

مجاہد کامران ،ڈاکٹر اکرم چوہدری سے بڑے الزامات تو نواز شریف پر ، کبھی نیب نے انہیں ہتھکڑی لگائی بلکہ ایون فیلڈ ریفرنس تو نیب کی تاریخ کا وہ واحد کیس جس میں نیب نواز شریف ،مریم اور کیپٹن صفدر سے ایک سوال بھی نہ پوچھ سکا ،یعنی نہ تفتیش،نہ انکوائری، حالانکہ سپریم کورٹ کے حکم پر نیب نے نوٹسزجاری کئے ، نیب ٹیم اسلام آباد سے لاہور گئی ،دو دن وہاں بیٹھی انتظار بھی کرتی رہی ، لیکن نواز شریف ،مریم نواز، کیپٹن صفدر کوئی ایک بھی پیش نہ ہوا اور بالآخر نیب ٹیم منہ لٹکائے واپس آگئی ،اس وقت نیب کے کسی بڑے کو یہ جرأت نہ ہوئی کہ اس حکم عدولی پر کسی افسر کو ہتھکڑیاں دے کر رائے و نڈ بھجوا دیتے ۔

آگے سنیے ،آصف زرداری ودیگر کیخلاف منی لانڈرنگ انکوائری کے دوران 4سال ایف آئی اے یانیب کسی کو ہمت نہ ہوئی کہ وہ زرداری صاحب کو طلب ہی کر لیں ،یہ توبھلا ہو چیف جسٹس کا جنہوں نے نوٹس لیاتو بات آگے بڑھی ،جہانگیر ترین نے گھر کے نوکروں کے نام پر کروڑوں کی ’ان سائیڈ ٹریڈنگ ‘ کا فراڈ کیا، پکڑے گئے ،چپکے سے معاملہ سیٹل کر دیا ،ہتھکڑی لگی نہ گرفتاری حالانکہ اس جرم میں 14سال سزا ہو سکتی تھی ، این آئی سی ایل کے 5ارب اسکینڈل کے کسی ملزم کو ہتھکڑی نہ لگی ،یوسف رضا گیلانی کے بچوں کا 25کروڑ والا حج گھپلاہو یا سات سے 21ارب کا ایفی ڈرین اسکینڈل کسی کو ہتھکڑی نہ لگی ، رینٹل پاور پلانٹس والے راجہ پرویز اشرف ہوں یا ایل این جی والے شاہد خاقان عباسی یا نیب میں پڑے سو ا سومیگا کرپشن اسکینڈلز ، کسی کو نیب ہتھکڑی نہ لگاسکا اور چھوڑیں یہی نیب جس نے اثاثہ اسکینڈل میں اسحق ڈار کا جعلی سرٹیفکیٹ قبول کرلیا ، دبئی کے شیخ کے ذاتی لیٹر پیڈ پر لکھا ملے کہ ’’ اسحق ڈار میرا ملازم ، ایک ارب تنخواہ میں نے دی ‘‘ نہ بینک اسٹیٹمنٹ نہ بینک ٹرانزیکشن اور نہ رسید مگر نیب نے اس جعلی پن پربھی اُف تک نہ کی۔

کیا کہوں ، یہ گلا،سٹرا ،بدبودار نظا م ہی ایسا کہ حسین حقانی، پرویز مشرف، ڈار،حسن، حسین کو واپس لایا نہ جا سکے ، اگر کوئی بینک آف پنجاب کے ہمیش خان جیسا ہتھے چڑھ جائے تو اس سے کچھ نکلوایا نہ جا سکے ، مشتاق رئیسانی کے گھر سے پونا ارب برآمد کر کے بھی ڈیل ہو جائے ، مجید اچکزئی دن دیہاڑے ٹریفک وارڈن کو کچل کر ضمانت کروا لے ، راؤ انوارہو یاعابد باکسر ،ہتھکڑیاں ہاتھوں میں ہی رہ جائیں،کیا کہوں یہاں ہر نتھو خیرا حبیب جالب کی شاعر ی سے محفلیں گرماتا ملے لیکن ڈھائی مرلے کے مکان میں رہنے والی حبیب جالب کی ٹیکسی چلا تی بیٹی اپیلیں کر کر تھک جائے کہ’’ بجلی چوروں کی وجہ سے میرا بجلی کا بل بہت زیادہ ، قسطیں بھی نہ دے سکوں ،مدد کی جائے ،لیکن طاہر ہ جالب کی کوئی شنوائی نہ ہو ،کیا کہوں اب تو بے ایمانی،دونمبری کا لیول اتنا گر گیا کہ پنجاب حکومت کے کاغذوں میں وارث شاہ کے مزار پرایک چند ہ باکس ،مگر مزار پر پڑے دو،مطلب ایک چندہ بکس کے پیسے باہر باہر سے ہی غائب اورجن فنکاروں، معذروں کو سالہا سال سے وظیفہ مل رہا تھا ، چیک کیا گیا تو پتا چلا کہ ایک تہائی تعدا د فرضی ،مطلب معذوروں کے نام پر وظیفے لے کر کھائے جارہے تھے ،کیا کہوں ایک طرف زرداری صاحب فرما رہے کہ ’’نیب کی کیا جرأت کہ وہ مجھے ہاتھ لگائے ‘‘ دوسری طرف محض الزام پرمجاہد کامران اور اکرم چوہدری جیسے اساتذہ نیب ہتھکڑیوں میں ، گو کہ اب چیف جسٹس نوٹس لے چکے ،سنا ہے کہ نیب بھی معذرت کر چکا،لیکن جو تماشا بننا تھا وہ بن چکا اورسفید پوشوں کی سفید پوشی خاک میں مل چکی ۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

irshad bhatti, irshad bhatti columns today, irshad bhatti columns today, irshad bhatti best columns, irshad bhatti columns 2018, You can find here amar jaleel columns, amar jaleel, amar jaleel latest columns, Haroon ur Rasheed Columns, Nusrat Javed Columns, Ajmal Niazi Urdu Columns, javed chaudhry, Javed Chaudhry Columns, irshad bhatti, sohail warraich, Sohail Warraich, Sohail Warraich  Columns, Ayaz Ameer Urdu Columns Today, Ayaz Ameer Columns, Ayaz Ameer,rauf klasra, rauf klasra columns, jang columns, hassan nisar, hassan nisar columns, orya maqbool jan columns, orya maqbool jan, Mazhar Barlas Urdu Columns Today,  Mazhar Barlas Latest Columns etc.

آصف زرداری صاحب نے دنیا جہان سے نرالی منطق پیش کی ہے اور وہ بھی چیئرمین ’’نیب‘‘ کے حوالے سے لیکن اس طرف بعد میں آئیں گے پہلے پی ٹی آئی کے ان وزراء بارے بات ہو جائے جن کی کرپشن کے بارے میں ابتدائی رپورٹس وزیر اعظم عمران خان کو موصول ہو چکی ہیں۔ ایک اخباری خبر بلکہ شہ شرخی کے مطابق تین وزراء کی کرپشن کا انکشاف ہوا ہے جس پر ’’صاف چلی شفاف چلی‘‘ کے چیئرمین کا وہی ردعمل سامنے آیا جو آنا چاہئے تھا۔خبر کے مطابق گزشتہ جمعرات کو کابینہ اجلاس کے دوران تمام سرکاری افسران کو کمرے سے نکالنے کے بعد اپنے وزراء کو مخاطب کرتے ہوئے جن میں وزرائے مملکت، معاونین خصوصی اور مشیر بھی موجود تھے، عمران خان نے کہا کہ تین وزراء کی کرپشن کے بارے میں ابتدائی رپورٹس موصول ہو چکی ہیں جن پر تحقیقات کا حکم دیدیا گیا ہے اور الزامات ثابت ہونے پر ان کرپٹ وزراء کو برطرف کر دیا جائے گا۔ عمران خان نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ کرپشن کے خلاف اپنی 22سالہ جدوجہد پر کوئی کومپرو مائز نہیں کرے گا۔ عمران کے اس انکشاف اور اعلان پر کابینہ کے شرکا سکتے میں آ گئے۔یہ تو ہونا ہی تھا کیونکہ کرپشن ہمارے کلچر کا اٹوٹ انگ اور ہمارے ریشوں، رگوں اور خون میں شامل ہو چکی جس کا کریڈٹ دو سیاسی خاندانوں کو جاتا ہے جنہوں نے کرپشن کو ’’وے آف لائف‘‘میں تبدیل کر دیا۔ فاروق گیلانی مرحوم بہت پیارا دوست اور ان دنوں جائنٹ سیکرٹری فنانس تھا جب ایک روز باتوں باتوں میں اس نے میرے ایک سوال کے جواب میں یہ تاریخی جملہ بولا’’یار حسن نثار! اس ملک کی معیشت اس کے سوا کچھ بھی نہیں کہ ہر آدمی کا ہاتھ کسی دوسرے آدمی کی جیب میں ہے۔‘‘ ہم سب بخوبی جانتے ہیں کہ صورتحال سچ مچ ایسی ہی ہے سو ایسے ماحول میں اگر پی ٹی آئی کے تین صرف تین وزراء کی کرپشن ثابت ہو بھی جائے تو حیرت کیسی؟ تین کیا نو بھی ہوتے تو میرے نزدیک یہ کوئی خبر نہیں اصل خبر یہ ہے کہ دو مہینوں کے اندر اندر ان کی نشاندہی ہو گئی، وارننگ بھی مل گئی اور انہیں خوشخبری بھی سنا دی گئی کہ الزامات ثابت ہو گئے تو برطرف بھی کر دیئے جائیں گے۔ میرے نزدیک یہی وہ ’’تبدیلی‘‘ ہے جسے میں مختلف مثالوں کے ساتھ سمجھاتا رہا کہ بھول جائو عمران کے گرد کون کرپٹ ہے، اصل بات یہ کہ کوئی کرپٹ زیادہ دیر نہ بچ سکے گا نہ رہ سکے گا۔ چند کرپٹوں کو عبرت کا نشان بنا کر کوڑے دان میں پھینک دیا گیا تو باقی سب کی سلوٹیں بھی استری ہو جائیں گی اور یہی لیڈر شپ کا کمال ہے۔ چند روز پہلے زلزلہ آیا، وزراء باہر بھاگے، عمران بیٹھا رہا تو بھاگنے والوں کو بھی شرمو شرمی واپس آنا پڑا۔ اسی طرح بددیانتوں کو بھی بتدریج دیانت کی طرف واپس آنا پڑے گا کہ انسان پیدائشی طور پر گنہگار نہیں ہوتے، حالات، ماحول، تربیت اور صحبت اسے گنہگار بنا دیتے ہیں۔ اچھوں کو اچھا کیا کرنا، لیڈر شپ کا اصل چیلنج ہی یہ ہے کہ جو جتنا برا ہو، اسے اتنا ہی اچھا کر دے۔ خیر الدین بار بروسا بحری قذاق تھا جسے سلمان عالیشان جیسے حکمران نے اسلامی تاریخ کا سب سے بڑا امیر البحر بنا دیا۔اب چلتے ہیں آصف زرداری صاحب کی طرف جن کے تازہ ترین ارشادات، تضادات کا شاہکار ہیں۔ زرداری صاحب نے چیئرمین ’’نیب‘‘ جسٹس (ر) جاوید اقبال کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ’’چیئرمین نیب‘‘ خود برے نہیں، ان کی سوچ اور طور طریقے برے ہیں، کرسی پر بیٹھ کر سوچ بدل جاتی ہے۔ ‘‘ سبحان اللہ کیا منطق ہے۔ بندہ پوچھے بھائی انسان تو اچھا برا ہوتا ہی اپنے طور طریقوں اور سوچ کے باعث ہے، ورنہ کس کے تین بازو یا چار ٹانگیں ہوتی ہیں؟ کون ہے جس کی تیسری آنکھ گردن کے پیچھے جڑی ہوتی ہے یا رگوں میں خون کے علاوہ کچھ اور دوڑتا ہے؟ کوئی ہے جسے بھوک پیاس نہ لگتی ہو اور وہ پیروں کی بجائے ہاتھوں پر چلتا ہو؟انسان کی سوچ، کرتوت، طور طریقے، اعمال ہی تو اچھے برے ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر اس کے اچھے یا برے ہونے کا تعین کیا جاتا ہے۔ سو یہ منطق تو میرے خالی سر کے اوپر سے گزر گئی ہے کہ ’’چیئرمین نیب‘‘ خود تو برے نہیں، ان کی سوچ اور طور طریقے برے ہیں۔ ‘‘اور چیئرمین ’’نیب‘‘ کی سوچ کیا ہے؟ سوائے اس خواب کے کہ اس ملک کو اس کے موذی اور مہلک ترین مرض کرپشن سے نجات مل جائےاور طور طریقے کیا ہیں؟وہی جو ’’کتاب‘‘ میں لکھے ہیں اور یہ ’’کتاب‘‘ چیئرمین ’’نیب‘‘ نے خود نہیں لکھی اور نہ وہ خود گن پوائنٹ پر اس کرسی پر قابض ہوئے جس کے بارے زرداری صاحب کہتے ہیں ’’کرسی پر بیٹھ کر سوچ بدل جاتی ہے۔‘‘لیکن ہمارا تو معاشرہ ہی الٹا اور عجیب ہے جس میں منشا بم صاحب بھی کہتے ہیں کہ انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور سابق وزیر اعظم بھی سرعام کہتا ہے کہ میرے اثاثے میری آمدنی سے زیادہ ہیں تو کسی کو کیا تکلیف ہے؟

You can find here amar jaleel columns, amar jaleel, amar jaleel latest columns,  Haroon ur Rasheed Columns, Nusrat Javed Columns, Ajmal Niazi Urdu Columns,  javed chaudhry, Javed Chaudhry Columns, irshad bhatti, sohail warraich, Sohail  Warraich, Sohail Warraich  Columns, Ayaz Ameer Urdu Columns Today, Ayaz Ameer  Columns, Ayaz Ameer,rauf klasra, rauf klasra columns, jang columns, hassan  nisar, hassan nisar columns, orya maqbool jan columns, orya maqbool jan, Mazhar  Barlas Urdu Columns Today,  Mazhar Barlas Latest Columns etc.

hassan nisar columns today,  hassan nisar columns, hassan nisar columns 2018, hassan nisar best columns,



پچھلے ہفتہ ایک افسوس ناک واقعے نے پڑھے لکھے پاکستان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ تعلیم یافتہ لوگوں کے سر شرم سے جھک گئے تھے۔ پنجاب یونیورسٹی کے ریٹائرڈ وائس چانسلر کو ہتھکڑیاں لگا کر نیب کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ المناک واقعہ میڈیا نے وائرل کردیا۔ اس کے بعد کیا کچھ ہوا، ملک کے کونے کونے سے کس قسم کا ردّعمل سامنے آیا، آپ سب اس سے واقف ہیں۔ یہ کمال میڈیا کی کوریج کا تھا۔ مگر اسی نوعیت کا ایک دل خراش واقعہ میڈیا کی کوریج سے رہ گیا تھا۔ اس بات کو تین برس گزر چکے ہیں۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ کیا ہوا تھا۔

آج سے تین برس پہلے ہزارہ یونیورسٹی اور عبدالولی خان یونیورسٹیز کے ریٹائرڈ وائس چانسلرز اور چار ریٹائرڈ پروفیسرز کو پوچھ گچھ کے لیے نیب پشاور بلایا گیا تھا۔ سب عمر رسیدہ تھے۔ ستّر، اسّی برس کی عمر کے لگ بھگ تھے۔ کچھ نحیف تھے۔ کچھ بیمار تھے۔ معاملہ تھا ایک میڈیکل کالج کے الحاق کا۔ طلبہ سے فیس وصول کرنے، امتحان لینے اور ایم بی بی ایس کی ڈگری عطا کرنے کا۔ منی لانڈرنگ کا کیس نہیں تھا۔ دونوں ریٹائرڈ وائس چانسلرز اور ریٹائرڈ پروفیسرز کو نیب نے وہیں کے وہیں گرفتاری کا حکم سنا دیا۔ دونوں وائس چانسلرز اور پروفیسرز دنیا کی اعلیٰ یونیورسٹیوں کے پی ایچ ڈی تھے۔ اعلیٰ تعلیم و تربیت کے محقق تھے۔ دنیا بھر کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں لیکچر دیتے، سیمینار اور کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے تھے مگر نیب نے انہیں گرفتار کر کے ایک بدنما کوٹھڑی میں بند کر دیا۔ وائس چانسلر اور پروفیسر پشاور شہر کے رہنے والے نہیں تھے۔ وہ پختون خوا کے مختلف شہروں سے نیب کی طرف سے بلانے پر پشاور آئے تھے۔ وہ اپنے بال بچّوں سے یہ کہہ کر آئے تھے کہ شام تک وہ گھر لوٹ آئیں گے مگر وہ شام تک گھر نہیں لوٹے۔ رات ہو گئی۔ وہ گھر نہیں آئے۔ گرفتار کرنے کے بعد نیب کے اہلکاروں نے ان سے موبائل فون چھین لیے تھے۔رات بھر لواحقین پشاور کے نیب دفتر میں فون کرتے رہے۔ کوئی جواب نہیں ملا۔ بال بچّوں کی تشویش بڑھ گئی۔ وائس چانسلرزاور پروفیسرز ستّر ، اسّی برس کے لگ بھگ تھے۔ بال بچّے پریشان ہو گئے کہ سفر کے دوران ان کے ساتھ کوئی حادثہ پیش نہ آگیا ہو؟ہارٹ اٹیک نہ ہو گیا ہو؟دوسرے روز صبح کے وقت پروفیسرز اور وائس چانسلرز کے بال بچّے پشاور پہنچے ۔ نیب کے دفتر گئے۔ تب جا کر ان کو پتہ چلا کہ ان کے ابّو، ان کے دادا گرفتار ہو چکے ہیں۔ نیب کی تحویل میں ہیں۔ وہ سکتے میں آ گئے۔ لواحقین کو وائس چانسلرز اور پروفیسرز کے لیے وکیل کرنے اور ضمانت لینے میں تین، چار دن لگ گئے۔ پانچ، چھ راتیں سینئر سٹیزنز، وائس چانسلرز اور پروفیسرز نے ناگفتہ بہ حالات میں گزاریں۔ آپ تصوّر نہیں کر سکتے جن بدترین حالات میں بوڑھے پروفیسروں کو رکھا گیا تھا۔ وہ کہاں پڑے رہتے تھے۔ کھانے، پینے میں ان کو کیا دیا جاتا تھا، ان کے ساتھ کیسا برتائو روا رکھا جاتا تھا، آپ اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ عمر رسیدہ ہم لوگ دوائوں اور دعائوں پہ چلتے ہیں۔ نیب کی تحویل میں وہ لواحقین کی دعائوں سے زندہ رہے۔ پانچ، چھ روز کے بعد وائس چانسلرز اور پروفیسرز کو ایک ماہ کی ضمانت پر رہا کیا گیا۔ ایک ماہ کے بعد وہ دوبارہ نیب کے سامنے پیش ہوئے۔ مقدمہ نہیں چلا۔ انہیں پھر سے ایک ماہ کی ضمانت پر چھوڑا گیا۔ ایک ماہ گزرنے کے بعد پھر سے ستّر،اسّی برس کے سینئر سٹیزن اور اعلیٰ سطح کے اساتذہ نیب کے سامنے پیش ہوئے۔ مقدمہ نہیں چلا۔ انہیں ایک ماہ کے بعد پھر سے نیب کے سامنے پیش ہونے کا حکم سنایا گیا۔ پچھلے تین برس سے دو وائس چانسلرز اور چار پروفیسرز اسی طرح ہر ماہ سفر کر کے پشاور آتے ہیں اور نیب کے سامنے پیش ہوتے ہیں۔ اس کام کے لیے انہوں نے وکیلوں سے رجوع کیا ہوا ہے جو انہیں ضمانتیں دلواتے ہیں، نیب کے سامنے پیش کرتے ہیں اور پھر انہیں گھر لوٹ جانے کی اجازت لے کر دیتے ہیں۔ ہر بار جب وہ نیب کے سامنے پیش ہونے کے لیے گھر سے روانہ ہوتے ہیں تب ان کے بال، بچّے یہی سوچ کر ڈپریشن میں ڈوب جاتے ہیں کہ ان کے ابّو، ان کے دادا اس بار لوٹ کر آئیں گےیا نہیں؟ آپ اندازہ لگائیے۔ پچھلے تین برس سے چھ اعلیٰ تعلیم یافتہ بزرگ اساتذہ اور ان کی فیملیز کو ذہنی عذاب میں مبتلا رکھا گیا ہے۔ کاش کہ ان کو ملنے والے مینٹل ٹارچر کی خبر ہمارے چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب تک پہنچے۔ تین برس سے چھ اعلیٰ تعلیم یافتہ سینئر سٹیزن اور ان کی فیملیز ذہنی عذاب میں مبتلا ہیں۔ وہ کب تک ذہنی عذاب میں مبتلا رہیں گے، کوئی نہیں جانتا۔

ان دو واقعات نے آپ کے اس فقیر کو روح کی گہرائیوں تک خوفزدہ کر دیا ہے۔ میں بہت ڈر گیا ہوں۔ آپ کا یہ فقیر بدقسمتی سے اسلام آباد میں مرکزی حکومت کی ایک یونیورسٹی کا وائس چانسلر رہ چکا ہے۔ اس بات کو اٹھائیس برس گزر چکے ہیں۔ ان دو واقعات میں وائس چانسلرز اور پروفیسرز کے ساتھ نیب کے ہاتھوں ہتک آمیز رویّے کے بعد میں کانپ گیا ہوں۔ یونیورسٹی میں اسّی کے قریب ایسے ملازم تھے جو دس، پندرہ برس سے عارضی تھے اور کبھی بھی ملازمت سے فارغ کیے جا سکتے تھے۔ میں نے ایک ہی آرڈر میں ان سب کو مستقل کر دیا تھا۔ بیس ملازمین ایسے تھے جو دس، پندرہ برس سے ایک ہی گریڈ میں پڑے ہوئے تھے۔ ان کو بھی میں نے ایک ہی آرڈر میں اگلے گریڈ میں ترقی دے دی تھی۔ اگر نیب والے مجھے اس الزام میں پکڑ کر ڈربے میں بند کر دیں کہ تم نے ایک سو ملازمین سے فی کس ایک ہزار روپے لے کر ان کو مستقل کیا تھا اور اگلے گریڈ میں ترقی دی تھی اور اس طرح تم نے ایک لاکھ روپے کی کرپشن کی تھی، تب میں اپنی صفائی میں نیب سے کیا کہوں گا؟اٹھائیس برس پہلے والے ایک سو ملازمین کو میں کہاں سے تلاش کر کے لائوں گا اور مقدّس کتاب پر ہاتھ رکھوا کر ان سے گواہی دلوائوں گا کہ انہوں نے مجھے رشوت نہیں دی تھی؟اگر نیب کے تفتیشی افسر نے کہہ دیا کہ ریٹائرڈ وائس چانسلر جھگی میں رہتے ہیں۔ تم کیسے اور کس طرح ساتویں منزل پر دو بیڈروم کی عالیشان کوٹھی میں اس قدر ٹھاٹ بھاٹ سے رہتے ہو؟تم نیب کی آنکھوں میں دھول نہیں جھونک سکتے۔ تم کروڑوں روپے کی گاڑی پر اٹھارہ برس پرانی گاڑی کا نشان لگا کر نیب کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔ بتائو، عیاشی کے لیے تمہارے پاس پیسے کہاں سے آتے ہیں؟ میرے پاس ان سوالوں کے جواب میں کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ میں گھبرا گیا ہوں۔ نیب سے ڈر گیا ہوں۔ مجھے دل کا عارضہ ہے۔ کل رات خواب میں نیب کے ایک خرانٹ افسر نے مجھے ڈانٹ پلاتے ہوئے کہا:کوئی ڈاکٹر کا بچہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ تمہارے دل کا بائی پاس ہونا چاہیے یا اوپن ہارٹ سرجری۔ اس کا فیصلہ نیب کرے گا۔ نیب سے گھبرا گیا ہوں میں۔


amar jaleel , amar jaleel columns today,  amar jaleel best columns,   amar jaleel columns 2018, amar jaleel books, amar jaleel biography, amar jaleel poetry, amar jaleel stories, amar jaleel short stories, amar jaleel novels pdf, amar jaleel family, amar jaleel religion

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget