کالم لسٹ "Jang News"

نواز، مریم خود ساختہ خاموشی، خزاں کے پتے بنی اپوزیشن، حکومتی بونگیاں، کرپشن، احتساب، بحث زوروں پر تھی، اچانک میں نے حسن نثار صاحب سے پوچھ لیا ’’بڑوں نے اتنا کچھ جمع کر لیا، کیا جو پاس نہیں، ارب، کھرب پتی ہو گئے، پھر بھی پیٹ ہیں کہ بھر ہی نہیں رہے، کیوں؟‘‘ حسن نثار بولے ’’بھریں گے بھی نہیں‘‘ میں نے حیران ہوکر کہا ’’کیوں‘‘ کہنے لگے ’’اقتصادیات کا بنیادی اصول ’لاء آف مارجنل یوٹیلٹی‘ قانونِ افادۂ مختتم بتائے کہ کوئی شخص پیاس سے مر رہا ہو یا اتنا پیاسا ہو کہ ایک گلاس پانی کے بدلے وہ اپنی کل جمع پونجی دینے پر بھی تیار ہو جائے، تب بھی چار، 5گلاس پانی پینے کے بعد کہہ دے گا کہ بس، کوئی مزید پانی پلانا چاہے گا تو کہہ دے گا، بس بھائی بس، پہلے پیاس سے مر رہا تھا اب پانی پلا پلا کر مارنا ہے، اسی طرح کوئی اتنا بھوکا بھی ہو کہ مرنے کے قریب، آخری دموں پر، وہ ایک، دو، تین، ہو سکتاہے کہ 10روٹیاں بھی کھا لے مگر جب پیٹ بھر جائے گا، کوئی مزید کھانے کیلئے کہے گا تو جواب آئے گا حضور بس... بھو ک سے تو بچ گیا، کیا اب کھلا کھلا کر مارنا ہے‘‘۔

لیکن اقتصادیات کا یہ ’لاء آف مارجنل یوٹیلٹی‘ کلکٹرز مطلب جمع کرنے والوں پر آکر بالکل ہی الٹ ہو جائے، جیسے کوئی نوادرات جمع کرنے والا، 10ہزار نوادرات بھی جمع کر چکا ہو، 20ہزار نوادرات بھی اس کے پاس ہوں، تب بھی وہ رُکے گا نہیں، اور، اور کا چکر چلتا رہے گا، اسی طرح نایاب ٹکٹیں جمع کرنے والا، جتنی نایاب ٹکٹیں زیادہ ہوتی جائیں گی، اتنی ہی ٹکٹوں کی بھوک بڑھتی جائے گی، یہی حال دو لت collectorsکا، جتنی دولت آتی جائے گی، اتنی ہی دولت کی بھوک بڑھتی جائے گی، یعنی ’دا مور یو ہیو‘ ’دا میریئر یو وانٹ‘، کوئی حد نہیں، بندہ انسان سے حیوان، مگر پیٹ بھرنے کا کوئی چانس نہیں، الٹا پیٹ کا سائز بڑھتا رہے گا، لہٰذا ہمارے نو دولتیوں کا بھی یہی حال کہ سائیکل والوں نے جہاز لے لئے مگر ہوس ختم نہ ہوئی، جھونپڑی والے محلوں میں آ گئے مگر حرص نہ گئی۔

استادِ محترم کی تھیوری پر جوں جوں سوچا، توں توں doubtsکلیئر ہوئے، سوچ رہا زرداری صاحب کہاں سے چلے تھے، کہاں آگئے مگر مجال ہے کہ گاڑی کہیں رُک رہی ہو، ابھی دو دن پہلے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں چیف جسٹس، زرداری صاحب کے دستِ راست انور مجید سے مخاطب تھے ’’لانچوں سے بھیجے گئے پیسے واپس کر دیں، آپ کے گھر کے سامنے گھر، اس کے اندر گڑھا اور گڑھے سے جو کاغذات ملے، ہمیں اس کا بھی پتا اور دولت رحمت، اسے زحمت نہ بنائیں‘‘ اب زرداری صاحب سہارے کے بنا چل نہ پائیں، رات کو حفاظتی حصاروں کے بعد بھی اسلحہ رکھ کر سوئیں، انور مجید دو قدم چلنے سے قاصر مگر مجال ہے کہ کسی مرحلے پر بھی کوئی بولا ہو ’’غلطی ہو گئی‘‘، مجال ہے کسی کو کوئی پچھتاوا ہو، بات وہی کہ ’دا مور یو ہیو، دا میریئر یو وانٹ‘ لالچ ختم ہو رہا، نہ حرص وہ وس کا کوئی endاور نہ پیٹ بھر رہے، یہ سوچ آہی نہیں رہی کہ بندہ اس لئے نہیں کماتا کہ سکون نہ چین، رسوائی ہی رسوائی، یہ خیال آہی نہیں رہا کہ یہاں بچ بھی گئے تو اگلے جہان کیا بنے گا، وہاں تو ریکارڈ جلایا جا سکے گا نہ اصل کاغذات غائب کرائے جا سکیں گے۔

ہاؤس آف شریفس کو لے لیں، 69روزہ جیل، مزاحمت، بغاوت اور انقلاب سب غباروں سے ہوا نکال چکی، باپ، بیٹی ’چپ کر دڑ وَٹ جا‘ کی تصویر بنے بیٹھے، داماد کا اتا پتا ہی نہیں، دونوں بیٹے اور سمدھی اشتہاری، شہباز شریف نیب کی حراست میں، حمزہ، سلمان پیشیاں بھگت رہے، داماد مفرور، اللہ تعالیٰ نے کیا نہ دیا، عزت، شہرت، دولت، نام، مقام اور اللہ نے کتنے مواقع دیئے، اب سنبھل جاؤ، اب ہی سنبھل جاؤ، مگر خواہشات کا گھوڑا سرپٹ بھاگتا رہا، سب جانیں، مانیں کہ جانا ڈھائی گز کی قبر میں مگر کھڑے کر لئے 25پچیس ہزار کنال کے محل، بنا لیں 5پانچ براعظموں میں جائیدادیں، اتنا اکٹھا کر لیا کہ حساب دینا مشکل، اتنا جمع کر لیا کہ اگلی سات نسلیں صرف نوٹ کھائیں، پھر بھی ختم نہ ہو، لگ رہا کہ ان سب نے قیامت تک زندہ رہنا، ’میرے اثاثے ذرائع آمدنی سے زیادہ تو تمہیں اس سے کیا‘ جی بالکل! ہمیں اس سے کیا، ہماری کیا مجال، اوقات کہ پوچھ، جان سکیں، مگر آگے جا کر پوچھ لیا گیا تو کیا یہی کہیں گے کہ ’میرے اثاثے ذرائع آمدنی سے زیادہ تو تمہیں اس سے کیا‘ کیا یہ کہہ پائیں گے مگر بات وہی کہ ’دا مور یو ہیو، دا میریئر یو وانٹ‘ یہ پیٹ قبر کی مٹی ہی بھرے گی۔

اپنی تو گزر ہی جائے گی، اپنے بچوں، اگلی نسل کی فکر اور یہ فکر خوف میں تب بدلے، جب دیکھوں کہ عمران خان کے بعد تحریکِ انصاف پانی کا بلبلہ، پی پی اور بھٹو کا وارث بلاول جو ڈیڑھ ارب اثاثوں کا مالک، یہ الگ بحث کہ کیوں اثاثے اتنے سستے کہ اسلام آباد کی نواحی زمین آٹھ روپے فی مرلہ اور اسلام آباد کا گھر 20پچیس لاکھ بلکہ 70کلفٹن 40لاکھ کا، یہ رہنے دیں، یہ سنیں کہ کاغذاتِ نامزدگی بتائیں ارب پتی بلاول نے چار آنے کی خیرات بھی نہ کی، دل تو یہ بھی پوچھنے کو کر رہا کہ دس سال سے سندھ میں حکومت، بلاول کتنی بار تھر گئے، کیا مدد کی مرتی مخلوق کی، بس خوبصورت تقریریں کرے جا رہے، تھر میں بچے مرے جا رہے، صرف گزشتہ 11ماہ میں ساڑھے 5سو بچے مر چکے، اللہ بلاول کو خاندان سمیت اپنے حفظ و آمان میں رکھے مگر جب کوئی اپنا مرے تو لگ پتا جائے، تھر والوں کا قصور یہی کہ وہ کسی کے اپنے نہیں، ورنہ اپنوں کو کون بھوک اور بیماری کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہے، آگے سنئے مسلم لیگ کا مستقبل حمزہ اور مریم کے حوالے، یعنی آگے چل کر اقتدار ن لیگ کو ملا تو میرے بچوں کے حکمراں مریم اور حمزہ، اپنے کاغذاتِ نامزدگی کے مطابق 84کروڑ اثاثوں کی مالک مریم نواز کے بارے میں صرف ان کا یہی سچ کافی کہ ’’میری بیرونِ ملک تو کیا، اندورنِ ملک بھی کوئی جائیداد نہیں‘‘، حمزہ شہباز نے بحیثیت ڈپٹی وزیراعلیٰ گزشتہ 10سالوں میں کیا تیر چلائے، وہ سب کے سامنے۔

نہ سوچیں تو جیسا کل ویسا آج، نہ سوچیں تو امیر، غریب ایک دن سب کو ہی مر جانا لیکن سوچیں تو دکھ ہی دکھ، اندھیرا ہی اندھیرا، سوچیں تو ایک طرف عوام ’’ناکوں، دھماکوں اور فاقوں‘‘ والی فلم دیکھی جا رہے، دوسری طرف بڑوں نے ’’حال بچاؤ، آل بچاؤ اور مال بچاؤ‘‘ والی فلم چلا رکھی، ایک طرف انسان جانوروں سے بھی بدتر، دوسری طرف انسان بھگوان بنے بیٹھے، ایک طرف انصاف مل نہیں رہا، دوسری طرف انصاف ہو نہیں رہا، ایک طرف کوئی بول نہیں رہا، دوسری طرف کوئی سن نہیں رہا، ایک طرف لُٹ لُٹ، بھٹک بھٹک کر بھی کسی کو عقل نہ آئی، دوسری طرف لوٹ لوٹ کر اور بھٹکا بھٹکا کر بھی جی نہ بھرا، ایک طر ف پیٹ کے لالے پڑے ہوئے اور دوسری طرف ’دا مور یو ہیو، دا میریئر یو وانٹ‘ پھر سے چیف جسٹس یاد آجائیں ’’دولت تو رحمت، اسے زحمت کیوں بنا رہے، ذرا مقامِ عبرت تو ملاحظہ ہو کہ 22کروڑ کو زحمت میں ڈال کر ’رحمت‘ سمیٹنے والوں کیلئے آج وہی رحمت زحمت بنی ہوئی‘‘۔

کیا منظر تھا ، زرداری صاحب اور شہباز شریف کا معانقہ بھرا مصافحہ کرنا، ایک دوسرے کو ضرورت بھرے پیار سے دیکھ دیکھ مسکرانا، پہلے آپ ،نہیں پہلے آپ کہہ کر اسمبلی ہال میں قدم رنجہ فرمانا ،مل بیٹھنے ، رابطے رکھنے کے عہدوپیماں کرنا۔ وقت بھی کیا ظالم شے ہے ، کل شہباز شریف جسے چوکوں ،چوراہوں میں لٹکانا چاہتے تھے ، جو چا لیس چوروں کا علی بابا تھا ، جسکا پیٹ چیرنا تھا ، جسے لاہور، لاڑکانہ کی سڑکوں پر گھسیٹنا تھا ، جسکے بار ے میں فرمایا کرتے ’’غیروں کے سامنے جھکنے والے زرداری تم نے تو ملک کا حشر نشر کر دیا ،بھکاری بنا دیا‘‘، وقت بدلا،مطلب پڑاتو اسی زرداری صاحب سے جپھی مارنے میں ایک سیکنڈ نہ لگایا ، زرداری صاحب کی سن لیں، کل تک ’شریفوں ‘ کا اصلی والا احتساب چاہتے تھے ،وہ مغل بادشاہ مطلب نواز شریف کی گرفتاری چاہتے تھے ، فرمایا کرتے ’’ میاں صاحب نے پاکستان کی جڑیں کاٹ دیں، وہ تو ’گریٹر پنجاب ‘ بنانے کے چکر میں ‘‘،منی لانڈرنگ کا گھیرا تنگ ہوا تو کل تک ’شریفوں‘ کو پکڑائی نہ دینے والے زرداری صاحب شہباز شریف کا ہاتھ پکڑے کھڑے ملے ، بھول گئے کہ نواز شریف کو دھرتی کا ناسور کہہ چکے ،مُک گیا تیرا شو نواز،گو نواز گو نوازکے نعرے مارچکے ، بھول گئے کہ جب نواز شریف ملنے کی درخواستیں کررہے تھے تو انکا جواب ہوتا ’’مومن ایک سوراخ سے بار بار نہیں ڈسا جاتا‘‘ وقت بھی کیا ظالم شے ہے،آج مومن پھر ڈسے جانے کی خواہش میں تڑپ رہا اور بلاول جس قاتل اعلیٰ سے ماڈل ٹاؤن قتلوں ،کمیشنوں ،کرپشنوں کا حساب لینا تھا ، کے پاپا اسی سے تجدید ِمحبت فرما رہے ۔

جب بھی سوچوں یہ کل جھوٹ بول رہے تھے یا آج اداکاریاں کر رہے ، یہ کل سچے تھے یا آج جھوٹے ،یہ کل صراطِ مستقیم پر تھے یاآج بھٹک گئے اوریہ کل دھوکے دے رہے تھے یا آج فراڈ کر رہے تو لگے یہی کہ کل بھی ہیراپھیریاں اور آج بھی گھمن گھیریاں ، کیونکہ یہ سب جماندرو سیانے ،ا ن کا بولنا، ان کی خاموشی ، ان کی تردیدیں ، انکی تصدیقیں ، ان کے دعوے ،انکے وعدے، انکی معصومیت ،انکی مظلومیت ،انکا ملنا، مل کر بچھڑنا ، بچھڑ کر ملنا،سب کچھ منصوبہ بندی سے ، سب کچھ اپنے فائدے کیلئے ،کل جب زرداری صاحب نے’ اینٹ سے اینٹ‘ بجانے والی تقریر فرمائی تو نواز شریف نے نہ صرف اگلی صبح طے شدہ ناشتہ میٹنگ کینسل کردی بلکہ پلٹ کرخبر ہی نہ لی کیوں ، اس لئے کہ تب نواز شریف کا اسی میں فائدہ تھا، جب میاں صاحب پاناما میں پھنسے تو زرداری صاحب نے خواجہ آصف کا فون سننا بھی گوارہ نہ کیاکیوں ،اس لئے کہ تب زرداری صاحب کا اسی میں فائدہ تھا، دھرنوں کے دورا ن دونوں اکٹھے تھے کیوں ،اس لئے کہ تب اسی میں دونوں کا فائد ہ تھا، یا د آیا برے وقتوں میں جس خواجہ آصف کا زرداری صاحب نے ایک فون بھی نہ سنا، اسی خواجہ آصف نے وصیت کے زور پر پارٹی چیئرمینی لے چکے زرداری صاحب کی تب مدد کی جب وہ وزارت عظمیٰ کی دوڑ سے امین فہیم کو آؤٹ کرنا چاہ رہے تھے ،پھر خواجہ آصف نے کیسے نواز شریف کی مرضی سے امین فہیم کے خلاف یہ بیان دے کر کہ ’’ ان کے تو اسٹیبلشمنٹ سے درپردہ تعلقات ہیں ‘‘ مخدوم صاحب کا پتا صاف کیا ،یہ سب ،سب کومعلوم ۔

آج چونکہ نواز شریف کو اوپر تلے 3ریفرنسز کا سامنا، شہباز شریف آشیانہ اور56کمپنیوں کے رُولوں میں اورزرداری صاحب، بہن اور چہیتوں سمیت منی لانڈرنگ دلدل میں،لہٰذا آج پھر فاصلے سمٹ رہے کیوں ،اس لئےکہ اسی میں ان کا فائدہ ، اس بار’ میلاپ گاڑی ‘کے ڈرائیور مولانافضل الرحمٰن ، وہ ڈرائیونگ سیٹ پر کیوں، اس لیے کہ اسی میں ان کا فائدہ ،ا س طرح تو ہوتا ہے ،اس طرح کے کاموں میں ،نواز شریف اقتدار میں تھے تو ڈان لیکس غلط ،اقتدار سے نکلے تو ڈان لیکس ٹھیک کیوں ،اس لئے کہ اسی میں ان کا فائدہ ،نواز شریف وزیراعظم تھے تو ’عمران دھرنوں‘ کے پیچھے کوئی خفیہ ہاتھ نہ تھا ،وزارت عظمیٰ گئی تو دھرنوں کے پیچھے خفیہ ہاتھ نظر آگیا کیوں، اس لئےکہ اسی میں ان کا فائدہ ،اقتدار میں تھے تو پرویز مشرف کو جانے دیا ،اقتدار سے نکلے تو مشرف کو واپس لانے کی صدائیں دینے لگے کیوں ،اس لئےکہ اسی میں ان کا فائدہ ، جلا وطن تھے تومیثاقِ جمہوریت کی جپھیاں، وطن واپسی ہوئی تو میثاقِ جمہوریت ہَوا ہوئی کیوں، اس لئےکہ اسی میں ان کا فائدہ ،حدیبیہ فیصلہ کرنے والی سپریم کورٹ کما ل کی ، نااہل کرنے والی سپریم کورٹ بغض وعناد سے بھری ہوئی کیوں ، اس لئے کہ اسی میں ان کا فائدہ ۔

شہباز شریف کی بات کر لیں ، راتوں کو مفاہمتیں ،دن کے اجالوں میں حبیب جالبیاں ،اس لئے کہ اسی میں ان کا فائدہ ، ریلی لاہور ائیرپورٹ نہ پہنچے ، فلائٹ اسلام آباد نہ آپائے ، مشکل وقت میں کمر درد نکل آئے کیوں ،اس لئے کہ اسی میں ان کا فائدہ ،زرداری صاحب تو کمال ہی کر چکے، رائے ونڈ جاکر پچاس کھانے کھا لیں یانواز شریف کو قومی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیدیں یابلاول سے نوازشریف کو مودی کا یار کہلو اکر،گلی گلی شور ہے ،نوا زشریف چور ہے کے نعرے لگوالیں ، بی بی کے قاتلوں کو جانتاہوں کہہ کر پھر 5سالہ صدارت میں قاتلوں کی بات نہ کریںکیوں ،اس لئے کہ اسی میں انکا فائدہ، ابھی انتخابات ہوئے ،پہلی اے پی سی ہوئی ،زرداری ،بلاول نہ تھے کیوں ،اس لئے کہ اسی میں ان کا فائدہ ،دوسری اے پی سی میں زرداری ،بلاول کیساتھ نواز،مریم بھی نہیں کیوں ،اس لئےکہ اس میں ان کا فائدہ ،سب نے کہا الیکشن جعلی ،اسمبلیاں نقلی ،سب کے سب اسی سیٹ اپ کا حصہ بن گئے کیوں ،اس لئےکہ اسی میں سب کا فائدہ ۔حال یہ کہ زرداری صاحب بول رہے لیکن خاموشی سے بہت کچھ کر بھی رہے ، نواز شریف بظاہر چپ لیکن اندر اندر بہت کچھ کہہ بھی رہے ، بتانے کا مقصد یہ کہ نواز شریف کی چپ ،زرداری صاحب کا بولنا ،مولانا کی بھاگ دوڑ، سب اپنے اپنے چکر ،سب اپنے اپنے ایجنڈے، سب اپنے اپنے مفادات ،کہیں کیسز ختم کرو، کہیں لاڈلوں کو کچھ نہ کہو ، کہیںمٹی پاؤ،ویسے آپس کی بات ہے جس طرح کا بھی ’ممی ڈیڈی‘ احتساب ہورہا ،قید میں گھر کے کھابے، رنگ برنگی ملاقاتیں ،صبح وشام کی واکیں اورمنڈیلا پن ،حالت یہ کہ شہباز شریف کو دیر سے لانے پر اپوزیشن واک آؤٹ کر جائے اور حکومت ترلے منتیں کرنے مطلب منانے پہنچ جائے، اس ’ممی ڈیڈی ‘ احتساب میں کچھ اگلوایا اور نہ نکلوایا جا سکے گا،اگر کوئی سنجیدہ ہے تو اگلوانے ،نکلوانے کے دوطریقے ،ایک چین کا ،دوسرا سعودی عرب کا ،خیر چھوڑیں ،ذرا یہ ملاحظہ کریں، مولانا، نواز شریف کو ’اے پی سی‘ میں شرکت کیلئے راضی کرنے گئے تو میاں صاحب بولے ’’میری اورمریم کی گرفتاری ‘ پر’ اے پی سی ‘تو کی نہیں ،اب کیوں ہور ہی ‘‘ یقین جانیے اس ایک فقرے میں گزشتہ تین دہائیوں کی سیاست کا نچوڑ ،مطلب مجھے بچایا جو میں اب بچاؤں ، مطلب مجھے بچاتے تو میں تمہیں بچاتا مطلب کل بھی سب کا سب کچھ اپنے اور اپنوں کیلئے، آج بھی سب کا سب کچھ اپنے اور اپنوں کیلئے ،پھر سے اپنا پرانا جملہ یا دآگیا کہ سب کا سب کچھ ’’حال بچاؤ،آل بچاؤ اور مال بچاؤ‘‘۔


کیا کیا بتایا جائے، ملک، ملکی ادارے، سب کچھ خسارے میں، شریفس سے زرداریز تک، بلاول سے حسن، حسین نواز، سلمان شہباز تک، سب سونے کی کانیں، انہیں چھوڑیں، انور مجید کو لے لیں، 2002ء میں پہلی شوگر مل لگائی، آج 2018ء میں 16شوگر ملیں، 19پاور جنریشن منصوبے اور 96کمپنیاں، 2006میں 25لاکھ قرضہ لینے کیلئے نیشنل بینک گئے، کاروباری ساکھ ایسی کہ سفارشوں کے باوجود قرضہ نہ ملا، آج 50ارب قرضہ لیا ہوا، 90ارب قرض لے کر واپس کر چکے، یہ علیحدہ کہانی کہ قرض لیا خود، واپس اوروں نے کیوں کیا، 2002میں پلّے نہ تھا دھیلا، آج صرف پاکستان میں اثاثے 110ارب کے، بیرون ملک جو وہ علیحدہ، کاروبار کس انوکھے طریقے سے ہو رہا، بظاہر شوگر ملیں نقصان میں لیکن capacityاگر 3ہزار ٹن چینی کی، ایکسپورٹ ہو رہی 10ہزار ٹن، کیوں اسلئے کہ فی کلو چینی پر 26روپے سبسڈی مل رہی، جس میں سے ساڑھے 9روپے وفاقی حکومت، باقی سندھ گورنمنٹ دے رہی، شوگر ملوں میں لگے پاور پلانٹس سے 2012-13ءتک 12سے 14 روپے فی یونٹ بجلی بیچی جا رہی تھی، نیپرا بنی تو کہا گیا 8روپے فی یونٹ بیچیں، یہ سندھ ہائیکورٹ چلے گئے، کیس ہار گئے، سپریم کورٹ جانے کے بجائے سندھ اسمبلی چلے گئے، قرارداد پاس ہوئی کہ 8روپے فی یونٹ ہی بجلی بیچیں گے، باقی 5چھ روپے فی یونٹ عوامی فلاح کی خاطر سندھ حکومت سبسڈی دے گی، یہ عوامی فلاح، سبحان اللہ۔

کیا کیا بتایا جائے، اب تک 42جعلی اکاؤنٹس سامنے آچکے، ان میں 47ارب آئے اور گئے، بے نامی اکاؤنٹس 107، ان میں 54جمع کروائے، نکلوائے گئے، کراچی کی بیوہ، لاڑکانہ، جھنگ کے طالبعلم، ریڑھی، رکشے والے، یہ جعلی اکاؤنٹس کہانیاں سب سن چکے، حلیم فروش، فالودے والے کے اکاؤنٹ سے اربوں نکلنے کے قصے بھی سب کو معلوم، پچھلے ماہ پتا چلا کہ 9مئی 2014ء کو فوت ہو کر کراچی کے سخی حسن قبرستان میں دفن اقبال آرائیں نے مرنے کے بعد سندھ بینک سمیت 3بینکوں میں 4ارب 60کروڑ کی ٹرانزیکشن کی، پوری دنیا میں یہ اعزاز سندھ کو کہ بندہ مر کر بھی بینکوں میں پیسے جمع کروا، نکلوا سکے، پاکستان کھپے...بلکہ مرُدوں کو ارب پتی کرتی ٹیکنالوجی کھپے، ابھی دو چار روز پہلے ٹنڈو محمد خان کے دھوبی طارق غوری کی کمپنی، ’اسٹیل آئرن‘ نکل آئی، خود دھوبی، کمپنی لوہے کی اور دھوبی نے ایک کروڑ 40لاکھ کا لوہا بھی خریدا، نوٹس ملا تو دھوبی چیخ اٹھا ’’میں 2سو روزانہ کمانے والا، 25ہزار قرض لے کر دکان بنائی، میرا بینک اکاؤنٹ نہ کمپنی‘‘ اس ننھے منے دھوبی کو کیا معلوم کہ چیف دھوبی اپنے گندے کپڑے دھو رہے، دو چار چھینٹے اس پر بھی آن پڑے۔

کیا کیا بتایا جائے، ایل این جی ٹرمینل کہانی بھی سن لیں، منصوبہ تھا 3ارب کا، راتوں رات ہوا 13ارب کا، پھر کراچی کے سیٹھ سے ٹرمینل معاہدہ کرتے ہوئے یہ سنہری شق بھی رکھ دی گئی کہ پیمنٹ ہو گی ڈالروں میں، مطلب معاہدہ پاکستانی حکومت اور پاکستانی کمپنی کے مابین، مگر ادائیگی ڈالروں میں، ٹرمینل استعمال ہو یا نہ ہو مگر 15سال تک 2لاکھ 72ہزار ڈالر روزانہ دینے اور پھر پوری دنیا میں ایسے منصوبوں پر شرح ریٹرن 18سے 20فیصد، اس معاہدے میں 44فیصد، ابھی معاہدے کو 4سال ہی ہوئے اور کراچی کا سیٹھ 35ارب کما چکا، یعنی منصوبے پر لگی لاگت سے ڈبل ٹرپل کمائے جا چکے اور ابھی 11سال باقی، آگے سنئے:یہ ٹرمینل استعمال ہو رہا تھا صرف 56فیصد، مطلب یہ ٹرمینل بھی مکمل استعمال نہیں ہو رہا تھا، فیصلہ ہوا دوسرا ٹرمینل لگانے کا اور یہاں لاہوری لاڈلے کو نوازا گیا، یہ معاہدہ بھی ڈالروں میں، 2لاکھ 40ہزار ڈالر روزانہ، 22فیصد منافع پر، اب جہاں حکومت کشکول لئے ایک ایک ڈالر مانگتی پھر رہی، وہاں ٹرمینلز استعمال ہوں یا نہ ہوں، حکومت کو روزانہ 5لاکھ ڈالر دینا پڑ رہے، یہ بھی سن لیں کہ دوسرا ٹرمینل جسے دیا گیا وہ کئی مقدموں میں نیب کا ملزم، نیب سے پلی بارگین بھی کر چکا اور بینکوں کا نادہندہ بھی۔ کیا کیا بتایا جائے، نواز دور، چیئرمین ایف بی آر طارق باجوہ نے ایک سمری کابینہ کو بھجوائی کہ میرے مصدقہ ذرائع کے مطابق ہمارے 2سو ارب ڈالر سوئس بینکوں میں پڑے ہوئے، اسحاق ڈار نے یہ بات اسمبلی میں کر دی، ملک میں بھونچال آگیا، وفاقی کابینہ نے منظوری دی کہ جاؤ سوئس حکام سے بات کرو، اشفاق احمد خان کی سربراہی میں 3رکنی وفد بنا، یہ جنیوا پہنچا، مذاکرات ہوئے، سوئس حکام نے رضا مندی ظاہر کردی کہ وہ پاکستان کے ساتھ معاہدہ کرنے کو تیار، مطلب تمام پاکستانیوں کے نام، بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات دیں گے، معاہدے کے بدلے سوئس حکام نے کہا کہ ہمیں موسٹ فیورٹ نیشن کا درجہ دیدیں اور جو سوئس کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہیں انکے منافع پر 10کے بجائے 5فیصد ٹیکس لگا دیا جائے، تب سوئس کمپنیوں کی پاکستان میں سرمایہ کاری دو، ڈھائی ملین ڈالر تھی، مطلب ایک ڈیڑھ لاکھ ڈالر ٹیکس رعایت دینا تھی، بدلے میں سوئس حکومت نے ہمیں 2سو ارب ڈالر کی معلومات دینا تھیں، وفد خوشی خوشی واپس آیا، مگر حیرت انگیز طور پر طارق باجوہ نے نہ صرف ٹیکس رعایت کو بنیاد بنا کر فرمادیا کہ یہ معاہدہ منظور نہیں بلکہ چند دنوں بعد الٹا وفد کے تینوں اراکین کو شوکاز نوٹسز دیکر کھڈے لائن لگا دیا۔ آگے سنئے:نواز حکومت کے ایف بی آر چیئرمین طارق باجوہ جو آج گورنر اسٹیٹ بینک، اب اسد عمر سے کہہ چکے کہ ’’کوئی 2سو ارب ڈالر نہیں پڑے ہوئے سوئٹزر لینڈ میں، بس اس وقت مجھ سے غلطی ہو گئی تھی، اندازہ لگائیں چیئرمین ایف بی آر ایک حکومت سے کہے کہ ہمارے 2سو ارب ڈالر پڑے ہوئے سوئٹزر لینڈ میں، دوسری حکومت سے کہہ دے ’’غلطی ہو گئی، وہاں پیسے نہیں پڑے ہوئے‘‘ اور موصوف کل بھی مزے میں، آج بھی موجیں کر رہے، کیا قسمت پائی طارق باجوہ نے، پچھلی حکومت خوش، موجودہ حکومت خوش اور وہ کرپٹ مافیا جنہوں نے وہاں پیسے رکھے ہوئے وہ بھی خوش، ہے نا فلمی بلکہ ویری فلمی کہانی۔

کیا کیا بتایاجائے، ن لیگ کو آج بھی دکھ کہ گاڈ فادر، سسلین مافیا کیوں کہا گیا مگر ’ڈیلی میل‘ نواز شریف کو ’پینٹ ہاؤس بحری قذاق‘ کہہ چکا، کسی کو کوئی اعتراض نہیں، عمران خان الزام لگا دے تو شہباز شریف 10ارب ہرجانے کا نوٹس بھجوا دیں مگر ’وال اسٹریٹ جنرل‘ کمیشن، کک بیکس کا الزام لگا دے تو لمبی چپ، کیا کیا بتایا جائے، دبئی میں 2583پاکستانیوں کی جائیدادوں کا ریکارڈ بتائے کہ علیمہ خان سے فریال تالپور تک سب ایک ہی صف میں کھڑے ہوئے، فرق صرف اتنا عمران خان کی بہن کی جائیداد اپنے نام پر جبکہ فریال تالپور کی دبئی جائیدادیں گھریلو ملازمین کے ناموں پر، کیا کیا بتایا جائے، نواز شریف سے سوال ہو، آصف زرداری سے کچھ پوچھ لیا جائے، کسی کا کوئی طوطا پکڑا جائے، خطرے میں پڑ جائے جمہوریت، یعنی جمہوری چوغے پہن کر چوری کرو، ڈاکے مارو، دھوکے، فراڈ کرو، کوئی بات نہیں، کوئی پروا نہیں، سب جائز، بلکہ الٹا نیب کو ڈانٹو، اسٹیبلشمنٹ کو اِن ڈائریکٹ دھمکیاں دو، حکومت پر چڑھ دوڑو، کیا کیا بتایا جائے، قصہ مختصر اور ہزار باتوں کی ایک بات، ہمارا قومی کھیل موقع ملے تو جی بھر کے لُٹّو، کڑا وقت آئے تو ڈیل فرما کر پھٹو، آج پھر دو چار گھاگ کھلاڑی وہی کھیل کھیلنے کے چکر میں، مطلب لُٹنے والے پھر سے پھٹنے کے چکر میں، جاگدے رہنا۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

You can find here amar jaleel columns, amar jaleel, amar jaleel latest columns, Haroon ur Rasheed Columns, Nusrat Javed Columns, Ajmal Niazi Urdu Columns, javed chaudhry, Javed Chaudhry Columns, irshad bhatti, sohail warraich, Sohail Warraich, Sohail Warraich  Columns, Ayaz Ameer Urdu Columns Today, Ayaz Ameer Columns, Ayaz Ameer,rauf klasra, rauf klasra columns, jang columns, hassan nisar, hassan nisar columns, orya maqbool jan columns, orya maqbool jan, Mazhar Barlas Urdu Columns Today,  Mazhar Barlas Latest Columns etc.

گو کہ چیف جسٹس نوٹس لے چکے ،سنا ہے کہ نیب بھی معذرت کر چکامگر جو تماشا بننا تھا وہ بن چکا ،سفید پوشوں کی سفید پوشی خا ک میں مل چکی ۔
الزام کسی پر بھی لگے ،تفتیش ہونی چاہئے ، قصور وار کوئی بھی ہو ،سزا ملنی چاہئے ، مگر صرف الزام پر ہتھکڑیاں ،وہ بھی استادوں کو ، سراسر ظلم ،پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر مجاہد کامران اور 5سابق رجسٹرار پر الزام 550غیر قانونی بھرتیوں کا ، خلافِ ضابطہ ٹھیکوں کا، من پسند طلباء کو وظائف دینے کا اور یہ کہ وی سی صاحب نے اپنی دوسری بیگم شازیہ قریشی کو غیر قانونی طور پر یونیورسٹی لاء کالج کا پرنسپل بنادیا ،اسی طرح نیب نے سرگودھا یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اکرم چوہدری، سابق رجسٹرار بریگیڈیئر راؤ جمیل اصغر سمیت اہم عہدیداروں کو گرفتار کیا ، ان پر الزام لاہور ،منڈی بہاؤ الدین سمیت 5غیر قانونی سب کیمپسز کا قیام ، مالی خورد برد اور رشوت کا، اب یہ ذکرکیا کرنا کہ مجاہد کامران کی تعلیمی خدمات کیا، یہ بات کیا کرنی کہ ڈاکٹر اکرم چوہدری کیا تعلیمی انقلاب برپا کر چکے کیونکہ جہاں ڈاکٹر عبدالسلام جیسے لوگ ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیئے جائیں،جہاں ڈاکٹر اے کیوخان جیسوں سے ٹیلی ویژن پر معافیاں منگوالی جائیں اور جہاں ثمر مبارک مند جیسے سائنسدان انکوائریاں بھگت رہے ہوں ،وہاں مجاہد کامران یا ڈاکٹر اکرم چوہدری جیسوں کی تعلیمی خدمات کی کیا حیثیت ، یہ ناشکروں کی بستی ، یہ محسن کش معاشرہ ، یہ سورج مکھی قوم کا دیس ، یہاں عالم ،لکھاری ،استاد، فالتو ،بے معنی ،کمی کمین،یہاں تعلیم ،تحقیق کی کوئی اہمیت ،حیثیت نہیں لہٰذا ان کی تعلیمی خدمات گنوانے میں کیا وقت ضائع کرنا ،اگر ان چیزوں کی کوئی وقعت ہوتی تو دادے کی عمر وں والے 2نسلوں کے معلّمین کو ہتھکڑیاں نہ لگائی جاتیں، جو چلنے سے قاصر ،انہوں نے بھلا کہاں بھاگ جانا تھا۔
ویسے تو 29اکتوبر 2015کو بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خواجہ علقمہ کو بھی ہتھکڑی لگائی گئی ،یہ علیحدہ بات کہ ڈھائی تین سال کی مقدمہ بازی کے بعد کچھ نہ نکلا ، ویسے تو چند دن پہلے مردان یونیورسٹی کے پروفیسر کو بھی ہتھکڑیوں میں دیکھا، الزام ریکارڈ جلانے کا، یہ علیحدہ بات کہ یہاں کتنے بڑے جوا پنے کرتوتوں کا ریکارڈ جلا چکے ، کیا کسی ایک کو بھی نیب ہتھکڑی لگا سکا اور پھر مجاہد کامران،ڈاکٹر اکرم چوہدری سے سنگین الزامات تو ڈاکٹر عاصم پر ، کیا کبھی نیب نے انہیں ہتھکڑی لگائی ، بلکہ یہ تو ٹہلتے آتے، ٹہلتے جاتے، الزامات کے بعد ہائیر ایجوکیشن کے چیئر مین بنے، انہیں یہ سہولت بھی ملی کہ وکیل کے ہمراہ عدالت سے سیدھے غیر ملکی سفارتخانے جاکر اپنی جائیدادکینیڈین نیشنل بیٹے کے نام منتقل کردی اور ان کا نام تو خصوصی طور پر ای سی ایل سے ہٹا کر باہر علاج کی اجازت دی گئی، حالانکہ کراچی میں ان کا اپنا جدید اسپتال، مجاہد کامران او ر ڈاکٹر اکرم چوہدری سے بڑے الزامات تو شرجیل میمن پر، کبھی یہ نیب کی ہتھکڑیوں میں نظر آئے ، انہیں تو اسیری میں بھی خالص شہد سے زیتون کے تیل تک سب کچھ میسر،پرفارمنس ایوارڈ الگ سے مل چکا اور قید کے دوران ہی پھر سے سندھ اسمبلی کے ممبر بھی بن چکے ۔

مجاہد کامران ،ڈاکٹر اکرم چوہدری سے بڑے الزامات تو نواز شریف پر ، کبھی نیب نے انہیں ہتھکڑی لگائی بلکہ ایون فیلڈ ریفرنس تو نیب کی تاریخ کا وہ واحد کیس جس میں نیب نواز شریف ،مریم اور کیپٹن صفدر سے ایک سوال بھی نہ پوچھ سکا ،یعنی نہ تفتیش،نہ انکوائری، حالانکہ سپریم کورٹ کے حکم پر نیب نے نوٹسزجاری کئے ، نیب ٹیم اسلام آباد سے لاہور گئی ،دو دن وہاں بیٹھی انتظار بھی کرتی رہی ، لیکن نواز شریف ،مریم نواز، کیپٹن صفدر کوئی ایک بھی پیش نہ ہوا اور بالآخر نیب ٹیم منہ لٹکائے واپس آگئی ،اس وقت نیب کے کسی بڑے کو یہ جرأت نہ ہوئی کہ اس حکم عدولی پر کسی افسر کو ہتھکڑیاں دے کر رائے و نڈ بھجوا دیتے ۔

آگے سنیے ،آصف زرداری ودیگر کیخلاف منی لانڈرنگ انکوائری کے دوران 4سال ایف آئی اے یانیب کسی کو ہمت نہ ہوئی کہ وہ زرداری صاحب کو طلب ہی کر لیں ،یہ توبھلا ہو چیف جسٹس کا جنہوں نے نوٹس لیاتو بات آگے بڑھی ،جہانگیر ترین نے گھر کے نوکروں کے نام پر کروڑوں کی ’ان سائیڈ ٹریڈنگ ‘ کا فراڈ کیا، پکڑے گئے ،چپکے سے معاملہ سیٹل کر دیا ،ہتھکڑی لگی نہ گرفتاری حالانکہ اس جرم میں 14سال سزا ہو سکتی تھی ، این آئی سی ایل کے 5ارب اسکینڈل کے کسی ملزم کو ہتھکڑی نہ لگی ،یوسف رضا گیلانی کے بچوں کا 25کروڑ والا حج گھپلاہو یا سات سے 21ارب کا ایفی ڈرین اسکینڈل کسی کو ہتھکڑی نہ لگی ، رینٹل پاور پلانٹس والے راجہ پرویز اشرف ہوں یا ایل این جی والے شاہد خاقان عباسی یا نیب میں پڑے سو ا سومیگا کرپشن اسکینڈلز ، کسی کو نیب ہتھکڑی نہ لگاسکا اور چھوڑیں یہی نیب جس نے اثاثہ اسکینڈل میں اسحق ڈار کا جعلی سرٹیفکیٹ قبول کرلیا ، دبئی کے شیخ کے ذاتی لیٹر پیڈ پر لکھا ملے کہ ’’ اسحق ڈار میرا ملازم ، ایک ارب تنخواہ میں نے دی ‘‘ نہ بینک اسٹیٹمنٹ نہ بینک ٹرانزیکشن اور نہ رسید مگر نیب نے اس جعلی پن پربھی اُف تک نہ کی۔

کیا کہوں ، یہ گلا،سٹرا ،بدبودار نظا م ہی ایسا کہ حسین حقانی، پرویز مشرف، ڈار،حسن، حسین کو واپس لایا نہ جا سکے ، اگر کوئی بینک آف پنجاب کے ہمیش خان جیسا ہتھے چڑھ جائے تو اس سے کچھ نکلوایا نہ جا سکے ، مشتاق رئیسانی کے گھر سے پونا ارب برآمد کر کے بھی ڈیل ہو جائے ، مجید اچکزئی دن دیہاڑے ٹریفک وارڈن کو کچل کر ضمانت کروا لے ، راؤ انوارہو یاعابد باکسر ،ہتھکڑیاں ہاتھوں میں ہی رہ جائیں،کیا کہوں یہاں ہر نتھو خیرا حبیب جالب کی شاعر ی سے محفلیں گرماتا ملے لیکن ڈھائی مرلے کے مکان میں رہنے والی حبیب جالب کی ٹیکسی چلا تی بیٹی اپیلیں کر کر تھک جائے کہ’’ بجلی چوروں کی وجہ سے میرا بجلی کا بل بہت زیادہ ، قسطیں بھی نہ دے سکوں ،مدد کی جائے ،لیکن طاہر ہ جالب کی کوئی شنوائی نہ ہو ،کیا کہوں اب تو بے ایمانی،دونمبری کا لیول اتنا گر گیا کہ پنجاب حکومت کے کاغذوں میں وارث شاہ کے مزار پرایک چند ہ باکس ،مگر مزار پر پڑے دو،مطلب ایک چندہ بکس کے پیسے باہر باہر سے ہی غائب اورجن فنکاروں، معذروں کو سالہا سال سے وظیفہ مل رہا تھا ، چیک کیا گیا تو پتا چلا کہ ایک تہائی تعدا د فرضی ،مطلب معذوروں کے نام پر وظیفے لے کر کھائے جارہے تھے ،کیا کہوں ایک طرف زرداری صاحب فرما رہے کہ ’’نیب کی کیا جرأت کہ وہ مجھے ہاتھ لگائے ‘‘ دوسری طرف محض الزام پرمجاہد کامران اور اکرم چوہدری جیسے اساتذہ نیب ہتھکڑیوں میں ، گو کہ اب چیف جسٹس نوٹس لے چکے ،سنا ہے کہ نیب بھی معذرت کر چکا،لیکن جو تماشا بننا تھا وہ بن چکا اورسفید پوشوں کی سفید پوشی خاک میں مل چکی ۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

irshad bhatti, irshad bhatti columns today, irshad bhatti columns today, irshad bhatti best columns, irshad bhatti columns 2018, You can find here amar jaleel columns, amar jaleel, amar jaleel latest columns, Haroon ur Rasheed Columns, Nusrat Javed Columns, Ajmal Niazi Urdu Columns, javed chaudhry, Javed Chaudhry Columns, irshad bhatti, sohail warraich, Sohail Warraich, Sohail Warraich  Columns, Ayaz Ameer Urdu Columns Today, Ayaz Ameer Columns, Ayaz Ameer,rauf klasra, rauf klasra columns, jang columns, hassan nisar, hassan nisar columns, orya maqbool jan columns, orya maqbool jan, Mazhar Barlas Urdu Columns Today,  Mazhar Barlas Latest Columns etc.

وزیراعظم سے یہ دوسری ملاقات، پہلی بار ملے وزیراعظم سیکرٹریٹ میں، صحافی 20سے زائد، اس بار بنی گالہ میں، صحافی 15، میرا بنی گالہ کا بھی یہ دوسرا پھیرا، اس سے پہلے استادِ گرامی حسن نثار کے ہمراہ بنی گالہ تب گیا جب شاہد خاقان عباسی وزیراعظم تھے، وہ ملاقات اس لئے بھی یادگار کہ اس روز جب ہم ڈرائنگ روم میں بیٹھ چکے، کپتان اور حسن نثار کی گرما گرم بحث شروع ہو چکی تو پہلے فریش جوس آیا، پھر ڈرائی فروٹ، عجوہ کھجوریں اور پھر چائے کے ساتھ چکن بوٹی، پیزا، شامی کباب اور فریش کیک، یہ سب دیکھ کر میں نے خان صاحب سے کہا ’’ہم نے تو سنا تھا کہ بنی گالہ میں چائے کا کپ بھی مانگنے پر ملتا ہے مگر آج یہ...‘‘ عمران خان شرماتے اور مسکراتے ہوئے بولے ’’آج تمہاری بھابھی گھر پر، سب اسی نے بھجوایا‘‘ لیکن وزیراعظم سیکرٹریٹ اور بنی گالہ میٹنگز بھگتا کر میں اس نتیجے پر پہنچا کہ جہاں واقعی اس دن کمال بھابھی کا، وہاں یہ حسن نثار صاحب کی آؤ بھگت بھی تھی، ورنہ ہم تو چائے کے ایک کپ اور 2بسکٹوں والے۔

دوپہر ڈیڑھ بجے جب ہم کانفرنس روم میں بیٹھ چکے تو 5منٹ بعد فواد چوہدری اور افتخار درانی کے ہمراہ وزیراعظم بھی آگئے، نعیم الحق پہلے سے موجود، سینیٹر فیصل جاوید بعد میں آئے، علیک سلیک کے بعد گفتگو شروع ہوئی، دو تین اینکرز نے شکوہ کیا، فواد چوہدری، نعیم الحق اور افتخار درانی کے علاوہ آپ کا کوئی وزیر ہمارے پیغام کا جواب بھی نہیں دیتا، رابطے کا یہ فقدان کیوں، عمران خان کا جواب تھا ’’یہ ہماری غلطی، واقعی گزشتہ دو ماہ میں حکومتی پالیسیوں کے حوالے سے جس طرح ہمیں آگاہ کرنا چاہئے، نہیں کر سکے، مؤثر رابطہ نہیں رکھ پائے لیکن آئندہ ایسا نہیں ہو گا‘‘، خراب معیشت اور آئی ایم ایف کے کنفیوژ سوالوں پر وزیراعظم کا کہنا تھا ’’آئی ایم ایف کے پاس جا رہے، کوئی کنفیوژن نہیں، بس بات اتنی سی کہ چین، سعودی عرب، یو ا ے ای سمیت دوست ممالک سے بات کر رہے ہیں، جتنا پیسہ یہاں سے ملے گا، اتنا کم پیسہ آئی ایم ایف سے لیں گے کیونکہ ان کی شرائط بہت سخت اور اس کے اثرات بہت برے، لہٰذا کوشش یہی کہ آئی ایم ایف سے کم سے کم پیسہ لیاجائے‘‘۔

اپوزیشن کے احتجاج، اتحاد پر عمران خان بہت کلیئر تھے کہا، یہ جعلی، کمزور اپوزیشن، یہ اکٹھے ہونے کی اداکاری کر رہے، مقصد لوٹ مار کا پیسہ بچانا، زیادہ تر کو میں سیاستدان ہی نہیں مانتا، یہ ڈاکو، لیٹرے، قومی مجرم، ملک کے ساتھ وہ کر گئے جو دشمن بھی نہ کرے، جس سے سوال پوچھ لو اس کی جمہوریت خطرے میں پڑ جائے، اس دن جب شہباز منڈیلا اسمبلی میں تقریر کر رہا تھا، غصہ تو بہت آیا، مگر نہ بولا، کہیں ان کا استحقاق مجروح، جمہوریت خطرے میں نہ پڑے جائے، ان کے شور شرابے، دباؤ کا مقصد کوئی این آر او ہو جائے یا حکومت گر جائے مگر حکومت گرے گی نہ این آر او ہو گا، نہ یہ بچیں گے‘‘، ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا ’’میری زندگی کے دکھی لمحے وہ جب مخالفین نے پیسے دے کر خواتین کے ذریعے میری کردار کشی کی، تب بھی مشکل وقت تھا جب ایک سال سپریم کورٹ نے میری تلاشی لی، جمائما سے علیحدگی کے پیپرز، 40سال پہلے کا ریکارڈ اور نجانے کیا کیا، جو چیزیں مجھ سے مانگی گئیں، کسی بھی پارلیمنٹرین سے مانگ لی جائیں، نہیں دے پائے گا‘‘، موجودہ حالات پر گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا ’’بلاشبہ ہم مشکل دور سے گزر رہے، حالات بہت برے مگر میری پوری زندگی ہی گزری اسی قسم کے پریشر ہینڈل کرتے، آپ کو یہ سن کر حیرانی ہو گی کہ بیورو کریسی ابھی تک تعاون نہیں کر رہی، ایل این جی ٹرمینل پر معلومات لیتے لیتے دو ماہ لگ گئے، اب ہم ایسے لوگوں کو نکال رہے، یہ وقت گزر جائے گا، بہت کچھ اچھا بھی ہو رہا، بلدیاتی انتخابات کے بعد نئے صوبے کا ڈرافٹ پارلیمنٹ میں آنے والا، اگلے آٹھ دس دنوں میں ’غربت مٹاؤ‘ پلان آرہا، بیورو کریسی اصلاحات پر کام ہو رہا، 50لاکھ گھروں کا منصوبہ شروع ہو چکا، بینکوں کے کنسورشیم اور قوانین پر کام تیزی سے جاری‘‘، ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے بتایا ’’پچھلی حکومتوں نے ڈالر کو مصنوعی طور پر روکنے کیلئے 6ارب ڈالر لگا دیئے، اتنے پیسے ہمارے پاس ہوتے تو آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑتا، بیڈ گورننس کا حال یہ کہ اربوں کی گیس چوری کے علاوہ ہر 100یونٹ بجلی پر 30یونٹ چوری یا لائن لاسز میں ضائع ہو رہی، یہ نقصان بنا 14ارب کا، اسی وجہ سے ہمیں بجلی کی قیمتیں بڑھانا پڑ رہیں‘‘۔

ڈیڑھ گھنٹے کی اس بیٹھک میں بڑے دلچسپ مراحل بھی آئے، جیسے جب لوٹی دولت پر بات ہو رہی تھی تو عمران خان کہنے لگے ’’ہم نے یو اے ای حکمراں سے کہا، آپ ہماری لوٹی دولت ہی واپس کر دیں، قرضہ نہ بھی دیں تو کام چل جائے گا‘‘ ایک موقع پر عمران خان بولے ’’مجھ پر یوٹرنز کا الزام، بتائیں یہ یوٹرنز ہوتے کس لئے ہیں، لینے کیلئے، اب چلتے چلتے سامنے دیوار آ جائے تو بندہ یوٹرن نہ لے تو کیا کرے، کوئی بے وقوف ہی ہو گا جو مڑنے کی بجائے دیوار کو ٹکریں مارتا رہے گا‘‘۔ ایک معاملے پر جب عمران خان یہ بتانے لگے کہ ’’پچھلی حکومت نے یہ کیا، پچھلوں نے وہ کر دیا‘‘ تو میں نے بات کاٹی ’سر یہ ہم بیسیوں بار سن چکے، انہی کرتوتوں پر پچھلے گھر جا چکے، اب آگے بڑھیں‘‘ یہ سن کر عمران خان بولے ’’میں اپنی بات مکمل کر لوں‘‘ میں نے کہا ’’سر! جو کچھ آپ بتانا چاہ رہے، وہ آپ سے سن سن کر ہم نے رٹ لیا، اب حل بتائیں‘‘ وزیراعظم نے قدرے تلخ لہجے میں کہا ’’میری بات تو سن لو‘‘ میں نے کہا ’’سر! آپ اس پر کیوں نہیں بات کرتے کہ کل جس ناصر درانی کے ذکر بنا آپ کی کوئی تقریر مکمل نہیں ہوتی تھی، آج وہ مستعفی ہوئے، تو آپ نے پلٹ کر خبر بھی نہ لی، کل اسد عمر جس اسحاق ڈار کے کھاتے میں ہر برائی ڈال رہے تھے، آج اسی اسحاق ڈار کی تعریفیں کر رہے، کل تک ن لیگ کی فنانس ٹیم بری تھی، آج جہانزیب خان، طارق باجوہ، شاہد محمود سمیت ساری ٹیم ن لیگ کی‘‘ اس بار عمران خان نے میری بات کاٹی ’’پھر تم بھی رؤف کلاسرا کی طرح بتا دو، مجھے کن بندوں کو کہاں لگانا ہے‘‘۔ میں نے اِردگرد دیکھ کر کہا ’’اچھا اسی وجہ سے آج رؤف کلاسرا یہاں نہیں، مطلب اگلی واری میں وی نئیں‘‘ عمران خان سمیت سب ہنس پڑے، اس کے بعد ایک دو بار وزیراعظم نے رؤف کلاسرا کا ذکر یوں بھی کیا کہ ایک بندہ لگاؤ تو اس کیخلاف چارج شیٹ، دوسرا لگاؤ تو اس کے خلاف لمبی لسٹ، ہم کیا کریں، پھر مجھے مخاطب کر کے بولے ’’تم دیکھ لینا چھ ماہ بعد پاکستان میں حالات بدل چکے ہوں گے، یہاں ڈالر ہی ڈالر ہوں گے‘‘ میں نے کہا ’’چلو آپ کو چھ ماہ دے دیئے لیکن آپ پرفارم نہ کر سکے تو پھر واقعی رؤف کلاسرا سے درخواست کرنا پڑے گی‘‘ وزیراعظم ہنس کر بولے ’’کیا خیال ہے،میں رؤف کو اپنا ایڈوائزر نہ رکھ لوں‘‘ ایک دوست نے لقمہ دیا ’’سر کہیں کلاسرا صاحب یہ نہ کہہ دیں خان صاحب کو کہیں وہ میرے ایڈوائزر بن جائیں‘‘ ایک قہقہہ لگا اور یوں تلخ، کڑوے کسیلے سوالوں کے جواب انتہائی صبر سے دینے اور مسائل و مصائب میں گھرے مگر پرعزم وزیراعظم کے ساتھ ہماری یہ دوسری ملاقات اختتام پذیر ہوئی۔
کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

irshad bhatti, irshad bhatti columns today, irshad bhatti columns today, irshad bhatti best columns, irshad bhatti columns 2018, You can find here amar jaleel columns, amar jaleel, amar jaleel latest columns, Haroon ur Rasheed Columns, Nusrat Javed Columns, Ajmal Niazi Urdu Columns, javed chaudhry, Javed Chaudhry Columns, irshad bhatti, sohail warraich, Sohail Warraich, Sohail Warraich  Columns, Ayaz Ameer Urdu Columns Today, Ayaz Ameer Columns, Ayaz Ameer,rauf klasra, rauf klasra columns, jang columns, hassan nisar, hassan nisar columns, orya maqbool jan columns, orya maqbool jan, Mazhar Barlas Urdu Columns Today,  Mazhar Barlas Latest Columns etc.

کیا شان تھی حسنی مبارک کی، پھر انہیں قیدیوں کی وردی پہنے لوہے کے پنجرے میں بیٹوں سمیت پیشیاں بھگتتے بھی دیکھا، کیا رعب و دبدبہ تھا کرنل قذافی کا، پھر ایک گنوار ہجوم نے برساتی نالے سے نکال کر تشدد کے بعد گاڑی کے بونٹ پر گولی مار کر مار ڈالا، وہ صدام حسین جو اکیلا امریکہ سے متھا لگائے بیٹھا تھا، دونوں بیٹوں کو مار کر امریکی فوج نے اسے بھی تہہ خانے سے نکال کر ایک دن پھانسی چڑھا دیا اور یہ تو سب نے سن رکھا کہ بادشاہوں کے بادشاہ شہنشاہ ایران رضا شاہ پہلوی پر جب آخری وقت آیا تو دنیا میں قبر کیلئے دو گز زمین نہیں مل رہی تھی۔ اپنی بات کر لیتے ہیں، وزیراعظموں، اسمبلیوں سے کھلونوں کی طرح کھیلنے والے اور سازشوں کے بانی گورنر جنرل غلام محمد کو فالج ہوا تو رالیں بہاتے، غوں غوں کرتے گورنر جنرل کے پاس آخری لمحوں میں انگریز سیکرٹری کے علاوہ کوئی نہ تھا، آخری گورنر جنرل اور پہلے صدر وہ اسکندر مرزا جسے بھٹو صاحب نے قائداعظم سے بڑا لیڈر قرار دے رکھا تھا، جلا وطن ہوئے، تنہائی زدہ کسمپرسی کے عالم میں سسک سسک کر مرے، قائدِ عوام، فخرِ ایشیا ذوالفقار علی بھٹو کے جنازے میں 12لوگ تھے، امت مسلمہ کے مائی باپ ضیاء الحق کی موت ایسی کہ لاش نہ پہچانی گئی، کل تک مشرف کے اقتدار کا سورج ایسے سوا نیزے پر کہ فرماتے ’’بھول جائیں بینظیر بھٹو اور نواز شریف کو، وہ واپس آ سکتے ہیں but over my dead body‘‘ آج پراسرار بیماری کے مریض مشرف پاکستان سے باہر رہنے پر مجبور جبکہ بی بی کی پارٹی 5سال حکومت کر چکی اور میاں نواز شریف تیسری مرتبہ وزارتِ عظمیٰ بھگتا چکے۔کل ہی مریم نواز فرما رہی تھیں کہ ’’ہم حکمراں خاندان، ہمارا احتساب کوئی نئی بات نہیں‘‘ پھر یہ حکمراں خاندان یوں بکھرا کہ نواز شریف، مریم، داماد کے ساتھ پہلے جیل، اب پیشیاں بھگت رہے، شہباز شریف نیب کی قید میں، ان کا داماد اشتہاری، اسحاق ڈار، حسن، حسین مفرور اور سلمان شہباز نیب انکوائریاں بھگت رہے، کل ہاؤس آف شریفس کی مرضی کے بنا پتا نہیں ہلتا تھا، آج نواز شریف نے درخواست دے رکھی کہ ’’براہِ کرم نام ای سی ایل سے نکالے جائیں‘‘، سوچوں تو دماغ ساتھ چھوڑ جائے، اللہ نے کتنی عزت دی، کتنا نوازا، کیا جو نہ ملا اور یہ سب کیا کرتے رہے، کیا فائدہ ایسی دولت، عہدے، اختیار کا جو گلے کا پھندا بن جائے، سوچوں کتنی زندگی اور کتنا جمع کر لیا، مزے کی بات، اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی پیٹ نہ بھرے، آج بھی کہیں سے پچاس روپے مل جائیں وہ بھی نہ چھوڑیں حالانکہ زرداری صاحب سہارے کے بنا چار قدم چل نہ پائیں، کھانے کا حال یہ کہ آدھی روٹی کبھی دال اور بھنڈی کے ساتھ تو کبھی ساگ کے ساتھ، شریفس کا رائیونڈ محل موجود، 35چالیس فیکٹریاں بھی چل رہیں، ایون فیلڈ فلیٹس سمیت دنیا بھر میں جائیدادیں اور پیسہ بھی مگر کوئی اندر تو کوئی باہر بقا کی جنگ لڑ رہا، کوئی پاکستان آ نہیں سکتا اور کوئی پاکستان سے جا نہیں سکتا، یہ بھی ملاحظہ کریں کہ کل تک جس فواد حسن فواد اور احد چیمہ سے ملنے کیلئے لائنیں لگی رہتی تھیں آج وہ خود لائنوں میں لگے ہوئے، کوئی پلٹ کر دیکھتا بھی نہیں۔یہاں یہ بھی سنتے جائیے! سورج مکھی قوم کا ایک اور وصف بھی، کردار کشی ایسی کہ اچھے بھلے انسان شیطان ٹھہریں اور اکثر تو بات گھروں تک جا پہنچے، جیسے بیگم رعنا لیاقت کی کہانیاں، فاطمہ جناح کی کردار کشی، بیگم نصرت بھٹو سے متعلق من گھڑت قصے، بینظیر بھٹو پر کون سا الزام جو نہ لگا، بیگم کلثوم نواز کو بسترِ مرگ پر بھی نہ بخشا گیا، مریم نواز مسلسل گھٹیا پروپیگنڈے کی زد میں، جمائما خان جب تک یہاں رہیں تنگ ہی رہیں، بشریٰ مانیکا آج ٹکے ٹکے کی باتیں سن رہیں، قصور یہی کہ عمران خان سے شادی کر لی، دکھ ہو جب بیگم کلثوم نواز کی بیماری پر سیاست ہو اور دکھ تب بھی ہو جب اپنے افلاطون بیگم صاحبہ کے جنازے کو مسلم لیگ کے دوبارہ زندہ ہونے سے تعبیر کرنے بیٹھ جائیں، دکھ ہو جب مریم نواز کی ذات پر حملے ہوں اور دکھ تب بھی ہو جب 69روزہ جیل کے بعد اپنے ارسطو لیڈری کا تاج ان کے سر پر رکھ دیں، یہ چھوڑیں کہ جن الزامات پر وہ جیل گئیں، مہذب معاشروں میں ان الزامات کے بعد گھر والے ساتھ چھوڑ دیں، بندہ اگر جیل جانے سے ہی لیڈر بنتا پھر تو محمد علی جناح کو قائداعظم نہ کہیں کیونکہ وہ تو جیل جانے کی ’’سعادت‘‘ سے محروم رہے، یقین جانئے دکھ تب بھی ہو جب شریف برادران کی والدہ کے ہاتھ میں کاغذ پکڑا کر کیمرے آن کر دیئے جائیں، ہم کس بھونڈے پن سے اپنی راج نیتی اور سیاست میں ماؤں کو بھی گھسیٹ لائیں۔بات کہاں سے کہاں نکل گئی، با ت ہو رہی تھی کل اور آج کی، نیب پیشی کے بعد بکتر بند گاڑی میں بیٹھتے شہباز شریف کو دیکھ کر مجھے گرمیوں کی وہ دوپہر یاد آئی، میں ڈاکٹر ظفر الطاف کے سامنے صوفے پر بیٹھا ہوا اور کرسی پر بیٹھے ڈاکٹر صاحب کا چہرہ اداس، آنکھیں نم، لہجے میں دکھ، تلخی، بہانے بہانے سے اپنی اکلوتی بیٹی کو دوسرے کمرے میں بھجوا کر اور کمرے کا دروازہ اندر سے بند کرکے وہ آہستہ آواز میں بتا رہے تھے کہ ’’شہباز حکومت مجھ پر مقدمے پہ مقدمہ بنا رہی، ایک مقدمے سے ضمانت کروا کر نکلتا ہوں تو ایک اور مقدمہ بنا دیا جاتا ہے، پنجاب پولیس میرے گھر تک آ پہنچی، کیا ملک و قوم کی 35سالہ خدمت کا یہی صلہ، کیا میرا قصور یہ کہ میں نے غریب کسانوں کیلئے دودھ کا منصوبہ شروع کیا، سینکڑوں کو روزگار ملا، ہزاروں غریبوں کی قسمتیں سنوریں، اب اگر شریف فیملی خود دودھ دہی کا کاروبار کرنا چاہتی ہے تو شوق سے کرے، مگر غریب کاشتکاروں کا پروجیکٹ تو بند نہ کرے، مجھے پیغام بھجوایا گیا کہ آپ اس دودھ منصوبے سے دور رہیں گو کہ میں اس پروجیکٹ کا اعزازی چیئرمین، میرا کوئی بزنس انٹرسٹ نہیں مگر میں ان غریبوں کو بھلا کیسے اکیلا چھوڑ سکتا ہوں، وہ بات کرتے کرتے رُکے، ٹھنڈی ہو چکی چائے کا گھونٹ بھرا، کرسی سے ٹیک لگائی اور دوبارہ بولے ’’یار یہ شریفس تو یہ بھی بھول گئے کہ میرے والد سالہا سال اتفاق فونڈری کے لیگل ایڈوائزر رہے، میں خود نواز حکومت میں وفاقی سیکرٹری رہا، ہماری ذاتی جان پہچان، کیا روپیہ پیسہ اتنا طاقتور کہ ہر رشتہ کمزور پڑ جائے‘‘، اس روز شام تک میں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ رہا، وہ شام تک یہی باتیں کرتے رہے۔اور پھر صرف پانچ سالوں بعد شہباز شریف گرفتار ہو گئے، جہاں منوں مٹی تلے سوئے ڈاکٹر ظفر الطاف کے دکھ یاد آئے، وہاں یہ خیال بھی آیا کہ دنیا چاہے بھول جائے مگر قدرت لوگوں پر کئے ظلم نہیں بھولتی، جو بوؤ گئے وہی کاٹو گئے، جیسا کرو گے ویسا بھرو گئے، بھلا اس سے بڑی عبرت بھری کہانی اور کیا ہو گی کہ جو لاہور تخت گاہ تھا، آج وہی لاہور قید خانہ، لیکن کیا کریں نہ کل کسی نے سیکھا اور نہ آج کوئی سیکھے گا کہ

تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا
اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں 00923004647998)

You can find here amar jaleel columns, amar jaleel, amar jaleel latest columns, Haroon ur Rasheed Columns, Nusrat Javed Columns, Ajmal Niazi Urdu Columns, javed chaudhry, Javed Chaudhry Columns, irshad bhatti, sohail warraich, Sohail Warraich, Sohail Warraich  Columns, Ayaz Ameer Urdu Columns Today, Ayaz Ameer Columns, Ayaz Ameer,rauf klasra, rauf klasra columns, jang columns, hassan nisar, hassan nisar columns, orya maqbool jan columns, orya maqbool jan, Mazhar Barlas Urdu Columns Today,  Mazhar Barlas Latest Columns etc.irshad bhatti, irshad bhatti columns today, irshad bhatti columns today, irshad bhatti best columns, irshad bhatti columns 2018, 


کیا کہا جائے، ایسی لُٹ مار، نااہلیاں، نالائقیاں، یوٹرنز کہ لگے پاکستان یتیم کا مال، دعوے، وعدے بڑے بڑے، اقتدار ملے تو کوئی محمد شاہ شاہ رنگیلا تو کوئی بچہ سقہ، کوئی ہلاکو خان تو کوئی بحری قزاق، باہر باہر سے پارلیمنٹ کی سپریمسی، سویلین بالادستی، جمہوریت کی سربلندی کے نعرے، اندر اندر سے لٹو پھٹو، پھر لٹو اور پھٹو۔

کیا کہا جائے کل تک زرداری صاحب فرمایا کرتے ’’گاڈ فادر لند ن سے مفاہمت کے پیغام بھیج رہا، مغل بادشاہ کو بتا دو مومن ایک سوراخ سے بار بار نہیں ڈسا جاتا، شریف فیملی کا ’وی آئی پی‘ احتساب ہو رہا، فوری گرفتار کرکے ہمارے جیسا احتساب کیا جائے‘‘، جب گاڈ فادر گرفتار ہوا تو پی پی کی مامتا جاگ گئی، پوری پارٹی بولی ’’یہ کیا، یہ سازش، یہ تو سیاسی انتقام‘‘ کل تک بلاول فرما رہے تھے کہ ’’چھوٹے میاں سوچ رہے کہ بڑے میاں نے گرفتار ہو کر سب گناہوں کا حساب چکتا کر دیا، نہیں! آپ کو اپنے گناہوں کا حساب دینا ہو گا، آپ کو اپنی کرپشن کا حساب دینا ہو گا، آپ کو حساب دینا ہو گا ملتان میٹرو کرپشن کا، آشیانہ ہاؤسنگ کرپشن کا، آپ کو حساب دینا ہو گا ماڈل ٹاؤن قتلوں کا، اورنج ٹرین کمیشن کا‘‘، پھر شہباز شریف گرفتار ہوئے تو وہی بلاول بولے ’’اپوزیشن لیڈر گرفتارکر لیا، دنیا میں کیا تاثر جائے گا‘‘ اور خورشید شاہ کو تو جمہوریت، ملکی سالمیت ہی خطرے میں نظر آئی، کل کپتان کہا کرتے آئی ایم ایف سے قرضے نہیں لوں گا، عمران خان مر جائے گا، بھیک نہیں مانگے گا، یہ کیسے ممکن آپ کا وزیراعظم عمران خان ہو اور پیسے مانگتا پھرے، خود کشی کر لوں گا پیسے نہیں مانگوں گا، آج جو ہو رہا، وہ سب کے سامنے۔

کیا کہا جائے 28ہزار ارب قرضوں، 13سو ارب کے ادارہ جاتی خسارے اور 12سو ارب کے سرکلر ڈیٹ والے ملک میں ’بچہ سقوں‘ نے ایسے حکومتیں کیں کہ ایک تھا پیپلز ورکس پروگرام، یہ بند ہو گیا لیکن 6سال سے 36افسر گھر بیٹھے 35لاکھ ماہانہ تنخواہیں لیتے رہے، کسی نے کوئی پروا ہی نہ کی، 2008میں ثمر مبارک مند کی سربراہی میں ’تھرکول گیس‘ منصوبہ شروع ہوا، پیسہ پانی کی طرح بہا کر ایک دن اچانک منصوبہ ختم کر دیا گیا، اب اربوں کی مشینری اور تنخواہوں کے منتظر چار سو ملازمین کا کوئی والی وارث نہیں، پی آئی اے، اسٹیل ملز، ریلوے، پوسٹ آفس کی تو روز ہی بات ہو، 1971میں بھٹو صاحب نے غریبوں کیلئے یوٹیلٹی اسٹورز کا رپوریشن بنائی، 20اسٹوروں سے شروع ہونے والا یہ ادارہ 5ہزار 5سو 76 اسٹورز تک پہنچا، 2013میں اس کا سالانہ منافع تھا سوا ارب، لیکن آج یہ ساڑھے 13ارب کے خسارے میں، حالت یہ کہ اسٹوروں کا بچا کچھا سامان بیچ کر تنخواہیں دی جا رہیں، اوپر سے اب رزاق داؤد انچارج وزیر، ماشاء اللہ ان کا اپنا کاروبار دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا، اربوں کی گیس، بجلی چوری اور منی لانڈرنگ چھوڑیں، لوٹ کھسوٹ ایسی کہ ایک چینی ٹھیکیدار نے چین میں 3ارب کا منافع ظاہر کیا، چینی حکام نے پوچھا پیسہ کہاں سے لائے، ٹھیکیدار بولا ’’پاکستان کے ملتان میٹرو منصوبے میں ایک ٹھیکیدار سے ٹھیکہ ملا، ٹھیکہ 3ارب 75کروڑ کا، مجھے منافع ہوا 3ارب‘‘ چینی حکام دنگ رہ گئے، 3ارب 75کروڑ کے ٹھیکے میں 3ارب منافع، انہوں نے ہمیں خط لکھے، چیخے چلائے کہ بندہ پکڑا جو آپ کے 3ارب چرا لایا، ہم نے پہلے توجہ ہی نہ دی، بات میڈیا تک پہنچی تو کہہ دیا ہمارا پیسہ ہی نہیں، چینی آج تک سوچ رہے کہ کتنی دریا دل اور سخی قوم۔

کیا کہا جائے غریبوں کی زندگیاں ایسی کہ دھوتی، بنیان ہی رہ گئی، لوگ دفتروں، تھانے، کچہریوں میں رُل رُل مر رہے، قدم قدم پر بے عزتیاں، رسوائیاں ہو رہیں، عزتیں لٹ رہیں، جبکہ بڑوں کی جیلیں بھی ایسی کہ شہد، زیتون تک میسر، جیل میں پارٹی اجلاس ہوں، گھر کے کھانے، صبح وشام کی واکیں الگ، غریب پر بھینس چوری کا جعلی مقدمہ بن جائے، جان چھڑانا مشکل، امیروں کے گھر سے کروڑوں نکلیں، فالودے والے کے اکاؤنٹ سے اربوں نکل آئیں، ایون فیلڈ فلیٹوں کی رسیدیں ہی نہ ہوں، سرے محل کی ملکیت سے مکر کر پھر 40لاکھ پونڈ کا بیچ دیا جائے، ترک وزیراعظم کی بیگم کا سیلاب زدگان کیلئے دیا گیا ہار شور پڑنے پر 3سالوں بعد لوٹا دیا جائے، سرکاری ہیلی کاپٹروں پر آلو گوشت اور نہاریاں آتی جاتی رہیں اور وہ ملک جہاں آبی مارشل لاء لگنے والا، وہاں بڑوں کی کمپنیاں ماہانہ اربوں کا پانی زیر زمین سے مفت نکال لیں، کوئی پروا نہیں، ٹھنڈ پروگرام۔

کیا کہا جائے غریب کے بچے کو کلرکی بھی نہ ملے، امیروں کا ہر زرداری مقدر کا سکندر، سارے شریف قسمتوں کے دھنی، بڑوں کو چھوڑیں، 5جون 2013 میں نواز شریف وزیراعظم بنتے ہیں، 16جولائی 2013 کو مشاہد اللہ کے بھائیوں کی پروموشن ہو اور کہا گیا پروموشن تصور کی جائے 2007سے، پی آئی اے کے خرچے پر مشاہد اللہ کا 1کروڑ کا علاج کروانا تو اب سامنے آیا، نواز شریف کے پہلے دور میں مولانا فضل الرحمٰن کے بھائی ضیاء الرحمٰن ’’کے پی کے صوبائی سروس‘‘ میں افسر لگیں، پی ٹی سی ایل میں آئیں، ڈپٹی کمشنری خوشاب بھگتائیں اور پانامہ کے دنوں میں کمشنر افغان مہاجرین ہو جائیں۔

کیا کہا جائے آشیانہ اسکینڈل کو لے لیں، دوست رؤف کلاسرا ثبوتوں بھری کہانی سنائیں کہ منصوبہ جان بوجھ کر فلاپ کیا گیا، مقصد پیراگون سوسائٹی کو کامیاب کرانا، ایک طرف شہباز شریف، چوہدری نثار جنرل کیانی سے راتوں کو ملاقاتیں فرما رہے تھے، دوسری طرف جنرل کیانی کے بھائی کامران کیانی آشیانہ پروجیکٹ میں biddingکر رہے تھے، جب پیپرا قوانین کے تحت سب سے کم بولی دینے والی کمپنی ’لطیف اینڈ سنز‘ کو ٹھیکہ ملا اور خبر خادم اعلیٰ تک پہنچی، چونکہ ٹھیکہ کہیں اور دینے کا وعدہ ہو چکا تھا، لہٰذا شہباز شریف کی دبنگ انٹری ہوئی، ٹھیکے کے خلاف تاریخ گزرنے کے بعد اعتراض فائل ہوا، فوراً انکوائری کمیٹی بنا دی گئی، لیکن جب طارق باجوہ نے رپورٹ دی کہ ’’ٹھیکہ لطیف اینڈ سنز کو ہی ملنا چاہیے تھا، سب پراسیس ٹھیک تو پھر راولپنڈی میں 4ارب کے پلازے والے بابو بھولے بھالے فواد حسن فواد کی انٹری ہوئی، آشیانہ پروجیکٹ کے سی ای او اور ڈائریکٹر کو اپنے دفتر بلا کر بولے ’’تم دونوں نے ’لطیف اینڈ سنز‘ کمپنی سے پیسے لئے، یہ ٹھیکہ ملی بھگت کا نتیجہ، تمہیں کہیں کا نہیں چھوڑوں گا، اس سے پہلے کیس اینٹی کرپشن کو بھیجوں، ٹھیکہ کینسل کرو، مرتے کیا نہ کرتے، طاہر خورشید، معظم علی ’لطیف اینڈ سنز‘ کمپنی والوں کے پاؤں پڑے، ٹھیکہ کینسل ہوا اور باقی کامران کیانی کی فواد کے پلازے میں سرمایہ کاری، 3کروڑ فواد کے بھائی وقار حسن کے اکاؤنٹ میں آنا اور 2کروڑ فواد کی بھابی انجم حسن کے اکاؤنٹ میں جمع ہونا، یہ ایک علیحدہ کہانی۔

کیا کہا جائے 50روزہ حکومت ایسی کہ صبح فیصلہ ہو اور شام کو واپس، معیشت سنبھل نہیں رہی، زبانوں، بیانوں پر کنڑول نہیں، کیا کہا جائے اوپر حالت یہ کہ خواب ہیں، تعبیر نہیں، قول ہے، فعل نہیں، کھوپڑیاں ہیں، مغز نہیں، حرکت ہے برکت نہیں اور نیچے جہالت ایسی کہ بلھے شاہ بھی ہیرو اور احمد شاہ ابدالی بھی، حالانکہ بلھے شاہ، ابدالی کو ڈاکو سمجھتا تھا اور اورنگزیب عالمگیر کے بھی گن گائے جائیں اور اس کے حکم پر قتل ہوئے صوفی سرمد کو بھی شہید مانا جائے، کیا کہا جائے، اللہ ملک کی خیر کرے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

irshad bhatti, irshad bhatti columns today, irshad bhatti columns today, irshad bhatti best columns,irshad bhatti columns 2018, You can find here amar jaleel columns, amar jaleel, amar jaleel latest columns, Haroon ur Rasheed Columns, Nusrat Javed Columns, Ajmal Niazi Urdu Columns, javed chaudhry, Javed Chaudhry Columns, irshad bhatti, sohail warraich, Sohail Warraich, Sohail Warraich  Columns, Ayaz Ameer Urdu Columns Today, Ayaz Ameer Columns, Ayaz Ameer,rauf klasra, rauf klasra columns, jang columns, hassan nisar, hassan nisar columns, orya maqbool jan columns, orya maqbool jan, Mazhar Barlas Urdu Columns Today,  Mazhar Barlas Latest Columns etc.

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget