کالم لسٹ "Hassan Nisar"

ہمارے بہت سے پڑھے لکھوں کو بھی اندازہ نہیں کہ کرپشن کا مطلب اور اس کی Definationکیا ہے۔ مالی کرپشن تو کرپشن کی صرف ایک ننگی چٹی قسم ہے ورنہ اس کی بیشمار قسمیں اور جہتیں ہیں اور اگر میں یہ کہوں کہ اوقات کار کے دوران فون پر گپیں ہانکنا بھی کرپشن ہے تو یہ غلط نہ ہوگا۔ یہ واقعہ کسی مسلمان نے نہ پڑھا سنا ہوگا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز اپنی رہائش گاہ پر حکومتی منصب داروں کے ساتھ سرکاری امور پر محو کلام تھے۔ حکومتی امور پر مکالمہ ختم ہوا تو ذاتی قسم کی گفتگو شروع ہوتے ہی امیر المومنین نے چراغ بجھا دیا۔ حاضرین نے وجہ پوچھی تو فرمایا ’’چراغ میں تیل بیت المال کا تھا، نجی گفتگو کے دوران اس تیل کا جلنا خیانت ہوگی‘‘۔ یہ ہے کرپشن کی وہ قسم جو ہمارے بہت سے دانشوروں کو نہ سمجھ آتی ہے نہ آئے گی کیونکہ ان کے نزدیک سرکاری وسائل پر براہ راست ڈاکہ ہی کرپشن ہے۔ جنرل ضیاء الحق بے شک مالی طور پر کرپٹ ہرگز نہ تھے لیکن سیاسی طور پر سرتاپا کرپشن میں لتھڑے ہوئے تھے۔ بابائے قوم کے آخری ایام کا یہ واقعہ جب پڑھو رُلا دیتا ہے کہ بھوک تقریباً ختم ہو چکی تھی، جسمانی ضعف انتہا پر تھا جب سٹاف نے ان کے فیورٹ باورچیوں کو لائل پور سے بلوایا۔ ان کا تیار کیا گیا کھانا قائد کو سرو (SERVE)کیاگیا تو ذرا رغبت سے نوش فرمایا۔ اچانک اس حالت میں بھی یہ پوچھا کہ ’’آج کھانا کس نے بنایا؟‘‘ پس منظر سے آگہی پر خفا ہوئے اور سرزنش کی۔ بطور گورنر جنرل اور ’’بانی‘‘ کے گورنر جنرل ہائوس کی بتیاں بجھاتے دیکھے گئے اور وہ بھی کرپشن ہی کی ایک قسم تھی جس کے نتیجہ میں بالآخر مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بنا۔ قدرت اللہ شہاب راوی ہیں کہ کیبنٹ میٹنگ جاری تھی جس کے دوران کسی بنگالی وزیر نے جان کی امان پائے بغیر یہ عرض کیا کہ امریکہ سے سینیٹری کا جوسامان تحفے میں ملا ہے، اس میں سے کچھ مشرقی پاکستان کو بھی عطا ہو تو مغربی پاکستان کے توندوں اور مونچھوں والے وزرا نے بے ساختہ قہقہے بلند کرتے ہوئے حقارت سے کہا ......’’تم لوگوں نے یہ سامان کیا کرنا ہے کیونکہ تم لوگوں (بنگالیوں) کو تو رفع حاجت کیلئے کیلے کے درختوں کی گاچھ ہی بہت کافی ہے‘‘ یعنی تمہارے لئے کیلے کے پودوں کا جھنڈ ہی بطور’’باتھ روم‘‘ کافی ہے تو حضور! ایسی سوچ اور یہ رویہ بھی کرپشن ہی کی ایک بھیانک شکل ہے جس کا نتیجہ بنگلہ دیش کی شکل میں سامنے ہے۔میرٹ کو پامال کرتے ہوئے اپنے پروردہ لوگوں کو پروموٹ کرنا بھی کرپٹ پریکٹیسز کا حصہ ہے۔ نامعقول لیکن بظاہر مقبول فیصلے کر کے اپنا ووٹ بینک بنانا بڑھانا بھی کرپشن کا شہکار ہے جو موٹے دماغوں میں سما نہیں سکتا، موٹی کھالوں پر اثرانداز نہیں ہوسکتا۔ ناجائز منافع بھی ہے تو منافع ہی لیکن حد سے متجاوز منافع بھی، منافع کم اور کرپشن زیادہ ہے۔ میں نہیں جانتا کہ آج یہ معیار ممکن ہے یا نہیں لیکن پڑھنے میں کیا برائی ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ بازار سے گزر رہے تھے کہ ایک شخص پر نظر پڑی جو کھجوروں کی تین ڈھیریاں لگائے بیچ رہا تھا۔ فاروق اعظمؓ نے اس سے ان تین ڈھیریوں بارے سوال کیا تو وہ بولا ’’امیر المومنین! ایک ڈھیری درجہ اول، دوسری درجہ دوم، تیسری درجہ سوم‘‘ آپ نے تینوں ڈھیریوں کو آپس میں ملاتے ہوئے کہا ’’ تم میری موجودگی میں حضورؐ کی امت کو تین حصوں میں تقسیم کررہے ہو؟ ان کی اوسط قیمت طے کرو‘‘...... یہ ہے رویہ!معاف کیجئے میں بہت دور نکل گیا لیکن کیا کروں بچپن سے سنی پڑھی یہ باتیں میرے خون میں رچ بس چکی ہیں جن سے جان چھڑانا بھی چاہوں تو ممکن نہیں۔ جو مرضی کرلوں میرے رول ماڈلز تبدیل نہیں ہوسکتے اور اپنے تمام تر سیکولرازم کے باوجود میں اندر سے اپنی قسم کا ’’کٹھ ملا‘‘ ہی ہوں ورنہ 22سال پہلے تحریک انصاف کو ’’روٹی کپڑا مکان‘‘ جیسا کوئی دنیادار سلوگن دینے کی بجائے یہ منشور نہ دیتا۔’’حکم اللہ کاقانون قرآن کارستہ رسولؐ کاپاکستان سب پاکستانیوں کا‘‘ریاست مدینہ کی اس تعریف کے علاوہ نہ کوئی دوسری تعریف مجھے بھاتی ہے نہ سمجھ آتی ہے اور یہی میرا ’’نیا پاکستان‘‘ تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ ملے نہ ملے مجھے اس کی بھی پروا نہیں کہ اس کے تو خواب و خیال میں رہنا ہی جمال زیست ہے۔یہ تو ہوئے چند ’’جملہ ہائے معترضہ‘‘ جن کے بعد واپس ان کی طرف چلتے ہیں جن کے نزدیک صرف مالی کرپشن ہی کرپشن ہے جبکہ کرپشن کی تعریف بے کراں اور کثیرالجہت بھی ہے۔مالی، سیاسی، سماجی، روحانی، جذباتی، نفسیاتی، انتظامی، اخلاقی غرضیکہ ’’کرپشن‘‘ کی کئی قسمیں ہیں۔ یہاں تک کہ نیت اور آنکھ کی کرپشن کے بھی اپنے ہی کرشمے ہیں۔ جس نے مال مویشی یا کسی اور قسم کے سامان کا نقص بتائے بغیر اسے گاہک کے سر مڑھ دیا، وہ بھی کرپٹ ہے۔ راستے کا حق ادا نہ کرنے والا بھی کرپٹ ہے کیونکہ کرپشن صرف اقتدار کے ایوانوں اور غلام گردشوں تک محدود نہیں کہ خود غلام بھی کرپٹ، بدعنوان ہوسکتے ہیں، صرف اشراف ہی نہیں اجلاف بھی کرپٹ ہو سکتے ہیں کیونکہ درباروں کے طور طریقے بازاروں تک میں سرایت کر جاتے ہیں۔ کرپشن کی ایک تعریف یہ بھی ہے۔

According to the morlity of duty, every act is to be judged for its obedience or disobedience to law, and the basic moral distinction is between right and wrong."

اور کرپشن کی مختصر ترین Definationکچھ یوں ہے۔

"Lack of Basic distinction between good and evil."

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے۔’’اپنے ذاتی مفادات کیلئے طاقت کو Abuseکرنا کرپشن ہے‘‘اور ’’طاقت‘‘ صرف سیاسی، انتظامی، ادارہ جاتی ہی نہیں ہوتی۔ گھر کے سربراہ سے لیکر کسی ادارے کے سربراہ تک سب اپنی اپنی قسم کی ’’طاقت‘‘ کے حامل ہوتے ہیں اور اس کا غلط استعمال کرسکتے ہیں خواہ وہ غیر شعوری، غیر ارادی طور پر ہی کیوں نہ ہو۔ ’’لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام‘‘ والی بات ہے بلکہ یوں کہیں کہ کارزار ہستی میں پل صراط عبور کرنے جیسا کام ہے اور یہ بوجھ، عہدہ، منصب، پوزیشن، طاقت، اختیار، اقتدار کے ساتھ ساتھ بڑھتا چلا جاتا ہے اور نوبت اس تعریف تک جا پہنچی ہے۔’’ہائی لیول کی حکومتی سطح پر رہتے ہوئے عوامی بھلائی کے نام پر ریاستی پالیسیوں، رولز، پروسیچرز کو توڑ مروڑ کر اور وسائل کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپنی طاقت، رتبہ، دولت بڑھانا بھی کرپشن ہے‘‘مختصراً یہ کہ اگر نیت ہی پاک نہ ہو تو حضرت عمر بن العزیز کا نجی گفتگو کے دوران چراغ بجھا دینا سب کچھ سمجھا دینے کیلئے کافی ہے بصورت دیگر.......

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)

ایک تکلیف دہ موازنہ وئی فرنگیوں کو لاکھ برا بھلا غاصب، عیار،مکار کہے لیکن سچی بات ہے گورننس کی تمیز گورے کو ہی تھی کہ 90سال 1857ء تا 1947ء 90سال میں جہالت اور پسماندگی میں غرق برصغیر کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔سیاسی نظام سے عدالتی و انتظامی نظام تک، نہری نظام سے کئی نئے شہروں تک، میڈیکل کالجز سے زرعی کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں تک، ’’بمبمے‘‘یعنی ہینڈپمپ سے ریلوے اور ماچس تک، جدید منظم فوج سے لاء اینڈ آرڈر تک کمال ہی کمال ہے ۔رٹ تھی ایسی زبردست کہ ہندوئوں کے روحوں سے سَتّی کی بے رحم رسم اکھاڑ پھینکی، برہمنوں اور مسلمان اشرافیہ کو اس کی عدلیہ پر بڑی خار تھی کہ اچھوت اور کمی کمین بھی انہیں عدالتوں میں گھسیٹ سکتے ہیں۔حرام خور برہمن نے ریل کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کیا کہ اس میں شودر بھی برہمن کے برابر بیٹھ سکتا ہے لیکن گورے نے جو کیا ڈٹ کر کیا اور خوب کیا ..... ہم سے کہیں بہتر کیا کہ آج نہ وہ پولیس نہ عدالتیں نہ ریلوے نہ نہری نظام نہ ’’کمپنی باغ‘‘ کہ باغوں کیا ہم نے تو قبرستانوں پر قبضے شروع کر دیئے۔کوئی ہے جو قسم اٹھا کر کہہ سکے کہ آج کا گورنمنٹ کالج لاہور اور پنجاب یونیورسٹی اتنے ہی عالیشان تعلیمی ادارے ہیں جتنے کبھی تھے۔میں نے کہیں نہیں پڑھا کہ تب وکلاء ججوں پر اس طرح چڑھ دوڑتے تھے

،طلبہ اساتذہ کے گریبان پکڑتے تھے اور ڈاکٹرز اسی طرح مریضوں کو’’گاہکوں‘‘ کی طرح ٹریٹ کرتے تھے۔ حقیقت یہ کہ ہم نے ہمارے ساتھ اس سے کہیں برا کیا جتنا گورے نے کیا لیکن بہرحال ’’آزادی‘‘ بڑی بات ہے ۔ ’’اپنوں‘‘ کے ہاتھوں برباد ہونا غیروں کے ہاتھوں آباد ہونے سے کہیں بہتر ہے ۔ان لاکھوں کو کیا کہیں جو آزاد وطن چھوڑ کر سابق آقائوں کے ملکوں کی شہریت والی ’’غلامی‘‘ پر ناز کرتے ہیں۔محبت پاکستان سے لیکن شہریت انگلستان تا امریکہ ،کینیڈا، آسٹریلیا کی۔ جائیدادیں بھی وہیں، اولادیں بھی وہیں اور بضد اس بات پر کہ ’’یہ وطن ہمارا ہے، ہم ہیں پاسباں اس کے‘‘ تضادات کے یہ مائونٹ ایورسٹ کیوں؟ فرق کیا ہے ؟تب’’ رول آف لاء‘‘ تھا، اب ’’رول آف دی رولر‘‘ ہے ورنہ ہمارا وزیر باتدبیر یہ نہ کہتا کہ اگر وزیراعظم آئی جی پولیس نہیں بدل سکتا تو الیکشن کی کیا ضرورت؟ حضور! پروسیجرز، قواعدوضوابط، اصول قانون بھی کوئی شے ہے کہ مادر پدر آزاد ہو کر تو کائنات نہیں چل سکتی، ملک کیسے چلے گا؟ لمبی کہانی ہے جسے سمجھنے کیلئے ایک چھوٹا سا واقعہ عرض ہے ۔یہ 1930تا 35ء کی درمیانی کہانی ہے ۔لیجنڈپطرس بخاری تب پنجاب ٹیکسٹ بک کمیٹی کے چیئرمین تھے جب فیض احمد فیض جیسا لیجنڈ انہیں ملنے گیا۔وہاں ایک ضخیم فائل پر نظر پڑی جس پر جلی حروف میں لکھا تھا ʼʼOFFICE CATʼʼ فیض صاحب یہ عنوان دیکھ کر متجسس ہوئے اور پطرس بخاری صاحب سے پوچھا .....’’یہ کیا ہے ؟‘‘ جس پر بخاری صاحب نے فرمایا ۔’’قصہ یوں ہے کہ ایک دن میرے آفس میں بلی آگئی۔مجھے اچھی لگی تو میں نے کسی سے کہا اسے تھوڑا سا دودھ لادو۔پھر وہ بلی ہر روز آنے لگی اور ہر روز اسے دودھ بھی باقاعدگی سے ملنے لگا۔مہینے کے آخر پہ سپرنٹنڈنٹ نے دفتر کے اخراجات کا بل مجھے بھیجا تو اس کے ساتھ ایک تحریری سوال بھی منسلک تھا کہ بلی کے دودھ پر چودہ روپے چھ آنے کی جو رقم خرچ ہوئی ہے، وہ کس مد میں جائےگی ؟میں نے لکھ بھیجا CONTIGENCES یعنی متفرق خرچ میں ڈال دو۔چند روز کے بعد اکائونٹنٹ جنرل نے بل لوٹا دیا اور نوٹ لکھا کہ CONTIGENCYکی مد دفتر کے سازو سامان اور دیگر غیر جاندار اشیاء کے لئے مخصوص ہے ۔بلی جاندار شے ہے جس کے اخراجات اس میں شامل کرنا رولز کی خلاف ورزی ہے ۔اس پر آفس سپرنٹنڈنٹ نے مجھ سے تحریری ہدایت طلب کی۔میں نے لکھا کہ اگر جاندار غیر جان دار کا مسئلہ ہے تو ESTABLISHMENTیعنی عملے کی مد میں ڈال دو۔بل دوبارہ خزانے کو بھیجا گیا اور تھوڑے دنوں میں لوٹ آیا اور اس بار طویل مراسلے میں یہ استفسارات تھے کہ اگر یہ خرچ عملہ کی مدد میں جائے گا تو واضح کیا جائے کہ اس رقم کو تنخواہ تصور کیا جائے گا یا کہ الائونس ۔ اگر تنخواہ ہے تو بھی قاعدہ ضابطہ نمبر فلاں فلاں، دفتر کی پیشگی منظوری درکار ہے اور اگر یہ الائونس ہے تو بموجب رول اینڈ ریگولیشن فلاں فلاں متعلقہ افسر سے اس کی تصدیق لازمی ہے چنانچہ یہ فائل چھ مہینے سے چل رہی ہے اور اس میں ایسے ایسے باریک انتظامی قانونی نکتے بیان ہوئے ہیں جن کاتصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔‘‘یہ ہے گورننس اور قواعدوضوابط کا احترام جبکہ ’’آزادی‘‘ کے بعد کی مادر پدر آزادی میں تو قدم قدم پر ’’انہی ‘‘(اندھی) پڑی ہوئے ہے ۔حلوائی کی دکان پر نانا دادا سب کی فاتحہ، سکھا شاہی، واہی تباہی کا ناتمام سلسلہ ہے جس کا سب سے بڑا موجد نواز شریف جس نے رولز ریلیکس کرنے کی بدعت عام کی اور اپنا ووٹ بینک بنانے کیلئے 60،60سال کے بابوں کو پٹواری اور ʼʼWANTEDʼʼقسم کے جرائم پیشہ لوگوں کو پولیس میں بھرتی کیا۔پبلک پارکس ،چمچوں کو دان کئےکواپریٹوز کے ساتھ کھلواڑ کیا اور نوبت یہاں تک آپہنچی کہ آج وکیل وزیر یہ کہتا ہے کہ اگر وزیر اعظم IGپولیس بھی نہیں بدل سکتا تو الیکشن کی کیا ضرورت تھی؟وزیر اعظم کا قصور نہیں یہ ’’کٹلری بوکس‘‘ کا کام تھا کہ کوئی اسے بتاتا ’’پرائم منسٹر صاحب !آپ آئی جی کو تبدیل تو کر سکتے ہیں لیکن فون پر نہیں کہ اس کا ایک پراسیس پروسیجر اور طریق کار ہے ‘‘ لیکن آلات خورونوش ایسا رسک نہیں لیتے، یہ انسانوں کا کام ہے !

کتابیں ملتی رہتی  ہیں، جنہیں عموماً دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔اول وہ کتابیں جنہیں گھونٹ گھونٹ پیا پڑھا جاتا ہے، دوسری وہ جنہیں ’’باٹم اپ‘‘ کئےبغیر گزارہ نہیں۔گزشتہ دنوں ملنے والی دو کتابیں بیحد اہم اور قابل ذکر ہیں جن میں سے ایک برادر محترم ضیاء شاہد کی سنسنی خیز ’’میرا دوست نواز شریف ‘‘ جس کی تقریب رونمائی پر شیخ رشید نے اس کتاب کے عنوان پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہ کسی کا دوست نہیں ‘‘ تقریب رونمائی کے مقررین میں ،میں بھی شامل تھا لیکن ایمرجنسی میں مجھے لائل پور (فیصل آبا د) جانا پڑا، شریک نہ ہوسکا جس کا افسوس رہے گا لیکن مجبوری تھی ۔یہ کتاب شروع کی تو رات گئے ختم کرکے اٹھا اور اب دوسری بار ہائی لائیٹر ساتھ رکھ کر پڑھ رہا ہوں کہ اس سے نواز شریف تو کیا پاکستانی سیاست اور سیاست دانوں کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے، بالخصوص اس خودغرض اور کاروباری سیاست کو جسے جنرل ضیاءالحق نے متعارف کرایا اور ملک آج تک اسے بری طرح بھگت رہا ہے ۔دوسری کتاب تھی صحافت کے استاد اعظم پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کی ’’سسکتی مسکراتی زندگی ‘‘ جو ان کی خودنوشت اور سوانح عمری ہے جس پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق وائس چانسلر یونیورسٹی آف سرگودھا ڈاکٹر محمد اکرم چودھری صاحب نےپانچ دریائوں کو ایک کوزے میں بند کرتے ہوئے یہ غضب کا جملہ لکھا ہے کہ ’’سسکتی مسکراتی زندگی ‘‘ پنجاب یونیورسٹی کا ایک دلچسپ نوحہ ہے ‘‘میں ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کو نہ جاننے کے برابر جانتا ہوں کیونکہ ملاقاتیں ہی تین ساڑھے تین سے زیادہ نہیں جبکہ میں تو ان نالائقوں میں سے ہوں جو تین سو ملاقاتوں کے بعد بھی لوگوں کا اصل پہچاننے میں ناکام رہتے ہیں۔ویسے سچ یہ ہے کہ میں نے لوگوں کی بھاری اکثریت کو کبھی جاننا چاہا بھی نہیں ۔ڈاکٹر مغیث کی کتاب میں ’’فہرست‘‘ دیکھتے ہوئے اپنے نام پر نظر پڑی تو میں چونک گیا کہ ہم تو ڈھنگ سے ایک دوسرے کو جانتے بھی نہیں۔پڑھا تو حیران رہ گیا کہ اس زمین پر اس زمانے میں ایسی عالیٰ ظرفی ......کئی سال پہلے ڈاکٹر مغیث یونیورسٹی میں کسی سازش کا شکار ہوئے ۔مجھے ادھر ادھر سے علم ہوا تو تن بدن میں آگ لگ گئی ۔میں بنیادی طور پر ایک ’’ نون سینس ‘‘ قسم کا آدمی ہوں۔بیہودگی دیکھ کر میٹر گھوم جاتا ہے۔ میں نے مزید معلومات جمع کیں تو اندازہ ہوا کہ ایک معصوم آدمی کو خواہ مخواہ سکینڈلائز کرنے کی مکروہ کوشش ہو رہی ہے ۔میں نے ڈاکٹر صاحب کے حق اور دفاع میں کالم لکھا اور تب ہی بھول بھال گیا لیکن اتنے بہت سے برسوں کے بعد ڈاکٹر صاحب کی سوانح حیات میں یہ واقعہ پڑھ کر دنگ رہ گیا ۔لکھتے ہیں’’وہ کالم اس شخص نے لکھا جس کے ساتھ نہ میرا اٹھنا بیٹھنا تھا نہ کبھی طعام و سفر کا رشتہ رہا تھا ۔وہ کالم پڑھ کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔جب میں اس آزمائش کی گھڑی میں تنہا کھڑا تھا اور دائیں بائیں اپنے دوستوں کی تلاش میں تھا کہ کون میرے حق میں گواہی دینے کو تیار ہو گا، اس کڑے امتحان میں حسن نثار نے میرے حق میں کالم لکھ کر گواہی دی۔اس نے مجھ جیسے انجان شخص کے ساتھ محسن کا سا سلوک کیا۔میں شاید اس کا یہ احسان ساری زندگی نہ بھلا سکوں‘‘۔جس شخص کو اتنے برسوں بعد اتنی معمولی سی بات بھی نہ بھولی ہو، اس کا کردار اور کتاب کیسی ہو گی کہ یہاں تو قدم قدم پر حضرت علیؓ کا وہ قول یاد آتا ہے کہ ’’کسی کم ظرف پر احسان کرو تو اس کے شر سے ڈرو‘‘(مفہوم)ڈاکٹر مغیث کی خود نوشت اس تعریف پر پوری اترتی ہے کہ ’’اوریجنیلٹی ، سادگی اور برجستگی ہی کسی عمدہ تخلیق کی بنیادی خصوصیات ہیں‘‘۔تصنع، بناوٹ، کہانی کاری، پچی کاری اور خواہ مخواہ کی فنکاری سے پاک بچپن سے آج تک کی کہانی ندیا کی سی روانی کے ساتھ بہتی اور بہت کچھ کہتی چلی جاتی ہے۔جیسا ڈاکٹر اکرم چودھری لکھتے ہیں کہ یہ سوانح اور بہت کچھ ہونے کے ساتھ ساتھ پنجاب یونیورسٹی کا ایک دلچسپ نوحہ بھی ہے ۔یونیورسٹی کے ماحول ہی نہیں بہت سے سابق وائس چانسلرز کا پوسٹ مارٹم بھی محو ماتم ہے اور پھر امریکہ اور یہاں کی پڑھائی، اس کے اقدار معیار کا موازنہ کہ ان کے اور ہمارے پی ایچ ڈیز میں حقیقی فرق اور فاصلہ کیوں، کتنا اور کیسا ہے ؟بیرون ملک امریکہ میں حصول تعلیم کے دوران کا باریک بین مشاہدہ ملکی سیاست میں طلبا یونینز کا کردار، گومل یونیورسٹی کے تجربات اور سب سے بڑھ کر وائس چانسلر عبدالعلی خان کا دلچسپ ،منفرد اور ڈرامائی کردار جو اصلی سے کہیں زیادہ افسانوی بلکہ فلمی سا لگتا ہے ۔حج اور عمرے کے روحانی تجربے کے ساتھ ساتھ استاد گرامی مناسک حج اور ہمارے طرز عمل پر گزارشات بھی نہیں بھولے کہ استاد استاد ہی ہوتا ہے ۔اس کتاب کے تو ایک باب کا عنوان ہی ’’پڑھانے کا نشہ‘‘ ہے ۔زندگی کے علاوہ پاکستان کی اس قدیم عظیم درس گاہ جسے پنجاب یونیورسٹی کہتے ہیں کو جاننے کیلئے اپنی درس گاہوں اور اساتذہ کی کلاس اور کلچر کو سمجھنے کیلئے .....’’سسکتی مسکراتی زندگی ‘‘ سے حقیقی آشنائی کیلئے یہ خودنوشت کسی تحفہ سے کم نہیں۔کتاب کے آخری باب نے مجھے رلادیا جس کا عنوان تھا ....’’افتخار فیروز ‘‘ جسے یونیورسٹی کے دنوں میں ’’شورش ثانی‘‘ کہا جاتا اور ڈاکٹر مغیث یقیناً یہ نہ جانتے ہوں گے کہ افتخا ر فیروز گورنمنٹ کالج لائل پور سے ہی حفیظ خان اور میرا دوست تھا جو کچھ عرصہ پہلے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ہم سے بچھڑ گیا کہ ہماری زندگیوں میں پت جھڑ کا موسم شروع ہو چکا۔

25نومبر بروز ہفتہ 2017مجھے سرجری کیلئے ایک پرائیویٹ اسپتال میں گلبرگ پہنچنا تھا۔ٹی وی وغیرہ بند، خاموشی سے خود کو یکسو کرتے ہوئے تیار ہوا ۔ہمدم دیرینہ امیر افضل کے پہنچتے ہی اہلخانہ کو خدا حافظ کہہ کے روانہ ہوا تو وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ باہر کیا ہو رہا ہے ۔
ٹھوکر نیاز بیگ والا راستہ بند، بپھرا ہجوم، بمشکل ڈاکٹرز ہسپتال والی سڑک لی وہ بھی بند، سائیڈ لین سے ’’اللہ ھو‘‘ چوک کی طرف نکلے رستہ مسدود، عزیزی ڈاکٹر کامران کو صورتحال سے آگاہ کیا کہ آگے مطلع کر دے کہ اسپتال پہنچنا ممکن نہیں اسی دوران برادرم جواد نظیر، رانا جاوید عمر کے فون آئے تو علم ہوا ملک بھر میں یہی صورتحال ہے اور حالات کشیدہ ۔اپنا درد بھول کر میں نے امیر افضل سے کہا ’’ن لیگی قیادت آخر چاہتی کیا ہے ۔ملکی اخلاقیات تباہ کرنے، اقتصادیات کو’’تختہ ڈار‘‘ کی طرف ہانکنے کے بعد یہ روحانی اقدار کے بھی درپے ہیں‘‘لم ڈھینگ نے ڈینگ ماری تھی کہ وہ فیض آباد نہیں پورے ملک کا وزیر داخلہ ہے لیکن تین گھنٹے میں فیض آباد خالی کرانے کے دعویدار نے پورا ملک فیض آباد میں تبدیل کر دیا۔معمول سے 4گنا زیادہ وقت غارت کرکے بمشکل گھر پہنچے ٹی وی اون کیا تو پتا چلا کہ چشم بددورجی ٹی روڈ بندموٹر وے بندنیوز چینلز بندسوشل میڈیا بندفیس بک بندیو ٹیوب بندٹوئیٹر بند، فون بندصرف حکومت کھلی پھر رہی ہے جیسے ہجوم میں کوئی پاگل پھرےبھلا ہو ’’ڈش‘‘ کا ورنہ ہمیں بھی ان افواہوں پر توجہ دینی پڑتی جولینڈ لائن کے ذریعہ پہنچ رہی تھیں۔مواصلاتی بھگدڑ مچی ہوئی تھی۔
چودھری نثار کے گھر حملہ، ن لیگی ایم این اے زخمی، ن لیگیوں کو گھروں پر سیکورٹی فراہم اور عوامی مقامات پر جانے سے روک دیا گیا،تف ایسی عوامی نمائندگی پر کہ عوام کے درمیان نہ جا سکے۔کچھ عاشقان رسول بااصول لوگوں کے مستعفی ہونے کی خبریں، گھیرائو جلائو توڑ پھوڑ، جگہ جگہ جھڑپیں، گاڑیاں پٹرول پمپس وغیرہ نذرآتش، سینکڑوں زخمی، 7جاں بحق ،پتھرائو، شیلنک،سمجھ نہیں آتی ان لوگوں نے کیا سوچ کر یہ مکروہ حرکت کی، پھر جھوٹ پر جھوٹ، بہانے ،بہتان اور جو طوفان ایک استعفیٰ پر ٹل سکتا تھا اس پر بدترین تکبر اور ہٹ دھرمی اور اب ’’چھٹکی ‘‘ کہتی ہے عدلیہ کے احکامات پر عملدرآمد کیا تو کوئی پوچھے عدلیہ کے نااہلی والے احکامات کو تو تم لوگ روز اول سے پروٹوکول کے نیچے روندنے کی کوشش کر رہے ہو اور اب بات ایک استعفیٰ سے کئی ہاتھ آگے نکل کر آئندہ الیکشن تک پہنچ چکی تو تاویلیں،اقتدار کے ہینگ اوور میں مبتلا نام نہاد مقبولیت کے نشے میں دھت ن لیگی لیڈر نہیں جانتے کہ بدمستیوں میں کیا کیا کچھ کر بیٹھے ہیں۔پہلے صرف بدیسی تجوریاں کھلی تھیں اب بھرم بھی کھل گیا کہ یہ اقتدار کے قیام و استحکام کیلئے کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں۔
نواز اور بندہ نواز !’’سو جوتے سو پیاز‘‘ والا محاورہ بھی بہت پیچھے رہ گیا ۔شہباز نے سرعام کہاتھا ’’جناب قائد ! اس گھنائونی حرکت کے ذمہ داران سے جان چھڑالیں‘‘ لیکن قائد سچ مچ قائد ہوتا تو قاعدے کی کوئی حرکت کرتا لیکن یہ تو ’’یہ منہ اور مسور کی دال‘‘ اور ’’مجھے کیوں نکالا ؟‘‘ والا مائنڈ سیٹ ہے جسے صرف اپنے منطقی انجام کی منزل پر پہنچ کر ہی قرار نصیب ہونا تھااور منطقی انجام کا یہ آخری باب کوئی اور نہیں عوام کی عدالت لکھ رہی ہے ۔خبر ہے کہ دھرنے کا معاملہ خراب کرنے پر نواز شریف احسن اقبال پر شدید برہم ہیں ’’سب کچھ لٹا کے ہوش میں آئے تو کیا کیا‘‘لیکن یہ تو سب کچھ لٹنے پر بھی ہوش میں نہیں آ رہے ورنہ احسن اقبال یہ عجیب وغریب مضحکہ خیز حرکت کیوں کرتا کہ ایک طرف دھرنے والوں کو پھر مذاکرات کی پیشکش بھی کر رہا ہے اور اسی سانس میں دھرنے والوں پر بھارت سے رابطوں کا الزام بھی لگا رہا ہے ۔کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کچھ مشیروں اور سول خفیہ اداروں کی غلط رپورٹس نے حکومت کو مروایا ۔سچ یہ ہے کہ حکومت تو پہلے ہی مری مرائی تھی اور کسی نے نہیں ماری بلکہ خودکشی کی مرتکب ہوئی۔
مشیروں وغیرہ نے تو زیادہ سے زیادہ کفن دفن میں حصہ لیا ورنہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کون ایسی ترمیم کی بدتمیزی کا تصور بھی کر سکتا ہے لیکن انہوں نے کیا ہی نہیں، اس پر پورا پورا پہرہ بھی دیا کیونکہ یہ خود کو لوہے کے چنے سمجھنے کے خبط میں مبتلا تھے…’’لوہے کے چنے‘‘ جو دراصل سیکنڈ ہینڈ مٹی کے ڈھیلے بھی نہ تھے ۔ کہاں گیا وہ نونہال جو زمین تنگ کرنے کی دھمکیاں دیتا رہا اور خیبر تا کراچی زمین ان پر تنگ ہو گئی۔بار بار تکرار کہ آپ قانون نہیں قانون قدرت کی زد میں ہو اور یہ وقت تصادم اور ٹکرائو کا نہیں، توبہ اور معافی کا ہے لیکن یہ تو عدلیہ کے بعد عوام کی عدالت سے بھی متصادم ہوتے وقت بھول گئے کہ عوام اپنی محرومیوں نامرادیوں پر تو سمجھوتہ کر لیں گے لیکن ایک نام، ایک ہستی ایسی بھی ہے جس پر آنچ آنے سے پہلے گنہگار سے گنہگار مسلمان کیلئے بھی زندگی ،موت اور جینا مرنا ایک سا ہو جاتا ہے ۔رخ مصطفی ہے وہ آئینہ کہ اب ایسا دوسرا آئینہ نہ نگاہ آئینہ ساز میں نہ دکان آئینہ ساز میں اسی لئے تو خاتم النبین قرار پائےآخر پر اپنی نعت کے چند شعرتیرے ہوتے جنم لیا ہوتاکوئی مجھ سا نہ دوسرا ہوتامیں بھی ہوتا ترا غلام کوئیلاکھ کہتا نہ میں رہا ہوتاکاش احد میں شریک ہو سکتااور باقی نہ پھر بچا ہوتاکسی غزوہ میں زخمی ہو کر میںتیرے قدموں میں جاگرا ہوتامیں کوئی جنگجو عرب ہوتاجو ترے سامنے جھکا ہوتامجھ کو خالق بناتا غار حسن اور مرا نام بھی حرا ہوتا۔

آصف زرداری صاحب نے دنیا جہان سے نرالی منطق پیش کی ہے اور وہ بھی چیئرمین ’’نیب‘‘ کے حوالے سے لیکن اس طرف بعد میں آئیں گے پہلے پی ٹی آئی کے ان وزراء بارے بات ہو جائے جن کی کرپشن کے بارے میں ابتدائی رپورٹس وزیر اعظم عمران خان کو موصول ہو چکی ہیں۔ ایک اخباری خبر بلکہ شہ شرخی کے مطابق تین وزراء کی کرپشن کا انکشاف ہوا ہے جس پر ’’صاف چلی شفاف چلی‘‘ کے چیئرمین کا وہی ردعمل سامنے آیا جو آنا چاہئے تھا۔خبر کے مطابق گزشتہ جمعرات کو کابینہ اجلاس کے دوران تمام سرکاری افسران کو کمرے سے نکالنے کے بعد اپنے وزراء کو مخاطب کرتے ہوئے جن میں وزرائے مملکت، معاونین خصوصی اور مشیر بھی موجود تھے، عمران خان نے کہا کہ تین وزراء کی کرپشن کے بارے میں ابتدائی رپورٹس موصول ہو چکی ہیں جن پر تحقیقات کا حکم دیدیا گیا ہے اور الزامات ثابت ہونے پر ان کرپٹ وزراء کو برطرف کر دیا جائے گا۔ عمران خان نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ کرپشن کے خلاف اپنی 22سالہ جدوجہد پر کوئی کومپرو مائز نہیں کرے گا۔ عمران کے اس انکشاف اور اعلان پر کابینہ کے شرکا سکتے میں آ گئے۔یہ تو ہونا ہی تھا کیونکہ کرپشن ہمارے کلچر کا اٹوٹ انگ اور ہمارے ریشوں، رگوں اور خون میں شامل ہو چکی جس کا کریڈٹ دو سیاسی خاندانوں کو جاتا ہے جنہوں نے کرپشن کو ’’وے آف لائف‘‘میں تبدیل کر دیا۔ فاروق گیلانی مرحوم بہت پیارا دوست اور ان دنوں جائنٹ سیکرٹری فنانس تھا جب ایک روز باتوں باتوں میں اس نے میرے ایک سوال کے جواب میں یہ تاریخی جملہ بولا’’یار حسن نثار! اس ملک کی معیشت اس کے سوا کچھ بھی نہیں کہ ہر آدمی کا ہاتھ کسی دوسرے آدمی کی جیب میں ہے۔‘‘ ہم سب بخوبی جانتے ہیں کہ صورتحال سچ مچ ایسی ہی ہے سو ایسے ماحول میں اگر پی ٹی آئی کے تین صرف تین وزراء کی کرپشن ثابت ہو بھی جائے تو حیرت کیسی؟ تین کیا نو بھی ہوتے تو میرے نزدیک یہ کوئی خبر نہیں اصل خبر یہ ہے کہ دو مہینوں کے اندر اندر ان کی نشاندہی ہو گئی، وارننگ بھی مل گئی اور انہیں خوشخبری بھی سنا دی گئی کہ الزامات ثابت ہو گئے تو برطرف بھی کر دیئے جائیں گے۔ میرے نزدیک یہی وہ ’’تبدیلی‘‘ ہے جسے میں مختلف مثالوں کے ساتھ سمجھاتا رہا کہ بھول جائو عمران کے گرد کون کرپٹ ہے، اصل بات یہ کہ کوئی کرپٹ زیادہ دیر نہ بچ سکے گا نہ رہ سکے گا۔ چند کرپٹوں کو عبرت کا نشان بنا کر کوڑے دان میں پھینک دیا گیا تو باقی سب کی سلوٹیں بھی استری ہو جائیں گی اور یہی لیڈر شپ کا کمال ہے۔ چند روز پہلے زلزلہ آیا، وزراء باہر بھاگے، عمران بیٹھا رہا تو بھاگنے والوں کو بھی شرمو شرمی واپس آنا پڑا۔ اسی طرح بددیانتوں کو بھی بتدریج دیانت کی طرف واپس آنا پڑے گا کہ انسان پیدائشی طور پر گنہگار نہیں ہوتے، حالات، ماحول، تربیت اور صحبت اسے گنہگار بنا دیتے ہیں۔ اچھوں کو اچھا کیا کرنا، لیڈر شپ کا اصل چیلنج ہی یہ ہے کہ جو جتنا برا ہو، اسے اتنا ہی اچھا کر دے۔ خیر الدین بار بروسا بحری قذاق تھا جسے سلمان عالیشان جیسے حکمران نے اسلامی تاریخ کا سب سے بڑا امیر البحر بنا دیا۔اب چلتے ہیں آصف زرداری صاحب کی طرف جن کے تازہ ترین ارشادات، تضادات کا شاہکار ہیں۔ زرداری صاحب نے چیئرمین ’’نیب‘‘ جسٹس (ر) جاوید اقبال کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ’’چیئرمین نیب‘‘ خود برے نہیں، ان کی سوچ اور طور طریقے برے ہیں، کرسی پر بیٹھ کر سوچ بدل جاتی ہے۔ ‘‘ سبحان اللہ کیا منطق ہے۔ بندہ پوچھے بھائی انسان تو اچھا برا ہوتا ہی اپنے طور طریقوں اور سوچ کے باعث ہے، ورنہ کس کے تین بازو یا چار ٹانگیں ہوتی ہیں؟ کون ہے جس کی تیسری آنکھ گردن کے پیچھے جڑی ہوتی ہے یا رگوں میں خون کے علاوہ کچھ اور دوڑتا ہے؟ کوئی ہے جسے بھوک پیاس نہ لگتی ہو اور وہ پیروں کی بجائے ہاتھوں پر چلتا ہو؟انسان کی سوچ، کرتوت، طور طریقے، اعمال ہی تو اچھے برے ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر اس کے اچھے یا برے ہونے کا تعین کیا جاتا ہے۔ سو یہ منطق تو میرے خالی سر کے اوپر سے گزر گئی ہے کہ ’’چیئرمین نیب‘‘ خود تو برے نہیں، ان کی سوچ اور طور طریقے برے ہیں۔ ‘‘اور چیئرمین ’’نیب‘‘ کی سوچ کیا ہے؟ سوائے اس خواب کے کہ اس ملک کو اس کے موذی اور مہلک ترین مرض کرپشن سے نجات مل جائےاور طور طریقے کیا ہیں؟وہی جو ’’کتاب‘‘ میں لکھے ہیں اور یہ ’’کتاب‘‘ چیئرمین ’’نیب‘‘ نے خود نہیں لکھی اور نہ وہ خود گن پوائنٹ پر اس کرسی پر قابض ہوئے جس کے بارے زرداری صاحب کہتے ہیں ’’کرسی پر بیٹھ کر سوچ بدل جاتی ہے۔‘‘لیکن ہمارا تو معاشرہ ہی الٹا اور عجیب ہے جس میں منشا بم صاحب بھی کہتے ہیں کہ انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور سابق وزیر اعظم بھی سرعام کہتا ہے کہ میرے اثاثے میری آمدنی سے زیادہ ہیں تو کسی کو کیا تکلیف ہے؟

You can find here amar jaleel columns, amar jaleel, amar jaleel latest columns,  Haroon ur Rasheed Columns, Nusrat Javed Columns, Ajmal Niazi Urdu Columns,  javed chaudhry, Javed Chaudhry Columns, irshad bhatti, sohail warraich, Sohail  Warraich, Sohail Warraich  Columns, Ayaz Ameer Urdu Columns Today, Ayaz Ameer  Columns, Ayaz Ameer,rauf klasra, rauf klasra columns, jang columns, hassan  nisar, hassan nisar columns, orya maqbool jan columns, orya maqbool jan, Mazhar  Barlas Urdu Columns Today,  Mazhar Barlas Latest Columns etc.

hassan nisar columns today,  hassan nisar columns, hassan nisar columns 2018, hassan nisar best columns,

آج کا کالم…..کالم کم کاک ٹیل زیادہ ہے۔سکندر اعظم کوئی شاعر، ادیب، دانشور، گلوکار، موسیقار، سنگتراش، مصور نہیں ، سرتاپا ایک مہم جو، ایک جنگجو تھا جو صرف ہتھیار کی زبان سمجھتا اور بولتا تھا لیکن وہ بھی یہ کہنے پر مجبور ہوا کہ…..’’میں اپنے باپ سے بھی بڑھ کر اپنے استاد کی عزت کرتا ہوں کیونکہ میرا باپ مجھے آسمانوں سے زمین پر لایا جبکہ میرا استاد مجھے زمین سے اٹھا کر آسمان تک لے گیا۔‘‘سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی، کئی کتابوں کے مصنف، کئی قابل تحسین پیپرز کے خالق پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران اور ان کے ساتھی، ہمعصر دیگر اساتذہ کے ساتھ جو سلوک کیا گیا، یہ سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ ہم کون ہیں اور کہاں کھڑے ہیں؟ ڈاکٹر مجاہد کامران میرے بھائی، قریبی دوست اور ہم عصر بھی ہیں۔ ایم ایس سی فزکس کے بعد مجاہد نے جب ڈاکٹریٹ کرنے کے بعد ٹیچنگ میں جانے کے ارادوں کا اعلان کیا تو سب حیران ہوئے کہ جو بہ آسانی سول سروس میں جا سکتا ہے وہ اس کام کی طرف کیوں جارہا ہے جس کی کوئی خاص پذیرائی موجود نہیں لیکن استاد بننا اس کی خواہش بھی تھی اور خواب بھی لیکن اس خواب کی تعبیر کتنی افسوسناک بلکہ شرمناک نکلی….. مجاہد کامران کے لئے نہیں، میرے اور آپ کے لئے!اس گہری تہہ در تہہ تاریکی کا ایک پہلو روشن ہے اور وہ یہ کہ اوپر سے

نیچے، یہاں تک کہ خود’’نیب‘‘ کے اندر سے جو ردعمل سامنے آیا، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مردہ جسم میں ابھی جاں باقی ہے، راکھ کے ڈھیر میں کچھ شعلے اور چنگاریاں ابھی زندہ ہیں، منشا بم معاشرہ میں ابھی دم موجود ہے۔ دوسرے موضوع کا تعلق بھی تعلیم و تدریس سے ہے۔چیف جسٹس نے کہا ہے کہ نجی اسکول آڈٹ شدہ اکائونٹ پیش کریں تاکہ ازسرنو معقول، متوازن فیسوں کا تعین کیا جاسکے۔ چیف جسٹس نے نجی اسکول مالکان سے کہا’’آپ اپنی مرضی کی فیسیں چارج کرر ہے ہیں اور کہتے ہیں یہ آپ کا’’رائیٹ ٹوٹریڈ‘‘ ہے تو کیا آپ تعلیم فروخت کررہے ہیں۔‘‘ ذرا غور کریں تعلیم و تدریس کے حوالہ سے ’’رائٹ ٹو ٹریڈ‘‘ کی اصطلاح کتنی ولگر سی محسوس ہوتی ہے۔ اس مائنڈ سیٹ کے نزدیک فرنیچر، آلو چھولے، برقی آلات ، کپڑا ، جوتا ، کاسمیٹکس، نان روٹی وغیرہ اور تعلیم’’بیچنے‘‘ میں کوئی فرق نہیں اور وہ شے جسے’’ مومن کی گمشدہ میراث‘‘ کہا گیا ان کے نزدیک عام کاروبار اور دھندے جیسی ہی کوئی شے ہے تو ہمیں اس کے نتائج بھگتنے کے لئے بھی تیار رہنا چاہئے۔ سرکاری اسکول ہم پہلے ہی ویران کرچکے ہیں اور اب مادرپدر آزاد نجی اسکول یعنی تعلیم کی فیکٹریاں بھی خطرے میں ہیں تو شاید ابھی سنبھلا سنبھالا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہے گی۔ من مرضی کی فیسیں صرف ایک پہلو ہے۔ میں پہلے بھی یہ عرض کرچکا ہوں کہ ہائی پروفائل اسکولوں میں بھی اساتذہ اپنے کام کے ساتھ انصاف نہیں کرتے تاکہ ان کی اکیڈیمیز میںہجوم بڑھتا رہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ کہ اساتذہ Underpaidہیں اور پیٹ ان کے ساتھ بھی لگا ہے تو کوئی کرسکے تو اتنا ضرور کرے کہ فیسوں اور اساتذہ میں کوئی تناسب تلاش کرے ورنہ سرکاری اسکولوں کے بعد ا گر نجی

اسکولوں کا بھٹہ بھی بیٹھ گیا تو رہی سہی کسر پوری ہوجائے گی اور اس نقصان کا ا زالہ شاید ممکن نہ ہو۔تعلیم انڈسٹری ہے تو سروس انڈسٹری ’’رائٹ ٹو ٹریڈ‘‘ کے سامنے رائیٹ ٹو ریگولیٹ بھی کوئی شے ہوتی ہے۔اور اب چلتے ہیں کچھ غیر تعلیمی موضوعات کی طرف مثلاً چین نے کہا ہے کہ’’غربت کے خاتمے اور کرپشن سے جنگ کے لئے پاکستان کے ساتھ تعاون کریں گے۔‘‘ اصل میں دونوں ایک ہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں غربت اور جہالت کی بڑی وجہ ہی کرپشن ہے لیکن کیا ہم واقعی کرپشن کے خاتمے کے لئے سنجیدہ ہیں؟ اور اگر واقعی ہیں تو پھر ہمیں وہی کچھ کرنا ہوگا جو چین نے کیا اور کررہا ہے۔ اس مرض کا علاج

دوا دارو اور دم درود نہیں ….. سرجری ہے اور سرجری کی بہت سی قسمیں ہیں جن میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا، چاہے لیزر سے ہی کیوں نہ ہو۔بصورت دیگر تو حال یہ کہ بڑے سے بڑا کرپٹ بھی پورے اعتماد کے ساتھ کرپشن سے انکاری، شاید اس لئے بھی ہے کہ وہ کرپشن کو کرپشن سمجھتا ہی نہیں ، ورنہ خم ٹھونک کر سرعام کوئی یہ نہ کہے کہ’’ایک دھیلے کی کرپشن بھی ثابت ہوجائے تو بعد از مرگ بھی مجھے قبر سے نکال کر پھانسی پر لٹکا دینا۔‘‘ کہ اول تو وائٹ کالر کرائم کا’’ثابت‘‘ ہونا ہی معجزہ، دوسرا یہ کہ ’’ٹریڈ رائٹ‘‘ کی طرح اگر کرپشن کو بھی ’’برتھ رائٹ‘‘ سمجھ لیا جائے تو کون سی کرپشن؟انتہاء یہ کہ جس منشا بم پر 80سے زیادہ ایف آئی آرز درج ہیں، وہ بھی اسے’’سیاسی انتقام‘‘ اور خود کو خاندانی قرار دے رہا ہے جبکہ ایس پی صدر کا کہنا ہے کہ منشا بم کو قبضوں کی جائیدادوں سے ڈیڑھ تا دو کروڑ روپے کرایہ ملتا ہے۔ہر کرپٹ، کرپشن کو ’’کاروبار‘‘ سمجھ کے کرے گا، ’’چوری میرا پیشہ نماز میرا فرض‘‘ پر یقین رکھے گا تو مانے گا کیسے اور کیوں؟ند تجاویز تو بیچ میں ہی رہ گئیں لیکن یار زندہ صحبت باقی۔ان شاء اللہ کل سہی۔


You can find here amar jaleel columns, amar jaleel, amar jaleel latest columns, Haroon ur Rasheed Columns, Nusrat Javed Columns, Ajmal Niazi Urdu Columns, javed chaudhry, Javed Chaudhry Columns, irshad bhatti, sohail warraich, Sohail Warraich, Sohail Warraich  Columns, Ayaz Ameer Urdu Columns Today, Ayaz Ameer Columns, Ayaz Ameer,rauf klasra, rauf klasra columns, jang columns, hassan nisar, hassan nisar columns, orya maqbool jan columns, orya maqbool jan, Mazhar Barlas Urdu Columns Today,  Mazhar Barlas Latest Columns etc.


ایک سنجیدہ اورنسبتاً خشک موضوع پر قلم اٹھانے سے پہلے دو ہلکے پھلکے موضوعات پر دعوت فکر، شہریوں پر گورنر ہائوس کے دروازے کھلنے سے یہ ’’راز‘‘ بھی کھل گیا کہ ہم کس قماش و کلاس کے لوگ ہیں۔ غور کریں یہ کاہنے کاچھے نہیں، لاہور اور اہل لاہور جیسے اہم شہر اور شہریوں کی بات ہورہی ہے۔ ہم سیاستدانوں، سرکاری ملازموں کے تو بہت لتے لیتے ہیں۔ آج ذرا اپنے گریبان میں بھی جھانک لیں۔ سیر کیلئے آنے والی فیملیز نے جہاں تک بس چلا گورنر ہائوس ادھیڑ کر رکھ دیا۔ وہی کیا جیساکبھی ’’زندہ دلان‘‘ منگولیا کے تاتاریوں نے عروس البلاد بغداد کے ساتھ کیا تھا۔ کچے پھل کھونچ کھونچ اور نوچ نوچ کر پھل دار درخت ننگے اور گنجے کردیئے گئے۔ کچ پکی سبزیاں اکھاڑ لی گئیں۔ خوبصورت لان کبڈی کے میدان سے بدتر کردیا گیا۔ گھاس کے ساتھ گھمسان کا رن ڈال کر کشتوں کے پشتے لگا دیئے گئے۔ گھاس کی ہریالی اور کوملتا کو روند کر رکھ دیا گیا۔ بقول شخصے مال غنیمت کی طرح جس کے ہاتھ جو لگا وہ لے اڑا۔ واقعی شکرے کے لئے کبوتر کے خون سے زیادہ مزہ کبوترپر جھپٹنے میں ہے اور ’’الٹنا پلٹنا پلٹ کر جھپٹنا، لہو گرم رکھنے کا ہے ایک بہانہ‘‘۔ تاریخی شہر لاہور کے تاریخی لوگوں نے دشت تو دشت، دریا بھی نہ چھوڑے اور وہ اس طرح کہ شہری جھیل کے پل پر چڑھ دوڑے جو بیچارہ اتنا بوجھ برداشت نہ کرسکا اورکسی سولہ سالہ دوشیزہ کے دل کی طرح ٹوٹ گیا جس پر مجھے نسیم حجازی کا ناول ’’اور تلوار ٹوٹ گئی‘‘ یاد آیا۔واقعی نئیں ریساں شہر لاہور دیاں اور نہ لہوریاںدیاں جن کی زندہ دلی ضرب المثل ہے اور یہ بھی کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا اور جو پیدا ہو جائے اس کا سب سے بڑا مسئلہ یہ بتایا گیا کہ ’’بارہ دروازے تے تیرہ میلے گھر جاواں میں کیہڑے ویلے‘‘۔ حیرت ہے کہ نسل در نسل میلوں ٹھیلوں کا وسیع تجربہ ہونے کے بعد بھی گورنر ہائوس کا ’’میلہ‘‘ نبھایا نہ گیا کہ میلوں کی بھی قسمیں ہوتی ہیں۔ ہر میلہ ہر کسی کیلئے نہیں ہوتا لیکن یہیں رک جائوں تو بہتر ہے ورنہ بات بہت دورنکل جائے گی….. اتنی دور کہ وہاں سے ’’اچے برج لہوردے‘‘ بھی نظر نہیں آئیں گے۔ صرف ایک آوازسنائی دے گی کہ فاتحین کی گزرگاہوں پر ایسا ہی ہوتا ہے۔معاف کیجئے کہ منظر تو ابھی تک ادھورا ہے۔ پورا منظر میں نے ٹی وی سکرینوں پر دیکھا ہے۔ گورنر ہائوس کی سیر کرنے والے جا چکے تھے لیکن ان کی نشانیاں دور دور تک بکھری ہوئی تھیں۔ بدصورتی کے خوب صورت یادگار شہکار جا بجا ’’ثنا خوان تقدیس مشرق‘‘ کو پکار رہے تھے کہ ایسی تیسی اہل مغرب کی۔ کوئی ہم سا ہو تو سامنے آئے اور ہم سے ملتا جلتا ہی کر دکھائے۔ جگہ جگہ پانی اور جوسز کی خالی بوتلیں اور ڈبے، استعمال شدہ ٹشو پیپرز کی پہاڑیاں، پھلوں کے چھلکے، برگرز، سینڈوچز کی پیکنگ، مختلف رنگوں اور اقسام کے شاپرز، سگریٹوں کے ٹوٹے اور خالی ڈبیاں سیرکر کے جانے والوں کے ’’وزیٹنگ کارڈز‘‘ کی طرح گوروں کے گورنر ہائوس کا مذاق اڑا رہی تھیں۔ کلونیل دور کی یادگاروں کے ساتھ ایسا سلوک ہی ہونا چاہئے تھا۔ شکر ہے جو پل ٹوٹا اس کی جھیل گہری نہ تھی ورنہ ممکن تھا ’’فاتحین‘‘ میں سے کچھ ڈوب کر مر جاتے لیکن جھیل میں چلو بھر پانی تو ضرور ہوگا۔ یہ خیال بھی آتا ہے کہ اگر گورنر ہائوس چودہ اگست 1947ء کو ہی کھول دیا جاتا تو شاید ستر سال میں ہمیں اسے برتنے کی تمیز تہذیب آگئی ہوتی لیکن خیر ہے۔ دیر آید درست آید۔اس ’’درست آید‘‘ میں دوسرا موضوع بھی شامل کرلیں تومزہ دوبالا ہو جائے گا۔ یہ مزہ دراصل اس میچ کا ہوگا جو ’’بیوروکریسی‘‘ اور سیاسو کریسی‘‘ میں شروع ہونے والا ہے بلکہ ہو چکا ہے۔ عمران خان کی شدید خواہش ہے کہ پولیس اور دیگر سول سروسز کو سیاسی مداخلت سے پاک، آزاد اور علیحدہ کر دیا جائے۔ مجھے یقین ہے یہ ’’میچ‘‘ بیحد دلچسپ اور یادگار ہوگا۔یہ ایک ایسا میچ ہوگا جس میں نہ ہار جیت ہوگی نہ یہ ڈرا ہوگا۔سیاستدان عوام کے نمائندے۔بیوروکریسی پبلک کی سرونٹ یعنی نوکر۔ایک طرف عوام کے نمائندے ہوں گے تو دوسری طرف عوام کے نوکر ….. عوام درمیان میں ہوں گے تو اس بات کا اندازہ آپ خود لگا لیں کہ ان دو پاٹن کے بیچ آنے والوں کا بنے گا کیا؟ اور اگر دونوں پاٹ یعنی چکی خالی چلائی گئی تو چکی کا کیا حشرہوگا؟قارئین! اصل موضوع یعنی 50لاکھ سمارٹ گھروں کی تعمیر کے سلسلہ میں چند تجاویز تو بیچ میں ہی رہ گئیں لیکن یار زندہ صحبت باقی۔ان شاء اللہ کل سہی۔

You can find here amar jaleel columns, amar jaleel, amar jaleel latest columns, Haroon ur Rasheed Columns, Nusrat Javed Columns, Ajmal Niazi Urdu Columns, javed chaudhry, Javed Chaudhry Columns, irshad bhatti, sohail warraich, Sohail Warraich, Sohail Warraich  Columns, Ayaz Ameer Urdu Columns Today, Ayaz Ameer Columns, Ayaz Ameer,rauf klasra, rauf klasra columns, jang columns, hassan nisar, hassan nisar columns, orya maqbool jan columns, orya maqbool jan, Mazhar Barlas Urdu Columns Today,  Mazhar Barlas Latest Columns etc.

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget