تازہ ترین اشاعتیں

راولپنڈی (نیوز ڈیسک) تحریک لبیک کے خادم حسین رضوی اور دیگر اہم رہنماؤں کی گرفتاریوں کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اپنے آفیشل اکاؤنٹ سے دو پوسٹس کی ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے ایک ٹویٹ میں قرآنی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔‘‘ اپنے دوسرے ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ ’’پاکستان ایک مسلم ریاست ہے اور کوئی مسلمان ختم نبوتؐ پر سمجھوتہ نہیں کر سکتا، اس ٹویٹ میں میجر جنرل آصف غفور نے عقیدہ ختم نبوت کے حوالے سے اپنا اور ہر مسلمان کا موقف واضح کر دیا۔ واضح رہے کہ تحریک لبیک پاکستان(ٹی ایل پی) کے سربراہ خادم حسین رضوی کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لئے جانے کی اطلاعات ملی ہیں جبکہ پنجاب بھر سے ٹی ایل پی کے سینکڑوں رہنماؤں و کارکنوں کو کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار کرلیاگیاہے ۔ نجی ٹی وی کے مطابق خادم حسین رضوی کے اہلخانہ نے ٹی ایل پی سربراہ کو حراست میں لیے جانے کی تصدیق کی۔خادم حسین رضوی کے اہلخانہ کے ایک رکن نے نجی نیوز چینل کو بتایا کہ 'انہیں لاہور میں ان کے حجرے سے گرفتار کیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس کی نفری کو علامہ خادم رضوی کی گرفتاری پر شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ، پولیس نے مزاحمت پر مسجد رحمت اللعالمین پر شیلنگ کردی ، رپورٹس کے مطابق شدید شیلنگ کے بعد پولیس علامہ خادم حسین رضوی کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئی تاہم اپنے قائد کی گرفتاری کے باجودتحریک لبیک پاکستان نے اعلان کیاہے کہ25 نومبرکو لیاقت باغ راولپنڈی کا پروگرام ہر حال میں ہوگاتمام کارکنان اپنے شہروں میں دھرنے جاری رکھیں ۔دوسری جانب پنجاب کے وزیر اطلاعات اور قانون نے رابطہ کرنے پر کہا کہ انہیں خادم حسین رضوی کی گرفتاری سے متعلق کچھ علم نہیں۔ ذرائع کے مطابق پنجاب بھر میں تحریک لبیک پاکستان کے رہنماؤں اور کارکنا ن کے خلاف کریک ڈاؤ ن کیاگیا ۔ ادھرراولپنڈی پولیس نے تحریک لبیک پاکستان کے 24سرکردہ رہنماؤں و کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ تمام افراد کو 16 ایم پی او کے تحت حراست میں لیا ہے ۔ پولیس ذرائع کے مطابق تحریک لبیک کے کارکنوں کو راتوں رات جیل منتقل کردیاگیا ہے ۔ملتان پولیس نے تحریک لبیک یا رسول اللہ کے رہنماوں اور کارکنوں کے خلاف کریک ڈاون کیا جس میں رات گئے 13 رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا شجاع آباد سے حسیب انور اظہری، قاری صدیق ، پی پی 214 سے امیدوار ملک ظفر اقبال ، ملتان شہر سے آصف بشیر اور حافظ محمد عابد ، نوید احمد ، ملتان شہر سے اسامہ، صوفی محمد حنیف ، محمد بلال ، جلالپور پیر والہ سے مفتی اعجاز احمد، شاکر اسلم، محمد یوسف اور عطار ساقی کو گرفتارکرلیاگیا ۔ادھربھکر میں تحریک لبیک کے کارکنان کے گھروں پر چھاپے مارے گئے تاہم تحریک لبیک کے کارکنان روپوش پولیس لواحقین کو حراساں کرنے میں مصرف رہی ، تحریک لبیک کے کارکن مفتی محمد سرور کی روڈی سے گرفتاری کی اطلاع نامعلوم مقام پرمنتقل کردیاگیا ،پولیس کی سر توڑ کوشش رات گئے تک زیادہ گرفتاریاں عمل میں نہ آسکیں ۔سیالکوٹ میں ضلعی امیر محمد رفیق سمیت 23 کارکن ضلع بھر سے گرفتارکر لئے گئے ۔گوجرانوالہ کے ریجن بھر کے مختلف اضلاح تحریک لبیک یارسول کے کارکنان کے خلاف کریک ڈاون شروع ہوگیا ، پولیس نے سیالکوٹ ،ناروال،منڈی بہاوالدین،حافظ آباد،گجرات سمیت مختلف علاقوں سے تحریک لبیک کے150 سے زائد کارکنان گرفتار کرلیے ۔ذرائع کے مطابق صرف ان لوگوں کو گرفتار کیا جارہا ہے جنہوں نے آسیہ کیس فیصلے کے ردعمل میں جی ڑوڈ بلاک کیا تھا پولیس کو ریجن بھر سے 12 سو افراد کو گرفتار کرنے کا ٹارگٹ ہے۔پولیس کے مطابق دھرنے دینے والوں کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے تھے ریجن بھر سے مقدمات میں مطلوب تحریک لبیک کے کارکنان کو گرفتار کیا جارہا ہے ۔تحریک لبیک نے کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف دھرنوں اور مظاہروں کا اعلان کر دیا اور کہا کہ وہ وفاقی دارالحکومت میں راولپنڈی اور اسلام آباد کو ملانے والے انٹر چینچ فیض آباد کو پہلے کی طرح بند کرکے دھرنا دے دینگے ۔جب کہ ٹی ایل پی کے رہنماؤں اور کارکنان کی گرفتاری کے بعد کسی بھی ممکنہ ردعمل سے نمٹنے کے لئے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ، صوبائی دارالحکومت لاہور اور دیگر شہروں میں بعض مقامات پر کینٹینرز پہنچا دیئے گئے ۔



آرکائیوڈی انڈیا القصر کے مرکزی دروازے کے سامنے ہے‘ سپین نے سولہویں صدی کے آغاز میں ہندوستان میں اپنی پہلی کالونی بنائی اورتاجر تجارتی سامان لے کر انڈیا جانے لگے‘ بادشاہ نے جہازوں اور جہازرانوں کا ریکارڈ رکھنے کےلئے سیویا میں کمپلیکس بنا دیا‘ یہ شروع میں انڈین کاسا کہلاتا تھا‘امریکا سے تجارت شروع ہوئی تو امریکی ریکارڈ بھی یہیں رکھا جانے لگا‘ اٹھارہویں صدی میںتجارت ختم ہو گئی تو حکومت نے اس عمارت کو آرکائیو ڈی انڈیا کا نام دے دیا‘

یہ دنیا کے چند بڑے آرکائیوز میں شمار ہوتی ہے‘ اس میں پانچ سو سال کے دوران امریکا اور انڈیا جانے والے لوگوں‘ تجارتی سامان‘ آمدنی‘ اخراجات اور تجارتی جہازوں کا ڈیٹا ہے‘ یہ ڈیٹا کتنا زیادہ ہے آپ اس کا اندازہ الماریوں سے لگا

لیجئے‘ گائیڈ نے بتایا اگر آرکائیو ڈی انڈیا کی تمام الماریاں قطار میں کھڑی کر دی جائیں تو یہ نو کلو میٹر تک پھیل جائیں گی‘ یہ کلونیل طرز کی سپینش عمارت ہے اور یہ دل میں کھب جاتی ہے‘ سیویا کا جدید محل آرکائیو ڈی انڈیا سے تھوڑے سے فاصلے پر واقع ہے‘یہ محل 1929ءکی نمائش کےلئے بنوایا گیا تھا‘ یہ سرخ اینٹوں کی سرخ عمارت ہے اور یہ دائیں سے بائیں دور تک پھیلی ہے‘ سپین کے پچاس صوبے ہیں‘ محل میں بھی پچاس کمرے ہیں اور ہر کمرہ ایک صوبے سے منسوب ہے‘ ملک کے چار حصے ہیں چنانچہ محل میں مصنوعی نہر بنا کر اس پر چار پل بنا دیئے گئے‘ پورے محل کے فیس پر نیلی ٹائلیں اور سنگ مر مر کے چھوٹے ستون ہیں‘ یہ مورش کلچر اوراسلامی تہذیب کی نشانی ہیں‘ عمارت مشہور آرکی ٹیکٹ اوسوریو نے ڈیزائن کی‘اوسوریوکا مجسمہ محل کے سامنے ایستادہ ہے لیکن اس شاندار ٹریبوٹ کے باوجود اوسوریوکی زندگی کا آخری حصہ المیے میں گزرا‘ بادشاہ یہ محل جلد سے جلد مکمل دیکھنا چاہتا تھا لیکن آرکی ٹیکٹ اپنے ڈیزائن پر کمپرومائز کرنے کےلئے تیار نہیں تھا‘ طاقت اور پروفیشنل ازم کا مقابلہ ہوا اور طاقت جیت گئی‘ بادشاہ نے کانٹریکٹ منسوخ کر دیا‘
آرکی ٹیکٹ اپنی پوری زندگی کی کمائی محل پر لگا چکا تھا‘ کمائی ایک دن میں ڈوب گئی اور آرکی ٹیکٹ کسمپرسی کے عالم میںانتقال کر گیا لیکن اس کا ڈیزائن آج بھی سپین کو اربوں روپے کما کر دے رہا ہے‘ محل کے صحن میں برآمدے کے ساتھ ساتھ سپین کی تاریخ کے اہم واقعات کے موزیک ہیں‘ یہ باریک پتھروں کی پینٹنگز ہیں‘ میں سقوط غرناطہ اور کولمبس کی روانگی کے موزیک پر رک گیا‘ غرناطہ کے بوتھ میں ابوعبداللہ محمد الحمرا کی چابی فرڈیننڈ کے حوالے کر رہا تھا اور ملکہ ازابیلا مسکرا رہی تھی‘

میں نے آہ بھری اور آگے بڑھ گیا جبکہ کولمبس کے بوتھ میں کولمبس جہازوں کو روانگی کا حکم دے رہا تھا‘ محل کی بغل میں چند سو میٹر کے فاصلے پر دنیا کی سگریٹ کی پہلی فیکٹری تھی‘ یہ بھی ایک وسیع عمارت ہے‘ تمباکو‘ مکئی اور آلو امریکا سے یورپ آئے تھے‘ دنیا 1500ءتک ان کی شکل اور ذائقے سے نابلد تھی‘ ریڈانڈین تمباکو کے پتوں کا خشک چورا تمباکو کے پتے میں لپیٹ کر سلگاتے تھے اور اس کے کش لیتے تھے‘ یہ لوگ اسے سگار کہتے تھے‘



کولمبس امریکا سے ہزاروں سگار لے کر آیا‘ سگار سپینش اشرافیہ کےلئے نئی چیز تھے چنانچہ یہ دھڑا دھڑبکنے لگے‘ امراءسگار پیتے تھے اور اس کا آخری حصہ گلی میں پھینک دیتے تھے‘ غریب لوگ وہ حصہ اٹھا کر کھولتے تھے‘ سگار کا تمباکو کاغذ میں لپیٹتے تھے اور سلگا کر پینا شروع کر دیتے تھے‘ یہ بیڑی کہلاتی تھی‘ بیڑی کو ہسپانوی زبان میں سگریٹی یعنی غریب آدمی کا سگار کہا جانے لگا‘ تاجروں نے اس ٹرینڈ کو کیش کرانے کا فیصلہ کیا‘ وہ تمباکو امپورٹ کرنے لگے اورعام لوگ یہ تمباکو کاغذ میں لپیٹ کر پینے لگے‘

یہ ٹرینڈ 1750ءمیں سگریٹ فیکٹری میں تبدیل ہو گیا‘ سیویا میں پہلی سگریٹ فیکٹری بنی‘ بارہ سو خواتین بھرتی کی گئیں اور یہ ہاتھ سے سگریٹ بنانے لگیں‘ فیکٹری مالکان نے اربوں روپے کمائے‘ یہ فیکٹری 1950ءتک چلتی رہی‘ بند ہوئی تو حکومت نے اس میں آرٹ‘ کلچر اور زبان کی یونیورسٹی بنا دی‘ میں عمارت کے سامنے کھڑا تھا‘ عمارت کے سروں پر چرچ اور جیل تھی‘ چرچ میں کارکن خواتین عبادت کرتی تھیں جبکہ جیل میں سگریٹ چرانے والی خواتین بند کر دی جاتی تھیں‘ فیکٹری مالکان نے چوری سے بچنے کےلئے عمارت کے گرد خندق کھود رکھی تھی‘ وہ خندق آج تک موجود ہے۔

سیویا کا کیتھڈرل شہر کی اہم ترین عمارت ہے‘ یہ عمارت ماضی میں مسجد ہوتی تھی‘ عیسائیوں نے اشبیلیہ کے زوال کے بعد مسجد شہید کر دی تاہم مسجد کا مینار‘ صحن‘ دیوار کا ایک حصہ‘ مین گیٹ اور برآمدہ بچ گیا‘ یہ پانچوں آج بھی وہاں موجود ہیں‘یہ چرچ دنیا کا تیسرا بڑا کیتھڈرل ہونے کے باوجود شہید مسجد کا مقابلہ نہیں کر پا رہا‘ مسجد کا مینار پوری دنیا میں سیویا کا شناختی نشان ہے‘ آپ جب اور جہاں سیویا ٹائپ کریں گے اشبیلیہ کی شہید مسجد کا مینار سامنے آ جائے گا‘

مراکش کے مسلمان مسجد کےلئے چورس مینار بناتے ہیں‘ مینار پچاس بائی پچاس فٹ کا ایک کمرہ ہوتا ہے اور یہ کمرہ منزل بہ منزل اوپر اٹھتا چلا جاتا ہے‘ انتہائی بلندی پر پہنچ کر مینار کی چھت ڈال دی جاتی ہے اور چھت پر نسبتاً چھوٹا نوک دار مینار بنا یا جاتا ہے‘ مینار سازی کا یہ فن مراکش سے اندلس آیا‘ اس میں مقامی معماروں نے کھڑکیاں‘ جھروکے اور جالیاں بنائیں اور یوں یہ اصل سے زیادہ خوبصورت ہو گیا‘ عیسائی فاتحین نے 1401ءمیں مسجد گرانا شروع کی اور یہ لوگ جب مینار تک پہنچے تو مینار کی خوبصورتی اور کروفر نے ان کے بازو شل کر دیئے‘ مینار بچ گیا اور یہ آج سپین میں اسلام کے سنہری دور کا نقیب بن کر کھڑا ہے‘

آپ اگر کیتھڈرل کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوں تو آپ مسجد کے صحن میں آ جاتے ہیں‘ صحن میں آج بھی مالٹے کے درخت‘ فوارہ اور گہری سبز بیلیں ماضی اور حال کی گانٹھ بن کر موجود ہیں‘ بائیں جانب کیتھڈرل کے ہال کے دروازے سے پہلے مسجد کا برآمدہ بھی موجود ہے اور یہ برآمدہ اپنے منہ سے بول رہا ہے آپ نے جس دن مجھے ہٹانے کی کوشش کی‘ آپ کا سارا چرچ گر جائے گا‘ برآمدہ دراصل چرچ کی بنیاد ہے‘ برآمدہ ہٹانے سے چرچ کی عمارت واقعی قائم نہیں رہ سکے گی چنانچہ شہید مسجد کی یہ آخری نشانیاں کیتھڈرل کےلئے چیلنج بن کر کھڑی ہیں‘ کیتھڈرل کا آلٹر (قربان گاہ) دنیا کا سب سے بڑا آلٹر ہے‘

حضرت عیسیٰ ؑکی پوری زندگی مجسموں کی شکل میں آلٹر میں موجود ہے اور یہ تمام مجسمے سونے کے ہیں‘ میں نے پوری دنیا میں کسی جگہ اتنا سونا نہیں دیکھا لیکن یہ سارا سونا اور یہ ساری دلفریبی شہید مسجد کے ایک مینار کا مقابلہ نہیں کر پاتی‘ کیتھڈرل آٹھ سو سال گزرنے کے باوجود سیویا کا شناختی نشان نہ بن سکا‘ شہر کا شناختی نشان آج بھی مسجد کا مینار ہے‘ کیتھڈرل کا مین گیٹ بھی آٹھ سو سال سے قائم ہے‘ یہ کبھی مسجد کا مرکزی دروازہ ہوتا تھا‘ یہ دروازہ بھی قائم ہے اور اس پر کندہ آیات بھی‘ بے شک اللہ کے نام کو کوئی طاقت نہیں مٹا سکتی۔

کولمبس کی قبر سیویا کے کیتھڈرل میں ہے‘ کرسٹوفر کولمبس ایک حیران کن کردار تھا‘ وہ 1451ءمیں اٹلی کے شہر جنوا میں پیدا ہوا‘ 19 سال کی عمر میں مہم جوئی شروع کی‘ دھکے کھاتا ہوا پرتگال پہنچا‘ شادی کی‘ بیٹا ڈیگو کولمبس پیدا ہوا‘ بیوی کا انتقال ہوا اور وہ بیٹے کو لے کر سیویا آ گیا‘ ہندوستان کا قریب ترین روٹ دریافت کیا اور فنانسنگ کےلئے بادشاہوںکے پیچھے بھاگنے لگا‘ وہ آسٹریا‘ پرتگال اور سیویا کے بادشاہوں سے ملا لیکن کسی نے اس فضول کام میں دلچسپی نہ لی‘

وہ تھک ہار کر سیویا میں بیٹھ گیاتاہم وہ ملکہ ازابیلا کو قائل کرنے میں کامیاب ہو گیا‘ ملکہ نے اس سے وعدہ کر لیا اگر وہ غرناطہ فتح کرنے میں کامیاب ہو گئی تو وہ اس کے منصوبے کو فنانس کر دے گی‘ وہ فنڈنگ کے لالچ میں عیسائیوں کے لشکر میں شامل ہو گیا‘ قسمت نے یاوری کی اور غرناطہ فتح ہو گیا ‘ وہ تین جہازوں سانتا ماریا‘ نینا اور پنٹا پر87لوگ لے کرتین اگست 1492کو سیویا سے نکلا‘دریا وادی الکبیر سے ہوتا ہوااٹلانٹک اوشن میں اترا اور 36 دن بعد بہاماس پہنچ گیا‘

یہ ایک بہت بڑا بریک تھرو تھا‘ وہ 15 مارچ 1493 کو واپس لوٹ آیا‘ 25ستمبر1493ءکو دوسری مرتبہ امریکا گیا‘ اس نے اس بار ڈومنیکا اور کیوبا دریافت کر لیا‘ یہ کامیابی سونے کی کان ثابت ہوئی اور ہسپانوی تاجر دھڑا دھڑ امریکا جانے لگے‘ کولمبس‘ تاجر اور سیویا کا شاہی خاندان نئی دریافت کو انڈیا کا قریب ترین راستہ سمجھ رہے تھے‘ کولمبس پوری زندگی امریکا کو انڈیا‘ ڈومنیکا کو چین اور کیوبا کو جاپان سمجھتا رہا‘ وہ شاندار جہازران لیکن ناکام ترین ایڈمنسٹریٹر تھا‘

وہ اپنی حماقتوں کی وجہ سے اپنے لوگوں کے ہاتھوں گرفتار تک ہو گیا‘ ملکہ ازابیلا نے فوج بھجوا کر اس کی جان بچا لی‘ حکومت نے اس کے سفر پر بھی پابندی لگا دی‘ وہ شدید ذہنی خلجان کا شکار ہوا اور 1506ءمیں والا ڈولیڈشہر میں انتقال کر گیا‘ اس کا بیٹا ڈیگو اس کی لاش سیویا لے کر آیا اور اسے شہر کے باہر دفن کر دیا‘ ڈیگو کی وفات کے بعد اس کی بیوی ماریا اپنے خاوند اور سسرکولمبس کی لاش ڈومنیکاساتھ لے گئی اور انہیں ڈومنیکا میں سانتو ڈومینگوکیتھڈرل میں دفن کر دیا‘

کولمبس اڑھائی سو سال ڈومنیکا میں دفن رہا‘ 1795ءمیں ڈومنیکا میں حالات خراب ہو گئے‘ کیوبا اس وقت سپینش کالونی تھا‘ حکومت نے اس کی لاش نکالی اور کولمبس کو ہوانا میں دفن کر دیا‘ 1898ءمیں جب کیوبا کے حالات بھی خراب ہو گئے تو کولمبس کی لاش ہوانا سے سیویا لاکر کیتھڈرل میں دفن کر دی گئی‘ کولمبس کا دوسرابیٹا ہرنانڈو بھی کیتھڈرل میں دفن ہے۔1877ءمیں سانتو ڈومینگو کیتھڈرل میں کھدائی کے دوران ایک باکس دریافت ہوا تھا جس کے اوپر کرسٹوفرکولمبس کا نام لکھا تھا اور اس کے اندر 13 بڑی اور 28 چھوٹی ہڈیاں تھیں‘

کھدائی کرنے والوں نے دعویٰ کیا کولمبس کی سپین(سیویا) لے جائی جانے والی باقیات اصل نہیں ہیں‘یہ بحث 125سال چلتی رہی‘ یہ مسٹری حل کرنے کےلئے2002ءمیں سانتوڈومینگوکیتھڈرل اور سیویاکیتھڈرل میں موجود دونوں قبروں کی کھدائی کی گئی‘ باقیات کا ڈی این اے کیا گیااور ثابت ہوگیا سیویا کیتھڈرل کی باقیات ہی اصل میں کرسٹوفرکولمبس کی باقیات ہیں‘ کولمبس واقعی سیویا کیتھڈرل میں دفن ہے لیکن لاش کی بار بار کی نقل مقانی سے کولمبس کی باقیات صرف ڈیڑھ سو گرام بچی تھیں اور میں اس وقت ان باقیات کے سامنے کھڑا تھا۔


اور میں پھر بالآخر سیویا پہنچ گیا اور یوں رومیوں کا ہسپالس‘ مسلمانوں کا اشبیلیہ اور ہسپانیوں کا سیویا میرے سامنے تھا۔مورخین1500ءسے 2000ءتک پانچ سو سال کی تاریخ کو دنیا کا جدید ترین دور کہتے ہیں اور سیویا  اس دور کا نقطہ آغاز تھا‘ امریکا اس شہر سے دریافت ہوا ‘ سگریٹ‘ سگار اور بیڑی نے اس شہر میں جنم لیا‘ مکئی‘ آلو اور چاکلیٹ اس شہر سے جدید دنیا میں داخل ہوئے ‘ افریقہ کے سیاہ فام غلام پہلی مرتبہ اس شہر سے امریکا پہنچائے گئے ‘ کافی‘ گھوڑے اور گنا اس شہر سے لاطینی امریکا کا حصے بنے.

یہ وہ شہر تھا جس نے پوری دنیا میں آتشک اور سوزاک جیسی جنسی بیماریاں پھیلائیں اور یہ وہ شہر تھا جو اندلس میں مسلمانوں کے زوال کی پہلی اینٹ بنا غرض آپ جدید دنیا کو جس زاویئے‘ جس اینگل سے بھی دیکھیںگے سیویا آپ کو درمیان میں نظر آئے گا اور میں دس نومبر 2018ءکو اس عظیم سیویا پہنچ گیا‘ کرسٹوفر کولمبس‘ ابن بطوطہ اور ابن خلدون کے سیویا میں۔سیویا کا پہلا حوالہ یونان کی رزمیہ داستان ہیلن آف ٹرائے میں ملتا ہے‘ داستان کا مرکزی کردار ٹروجن ہسپالس (سیویا) میں پیدا ہوا تھا‘ دوسرا اہم حوالہ مورش مسلمان ہیں‘ طارق بن زیاد کے قدموں نے 711ءمیں سپین کی سرزمین کو چھوا‘ وہ بربر غلام زادہ سپین میں جس جگہ اترا وہاں طریفہ کے نام سے شہر آباد ہوا‘ یہ شہر آج بھی 13 سو سال سے قائم ہے اور یہ سپین اور مراکش کے درمیان اہم بندرگاہ ہے‘ مراکش کا شہر طنجہ (تانجیر) طریفہ سے صرف بیس منٹ کے آبی سفر کے فاصلے پر واقع ہے‘ طریفہ اور طنجہ کے درمیان ہر گھنٹے بعد فیری چلتی ہے‘ یہ فیری دو تہذیبوں کے ساتھ ساتھ یورپ اور افریقہ دو براعظموں کے درمیان رابطہ بھی ہے‘ بنو امیہ کے زمانے میں موسیٰ بن نصیر شمالی افریقہ کے کمانڈر اور گورنر تھے‘ طارق بن زیاد ان کا غلام تھا‘ طارق بن زیاد نے 711ءمیں جبل الطارق (جبرالٹر) فتح کر لیا اور وہ سپین کے اہم ترین شہروں کے طرف بڑھنے لگا ‘ موسیٰ بن نصیر کا صاحبزادہ عبدالعزیز بھی طریفہ میں اترا اور وہ ہسپالس کی طرف بڑھنے لگا‘ عبدالعزیز بن موسیٰ نے 712ءمیں ہسپالس فتح کیا اور شہر کا نام تبدیل کر کے اشبیلیہ رکھ دیا‘
یہ شہر پھر 23 نومبر 1248ءعیسائیوں کے ہاتھوں ختم ہونے تک اشبیلیہ ہی رہا‘ اشبیلیہ کی فتح کے دو سو سال بعد 2 جنوری 1492ءکو مسلمانوں کی آخری ریاست غرناطہ بھی ہمارے ہاتھوں سے نکل گئی‘ آخری مسلمان فرمانروا ابو عبداللہ محمد اپنے 1130 لوگوں کے ساتھ مراکش پہنچا‘ فیض گیا اور یوں سپین میں اسلامی ریاست کا پرچم ہمیشہ ہمیشہ کےلئے سرنگوں ہو گیا‘ سیویا کا تیسرا حوالہ کرسٹوفر کولمبس ہے‘ وہ سقوط غرناطہ کے وقت عیسائی بادشاہ فرڈیننڈ اور ملکہ ازابیلا کے ساتھ کھڑا تھا‘ کولمبس ہندوستان کا نیا راستہ تلاش کرنا چاہتا تھا‘ وہ فنڈنگ کےلئے یورپ کے تین بادشاہوں کے پاس گیا مگر انکار ہو گیا‘

وہ آخر میں غرناطہ کے اسلامی سقوط پر نظریں جما کر کھڑا ہو گیا‘ جوں ہی الحمرا سے اسلامی پرچم اتارا گیا‘ وہ آگے بڑھا‘ ملکہ ازابیلا کا ہاتھ چوما‘ مبارک باد دی اور فنڈنگ کی درخواست کر دی‘ ملکہ اس وقت خوشی کی انتہا کو چھو رہی تھی‘ اس نے کھڑے کھڑے کولمبس کا منہ موتیوں سے بھر دیا یوں کولمبس تین اگست 1492ءکو سیویا سے روانہ ہوا اور ہندوستان کا نیا راستہ تلاش کرتے کرتے دنیا کو نئی دنیا سے متعارف کرا گیا اور اس کے بعد پوری دنیا کا نقشہ بدل گیا‘ دنیا صرف دنیا نہ رہی حیران کن دنیا بن گئی۔



میں یکم نومبر کو روانہ ہوا‘ کینیڈا میری پہلی منزل تھی‘ میں ٹورنٹو اور کیلگری میں نو دن گزار کر دس نومبر کو سپین کے شہر مالگا اترا‘ یہ شہر مسلمانوں کے اندلسی دور میں مالقا کہلاتا تھا‘ عیسائی فوجوں نے 1487ءمیں مالقا کے امیر کو شکست دی اور پھر اس کے بعد پورا اندلس پکے ہوئے سیب کی طرح عیسائیوں کو گود میں آ گرا‘ میرے دوست اور بھائی سہیل مقصود مالگا ائیرپورٹ کے باہر میرا انتظار کر رہے تھے‘ سہیل مقصود ایک سادہ‘ مخلص اور گرم جوش انسان ہیں‘

غرناطہ میں کیش اینڈ کیری کے مالک ہیں اور انتہائی دلچسپ مگر غیرسیاسی دوست ہیں‘ ہم مالگا سے سیویا روانہ ہو گئے‘ ہائی وے کے دونوں طرف زیتون کے باغ تھے‘ اوپر جنوبی سپین کا نیلا آسمان تنا ہوا تھا اور نیچے ہم ڈرائیو کر رہے تھے‘ سیویا مالگا سے ساڑھے تین گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘ شہر کی پانچ سو سال کی جدید تاریخ تین حصوں میں تقسیم ہے‘ امریکا کی دریافت کا دور‘ یہ دور 1500ءسے ساڑھے 1800ءتک محیط ہے‘ سیویاان ساڑھے تین سو سال میں دنیا کا امیر ترین شہر اور سپین رئیس ترین ملک بن گیا‘ کارلو فائیو(چارلس فائیو)1516ءمیں سپین کا بادشاہ بنا‘

یہ دنیا کا پہلا بادشاہ تھا جس کی سلطنت میں سورج نہیں ڈوبتا تھا‘ یہ تھائی لینڈ‘ ایک چوتھائی ہندوستان‘ آدھے یورپ اور پورے امریکا کا مالک تھا چنانچہ سورج چل چل کر اور جل جل کر تھک جاتا تھا لیکن کارلو فائیو کی سلطنت ختم نہیں ہوتی تھی مگر پھر بحیرہ ہند‘ یورپ اور امریکا کے زیادہ تر ملک سپین کے ہاتھ سے نکل گئے‘ امریکا اور ہندوستان سے تجارت ختم ہو گئی‘ ملک طوائف الملوکی کا شکار ہوگیا اور آہستہ آہستہ یورپ کا مرد بیمار بنتا چلا گیا یوں سپین کا پہلا سنہری دور اختتام پذیرہو گیا‘

سپین کا دوسرا دور 1929ءمیں شروع ہوا‘ بادشاہ الفانسونے سپین کی معیشت کو اٹھانے کا فیصلہ کیا‘ اس نے امریکا اور لاطینی امریکا کے ملکوں سے رابطہ کیا‘ کولمبس کا واسطہ دیا‘ نئی دنیا راضی ہوئی اور 1929ءکو سیویا میں جدید دنیا کی سب سے بڑی نمائش شروع ہو گئی‘ لاطینی امریکا کے تمام ملکوں نے سیویا میں اپنے قونصل خانے بنائے‘ اپنے تجارتی جہازوں کا رخ سپین کی طرف موڑا اور یوں سپین ایک بار پھر ٹیک آف کرنے لگا اور تیسرا دور 1992ءمیں شروع ہوا‘

بارہ اکتوبر1992ءکو امریکا کی دریافت کے پانچ سو سال پورے ہوئے‘سپین کے وزیراعظم فلپ گونزا لیز مارکوئز نے امریکی اقوام کو ایک بار پھر راضی کیا‘ سیویا میں امریکی ٹیکنالوجی اور مصنوعات کی ایک اور بین الاقوامی نمائش ہوئی اور سیویا کی مہربانی سے سپین ایک بار پھر جدید دنیا کے امیر ترین ملکوں میں شمار ہونے لگا‘ سپین آج جو کچھ ہے اس کی وجہ 1929ءاور 1992 کی نمائشیں ہیں۔ہم نے سیویا کی مرکزی شاہراہ پر نیم جدید ہوٹل سلکن اندلوسیہ میں قیام کیا‘ یہ سڑک 1929ءکی نمائش کےلئے تعمیر کی گئی تھی ‘

لاطینی امریکا کے زیادہ تر قونصل خانے اس سڑک پر واقع ہیں‘ پرانا شہر ہوٹل سے چار کلو میٹر دور تھا‘ ہم رات کے وقت سیویا کی قدیم گلیوں میں اتر گئے‘سیویا میں چار مقامات اہم ہیں‘ مسلمان بادشاہوں کا محل القصر‘ کیتھڈرل‘ انڈین آرکائیو اور جدید محل‘ ہم نے دوسرے دن یہ تمام مقامات ادھیڑ کر دیکھے‘ القصر مسلمانوں کی آخری نشانی ہے‘ محل کی بیرونی اور اندرونی دیواریں آج بھی قائم ہیں‘ ان میں اسلامی دور کی خوشبو بھی موجود ہے‘ نیلی اور سفید ٹائلیں‘ وہی آبنوسی لکڑی کی چھتیں اور ان چھتوں پر اسلامی نقش‘ وہی وزنی منقش دروازے‘ وہی پتھر کے فرش‘ وہی قدیم لکڑی کے قدیم جھروکے‘ وہی کمروں کے اندر فوارے اور محل کے چاروں اطراف وہی سبز باغات‘ مسلمانوں کی پوری تہذیب آج بھی القصر میں زندہ ہے‘

مسلمان اپنا طرز تعمیر مراکش سے لائے تھے‘ سپین کے عیسائی آرکی ٹیکٹس نے ان میں اپنا خون جگر ملایا اور یوں دنیا میں اندلسی طرز تعمیر نے جنم لیا‘ آپ کو یہ طرز تعمیر قرطبہ میں بھی ملتا ہے‘ غرناطہ میں بھی اور سیویا میں بھی‘ اندلسی لوگ اونچی چھتیں بناتے تھے‘ دیواریں موٹی ہوتی تھیں اور ان پر مٹی میں چونا ملا کر ایک ایک انچ لیپ کیا جاتا تھا اور پھر اس لیپ پر سنگ مرمر کے ٹکڑے اور چھوٹی ٹائلیں لگائی جاتی تھیں‘ یہ ٹائلیں‘ سنگ مر مر اور آبنوسی لکڑی تینوں مل کر اندلسی فن بن جاتی تھیں‘

دلانوں‘ ڈیوڑھیوں اور کمروں کے درمیان سنگ مرمر کے فوارے لگائے جاتے تھے اور فواروں کا پانی سفید پتھروں کی نالیوں سے ہوتا ہوا صحن کے تالاب میں جا گرتا تھا‘ تالاب کے گرد سرو کے چھوٹے بڑے درخت‘ بوگن بیل اور انگوروں کی بیلیں ہوتی تھیں اور ان بیلوں میں رنگ برنگے پرندوں کے گھونسلے ہوتے تھے‘ یہ فن القصر میں اپنے تمام رنگوں کے ساتھ موجود تھا‘ بادشاہ کا حرم چھوٹا سا الحمرا محسوس ہوتا تھا‘ گائیڈ نے بتایا عیسائی بادشاہ نے غرناطہ کے بادشاہ سے الحمرا کے معمار ادھار لئے اور محل کا یہ حصہ تعمیر کیا‘

کولمبس کا دفتر بھی القصر میں تھا‘ امریکا کی تمام تجارتی مہمات اسی دفتر سے روانہ ہوتی تھیں‘ کولمبس کے جہاز کا شناختی نشان اور کولمبس کی امریکا روانگی کی پینٹنگ دفتر کی دیواروں پر لگی تھی‘ پینٹنگ میں کولمبس کا دوست امریکانو ویسپیوسیو  صاف نظر آ رہا تھا‘ امریکانو نے سرخ ٹوپی پہن رکھی تھی‘ امریکانو اطالوی تھا اور کولمبس کا دوست تھا‘ کولمبس موت تک امریکا کو انڈیا سمجھتا رہا‘ اس نے اسی لئے امریکا کے قدیم باشندوں کو ”ریڈ انڈین“ کا نام دیاتھا‘

امریکانو پہلا شخص تھا جس نے نقشے کی بنیاد پر ثابت کیا ”کولمبس نے انڈیا کا نیا راستہ نہیں بلکہ ایک نئی دنیا دریافت کی “ امریکانو کی تھیوری بعد ازاں سچ ثابت ہوئی چنانچہ نئے ملک کا نام امریکانو کے نام پر امریکا رکھ دیا گیا‘ بادشاہ فرڈیننڈ نے 1508ءسیویا میں ”نیوی گیشن“ کی دنیا کی پہلی یونیورسٹی بنائی اور امریکانو کو اس کا سربراہ بنا دیا‘ یونیورسٹی کی عمارت آج تک موجود ہے‘ مجھے وہاں جانے کا موقع بھی ملا‘ سپین کے تمام جہاز ران کولمبس کے اس دفتر سے اجازت لے کر امریکا جاتے تھے اور بادشاہ ان کے تجارتی سامان سے اپنا حصہ وصول کرتا تھا‘

کولمبس کے دفتر کے بعد محل کے دو ہال بہت اہم ہیں‘ پہلا کارلو فائیو کی شہزادی ازابیلا دوم کے ساتھ شادی کا ہال تھا‘ ازابیلا پرتگال کی شہزادی تھی‘ وہ ہال کے دائیں دروازے سے اندر داخل ہوئی تھی جبکہ کارلو فائیو بائیں دروازے سے‘ دائیں دروازے پر آج بھی پرتگال کا جھنڈا اور شناختی نشان موجود ہے جبکہ بائیں دروازے پر سپین کا نشان اور جھنڈا تھا‘ یہ ہال خصوصی طور پر اس شادی کےلئے بنایا گیا تھا‘ دوسرا ہال تیونس کی فتح کی یادگار تھا‘ 1535ءمیں ترک بادشاہ سلطان سلیمان اول تیونس تک پہنچ گیا‘

وہ سیویا فتح کر کے یورپ داخل ہونا چاہتا تھا ‘کارلو فائیو نے یورپی فوج بنائی‘ بحری جہازوں پر تیونس پہنچا اور عثمانی خلیفہ کو شکست دی‘ اس شکست نے فیصلہ کر دیا عثمانی خلافت شمالی افریقہ سے آگے نہیں آئے گی‘ کارلو فائیو نے فتح کے بعد یہ وکٹری ہال بنوایا‘ ہال کی تین دیواروں پر طویل قالین لٹک رہے تھے‘ قالین بافوں نے قالینوں میں جنگ اور فتح کا سارا احوال نقش کر رکھا تھا‘ یہ کارپٹ پینٹنگز تھیں اور یہ پینٹنگزہر لحاظ سے ماسٹر پیس تھیں۔

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget