تازہ ترین اشاعتیں

, Javed Chaudhry Columns 14 May 2019, Javed Chaudhry Columns Today, Javed Chaudhry Column.


”ہماری معیشت اب ہمارے ہاتھ میں نہیں رہی‘ یہ آئی ایم ایف کے پاس چلی گئی ہے‘ یہ اگر چاہیں گے تو ہم سانس لیں گے‘ یہ نہیں چاہیں گے تو ہم پھڑک کر مر جائیں گے“ سگار کی بو میری سانس کی نالی میں اٹک رہی تھی‘ میرا دم گھٹ رہا تھا لیکن صاحب کی بات سننا بھی ضروری تھا چنانچہ میرے پاس تمباکو برداشت کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا‘ میں سانس روک کر بیٹھ گیا‘ وہ لمبے لمبے کش لے رہے تھے اور ان کے نتھنوں اور بانچھوں سے تمباکو کی لکیریں نکل رہی تھیں۔

وہ بولے ”آپ کے سابق گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ کے دو جرم تھے‘ وہ ڈالر کو بھی کنٹرول رکھنا چاہتے تھے اور وہ شرح سود بھی اوپر

نہیں جانے دے رہے تھے‘ ان کا خیال تھا ڈالر کی ویلیو میں اگر مزید اضافہ ہو گیا‘ یہ 160 روپے تک پہنچ گیا تو ہماری معیشت دم توڑ جائے گی‘ ملک بے روزگاری‘ کساد بازاری اور مہنگائی کا شکار ہو جائے گا چنانچہ یہ چاہتے تھے وزیراعظم دو بلین ڈالر کا فنڈ دے دیں اور سٹیٹ بینک ان دو ارب ڈالرز کے ذریعے ڈالر کنٹرول رکھے تاکہ مارکیٹ میں استحکام پیدا ہو جائے‘ وزیراعظم اس آئیڈیا کے خلاف نہیں تھے لیکن یہ فارمولا آئی ایم ایف اور وزیراعظم کے چند ساتھیوں کو پسند نہیں تھا‘ یہ لوگ ڈالر کو 160 روپے پر دیکھنا چاہتے تھے چنانچہ گورنر سٹیٹ بینک حکومتی عتاب کا نشانہ بن گئے‘ رضا باقر نے اب ان کی جگہ سٹیٹ بینک کا چارج سنبھال لیا ہے‘ یہ بہت اچھے معیشت دان ہیں‘ یہ ورلڈ بینک‘ ایم آئی ٹی یونیورسٹی اور یونین بینک آف سوئٹزرلینڈ میں بھی کام کر چکے ہیں اوریہ یوکرائن‘ تھائی لینڈ‘ پرتگال‘ جمیکا‘ یونان‘ گھانا اور قبرص میں بھی آئی ایم ایف کے نمائندے رہ چکے ہیں‘ یہ آخر میں تین سال مصر میں رہے‘ مصر 2016ءمیں اس جگہ پر پہنچ گیا تھا جہاں آج پاکستان ہے‘ مصر کے زرمبادلہ کے ذخائر 36 ارب ڈالر سے 16 ارب ڈالر پر آ گئے تھے‘ مصری حکومت پاکستان کی طرح آئی ایم ایف کے دروازے پر دستک دینے پر مجبور ہوگئی‘ آئی ایم ایف نے دباﺅ ڈالا اور مصر نے اپنی کرنسی کی ویلیو کم کر دی۔


آئی ایم ایف پیکج سے قبل ایک ڈالر میں 7 مصری پاﺅنڈ آتے تھے‘ پیکج آیا تو ڈالر 17مصری پاﺅنڈ کا ہو گیا‘ افراط زر بڑھنا شروع ہوئی اور یہ 21 فیصد ہو گئی‘ اس کے نتیجے میں 28 فیصد عوام خط غربت سے نیچے آ گئے‘ آئی ایم ایف نے رضا باقر کو مصری معیشت پر نظر رکھنے کی ذمہ داری سونپ دی‘ یہ مصر میں رہے‘ اس دوران بجلی اور گیس کی قیمتوں میں 130فیصد اضافہ ہوا‘ ویلیو ایڈڈ ٹیکس 14 فیصد بڑھ گیا اور بے روزگاری 10 فیصد۔

رضا باقر کے دور میں مصر کا قرضہ جی ڈی پی کا 103 فیصد ہو گیا ‘ حکومتی اخراجات 82 ارب ڈالر ہو گئے جبکہ آمدنی صرف 58 ارب ڈالر رہ گئی گویا 24 ارب ڈالر کا شارٹ فال ہو گیا یوں مصری معیشت کا جنازہ نکل گیا‘ مصر کے وزیر خزانہ ڈاکٹر محمد مائط نے پاکستان کے سابق وزیر خزانہ اسد عمر کو مشورہ دیا آپ لوگ کسی قیمت پر اپنی کرنسی کی ویلیو کم نہ کریں کیونکہ ہم نے ایکسپورٹس بڑھانے کےلئے یہ غلطی کی تھی لیکن ہماری برآمدات بڑھنے کی بجائے مزید کم ہو گئیں‘ ہمارے قرضوں اور مہنگائی میں بھی اضافہ ہوگیا۔

, Javed Chaudhry Columns 14 May 2019, Javed Chaudhry Columns Today, Javed Chaudhry Column.



ڈاکٹر محمدمائط نے اسد عمر کو یہ مشورہ بھی دیا تھا تم کوشش کرو تم آئی ایم ایف سے جتنا بچ سکتے ہو تم بچ جاﺅ‘یہ مشورہ اسد عمرکے دل کو لگا چنانچہ یہ بھی طارق باجوہ کی طرح پاکستانی روپے کی مزید ویلیو کم کرنے پر تیار ہوئے اور نہ آئی ایم ایف کے دباﺅ میں آئے لیکن پھر نتیجہ کیا نکلا‘ طارق باجوہ بھی گئے اور اسد عمر بھی اور ان کی جگہ آئی ایم ایف کے آفیسر باقر رضا وائسرائے بن کرپاکستان آ گئے اور عالمی اداروں کے دوست حفیظ شیخ مشیر خزانہ بن گئے یوں گیم آئی ایم ایف کے ہاتھ میں چلی گئی“۔

۔وہ خاموش ہوگئے‘ سگار کا دھواں تیز ہو گیا‘ صاحب افطاری کے بعد سگار پینا شروع کرتے ہیں اور سحری تک دھواں اڑاتے رہتے ہیں اور میں افطاری کے وقت ان کے قابو آ گیا تھا اور دھواں دھواں ہو کر رہ گیاتھا۔میں نے ان سے پوچھا ”سر اب کیا ہو گا“ وہ ہنس کر بولے ”ڈالر حکومت کے کنٹرول سے نکل کر آئی ایم ایف کے پاس چلا گیا ہے‘ یہ اب 160 روپے میں ملے گا یا پھر 200 روپے میں یہ فیصلہ حکومت پاکستان نہیں کرے گی یہ آئی ایم ایف کرے گا۔

آئی ایم ایف ہمیں چھ ارب ڈالر کا پیکج دے رہا ہے‘ ہمیں اس کے جواب میں ایران پاکستان گیس پائپ لائین کا منصوبہ مکمل طور پر بند کرنا ہوگا‘ سی پیک اور چین کی سرمایہ کاری کا والیم ڈاﺅن کرنا ہوگا‘ ہمیں پی آئی اے‘ سٹیل مل اور ریلوے کو فروخت کرنا ہوگا‘ ہمیں بجلی‘ گیس اور پٹرول کے نرخ کو اوپن کرنا ہوگا‘ عوام ان کی کاسٹ سے 20 فیصد زیادہ ادا کریں گے‘ یہ بیس فیصد ٹیکس ہو گا اور یہ ٹیکس آئی ایم ایف کے قرضوں کی ادائیگی میں استعمال ہو گا‘ حکومت تمام سبسڈی بھی ختم کر دے گی۔

کسانوں کو بھی بجلی‘ گیس اور پٹرول مہنگا ملے گا‘ کھاد کی سبسڈی بھی ختم ہو جائے گی‘ حکومت ادویات اور پولٹری کی سبسڈی بھی واپس لے لے گی اور غریبوں کی مراعات بھی تھوڑی تھوڑی کر کے ختم کر دی جائیں گی اور یوں مہنگائی‘ بے روزگاری اور افراتفری میں اضافہ ہو جائے گا“۔ وہ خاموش ہو گئے‘ میں نے عرض کیا ”لیکن سر نئے چیئرمین ایف بی آر شبرزیدی اچھے انسان ہیں‘ یہ ایماندار اور سمجھ دار بھی ہیں‘ یہ ملک کے ٹیکس سسٹم کو بھی اچھی طرح سمجھتے ہیں اور ان کا پہلا فیصلہ بھی چھکا تھا۔

, Javed Chaudhry Columns 14 May 2019, Javed Chaudhry Columns Today, Javed Chaudhry Column.



شبرزیدی نے آرڈر جاری کر دیا ایف بی آر کسی ٹیکس پیئر کو نوٹس دیئے بغیر اس کے اکاﺅنٹس سے پیسے نہیں نکال سکے گا‘ لوگ اس آرڈر پر بہت خوش ہیں‘ ایف بی آر ٹیکس پیئرز اور کمپنیوں کو بتائے بغیر ان کے اکاﺅنٹس سے رقم نکال لیتا تھا جس کی وجہ سے لوگوں نے اپنے اکاﺅنٹس خالی کر دیئے تھے اور بینکوں میں کیش کم پڑ گئی تھی“ صاحب نے قہقہہ لگایا‘ سگار کا ایک اور لمبا کش لیا اور بولے ”لیکن شبر زیدی زیادہ دنوں تک ٹک نہیں سکیں گے‘ یہ بھی جلد جہانزیب خان کی طرح ہٹا دیئے جائیں گے“۔

وہ خاموش ہو گئے‘ یہ میرے لئے خبر تھی چنانچہ میں ہمہ تن گوش ہو گیا‘ وہ بولے”شبرزیدی کے خلاف سازشیں شروع ہو چکی ہیں‘ حفیظ شیخ ایف بی آر میں اپنی مرضی کا افسر لانا چاہتے تھے لیکن عین وقت پر ان کا تجویز کردہ شخص کرپٹ نکل آیا‘ وزیراعظم نے تعیناتی سے انکار کر دیا‘ شبر زیدی کا نام وزیر قانون فروغ نسیم نے پیش کیا‘ وزیراعظم ان پر اعتماد کرتے ہیں چنانچہ یہ تقرری کر دی گئی‘ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں حکیم علی ارشد چیئرمین بنائے گئے تھے۔

ان کی تقرری اسلام آباد ہائی کورٹ  میں چیلنج ہو گئی تھی جس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے جون 2013ءمیںحکم جاری کر دیا تھا حکومت اگر پرائیویٹ سیکٹر سے کسی سرکاری محکمے کا سربراہ تعینات کرنا چاہے گی تو یہ پہلے یہ پوزیشن مشتہر کرے گی‘ انٹرویوز ہوں گے‘ تین لوگوں کے نام شارٹ لسٹ ہوں گے اور حکومت ان میں سے کسی ایک کو مقرر کرے گی‘ شبر زیدی اس کرائی ٹیریا پر پورے نہیں اترتے تھے‘ یہ ایشو کابینہ میں زیر بحث آیاتو وزیر قانون نے وزیراعظم کو مشورہ دے دیا آپ شبر زیدی کو اعزازی چیئرمین بنا دیں‘ وزیراعظم کو آئیڈیا اچھا لگا۔

انہوں نے وزارت قانون سے تحریری مشورہ مانگ لیا ‘ فروغ نسیم نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو لکھ کر بھجوا دیا وزیراعظم شبرزیدی کو اعزازی چیئرمین تعینات کر سکتے ہیں یوں یہ ایشو حل ہو گیا لیکن مخالفین یہ فیصلہ قبول کرنے کےلئے تیار نہیں ہیں‘ یہ اب کابینہ کے مختلف وزراءاوروزیراعظم کے ساتھیوں کو ٹیکس کے 20 بڑے کیسز کی فائلیں بھجوا رہے ہیں‘ یہ اربوں روپے کے بیس بڑے کیس ہیں اور ان تمام کیسز میں بیرسٹر فروغ نسیم کمپنیوں کے وکیل ہیں اور شبرزیدی چارٹرڈ اکاﺅنٹنٹ۔

یہ لوگ وزیراعظم کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں شبر زیدی اور فروغ نسیم دونوں پارٹنر ہیں‘ فروغ نسیم وزیر قانون بھی ہیں اور یہ ریاست کے خلاف مقدموں میں پرائیویٹ کمپنیوں اورلوگوں کے وکیل بھی ہیں‘ یہ سو سے دو سو ارب روپے کے مقدمے ہیں اور یہ دونوں اب بڑی آسانی سے اپنے موکلوں کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں‘ یہ لوگ شبر زیدی کے پہلے فیصلے کو بھی غلط رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں لہٰذا شبرزیدی نے جس دن ایمنسٹی سکیم اور کلیمز کے فیصلے کرنا شروع کر دیئے‘ یہ جس دن مارکیٹ کو استحکام دینے کےلئے بڑے مقدمات پر کارروائی رکوادیں گے اس دن سازشیوں کی سازشیں کامیاب ہو جائیں گی‘ یہ بھی اس دن فارغ کر دیئے جائیں گے“ وہ خاموش ہوگئے۔

میں نے ان سے پوچھا ”کیا شبرزیدی غلط چوائس ہیں“ وہ ہنس کر بولے ”یہ بہت اچھی چوائس ہیں‘ ایف بی آر کو اکانومسٹ نہیں چارٹرڈ اکاﺅنٹنٹ ہی چلا سکتے ہیں‘ اسحاق ڈار بھی چارٹرڈ اکاﺅنٹنٹ تھے‘ یہ وزیر خزانہ تھے لیکن یہ ایف بی آر بھی چلاتے رہے‘ ان کے دور میں ٹیکس کولیکشن بھی ڈبل ہو گئی‘ ڈالر بھی 103 پر ٹکا رہا‘ گروتھ ریٹ میں بھی اضافہ ہوا‘ مہنگائی بھی کم ہوئی‘ زرمبادلہ کے ذخائر بھی بڑھ گئے اورجنوری 2017ءمیں تاریخ میں پہلی مرتبہ سٹاک ایکس چینج کا 100 انڈیکس 50 ہزار پوائنٹس کی حد سے بھی تجاوز کر گیا۔

شبر زیدی بھی چارٹرڈ اکاﺅنٹنٹ ہیں‘ یہ بڑی آسانی سے معیشت کو سنبھال سکتے ہیں‘ یہ ٹیکس کولیکشن بھی بڑھا دیں گے اور مارکیٹ کو بھی مستحکم کر دیں گے لیکن یہ بات منظوری دینے والوں کو منظور نہیں‘ یہ پاکستان کی معیشت کو مستحکم نہیں دیکھنا چاہتے چنانچہ شبرزیدی بھی بہت جلد سازش کا شکار ہو جائیں گے‘ یہ بھی آپ کو جہانزیب خان اور اسد عمر کی طرح سائیڈ پر بیٹھے نظر آئیں گے “ میں نے حیرت سے پوچھا ”لیکن کیوں؟“ صاحب ہنس کر بولے ”وزیراعظم نیک نیت ہیں بس ان میں دو خامیاں ہیں‘ یہ بے شمار لوگوں سے مشورے کرتے ہیں اور ہر مشورے کو صحیح سمجھ لیتے ہیں اور دوسرا‘ یہ دیوار کے پیچھے نہیں جھانک پاتے‘ یہ لوگوں کو ان کی فیس ویلیو پر پرکھتے ہیں‘ یہ ان کے عزائم نہیں دیکھتے اور یہ خامیاں پورے ملک کو لے کر بیٹھ گئی ہیں‘پورا ملک ہار رہا ہے لیکن جمہوریت کا انتقام جیت رہا ہے“۔

, Javed Chaudhry Columns 14 May 2019, Javed Chaudhry Columns Today, Javed Chaudhry Column.


Javed Chaudhry Columns 12 May 2019, Javed Chaudhry Columns Today, Javed Chaudhry Column, Javed Chaudhry Columns Express.

آپ ادب کو کسی بھی زاویے‘ کسی بھی سائیڈ سے دیکھ لیجئے ‘ آپ کو فیودوردوستوفسکی  ادب کے عین درمیان کھڑا ملے گا‘دی ایڈیٹ ہو‘ برادرز کراموزوف ہو‘ کرائم اینڈ پنشمنٹ ‘دی گیمبلر‘ڈیمنز‘ دی ڈبل اوردی ایٹرنل ہس بینڈ ہو‘ یہ ناول صرف ناول نہیں ہیں‘ یہ تخلیق کی انتہا ہیں‘یہ انسان‘ نفسیات اور معاشرے کی زمین سے افق تک پھیلی وسیع پینٹنگز ہیں‘ وہ لکھتا نہیں تھا وہ لفظوں سے پینٹ کرتا تھا اور پینٹ بھی ایسا کہ ہر کردار کتاب سے نکل کر قاری کے سامنے کھڑا ہو جاتا تھا اور پڑھنے والے اسے اپنے اردگرد چلتا پھرتا محسوس کرتے تھے۔

لوگ کرداروں کی خوشبو تک سونگھتے تھے‘ میں نے اپنا پورا لڑکپن دوستوفسکی کے کرداروں کے ساتھ گزارہ ‘دی ایڈیٹ طویل ناول ہے‘ پرنس

مشکن ناول کا مرکزی کردار ہے‘ آپ دوستوفسکی کی کردار نگاری اور تفصیل نویسی کی انتہا ملاحظہ کیجئے‘ پرنس مشکن ریلوے سٹیشن پر اترتا ہے اور وہ سٹیشن سے گھر پہنچتا ہے‘ دوستوفسکی نے یہ تھوڑا سا سفر 168 صفحات میں بیان کیا‘ یہ تفصیل نویسی دوستوفسکی کے علاوہ کسی دوسرے لکھاری کے بس کی بات نہیں۔
اس کے فقرے بھی انسان کو اندر سے کاٹ کر رکھ دیتے تھے‘ مثلاً اس نے کسی جگہ لکھا‘ تم اتنے بوڑھے ہو کہ تم اپنے بھی باپ دکھائی دیتے ہو‘ مثلاً بچوں کو بچہ سمجھنے والے لوگ یہ بھول جاتے ہیں وہ بھی کبھی بچے تھے اور انہیں اس عمر میں وہ سب کچھ معلوم تھا جس کے بارے میں ان کا خیال ہے ان کے بچے نہیں جانتے‘ مثلاً یہ کیسے ممکن ہے تم زندہ بھی ہو اور تمہارے پاس سنانے کےلئے کوئی کہانی بھی نہیں‘ مثلاً وہ اگر انسان ہے تو وہ یاوہ گوئی ضرور کرے گا۔

مثلاً اپنی مرضی سے غلط راستے پر چلنا اس صحیح راستے سے ہزارگنا بہتر ہے جس پر آپ دوسروں کے حکم سے چلنے پر مجبور ہوں ‘مثلاً رات جتنی گہری ہو گی ستارے اتنے ہی چمک دار ہوںگے اور مثلاً غم کی انتہا انسان کو خدا کے قریب لے جاتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ وہ کمال حقیقت نگار بھی تھا‘ دوستو فسکی کی بارش محض لفظی بارش نہیں ہوتی تھی‘ وہ قاری کو گیلا بھی کرتی تھی‘ اس کی برف باری قاری کو گرمیوں میں کمبل اوڑھنے اور اس کی کھانسی قاری کو کھانسنے پر مجبور کر دیتی تھی۔

روس کی سردی‘ شام کی اداسی‘ سوکھی لکڑیوں کی کمی اور گرم کھانے کی اشتہا آپ اگر ایک بار دوستوفسکی کی منظر نگاری کا نشانہ بن گئے تو پھر آپ قبر تک یہ ذائقے بھول نہیں سکیں گے‘ وہ ایک بیمار اور ناآسودہ روح تھا‘ مرگی کا مریض تھا اور مرگی کے دوروں کے دوران اسے الہام ہوتا تھا‘ یہ الہام اس کے ناولوں کی کھیتی ثابت ہوتے تھے‘ وہ اپنے کرداروں کے منہ سے مستقبل کا نقشہ کھینچ دیتا تھا اور بعد ازاں وہ واقعات من وعن ظہور پذیر ہو جاتے تھے۔

 وہ پھیپھڑوں کے سرطان کا مریض بھی تھا‘ کھانسنا‘ خون تھوکنا اور خون تھوکتے تھوکتے لکھتے رہنا اس کا معمول تھا‘ اپنے بچوں سے بہت محبت کرتا تھا‘ شام کی چائے بچوں کے ساتھ پیتا تھا اور ان سے ان کی تعلیم کے بارے میں ضرور پوچھتا تھا‘ سگریٹ بے تحاشا پیتا تھا‘ وہ سگریٹ کے بغیر لکھ نہیں سکتا تھا‘ ساری رات سگریٹ پیتا تھا اور لکھتا تھا اور پھر تھک ہار کر سوجاتا تھا‘ علاج کیلئے جرمنی گیا لیکن علاج کامیاب نہ ہو سکا اور یوں دنیا کا عظیم لکھاری 60سال کی عمر میں9فروری 1881ءکو فوت ہو گیا۔

Javed Chaudhry Columns 12 May 2019, Javed Chaudhry Columns Today, Javed Chaudhry Column, Javed Chaudhry Columns Express.

دوستو فسکی کا جنازہ سینٹ پیٹرز برگ کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا‘شاہی خاندان سے لے کر روس کے غلام تک ہر طبقے کے لوگ جنازے میں شریک ہوئے‘ دوستوفسکی کی زندگی مسائل میں گزری تھی‘ ملٹری انجینئرنگ سکول میں ابتدائی تعلیم حاصل کی‘ فوج میں بھرتی ہوا‘ لکھنے پڑھنے کا کام شروع کیا‘ گرفتار ہوا اور پانچ سال سائبیریا میں لوہا کوٹنے پر لگا دیا گیا‘ حکومت نے اس دوران اس کے لکھنے پر بھی پابندی لگا دی ‘وہ قید کاٹ کر واپس آیا اور قلم سے دوبارہ رشتہ استوار کر لیا۔

دوشادیاں کیں‘ چاربچے ہوئے‘ آخری شادی اپنی سیکرٹری ایناگریگوریونا سے کی‘ وہ بیس سال کی تھی اور یہ 46سال کا بیمار شخص لیکن اس کے باوجود شادی زبردست رہی‘ وہ اپنی بیٹیوں کو خط بھی لکھتا تھا اور ان کےلئے نوٹس لکھ کر کھانے کی میز پر بھی رکھ دیتا تھا‘ یہ نوٹس اور یہ خط بھی اب تاریخ کا حصہ ہیں اور میں پانچ مئی 2019ءکی شام ادب کی یہ تاریخ دیکھنے کےلئے دوستوفسکی کے گھر پہنچ گیا۔دوستوفسکی کا گھر سنٹر سے ذرا سا ہٹ کر اپارٹمنٹس کی بلڈنگ میں تھا۔

دوستوفسکی ماسکومیں پیدا ہوا مگر زندگی کا زیادہ تر حصہ سینٹ پیٹرز برگ میں گزارہ‘ وہ ہمیشہ کرائے کے گھروں میں رہالیکن زندگی کا آخری حصہ سینٹ پیٹرزبرگ کی اس عمارت میں گزارہ‘ عمارت کا مرکزی دروازہ گلی میں ذرا سا نیچے تھا‘ میں آٹھ سیڑھیاں اتر کر عمارت کے اندر داخل ہوا‘ سامنے ٹکٹ گھر اور استقبالیہ تھا‘ دوستوفسکی تیسری منزل کے بائیں فلیٹ میں رہتا تھا‘ سیڑھیاں قدیم اور اکھڑی ہوئی تھیں‘ وہ اپنے ہر ناول اور ہر کہانی میں اپارٹمنٹس‘ سیڑھیوں اور مرکزی دروازوں کا ذکر ضرور کرتا تھا۔

مجھے اوپر چڑھتے ہوئے وہ سارے کردار‘ ان کی سیڑھیاں اور ان کے اپارٹمنٹس یاد آ گئے‘ دوستوفسکی نے یقینا وہ تمام کردار انہی سیڑھیوں سے اترتے چڑھتے ہوئے تخلیق کئے تھے اور یہ بھی عین ممکن تھادوستوفسکی کے تمام کردار اسی عمارت کے مختلف فلیٹس میں رہتے ہوں اور اس نے وہ دیکھ کر ان کے گرد کہانیوں کا تانا بانا بنا ہو‘ میں اوپر چڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ اس کا فلیٹ آ گیا‘ فلیٹ کے دروازے پر پیتل کی نیم پلیٹ لگی تھی‘ مرکزی دروازے کے اندر کوریڈور تھا۔

کوریڈور کی ایک سائیڈ بیڈروم میں کھلتی تھی اور دوسری سِٹنگ روم کی طرف بڑھ جاتی تھی‘ بیڈروم میں بچوں کے کھلونے پڑے تھے‘ یہ اس کے بچوں اور بیوی کا کمرہ تھا‘ کمرہ چھوٹا تھا‘ بچے یقینا مشکل سے ایڈجسٹ ہوتے ہوں گے‘ بیڈروم کا دوسرا دروازہ ڈائننگ ہال میں کھلتا تھا‘ ڈائننگ ہال میں چھوٹی سی ٹیبل اور چار کرسیاں تھیں‘ الماریوں میں برتن تھے اور دیواروں پر فیملی کی تصویریں لگی تھیں‘ میز پر دوستوفسکی کے ہاتھ کے نوٹس اور سکرپٹ بھی پڑے تھے۔

Javed Chaudhry Columns 12 May 2019, Javed Chaudhry Columns Today, Javed Chaudhry Column, Javed Chaudhry Columns Express.

وہ دن میں ایک بار اس میز پر اپنے بچوں کے ساتھ ضرور بیٹھتا تھا‘ اس دوران بچوں سے ان کی پڑھائی کے بارے میں پوچھتا تھا‘ بیٹی کے نام اس کے نوٹس بھی میز پر پڑے تھے‘ دوستوفسکی کی لکھائی بہت اچھی تھی‘ وہ باریک پین کے ساتھ لکھتا تھا اور کاغذ کا کوئی حصہ ضائع نہیں کرتا تھا‘ اس کے نوٹس اس کی کفایت شعاری کا ثبوت تھے‘ ڈائننگ روم کے باہر لابی تھی‘ یہ لابی سِٹنگ روم کے طور پر استعمال ہوتی تھی‘ وہاں صوفہ بھی پڑا تھا اور چھوٹی سی میز بھی‘ میز پر اس کے سگریٹ رکھے تھے۔

اس زمانے میں کاغذ کے خالی خول میں تمباکو بھر کر پیا جاتا تھا‘ تمباکو کی ڈبی اور سگریٹ کے کاغذی خول ساتھ ساتھ دھرے تھے‘ دوستوفسکی کی سٹڈی سِٹنگ روم کے ساتھ تھی‘ یہ نسبتاً بڑا کمرہ تھا‘ سامنے وہ رائیٹنگ ٹیبل تھی جس پر بیٹھ کر اس نے جرم وسزا‘دی ایڈیٹ اور برادرز کراموزوف جیسے شاہکار لکھے تھے‘ میز پر کاغذ‘ دوات اور پین رکھے تھے‘ ساتھ الماری تھی اور الماری میں کتابیں تھیں‘ میز سے پیچھے صوفہ تھا اور صوفے کے ساتھ فلور لیمپ رکھا تھا۔

دیواروں پر کینڈل سٹینڈ لگے تھے‘ میز پر بھی کینڈل سٹینڈ تھا‘ وہ یقینا موم بتیوں کی روشنی میں کام کرتا تھا‘ کونے میں چابی والا کلاک تھا‘ یہ کلاک اس کے بھائی نے گفٹ کیا تھا اور اس کی سوئیاں اس وقت پر آ کر رک گئی تھیں جب اس کی موت واقع ہوئی تھی‘ وہ ساری ساری رات کام کرتا تھا‘ صبح تھک کر صوفے پر سو جاتا تھا‘ فلیٹ کی کھڑکیاں گلی کی طرف کھلتی تھیں‘ شام تک روشنی اندر آتی رہتی تھی‘ پورے فلیٹ میں ایک ہی چیز قیمتی تھی اور وہ چیز لوہے کی انگیٹھی تھی۔

فلیٹ میں چار انگیٹھیاں تھیں‘ یہ انگیٹھیاں ثابت کرتی تھیں سینٹ پیٹرزبرگ میں اس زمانے میں شدید سردی پڑتی تھی اور لوگوں کو گھر گرم رکھنے کےلئے خصوصی اہتمام کرنا پڑتا تھا‘ دوستوفسکی نے بھی یہ بندوبست کر رکھا تھا‘ انگیٹھیاں‘ سوکھی لکڑیاں اور آگ کے شعلے یہ بھی دوستوفسکی کے ہر ناول‘ ہر افسانے میں ضرور ہوتے تھے‘ ڈیڑھ سو سال پرانے روس کی وہ انگیٹھیاں بھی میرے سامنے تھیں‘ وہ کھانا بہت کم کھاتا تھا تاہم چائے پیتا رہتا تھا۔

جرم وسزا کے ایک کردار نے اپنے منہ سے کہا تھا ”دنیا جہنم میں جائے لیکن مجھے چائے کا گرم کپ وقت پر ملنا چاہیے“ یہ شاید دوستوفسکی کے اپنے جذبات تھے‘ اس کی پوری زندگی درد‘ تکلیف اور کسمپرسی میں گزری‘ اس نے خود لکھا ”درد اور تکلیفیں بڑے دماغوں اور گہرے دلوں کےلئے ناگزیر ہوتی ہیں‘ اصلی بڑے لوگ دنیا کے سب سے بڑے اداس لوگ ہوتے ہیں“ وہ کہتا تھا ”دوزخ کیا ہے؟ محبت کرنے کی صلاحیت سے محرومی اور بس“۔

وہ پوری زندگی سچی محبت تلاش کرتا رہا اور اپنی باطنی اداسی سے لڑتا رہا یہاں تک کہ تھوک میں خون اور بلغم میں لوتھڑے آنے لگے‘ وہ آخر میں اپنے بچوں کےلئے زندہ رہنا چاہتا تھا‘ اس نے بے تحاشا کوشش کی لیکن اس کے باوجود ایک دن اس کی زندگی اس کے ادھورے کرداروں کی طرح ختم ہو گئی‘ وہ لکھتا لکھتا دنیا سے رخصت ہو گیامگر جاتے جاتے اپنے فلیٹ میں اپنا ادھورا پن‘ الہام کی روشنی اور روح کی آخری تہہ تک پھیلی اداسی چھوڑ گیا۔میں نے لمبا سانس لیا‘ پھیپھڑوں میں دوستوفسکی کی اداسی بھری اور بھاری قدموں کے ساتھ سیڑھیاں اترنا شروع کر دیں‘ عمارت کی ہر سیڑھی پر اس کے کردار کھڑے تھے۔

پرنس مشکن‘ ایپولیت اور سینٹ پیٹرز برگ کے اعلیٰ طبقے کی خوبصورت عورتیں وہ سب لوگ آج بھی سیڑھیوں پر موجود تھے‘ وہ سب اپنے خالق کے اوپر سے اترنے کا انتظار کر رہے تھے‘ وہ چاہتے تھے وہ اپنا سیاہ لانگ کوٹ‘ اونی ہیٹ اور واکنگ سٹک سنبھالتا ہوا آئے‘ ان کے قریب رکے‘ مسکرائے اور پھر کہے ”تم لوگ ابھی تک یہاں کھڑے ہو“ اور پھر نخوت سے گردن گھما کر نیچے اتر جائے لیکن شاید یہ اب ممکن نہیں تھا‘ دنیا کا بڑے سے بڑا خالق بھی جب اپنے خالق حقیقی سے جا ملتا ہے تو پھر وہ واپس نہیں آ پاتا‘ کردار قیامت تک اس کا انتظار ہی کرتے رہ جاتے ہیں‘ کیوں؟ کیونکہ گئے وقت اور برسی بارشیں کبھی واپس نہیں آتیں‘ زندگی کرسٹل کا مرتبان ہے‘ ٹوٹ جائے تو بس ٹوٹ جاتا ہے دوبارہ نہیں بنتا۔

Javed Chaudhry Columns 12 May 2019, Javed Chaudhry Columns Today, Javed Chaudhry Column, Javed Chaudhry Columns Express.

Javed Chaudhry Columns 10 May 2019, Javed Chaudhry Columns Today, Javed Chaudhry Column, Javed Chaudhry Columns Express.

روس کے دو شہر اہم ہیں‘ ماسکو اور سینٹ پیٹرز برگ‘ میں نے دو دن ماسکو اور دو سینٹ پیٹرز برگ میں گزارے‘ پیٹرز برگ فن لینڈ کے بارڈر پر ہے اور مکمل یورپی شہر ہے‘ یہ ماسکو سے پہلے روس کا دارالحکومت ہوتا تھا‘ زار اس شہر سے پورے روس پر حکومت کرتے تھے‘ دونوں شہروں کے درمیان بلٹ ٹرین چلتی ہے‘ فاصلہ چار گھنٹوں میں طے ہو جاتا ہے‘ میں نے دن ڈیڑھ بجے ٹرین لی اور ساڑھے پانچ بجے سینٹ پیٹرز برگ میں تھا۔

یہ ساحلی شہرہے‘ روس کو” بالٹک سی“ سے جوڑتا ہے‘ فن لینڈ کا دارالحکومت ہیلسنکی ٹرین کے ذریعے صرف ساڑھے تین گھنٹے دور ہے‘ دونوں کے درمیان فیری سروس بھی ہے‘ یورپ کے زیادہ تر سیاح فن لینڈ سے پیٹرز

برگ آتے ہیں‘ یہ علاقہ کبھی سویڈن کی ملکیت تھا لیکن پھر پیٹر دی گریٹ نے یہاں قبضہ کیا اور 1703ءمیں یورپ کا شاندار ترین شہر تعمیر کرنا شروع کر دیا‘ زار نے قانون بنایا پورے ملک سے ہر سال چالیس ہزار غلام یہاں بھجوائے جائیں گے‘ یہ غلام شہر کی تعمیرکرتے تھے۔
یہ سال کے اندر بھوک‘ پیاس اور سردی کی وجہ سے مر جاتے تھے‘ اگلے سال نئے آ جاتے تھے‘ یہ دنیا کا پہلا شہر تھا جو پہلے کاغذ پر بنا‘ بادشاہ نے اس کی ایک ایک گلی‘ کوچے اور عمارت کی منظوری دی اور پھر یہ زمین پر بنایا گیا‘ یہ تین سو سال بعد بھی جوں کا توں ہے‘ اس کی کوئی گلی‘ کوئی عمارت تبدیل نہیں ہوئی‘ عمارت اگر کسی آفت کی وجہ سے زمین بوس ہو گئی تو حکومت نے اس جگہ عین ویسی عمارت دوبارہ کھڑی کی لہٰذا اگر ماضی کا کوئی کردار اپنی قبر سے اٹھ کر سینٹ پیٹرز برگ آ جائے تو وہ آنکھیں بند کر کے ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچ جائے گا۔

Javed Chaudhry Columns 10 May 2019, Javed Chaudhry Columns Today, Javed Chaudhry Column, Javed Chaudhry Columns Express.



یہ سارا شہر عجائب ہے لیکن زاروں کے دو محلات کمال ہیں‘ پیٹر دی گریٹ نے شہر کے مضافات میں اپنا گرمائی محل بنوایا تھا‘ یہ گارڈن پیلس تھا‘ وسیع باغ میں جھیلوں کے ساتھ چھوٹے چھوٹے محلات‘ حرم‘ کچنز‘ ڈائننگ رومز اور باتھ رومز تھے‘ عمارتیں ایک دوسرے سے الگ تھیں اور شاہی خاندان بگھی پر ایک عمارت سے دوسری تک جاتا تھا تاہم ملکہ کا محل ایک تھا اور کمال تھا‘ بادشاہ نے یہ محل اپنی عزیز ترین ملکہ کیتھرائن کےلئے بنوایا تھا‘ محل کی دیواریں تک سونے سے ڈھکی ہوئی تھیں۔

ملکہ کیتھرائن کی بیٹی کوئین ایلزبتھ نے 1750ءمیں اسے نئے سرے سے بنوایا‘ اٹلی سے معمار لائے گئے اور معماروں نے محل کو آرٹ پیس بنا دیا‘ روس کے عظیم شاعرالیگزینڈر پوشکن کا بچپن اور جوانی اسی محل کی دیواروں کے نیچے گزری تھی‘ پوشکن اسی علاقے کے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتا تھا‘ روس میں روایت تھی خوش حال لوگ دو گھر بناتے تھے‘ یہ گرمیوں میں شہر سے دیہات میں شفٹ ہو جاتے تھے‘ گرمیوں کے گھر ڈاچے کہلاتے تھے۔



ڈاچے فارم ہاﺅسز ہوتے تھے اور یہ لوگ سردیوں میں ڈاچے سے بڑے شہروں میں چلے جاتے تھے‘ پوشکن کا ڈاچا محل کے قریب تھا‘ حکومت نے1837 ءمیں پوشکن کے قتل کے بعد اس علاقے کو پوشکن ٹاﺅن ڈکلیئر کر دیا جبکہ اس کے ڈاچے کو میوزیم بنا دیا‘ میں آخری دن پوشکن ٹاﺅن گیا‘ ملکہ کیتھرائن کا محل بھی دیکھا اور پوشکن کا ڈاچا بھی‘محل دولت کا سفاکانہ قتل تھا جبکہ پوشکن کا گھر مسکین شاعر کا گھر تھا‘ سادہ مگر پروقار۔ زار کا دوسرا محل سینٹ پیٹرز برگ میں تھا۔

یہ ونٹر پیلس کہلاتا ہے اور یہ بھی زمین پر انسانی صناعی کا نقطہ کمال ہے‘ ملکہ ایلزبتھ آرٹ کے خبط میں مبتلا تھی ‘ اس نے اپنے زمانے کے تمام بڑے آرٹس بھی خرید لئے تھے اور قدیم فن پارے بھی‘ آپ کو پیرس کے لوومیوزیم کے بعد دنیا کی سب سے بڑی آرٹ کولیکشن ونٹر پیلس میں ملتی ہے‘ محل میں تین ہزار مجسمے اور پینٹنگز ہیں اور ہر پینٹنگ پانچ پانچ سو ملین ڈالر مالیت کی ہے۔ونٹر پیلس انسانی المیوں کی عبرت گاہ بھی ہے‘ پہلا المیہ ملکہ ایلزبتھ تھی۔

ملکہ نے اربوں روپے خرچ کرکے دنیا کا مہنگا ترین محل بنوایا لیکن وہ محل مکمل ہونے سے پہلے انتقال کر گئی‘ وہ ممتاز محل کی طرح اپنا شاہکار نہ دیکھ سکی۔ دوسرا المیہ الیگزینڈر دوم تھا‘ الیگزینڈر دوم روس کاانقلابی زار تھا‘ اس نے 1861ءمیں روس میں غلامی پر پابندی لگا دی‘ تمام کسانوں‘ ہنر مندوں اور غلاموں کو آزاد کر دیا لیکن یہ آزادی المیہ ثابت ہوئی‘ کسان اور مزدور نسل در نسل غلام چلے آ رہے تھے‘ آزادی کیا ہوتی ہے یہ لوگ سرے سے نہیں جانتے تھے۔.

مالکان نے حکومت کے دباﺅ میں آ کر انہیں نکال دیا‘یہ لوگ پرائیویٹ کام نہیں جانتے تھے‘ غلامی ان کے ڈی این اے کاحصہ بن چکی تھی چنانچہ یہ بھوکے مرنے لگے‘ دوسری طرف لینڈ لارڈز بادشاہ کے خلاف ہو گئے‘ بادشاہ پر سات حملے ہوئے لیکن وہ بچ گیا‘ آخری حملہ نہر کے کنارے ہوا‘ بادشاہ نہر کے کنارے کھڑا تھا‘ کسی نے اس پر بم پھینک دیا‘ بادشاہ کی بگھی تباہ ہو گئی لیکن وہ بچ گیا‘ پولیس نے مجرم کو گرفتار کر لیا‘ بادشاہ نے مجرم سے لائیو تفتیش شروع کر دی۔

Javed Chaudhry Columns 10 May 2019, Javed Chaudhry Columns Today, Javed Chaudhry Column, Javed Chaudhry Columns Express.



اس دوران مجرم کا دوسرا ساتھی بم لے کر آیا اور بادشاہ کے قریب پہنچ کر بم پھاڑ دیا‘ یہ تاریخ کا پہلا خودکش بارودی حملہ تھا‘ حملہ آور مارا گیا لیکن بادشاہ شدید زخمی ہو گیا‘ بادشاہ کے جسم کا آدھا خون بہہ گیا‘ خون پتھروں پر گرا اور جم گیا‘ بادشاہ کے بیٹے اور اگلے بادشاہ الیگزینڈر سوم نے ان پتھروں کے گرد شاندار چرچ تعمیر کرایا‘ یہ واقعہ 1881ءمیں پیش آیا تھا چنانچہ چرچ کی اونچائی 81 میٹر رکھی گئی‘ یہ چرچ آج بھی موجود ہے اور یہ بلڈ کیتھڈرل کہلاتا ہے‘ یہ پیٹرز برگ کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔

بادشاہ چھ دن نزع کے عالم میں رہا‘ ڈاکٹر اس کا خون نہ روک سکے اور یوں وہ انتقال کر گیا لیکن اس کے خون کے دھبے آج بھی زمین پر موجود ہیں اور ان دھبوں کے گرد چرچ بھی‘ میں چرچ بھی گیا اور آنجہانی بادشاہ کے خون کے دھبے بھی دیکھے‘ الیگزینڈر دوم ونٹر پیلس میں فوت ہوا تھا‘ محل کی دیوارپر اس کی پینٹنگ موجود ہے اور محل کا آخری المیہ انقلاب روس تھا‘ لینن نے انقلاب کا آغاز سینٹ پیٹرزبرگ سے کیا تھا‘ لینن کی تقریروں نے پورے ملک میں آگ لگا دی۔

عوام نے ونٹر پیلس کا گھیراﺅ کر لیااور15 مارچ 1917ءکو نکولس دوم کا تختہ الٹ دیا‘ روس کے آخری زار نکولس دوم اور ملکہ الیگزینڈرا کو گرفتار کر لیا گیا‘انقلابیوں نے نکولس دوم کو خاندان سمیت قید میں ڈال دیا‘16 اور 17جولائی 1918ءکی درمیانی شب انقلابیوں نے شاہی خاندان کے تمام افراد قتل کر دیئے ‘ کوئی بچہ اورکوئی بچی تک نہ بچی تاکہ بانس تک محفوظ نہ رہے‘ میں ونٹر پیلس کا وہ ڈائننگ ہال دیکھنے کےلئے خصوصی طور پر ونٹر پیلس گیا جہاں شاہی خاندان نے پناہ لی تھی۔

میز پر کراکری رکھی تھی اور کرسیوں کے زاویے تک انقلاب کی اس خونی شام جیسے تھے‘ روس کے آخری بادشاہ نے خاندان کے ساتھ اس ہال میں اپنا آخری شاہی کھانا کھایا تھا‘ دربار ہال کے دروازے اور کھڑکیاں کھلی تھیں‘ کھڑکیوں سے سمندر کے اداس پانیوں کا بین سنائی دے رہا تھا‘ بادشاہ نے چائے کا آخری گھونٹ بھرا اور اس کی سلطنت ہمیشہ ہمیشہ کےلئے ختم ہو گئی‘ وہ ان گندے‘ بدبودار اور میلے لوگوں کے ہتھے چڑھ گیا جنہیں وہ انسان نہیں سمجھتا تھا‘ وہ اس کی نظروں میں چمپینزی تھے۔

Javed Chaudhry Columns 10 May 2019, Javed Chaudhry Columns Today, Javed Chaudhry Column, Javed Chaudhry Columns Express.



نکولس دوم اور ملکہ الیگزینڈرا کی پینٹنگ شاہی گیلری کی آخری دیوار کے آخری کونے میں لگی تھی‘ وہ دونوں شاہی لباس میں تھے لیکن نہ جانے کیوں ان کے چہروں پر اداسی کے جال بچھے تھے‘ انقلابیوں نے صرف بادشاہ کی کہنہ عمر ماں کی جان بخش دی‘ماںماریہ فیوڈورووناملک نہیں چھوڑنا چاہتی تھی لیکن وہ خاندان کے قتل کے بعد لندن شفٹ ہونے پر مجبور ہوگئی‘وہ وہاں سے ڈنمارک چلی گئی اور 13 اکتوبر1928ءکو ڈنمارک میں انتقال کیا اور روسی حکومت کے حکم پر اس کی لاش روس لا کر دفن کر دی گئی یوں شاہی خاندان کے تمام افراد روسی زمین پر اکٹھے ہو گئے۔

سینٹ پیٹرز برگ کمال شہر ہے‘ فضا میں ایک طراوت‘ ایک مدہوش غنودگی ہے‘ یہ دوستوفسکی‘ پوشکن اور ترگنیف کا شہر تھا‘ ٹالسٹائی‘ میکسم گورکی اور چیخوف بھی لاتعداد مرتبہ سینٹ پیٹرز برگ آئے اور اس کی فضا میں اپنی خوشبو چھوڑ گئے‘ آپ اگر بلڈ کیتھڈرل سے نہر کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے شہر کی مرکزی شاہراہ کی طرف آئیں تو مرکزی پل کے کنارے اپارٹمنٹس کی ایک بلڈنگ ہے‘ بلڈنگ کے نیچے ”لٹریری کیفے“ ہے‘ آپ کو پوشکن‘ دوستوفسکی‘ ٹالسٹائی اور گورکی کی اکثر تحریروں میں اس کا ذکر ملتا ہے۔

یہ کیفے 1816ءمیں بنا اور یہ ادیبوں‘ اداکاروں‘ مصوروں اور موسیقاروں کا خاص ٹھکانہ ہوتا تھا‘ پوشکن قتل ہونے سے قبل29 جنوری 1837ءکو اسی کیفے سے اٹھ کر گیا تھا اور پھر کبھی واپس نہیں آ سکا تھا‘ پوشکن کی کرسی 182سال بعد آج بھی کیفے میں موجود ہے‘ اس کی کراکری بھی قائم ہے‘ یہ کیفے آج بھی آباد ہے اور دنیا جہاں کے ادیب‘ مصور اور سیاستدان یہاں آتے ہیں اور دیر تک یہاں بیٹھتے ہیں‘ میں نے پانچ مئی کی پوری شام وہاں گزاری۔

دیواروں پر ان تمام مشاہیر کے ناموں کی تختیاں لگی تھیں جو یہاں آتے اور بیٹھتے تھے‘ کیفے کی فضا میں ادب اور فن کی خوشبو بھی تھی اور احترام کی حرارت بھی‘ سیڑھیوں کے سامنے دیوار پر پوشکن کی پینٹنگ بنی تھی‘ وہ گارڈن میں بیٹھا تھا‘ اس کے ہاتھ میں گلدستہ تھا اور وہ سیڑھیوں سے اترنے والے ہر شخص کو دیکھ کر مسکراتا تھا‘ وہ اسی گلی میں نہر کی دوسری طرف اپارٹمنٹ میں رہتا تھا‘ یہ گلی ونٹر پیلس کے قریب تھی‘ پوری گلی میں اپارٹمنٹس کی عمارتیں تھیں۔

زار کے دور میں یہاں امراءرہتے تھے‘ یہ اپنے اپارٹمنٹ اور کمرے کرائے پر بھی دے دیتے تھے‘ پوشکن کرائے پر رہتا تھا‘ کرائے کا یہ فلیٹ بھی اب عجائب گھر ہے‘ آپ ادب اور تخلیقی کام کا کمال دیکھئے اپارٹمنٹ کا مالک گمنامی میں مر گیا لیکن کرایہ دار اپارٹمنٹ کو بھی امر کر گیا‘ یہ اپارٹمنٹ اب عجائب گھر ہے اور یہ روزانہ اتنے پیسے کماتا ہے جتنے پوشکن پورے سال میں فلیٹ کے مالک کو ادا کرتا تھا۔میں سینٹ پیٹرز برگ آﺅں اور میں دوستوفسکی کے گھر کی زیارت نہ کروں یہ کیسے ممکن تھا۔

عمیرلاہور کے رہائشی ہیں‘ یہ سینٹ پیٹرز برگ میں بزنس کرتے ہیں‘ یہ مجھے ملے اور مجھے اپنا گرویدہ بنا لیا‘ عمیر نے میرے لئے گائیڈ کا بندوبست کر دیا‘ لوبا روسی گائیڈ تھی‘ میں نے اس سے دوستو فسکی کا گھر تلاش کرنے کی درخواست کی‘ لوبا نے بڑی مشکل سے وہ گھر تلاش کیا اور ہم ادب کے اس عظیم انسان کے اس اپارٹمنٹ کی طرف چل پڑے جہاں اس نے زندگی کا آخری حصہ گزارا تھا‘ دوستوفسکی کوئی دیوتا‘ صوفی یا اوتار نہیں تھا لیکن ادب پرست اس کی پرستش کرتے ہیں‘ یہ اسے ادب کا بھگوان سمجھتے ہیںاور ہم اس بھگوان کے دروازے پر کھڑے تھے۔

Javed Chaudhry Columns 10 May 2019, Javed Chaudhry Columns Today, Javed Chaudhry Column, Javed Chaudhry Columns Express.



راولپنڈی (نیوز ڈیسک) تحریک لبیک کے خادم حسین رضوی اور دیگر اہم رہنماؤں کی گرفتاریوں کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اپنے آفیشل اکاؤنٹ سے دو پوسٹس کی ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے ایک ٹویٹ میں قرآنی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔‘‘ اپنے دوسرے ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ ’’پاکستان ایک مسلم ریاست ہے اور کوئی مسلمان ختم نبوتؐ پر سمجھوتہ نہیں کر سکتا، اس ٹویٹ میں میجر جنرل آصف غفور نے عقیدہ ختم نبوت کے حوالے سے اپنا اور ہر مسلمان کا موقف واضح کر دیا۔ واضح رہے کہ تحریک لبیک پاکستان(ٹی ایل پی) کے سربراہ خادم حسین رضوی کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لئے جانے کی اطلاعات ملی ہیں جبکہ پنجاب بھر سے ٹی ایل پی کے سینکڑوں رہنماؤں و کارکنوں کو کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار کرلیاگیاہے ۔ نجی ٹی وی کے مطابق خادم حسین رضوی کے اہلخانہ نے ٹی ایل پی سربراہ کو حراست میں لیے جانے کی تصدیق کی۔خادم حسین رضوی کے اہلخانہ کے ایک رکن نے نجی نیوز چینل کو بتایا کہ 'انہیں لاہور میں ان کے حجرے سے گرفتار کیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس کی نفری کو علامہ خادم رضوی کی گرفتاری پر شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ، پولیس نے مزاحمت پر مسجد رحمت اللعالمین پر شیلنگ کردی ، رپورٹس کے مطابق شدید شیلنگ کے بعد پولیس علامہ خادم حسین رضوی کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئی تاہم اپنے قائد کی گرفتاری کے باجودتحریک لبیک پاکستان نے اعلان کیاہے کہ25 نومبرکو لیاقت باغ راولپنڈی کا پروگرام ہر حال میں ہوگاتمام کارکنان اپنے شہروں میں دھرنے جاری رکھیں ۔دوسری جانب پنجاب کے وزیر اطلاعات اور قانون نے رابطہ کرنے پر کہا کہ انہیں خادم حسین رضوی کی گرفتاری سے متعلق کچھ علم نہیں۔ ذرائع کے مطابق پنجاب بھر میں تحریک لبیک پاکستان کے رہنماؤں اور کارکنا ن کے خلاف کریک ڈاؤ ن کیاگیا ۔ ادھرراولپنڈی پولیس نے تحریک لبیک پاکستان کے 24سرکردہ رہنماؤں و کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ تمام افراد کو 16 ایم پی او کے تحت حراست میں لیا ہے ۔ پولیس ذرائع کے مطابق تحریک لبیک کے کارکنوں کو راتوں رات جیل منتقل کردیاگیا ہے ۔ملتان پولیس نے تحریک لبیک یا رسول اللہ کے رہنماوں اور کارکنوں کے خلاف کریک ڈاون کیا جس میں رات گئے 13 رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا شجاع آباد سے حسیب انور اظہری، قاری صدیق ، پی پی 214 سے امیدوار ملک ظفر اقبال ، ملتان شہر سے آصف بشیر اور حافظ محمد عابد ، نوید احمد ، ملتان شہر سے اسامہ، صوفی محمد حنیف ، محمد بلال ، جلالپور پیر والہ سے مفتی اعجاز احمد، شاکر اسلم، محمد یوسف اور عطار ساقی کو گرفتارکرلیاگیا ۔ادھربھکر میں تحریک لبیک کے کارکنان کے گھروں پر چھاپے مارے گئے تاہم تحریک لبیک کے کارکنان روپوش پولیس لواحقین کو حراساں کرنے میں مصرف رہی ، تحریک لبیک کے کارکن مفتی محمد سرور کی روڈی سے گرفتاری کی اطلاع نامعلوم مقام پرمنتقل کردیاگیا ،پولیس کی سر توڑ کوشش رات گئے تک زیادہ گرفتاریاں عمل میں نہ آسکیں ۔سیالکوٹ میں ضلعی امیر محمد رفیق سمیت 23 کارکن ضلع بھر سے گرفتارکر لئے گئے ۔گوجرانوالہ کے ریجن بھر کے مختلف اضلاح تحریک لبیک یارسول کے کارکنان کے خلاف کریک ڈاون شروع ہوگیا ، پولیس نے سیالکوٹ ،ناروال،منڈی بہاوالدین،حافظ آباد،گجرات سمیت مختلف علاقوں سے تحریک لبیک کے150 سے زائد کارکنان گرفتار کرلیے ۔ذرائع کے مطابق صرف ان لوگوں کو گرفتار کیا جارہا ہے جنہوں نے آسیہ کیس فیصلے کے ردعمل میں جی ڑوڈ بلاک کیا تھا پولیس کو ریجن بھر سے 12 سو افراد کو گرفتار کرنے کا ٹارگٹ ہے۔پولیس کے مطابق دھرنے دینے والوں کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے تھے ریجن بھر سے مقدمات میں مطلوب تحریک لبیک کے کارکنان کو گرفتار کیا جارہا ہے ۔تحریک لبیک نے کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف دھرنوں اور مظاہروں کا اعلان کر دیا اور کہا کہ وہ وفاقی دارالحکومت میں راولپنڈی اور اسلام آباد کو ملانے والے انٹر چینچ فیض آباد کو پہلے کی طرح بند کرکے دھرنا دے دینگے ۔جب کہ ٹی ایل پی کے رہنماؤں اور کارکنان کی گرفتاری کے بعد کسی بھی ممکنہ ردعمل سے نمٹنے کے لئے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ، صوبائی دارالحکومت لاہور اور دیگر شہروں میں بعض مقامات پر کینٹینرز پہنچا دیئے گئے ۔



آرکائیوڈی انڈیا القصر کے مرکزی دروازے کے سامنے ہے‘ سپین نے سولہویں صدی کے آغاز میں ہندوستان میں اپنی پہلی کالونی بنائی اورتاجر تجارتی سامان لے کر انڈیا جانے لگے‘ بادشاہ نے جہازوں اور جہازرانوں کا ریکارڈ رکھنے کےلئے سیویا میں کمپلیکس بنا دیا‘ یہ شروع میں انڈین کاسا کہلاتا تھا‘امریکا سے تجارت شروع ہوئی تو امریکی ریکارڈ بھی یہیں رکھا جانے لگا‘ اٹھارہویں صدی میںتجارت ختم ہو گئی تو حکومت نے اس عمارت کو آرکائیو ڈی انڈیا کا نام دے دیا‘

یہ دنیا کے چند بڑے آرکائیوز میں شمار ہوتی ہے‘ اس میں پانچ سو سال کے دوران امریکا اور انڈیا جانے والے لوگوں‘ تجارتی سامان‘ آمدنی‘ اخراجات اور تجارتی جہازوں کا ڈیٹا ہے‘ یہ ڈیٹا کتنا زیادہ ہے آپ اس کا اندازہ الماریوں سے لگا

لیجئے‘ گائیڈ نے بتایا اگر آرکائیو ڈی انڈیا کی تمام الماریاں قطار میں کھڑی کر دی جائیں تو یہ نو کلو میٹر تک پھیل جائیں گی‘ یہ کلونیل طرز کی سپینش عمارت ہے اور یہ دل میں کھب جاتی ہے‘ سیویا کا جدید محل آرکائیو ڈی انڈیا سے تھوڑے سے فاصلے پر واقع ہے‘یہ محل 1929ءکی نمائش کےلئے بنوایا گیا تھا‘ یہ سرخ اینٹوں کی سرخ عمارت ہے اور یہ دائیں سے بائیں دور تک پھیلی ہے‘ سپین کے پچاس صوبے ہیں‘ محل میں بھی پچاس کمرے ہیں اور ہر کمرہ ایک صوبے سے منسوب ہے‘ ملک کے چار حصے ہیں چنانچہ محل میں مصنوعی نہر بنا کر اس پر چار پل بنا دیئے گئے‘ پورے محل کے فیس پر نیلی ٹائلیں اور سنگ مر مر کے چھوٹے ستون ہیں‘ یہ مورش کلچر اوراسلامی تہذیب کی نشانی ہیں‘ عمارت مشہور آرکی ٹیکٹ اوسوریو نے ڈیزائن کی‘اوسوریوکا مجسمہ محل کے سامنے ایستادہ ہے لیکن اس شاندار ٹریبوٹ کے باوجود اوسوریوکی زندگی کا آخری حصہ المیے میں گزرا‘ بادشاہ یہ محل جلد سے جلد مکمل دیکھنا چاہتا تھا لیکن آرکی ٹیکٹ اپنے ڈیزائن پر کمپرومائز کرنے کےلئے تیار نہیں تھا‘ طاقت اور پروفیشنل ازم کا مقابلہ ہوا اور طاقت جیت گئی‘ بادشاہ نے کانٹریکٹ منسوخ کر دیا‘
آرکی ٹیکٹ اپنی پوری زندگی کی کمائی محل پر لگا چکا تھا‘ کمائی ایک دن میں ڈوب گئی اور آرکی ٹیکٹ کسمپرسی کے عالم میںانتقال کر گیا لیکن اس کا ڈیزائن آج بھی سپین کو اربوں روپے کما کر دے رہا ہے‘ محل کے صحن میں برآمدے کے ساتھ ساتھ سپین کی تاریخ کے اہم واقعات کے موزیک ہیں‘ یہ باریک پتھروں کی پینٹنگز ہیں‘ میں سقوط غرناطہ اور کولمبس کی روانگی کے موزیک پر رک گیا‘ غرناطہ کے بوتھ میں ابوعبداللہ محمد الحمرا کی چابی فرڈیننڈ کے حوالے کر رہا تھا اور ملکہ ازابیلا مسکرا رہی تھی‘

میں نے آہ بھری اور آگے بڑھ گیا جبکہ کولمبس کے بوتھ میں کولمبس جہازوں کو روانگی کا حکم دے رہا تھا‘ محل کی بغل میں چند سو میٹر کے فاصلے پر دنیا کی سگریٹ کی پہلی فیکٹری تھی‘ یہ بھی ایک وسیع عمارت ہے‘ تمباکو‘ مکئی اور آلو امریکا سے یورپ آئے تھے‘ دنیا 1500ءتک ان کی شکل اور ذائقے سے نابلد تھی‘ ریڈانڈین تمباکو کے پتوں کا خشک چورا تمباکو کے پتے میں لپیٹ کر سلگاتے تھے اور اس کے کش لیتے تھے‘ یہ لوگ اسے سگار کہتے تھے‘



کولمبس امریکا سے ہزاروں سگار لے کر آیا‘ سگار سپینش اشرافیہ کےلئے نئی چیز تھے چنانچہ یہ دھڑا دھڑبکنے لگے‘ امراءسگار پیتے تھے اور اس کا آخری حصہ گلی میں پھینک دیتے تھے‘ غریب لوگ وہ حصہ اٹھا کر کھولتے تھے‘ سگار کا تمباکو کاغذ میں لپیٹتے تھے اور سلگا کر پینا شروع کر دیتے تھے‘ یہ بیڑی کہلاتی تھی‘ بیڑی کو ہسپانوی زبان میں سگریٹی یعنی غریب آدمی کا سگار کہا جانے لگا‘ تاجروں نے اس ٹرینڈ کو کیش کرانے کا فیصلہ کیا‘ وہ تمباکو امپورٹ کرنے لگے اورعام لوگ یہ تمباکو کاغذ میں لپیٹ کر پینے لگے‘

یہ ٹرینڈ 1750ءمیں سگریٹ فیکٹری میں تبدیل ہو گیا‘ سیویا میں پہلی سگریٹ فیکٹری بنی‘ بارہ سو خواتین بھرتی کی گئیں اور یہ ہاتھ سے سگریٹ بنانے لگیں‘ فیکٹری مالکان نے اربوں روپے کمائے‘ یہ فیکٹری 1950ءتک چلتی رہی‘ بند ہوئی تو حکومت نے اس میں آرٹ‘ کلچر اور زبان کی یونیورسٹی بنا دی‘ میں عمارت کے سامنے کھڑا تھا‘ عمارت کے سروں پر چرچ اور جیل تھی‘ چرچ میں کارکن خواتین عبادت کرتی تھیں جبکہ جیل میں سگریٹ چرانے والی خواتین بند کر دی جاتی تھیں‘ فیکٹری مالکان نے چوری سے بچنے کےلئے عمارت کے گرد خندق کھود رکھی تھی‘ وہ خندق آج تک موجود ہے۔

سیویا کا کیتھڈرل شہر کی اہم ترین عمارت ہے‘ یہ عمارت ماضی میں مسجد ہوتی تھی‘ عیسائیوں نے اشبیلیہ کے زوال کے بعد مسجد شہید کر دی تاہم مسجد کا مینار‘ صحن‘ دیوار کا ایک حصہ‘ مین گیٹ اور برآمدہ بچ گیا‘ یہ پانچوں آج بھی وہاں موجود ہیں‘یہ چرچ دنیا کا تیسرا بڑا کیتھڈرل ہونے کے باوجود شہید مسجد کا مقابلہ نہیں کر پا رہا‘ مسجد کا مینار پوری دنیا میں سیویا کا شناختی نشان ہے‘ آپ جب اور جہاں سیویا ٹائپ کریں گے اشبیلیہ کی شہید مسجد کا مینار سامنے آ جائے گا‘

مراکش کے مسلمان مسجد کےلئے چورس مینار بناتے ہیں‘ مینار پچاس بائی پچاس فٹ کا ایک کمرہ ہوتا ہے اور یہ کمرہ منزل بہ منزل اوپر اٹھتا چلا جاتا ہے‘ انتہائی بلندی پر پہنچ کر مینار کی چھت ڈال دی جاتی ہے اور چھت پر نسبتاً چھوٹا نوک دار مینار بنا یا جاتا ہے‘ مینار سازی کا یہ فن مراکش سے اندلس آیا‘ اس میں مقامی معماروں نے کھڑکیاں‘ جھروکے اور جالیاں بنائیں اور یوں یہ اصل سے زیادہ خوبصورت ہو گیا‘ عیسائی فاتحین نے 1401ءمیں مسجد گرانا شروع کی اور یہ لوگ جب مینار تک پہنچے تو مینار کی خوبصورتی اور کروفر نے ان کے بازو شل کر دیئے‘ مینار بچ گیا اور یہ آج سپین میں اسلام کے سنہری دور کا نقیب بن کر کھڑا ہے‘

آپ اگر کیتھڈرل کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوں تو آپ مسجد کے صحن میں آ جاتے ہیں‘ صحن میں آج بھی مالٹے کے درخت‘ فوارہ اور گہری سبز بیلیں ماضی اور حال کی گانٹھ بن کر موجود ہیں‘ بائیں جانب کیتھڈرل کے ہال کے دروازے سے پہلے مسجد کا برآمدہ بھی موجود ہے اور یہ برآمدہ اپنے منہ سے بول رہا ہے آپ نے جس دن مجھے ہٹانے کی کوشش کی‘ آپ کا سارا چرچ گر جائے گا‘ برآمدہ دراصل چرچ کی بنیاد ہے‘ برآمدہ ہٹانے سے چرچ کی عمارت واقعی قائم نہیں رہ سکے گی چنانچہ شہید مسجد کی یہ آخری نشانیاں کیتھڈرل کےلئے چیلنج بن کر کھڑی ہیں‘ کیتھڈرل کا آلٹر (قربان گاہ) دنیا کا سب سے بڑا آلٹر ہے‘

حضرت عیسیٰ ؑکی پوری زندگی مجسموں کی شکل میں آلٹر میں موجود ہے اور یہ تمام مجسمے سونے کے ہیں‘ میں نے پوری دنیا میں کسی جگہ اتنا سونا نہیں دیکھا لیکن یہ سارا سونا اور یہ ساری دلفریبی شہید مسجد کے ایک مینار کا مقابلہ نہیں کر پاتی‘ کیتھڈرل آٹھ سو سال گزرنے کے باوجود سیویا کا شناختی نشان نہ بن سکا‘ شہر کا شناختی نشان آج بھی مسجد کا مینار ہے‘ کیتھڈرل کا مین گیٹ بھی آٹھ سو سال سے قائم ہے‘ یہ کبھی مسجد کا مرکزی دروازہ ہوتا تھا‘ یہ دروازہ بھی قائم ہے اور اس پر کندہ آیات بھی‘ بے شک اللہ کے نام کو کوئی طاقت نہیں مٹا سکتی۔

کولمبس کی قبر سیویا کے کیتھڈرل میں ہے‘ کرسٹوفر کولمبس ایک حیران کن کردار تھا‘ وہ 1451ءمیں اٹلی کے شہر جنوا میں پیدا ہوا‘ 19 سال کی عمر میں مہم جوئی شروع کی‘ دھکے کھاتا ہوا پرتگال پہنچا‘ شادی کی‘ بیٹا ڈیگو کولمبس پیدا ہوا‘ بیوی کا انتقال ہوا اور وہ بیٹے کو لے کر سیویا آ گیا‘ ہندوستان کا قریب ترین روٹ دریافت کیا اور فنانسنگ کےلئے بادشاہوںکے پیچھے بھاگنے لگا‘ وہ آسٹریا‘ پرتگال اور سیویا کے بادشاہوں سے ملا لیکن کسی نے اس فضول کام میں دلچسپی نہ لی‘

وہ تھک ہار کر سیویا میں بیٹھ گیاتاہم وہ ملکہ ازابیلا کو قائل کرنے میں کامیاب ہو گیا‘ ملکہ نے اس سے وعدہ کر لیا اگر وہ غرناطہ فتح کرنے میں کامیاب ہو گئی تو وہ اس کے منصوبے کو فنانس کر دے گی‘ وہ فنڈنگ کے لالچ میں عیسائیوں کے لشکر میں شامل ہو گیا‘ قسمت نے یاوری کی اور غرناطہ فتح ہو گیا ‘ وہ تین جہازوں سانتا ماریا‘ نینا اور پنٹا پر87لوگ لے کرتین اگست 1492کو سیویا سے نکلا‘دریا وادی الکبیر سے ہوتا ہوااٹلانٹک اوشن میں اترا اور 36 دن بعد بہاماس پہنچ گیا‘

یہ ایک بہت بڑا بریک تھرو تھا‘ وہ 15 مارچ 1493 کو واپس لوٹ آیا‘ 25ستمبر1493ءکو دوسری مرتبہ امریکا گیا‘ اس نے اس بار ڈومنیکا اور کیوبا دریافت کر لیا‘ یہ کامیابی سونے کی کان ثابت ہوئی اور ہسپانوی تاجر دھڑا دھڑ امریکا جانے لگے‘ کولمبس‘ تاجر اور سیویا کا شاہی خاندان نئی دریافت کو انڈیا کا قریب ترین راستہ سمجھ رہے تھے‘ کولمبس پوری زندگی امریکا کو انڈیا‘ ڈومنیکا کو چین اور کیوبا کو جاپان سمجھتا رہا‘ وہ شاندار جہازران لیکن ناکام ترین ایڈمنسٹریٹر تھا‘

وہ اپنی حماقتوں کی وجہ سے اپنے لوگوں کے ہاتھوں گرفتار تک ہو گیا‘ ملکہ ازابیلا نے فوج بھجوا کر اس کی جان بچا لی‘ حکومت نے اس کے سفر پر بھی پابندی لگا دی‘ وہ شدید ذہنی خلجان کا شکار ہوا اور 1506ءمیں والا ڈولیڈشہر میں انتقال کر گیا‘ اس کا بیٹا ڈیگو اس کی لاش سیویا لے کر آیا اور اسے شہر کے باہر دفن کر دیا‘ ڈیگو کی وفات کے بعد اس کی بیوی ماریا اپنے خاوند اور سسرکولمبس کی لاش ڈومنیکاساتھ لے گئی اور انہیں ڈومنیکا میں سانتو ڈومینگوکیتھڈرل میں دفن کر دیا‘

کولمبس اڑھائی سو سال ڈومنیکا میں دفن رہا‘ 1795ءمیں ڈومنیکا میں حالات خراب ہو گئے‘ کیوبا اس وقت سپینش کالونی تھا‘ حکومت نے اس کی لاش نکالی اور کولمبس کو ہوانا میں دفن کر دیا‘ 1898ءمیں جب کیوبا کے حالات بھی خراب ہو گئے تو کولمبس کی لاش ہوانا سے سیویا لاکر کیتھڈرل میں دفن کر دی گئی‘ کولمبس کا دوسرابیٹا ہرنانڈو بھی کیتھڈرل میں دفن ہے۔1877ءمیں سانتو ڈومینگو کیتھڈرل میں کھدائی کے دوران ایک باکس دریافت ہوا تھا جس کے اوپر کرسٹوفرکولمبس کا نام لکھا تھا اور اس کے اندر 13 بڑی اور 28 چھوٹی ہڈیاں تھیں‘

کھدائی کرنے والوں نے دعویٰ کیا کولمبس کی سپین(سیویا) لے جائی جانے والی باقیات اصل نہیں ہیں‘یہ بحث 125سال چلتی رہی‘ یہ مسٹری حل کرنے کےلئے2002ءمیں سانتوڈومینگوکیتھڈرل اور سیویاکیتھڈرل میں موجود دونوں قبروں کی کھدائی کی گئی‘ باقیات کا ڈی این اے کیا گیااور ثابت ہوگیا سیویا کیتھڈرل کی باقیات ہی اصل میں کرسٹوفرکولمبس کی باقیات ہیں‘ کولمبس واقعی سیویا کیتھڈرل میں دفن ہے لیکن لاش کی بار بار کی نقل مقانی سے کولمبس کی باقیات صرف ڈیڑھ سو گرام بچی تھیں اور میں اس وقت ان باقیات کے سامنے کھڑا تھا۔


اور میں پھر بالآخر سیویا پہنچ گیا اور یوں رومیوں کا ہسپالس‘ مسلمانوں کا اشبیلیہ اور ہسپانیوں کا سیویا میرے سامنے تھا۔مورخین1500ءسے 2000ءتک پانچ سو سال کی تاریخ کو دنیا کا جدید ترین دور کہتے ہیں اور سیویا  اس دور کا نقطہ آغاز تھا‘ امریکا اس شہر سے دریافت ہوا ‘ سگریٹ‘ سگار اور بیڑی نے اس شہر میں جنم لیا‘ مکئی‘ آلو اور چاکلیٹ اس شہر سے جدید دنیا میں داخل ہوئے ‘ افریقہ کے سیاہ فام غلام پہلی مرتبہ اس شہر سے امریکا پہنچائے گئے ‘ کافی‘ گھوڑے اور گنا اس شہر سے لاطینی امریکا کا حصے بنے.

یہ وہ شہر تھا جس نے پوری دنیا میں آتشک اور سوزاک جیسی جنسی بیماریاں پھیلائیں اور یہ وہ شہر تھا جو اندلس میں مسلمانوں کے زوال کی پہلی اینٹ بنا غرض آپ جدید دنیا کو جس زاویئے‘ جس اینگل سے بھی دیکھیںگے سیویا آپ کو درمیان میں نظر آئے گا اور میں دس نومبر 2018ءکو اس عظیم سیویا پہنچ گیا‘ کرسٹوفر کولمبس‘ ابن بطوطہ اور ابن خلدون کے سیویا میں۔سیویا کا پہلا حوالہ یونان کی رزمیہ داستان ہیلن آف ٹرائے میں ملتا ہے‘ داستان کا مرکزی کردار ٹروجن ہسپالس (سیویا) میں پیدا ہوا تھا‘ دوسرا اہم حوالہ مورش مسلمان ہیں‘ طارق بن زیاد کے قدموں نے 711ءمیں سپین کی سرزمین کو چھوا‘ وہ بربر غلام زادہ سپین میں جس جگہ اترا وہاں طریفہ کے نام سے شہر آباد ہوا‘ یہ شہر آج بھی 13 سو سال سے قائم ہے اور یہ سپین اور مراکش کے درمیان اہم بندرگاہ ہے‘ مراکش کا شہر طنجہ (تانجیر) طریفہ سے صرف بیس منٹ کے آبی سفر کے فاصلے پر واقع ہے‘ طریفہ اور طنجہ کے درمیان ہر گھنٹے بعد فیری چلتی ہے‘ یہ فیری دو تہذیبوں کے ساتھ ساتھ یورپ اور افریقہ دو براعظموں کے درمیان رابطہ بھی ہے‘ بنو امیہ کے زمانے میں موسیٰ بن نصیر شمالی افریقہ کے کمانڈر اور گورنر تھے‘ طارق بن زیاد ان کا غلام تھا‘ طارق بن زیاد نے 711ءمیں جبل الطارق (جبرالٹر) فتح کر لیا اور وہ سپین کے اہم ترین شہروں کے طرف بڑھنے لگا ‘ موسیٰ بن نصیر کا صاحبزادہ عبدالعزیز بھی طریفہ میں اترا اور وہ ہسپالس کی طرف بڑھنے لگا‘ عبدالعزیز بن موسیٰ نے 712ءمیں ہسپالس فتح کیا اور شہر کا نام تبدیل کر کے اشبیلیہ رکھ دیا‘
یہ شہر پھر 23 نومبر 1248ءعیسائیوں کے ہاتھوں ختم ہونے تک اشبیلیہ ہی رہا‘ اشبیلیہ کی فتح کے دو سو سال بعد 2 جنوری 1492ءکو مسلمانوں کی آخری ریاست غرناطہ بھی ہمارے ہاتھوں سے نکل گئی‘ آخری مسلمان فرمانروا ابو عبداللہ محمد اپنے 1130 لوگوں کے ساتھ مراکش پہنچا‘ فیض گیا اور یوں سپین میں اسلامی ریاست کا پرچم ہمیشہ ہمیشہ کےلئے سرنگوں ہو گیا‘ سیویا کا تیسرا حوالہ کرسٹوفر کولمبس ہے‘ وہ سقوط غرناطہ کے وقت عیسائی بادشاہ فرڈیننڈ اور ملکہ ازابیلا کے ساتھ کھڑا تھا‘ کولمبس ہندوستان کا نیا راستہ تلاش کرنا چاہتا تھا‘ وہ فنڈنگ کےلئے یورپ کے تین بادشاہوں کے پاس گیا مگر انکار ہو گیا‘

وہ آخر میں غرناطہ کے اسلامی سقوط پر نظریں جما کر کھڑا ہو گیا‘ جوں ہی الحمرا سے اسلامی پرچم اتارا گیا‘ وہ آگے بڑھا‘ ملکہ ازابیلا کا ہاتھ چوما‘ مبارک باد دی اور فنڈنگ کی درخواست کر دی‘ ملکہ اس وقت خوشی کی انتہا کو چھو رہی تھی‘ اس نے کھڑے کھڑے کولمبس کا منہ موتیوں سے بھر دیا یوں کولمبس تین اگست 1492ءکو سیویا سے روانہ ہوا اور ہندوستان کا نیا راستہ تلاش کرتے کرتے دنیا کو نئی دنیا سے متعارف کرا گیا اور اس کے بعد پوری دنیا کا نقشہ بدل گیا‘ دنیا صرف دنیا نہ رہی حیران کن دنیا بن گئی۔



میں یکم نومبر کو روانہ ہوا‘ کینیڈا میری پہلی منزل تھی‘ میں ٹورنٹو اور کیلگری میں نو دن گزار کر دس نومبر کو سپین کے شہر مالگا اترا‘ یہ شہر مسلمانوں کے اندلسی دور میں مالقا کہلاتا تھا‘ عیسائی فوجوں نے 1487ءمیں مالقا کے امیر کو شکست دی اور پھر اس کے بعد پورا اندلس پکے ہوئے سیب کی طرح عیسائیوں کو گود میں آ گرا‘ میرے دوست اور بھائی سہیل مقصود مالگا ائیرپورٹ کے باہر میرا انتظار کر رہے تھے‘ سہیل مقصود ایک سادہ‘ مخلص اور گرم جوش انسان ہیں‘

غرناطہ میں کیش اینڈ کیری کے مالک ہیں اور انتہائی دلچسپ مگر غیرسیاسی دوست ہیں‘ ہم مالگا سے سیویا روانہ ہو گئے‘ ہائی وے کے دونوں طرف زیتون کے باغ تھے‘ اوپر جنوبی سپین کا نیلا آسمان تنا ہوا تھا اور نیچے ہم ڈرائیو کر رہے تھے‘ سیویا مالگا سے ساڑھے تین گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘ شہر کی پانچ سو سال کی جدید تاریخ تین حصوں میں تقسیم ہے‘ امریکا کی دریافت کا دور‘ یہ دور 1500ءسے ساڑھے 1800ءتک محیط ہے‘ سیویاان ساڑھے تین سو سال میں دنیا کا امیر ترین شہر اور سپین رئیس ترین ملک بن گیا‘ کارلو فائیو(چارلس فائیو)1516ءمیں سپین کا بادشاہ بنا‘

یہ دنیا کا پہلا بادشاہ تھا جس کی سلطنت میں سورج نہیں ڈوبتا تھا‘ یہ تھائی لینڈ‘ ایک چوتھائی ہندوستان‘ آدھے یورپ اور پورے امریکا کا مالک تھا چنانچہ سورج چل چل کر اور جل جل کر تھک جاتا تھا لیکن کارلو فائیو کی سلطنت ختم نہیں ہوتی تھی مگر پھر بحیرہ ہند‘ یورپ اور امریکا کے زیادہ تر ملک سپین کے ہاتھ سے نکل گئے‘ امریکا اور ہندوستان سے تجارت ختم ہو گئی‘ ملک طوائف الملوکی کا شکار ہوگیا اور آہستہ آہستہ یورپ کا مرد بیمار بنتا چلا گیا یوں سپین کا پہلا سنہری دور اختتام پذیرہو گیا‘

سپین کا دوسرا دور 1929ءمیں شروع ہوا‘ بادشاہ الفانسونے سپین کی معیشت کو اٹھانے کا فیصلہ کیا‘ اس نے امریکا اور لاطینی امریکا کے ملکوں سے رابطہ کیا‘ کولمبس کا واسطہ دیا‘ نئی دنیا راضی ہوئی اور 1929ءکو سیویا میں جدید دنیا کی سب سے بڑی نمائش شروع ہو گئی‘ لاطینی امریکا کے تمام ملکوں نے سیویا میں اپنے قونصل خانے بنائے‘ اپنے تجارتی جہازوں کا رخ سپین کی طرف موڑا اور یوں سپین ایک بار پھر ٹیک آف کرنے لگا اور تیسرا دور 1992ءمیں شروع ہوا‘

بارہ اکتوبر1992ءکو امریکا کی دریافت کے پانچ سو سال پورے ہوئے‘سپین کے وزیراعظم فلپ گونزا لیز مارکوئز نے امریکی اقوام کو ایک بار پھر راضی کیا‘ سیویا میں امریکی ٹیکنالوجی اور مصنوعات کی ایک اور بین الاقوامی نمائش ہوئی اور سیویا کی مہربانی سے سپین ایک بار پھر جدید دنیا کے امیر ترین ملکوں میں شمار ہونے لگا‘ سپین آج جو کچھ ہے اس کی وجہ 1929ءاور 1992 کی نمائشیں ہیں۔ہم نے سیویا کی مرکزی شاہراہ پر نیم جدید ہوٹل سلکن اندلوسیہ میں قیام کیا‘ یہ سڑک 1929ءکی نمائش کےلئے تعمیر کی گئی تھی ‘

لاطینی امریکا کے زیادہ تر قونصل خانے اس سڑک پر واقع ہیں‘ پرانا شہر ہوٹل سے چار کلو میٹر دور تھا‘ ہم رات کے وقت سیویا کی قدیم گلیوں میں اتر گئے‘سیویا میں چار مقامات اہم ہیں‘ مسلمان بادشاہوں کا محل القصر‘ کیتھڈرل‘ انڈین آرکائیو اور جدید محل‘ ہم نے دوسرے دن یہ تمام مقامات ادھیڑ کر دیکھے‘ القصر مسلمانوں کی آخری نشانی ہے‘ محل کی بیرونی اور اندرونی دیواریں آج بھی قائم ہیں‘ ان میں اسلامی دور کی خوشبو بھی موجود ہے‘ نیلی اور سفید ٹائلیں‘ وہی آبنوسی لکڑی کی چھتیں اور ان چھتوں پر اسلامی نقش‘ وہی وزنی منقش دروازے‘ وہی پتھر کے فرش‘ وہی قدیم لکڑی کے قدیم جھروکے‘ وہی کمروں کے اندر فوارے اور محل کے چاروں اطراف وہی سبز باغات‘ مسلمانوں کی پوری تہذیب آج بھی القصر میں زندہ ہے‘

مسلمان اپنا طرز تعمیر مراکش سے لائے تھے‘ سپین کے عیسائی آرکی ٹیکٹس نے ان میں اپنا خون جگر ملایا اور یوں دنیا میں اندلسی طرز تعمیر نے جنم لیا‘ آپ کو یہ طرز تعمیر قرطبہ میں بھی ملتا ہے‘ غرناطہ میں بھی اور سیویا میں بھی‘ اندلسی لوگ اونچی چھتیں بناتے تھے‘ دیواریں موٹی ہوتی تھیں اور ان پر مٹی میں چونا ملا کر ایک ایک انچ لیپ کیا جاتا تھا اور پھر اس لیپ پر سنگ مرمر کے ٹکڑے اور چھوٹی ٹائلیں لگائی جاتی تھیں‘ یہ ٹائلیں‘ سنگ مر مر اور آبنوسی لکڑی تینوں مل کر اندلسی فن بن جاتی تھیں‘

دلانوں‘ ڈیوڑھیوں اور کمروں کے درمیان سنگ مرمر کے فوارے لگائے جاتے تھے اور فواروں کا پانی سفید پتھروں کی نالیوں سے ہوتا ہوا صحن کے تالاب میں جا گرتا تھا‘ تالاب کے گرد سرو کے چھوٹے بڑے درخت‘ بوگن بیل اور انگوروں کی بیلیں ہوتی تھیں اور ان بیلوں میں رنگ برنگے پرندوں کے گھونسلے ہوتے تھے‘ یہ فن القصر میں اپنے تمام رنگوں کے ساتھ موجود تھا‘ بادشاہ کا حرم چھوٹا سا الحمرا محسوس ہوتا تھا‘ گائیڈ نے بتایا عیسائی بادشاہ نے غرناطہ کے بادشاہ سے الحمرا کے معمار ادھار لئے اور محل کا یہ حصہ تعمیر کیا‘

کولمبس کا دفتر بھی القصر میں تھا‘ امریکا کی تمام تجارتی مہمات اسی دفتر سے روانہ ہوتی تھیں‘ کولمبس کے جہاز کا شناختی نشان اور کولمبس کی امریکا روانگی کی پینٹنگ دفتر کی دیواروں پر لگی تھی‘ پینٹنگ میں کولمبس کا دوست امریکانو ویسپیوسیو  صاف نظر آ رہا تھا‘ امریکانو نے سرخ ٹوپی پہن رکھی تھی‘ امریکانو اطالوی تھا اور کولمبس کا دوست تھا‘ کولمبس موت تک امریکا کو انڈیا سمجھتا رہا‘ اس نے اسی لئے امریکا کے قدیم باشندوں کو ”ریڈ انڈین“ کا نام دیاتھا‘

امریکانو پہلا شخص تھا جس نے نقشے کی بنیاد پر ثابت کیا ”کولمبس نے انڈیا کا نیا راستہ نہیں بلکہ ایک نئی دنیا دریافت کی “ امریکانو کی تھیوری بعد ازاں سچ ثابت ہوئی چنانچہ نئے ملک کا نام امریکانو کے نام پر امریکا رکھ دیا گیا‘ بادشاہ فرڈیننڈ نے 1508ءسیویا میں ”نیوی گیشن“ کی دنیا کی پہلی یونیورسٹی بنائی اور امریکانو کو اس کا سربراہ بنا دیا‘ یونیورسٹی کی عمارت آج تک موجود ہے‘ مجھے وہاں جانے کا موقع بھی ملا‘ سپین کے تمام جہاز ران کولمبس کے اس دفتر سے اجازت لے کر امریکا جاتے تھے اور بادشاہ ان کے تجارتی سامان سے اپنا حصہ وصول کرتا تھا‘

کولمبس کے دفتر کے بعد محل کے دو ہال بہت اہم ہیں‘ پہلا کارلو فائیو کی شہزادی ازابیلا دوم کے ساتھ شادی کا ہال تھا‘ ازابیلا پرتگال کی شہزادی تھی‘ وہ ہال کے دائیں دروازے سے اندر داخل ہوئی تھی جبکہ کارلو فائیو بائیں دروازے سے‘ دائیں دروازے پر آج بھی پرتگال کا جھنڈا اور شناختی نشان موجود ہے جبکہ بائیں دروازے پر سپین کا نشان اور جھنڈا تھا‘ یہ ہال خصوصی طور پر اس شادی کےلئے بنایا گیا تھا‘ دوسرا ہال تیونس کی فتح کی یادگار تھا‘ 1535ءمیں ترک بادشاہ سلطان سلیمان اول تیونس تک پہنچ گیا‘

وہ سیویا فتح کر کے یورپ داخل ہونا چاہتا تھا ‘کارلو فائیو نے یورپی فوج بنائی‘ بحری جہازوں پر تیونس پہنچا اور عثمانی خلیفہ کو شکست دی‘ اس شکست نے فیصلہ کر دیا عثمانی خلافت شمالی افریقہ سے آگے نہیں آئے گی‘ کارلو فائیو نے فتح کے بعد یہ وکٹری ہال بنوایا‘ ہال کی تین دیواروں پر طویل قالین لٹک رہے تھے‘ قالین بافوں نے قالینوں میں جنگ اور فتح کا سارا احوال نقش کر رکھا تھا‘ یہ کارپٹ پینٹنگز تھیں اور یہ پینٹنگزہر لحاظ سے ماسٹر پیس تھیں۔

علیمہ خان کی دبئی پراپرٹی کے حوالے سے کئی مرتبہ پہلے بھی پوسٹ کرچکا ہوں کہ یہ ایک فلیٹ تھا جو کہ " دی لافٹس ایسٹ " نامی ٹاور میں واقع تھا۔ بہت سے جمعوتیوں، فضلانڈوؤں اور پٹواریوں نے اس فلیٹ کو " اربوں " کی جائیداد بنا کر پیش کیا اور تاثر دیا کہ جیسے سارے پاکستان کی دولت سے یہ ایک فلیٹ خریدا گیا۔

کچھ حقائق پیش خدمت ہیں:

1۔ علیمہ خان کا یہ فلیٹ دی لافٹس ٹاور نامی بلڈنگ میں تھا

2۔ پراپرٹی فائنڈر ڈاٹ اے ای دبئی رئیل اسٹیٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ ہے، اس پر اگر آپ دی لافٹس ایسٹ ٹاور کی قیمتیں چیک کریں تو ڈیڑھ ملین درھم سے لے کر ڈھائی ملین درہم کی رینج ملتی ہے، خاص کر ان فلیٹس کی جن کا ایریا چودہ سو سکوائر فٹ کی رینج میں ہو۔

3۔ پاکستانی کرنسی میں یہ رقم ساڑھے پانچ کروڑ سے لے کر نو کروڑ کی رینج میں بنتی ہے۔ اس رقم میں لاہور ڈیفینس میں ایک کنال کا گھر مشکل سے ملتا ہے ۔ ۔ ۔

4۔ علیمہ خان نے 1989 میں لمز سے ایم بی اے کی ڈگری لی تھی، اور یہ غالباً لمز کا پہلا بیچ بھی تھا۔ علیمہ خان اس کے بعد ٹیکسٹائل بزنس میں آئی اور ایکسپورٹس کے شعبے میں کامیاب بزنس شروع کیا۔ اگر آپ علیمہ خان کے بزنس کو گھٹیا ظاہر کیلئے اسے ٹیکسٹائل کی بجائے سلائی مشین کا کام کہتے ہیں تو پھر سارا پاکستان ہی سلائی مشین کی کمائی کھارہا ہے کیونکہ پاکستان کی سب سے بڑی ایکسپورٹ ٹیکسٹائل کے شعبے سے ہی وابستہ ہے۔

5۔ علیمہ خان بہت سی ملٹی نیشنل گارمنٹس فرمز کے پاکستان میں آرڈرز مینیج کرتی رہی ہے اور جو لوگ اس شعبے سے وابستہ ہیں، وہ بخوبی جانتے ہوں گے کہ اس شعبے کا کمیشن مارجن کتنا ہے۔ خود میرے جاننے والے لوگ چند برسوں میں کروڑ پتی ہوگئے۔ ایکسپورٹ کا کام ہی ایسا ہے۔

6۔ اب اگر اس شعبے کی ایک کامیاب بزنس وومن نے سات، آٹھ کروڑ کی ایک پراپرٹی دبئی میں بنا لی تو اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں۔ اعظم مارکیٹ لاہور کا کوئی بھی دکاندار اتنی رقم ہر سال خرچ کر سکتا ہے۔

اب آجائیں ٹیکس کے معاملات کی طرف۔

علیمہ خان نہ تو سیاسی عہدہ رکھتی تھی اور نہ ہی سیاست میں کبھی آئی۔ اس پر یہ کبھی بھی لازم نہیں رہا کہ وہ اپنے تمام اثاثہ جات ڈیکلئیر کرتی، کیونکہ یہ ریکوائرمنٹ ان پر ہوتی ہے جو الیکشن لڑتے ہیں اور عوامی عہدے رکھتے ہیں۔

چند سال قبل ایک قانون سازی کے نتیجے میں پاکستانی بزنس مین پر یہ لازم کردیا گیا کہ وہ اپنی غیرملکی جائیدادوں کو بھی گوشواروں میں ظاہر کرے اور یہ وہی سال تھا جب علیمہ خان کے پاس دبئی کی یہ پراپرٹی تھی۔ علیمہ خان سے غلطی بس اتنی ہوئی کہ اس سے اس سال گوشواروں کا اندراج نہ ہوا۔

لیکن اس غلطی کا خمیازہ اسے اس طرح بھگتنا پڑا کہ وزیراعظم کی بہن ہونے کی وجہ سے تنقید کی زد میں آگئی۔ ریوینیو ڈپارٹمنٹ کے قواعد کے مطابق ایسی غلطی کو آپ جرمانے کی ادائیگی سے سدھار سکتے ہیں۔ اس جرمانے کا تعین متعلقہ ٹیکس افسر کرتا ہے اور اگر آپ کو لگتا ہے کہ اس نے جرمانے کی رقم زیادہ کردی تو آپ اس کے خلاف اپیل دائر کرسکتے ہیں۔ ایک اچھا ٹیکس کا وکیل یہ اپیل اگر کرتا ہے تو جرمانے کی رقم بآسانی اسی فیصد تک کم کروا سکتا ہے۔

علیمہ خان کی بدقسمتی کہ وہ عمران خان کی بہن تھی، چنانچہ ریوینیو ڈیپارٹمنٹ نے اس پر فلیٹ کی رقم یعنی ساڑھے سات کروڑ کا پچیس فیصد ٹیکس اور پچیس فیصد جرمانہ کردیا۔ علیمہ خان نے اپنے بھائی کو تنازعات سے بچانے کیلئے پونے چار کروڑ روپے کی رقم ادا کردی، حالانکہ اگر وہ چاہتی تو ایک وکیل کو پانچ لاکھ دے کر یہ جرمانہ بیس لاکھ کروا سکتی تھی۔

ایک طرف عمران خان کے رشتے دار ہیں جو قانون میں دی گئی رعایات بھی استعمال نہیں کرتے اور کروڑوں کے اضافی ٹیکس ادا کررہے ہیں، دوسری طرف شریف برادران اور زرداری ہیں کہ جنہوں نے قوم کے کھربوں روپے لوٹے، لیکن جب ان کے خلاف کاروائی ہوئی تو انہوں نے لیٹرینوں کے گندا ہونے اور قبر کے ٹرائل کرنے کا شور مچا دیا۔

لیڈرشپ کا فرق آپ کے سامنے ہے، اب یہ آپ کے ظرف، عقل اور شعور پر منحصر ہے کہ آپ کس لیڈرشپ کا ساتھ دیتے ہیں!!! بقلم خود باباکوڈا





میرے ایک دوست ہیں احمد مبارک‘ میں پچھلے بیس برسوں سے انہیں جانتا ہوں‘یہ ڈی آئی جی پولیس تھے‘ یہ دوران سروس مجھے جب بھی فون کرتے تھے‘ میں ان سے پوچھتا تھا ”آپ آج کل کہاں تعینات ہیں“اور یہ ہر بار کسی نہ کسی نئی جگہ‘ کسی نہ کسی نئے عہدے کا حوالہ دے دیتے تھے‘ یہ مجھے افسر کم اور فٹ بال زیادہ محسوس ہوتے تھے کیونکہ یہ سال چھ ماہ سے زیادہ کسی جگہ ٹک کر سروس نہیں کر سکے‘ یہ پوسٹ ہوتے تھے‘ کسی نہ کسی معاملے پر ان کا سینئرز‘ مقامی ایم این اے‘ ایم پی اے یا پھر کسی وزیر یا وزراء اعلیٰ سے پھڈا ہوتا تھا اور یہ اگلے ہی دن ٹرانسفر ہو جاتے تھے‘

آپ ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچئے‘ کیا کوئی شخص ہر سال اپنے پورے خاندان کے ساتھ نئی جگہ ایڈجسٹ ہوسکتا ہے‘ کیا یہ اس خانہ بدوشی کے عالم میں اپنے بچوں کو تعلیم دلا سکتے تھے‘ کیا یہ اپنے خاندان کو پال سکتے تھے‘ کیا یہ بار بار کی ٹرانسفرزسے اپنی نفسیات کو بگڑنے سے بچا سکتے تھے اور کیا یہ ایک سال میں کسی ڈسٹرکٹ یا ڈویژن کو پوری طرح سمجھ سکتے تھے؟ اور اگر یہ سمجھ جاتے تو کیا یہ زیادتی نہیں آپ اس شخص کو اس عہدے سے ہٹا رہے ہیں جس نے سال بھر کی محنت کے بعد علاقے کے مزاج اور جرائم کی وجوہات کو سمجھ لیا اور یہ جب ڈیلیور کرنے کی پوزیشن میں آیا تو آپ نے اسے ہٹا کر اس کی جگہ پر ایک ایسا شخص لگا دیا جس کو اب اس علاقے کو سمجھنے کیلئے سال بھر کا عرصہ چاہیے اور آپ اس کو بھی سال چھ مہینے بعد فارغ کر دیں گے‘ کیا یہ گورننس ہے؟ کیا اسے اچھی ایڈمنسٹریشن کہا جائے گا؟ یہ ایس ایس پی اور ڈی آئی جی رینک کے آفیسرز کی حالت ہے‘ آپ اگر ایس ایچ اوز کا ڈیٹا نکالیں تو آپ کو لاہور جیسے شہرکا ڈیٹا حیران کر دے گا‘ لاہور میں ایس ایچ او کی او سطاً پوسٹنگ ایک ماہ ہے‘ ایس ایچ او بمشکل کسی تھانے کا چارج لیتا ہے اور اگلے دن اس کی معطلی یا پوسٹنگ کا حکم آ جاتا ہے‘ آپ خود سوچئے جس افسر کو یہ اعتماد نہیں ہو گا کہ میں اس علاقے یا اس عہدے پر اتنے سال کیلئے آیا ہوں اور کوئی ایم پی اے‘ ایم این اے یا وزیر میرا تبادلہ نہیں کر سکتا وہ اطمینان کے ساتھ کیسے کام کرے گا؟
ملک کی حالت یہ ہے جب بھی کوئی ایم پی اے یا ایم این اے سیاسی جماعت تبدیل کرتا ہے تو وہ ”خریدار جماعت“ سے اپنے حلقے کے ایس ایچ اوز‘ ڈی ایس پی‘ پٹواری اور نائب تحصیلدار اور تحصیلدار تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور اس سیاسی قلابازی کا نتیجہ سرکاری افسروں کے تبادلے اور تعیناتی کی شکل میں نکلتا ہے‘ آپ جب پولیس اور محکمہ مال کی تعیناتیاں ان لوگوں کے ہاتھ میں دے دیں گے جو اس سے براہ راست فائدہ اٹھا سکتے ہیں تو آپ اس علاقے کی لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کا اندازہ خود لگا سکتے ہیں۔ 
اور ہمارے ملک میں یہ کھیل روزانہ ہوتا ہے اور اس کھیل کے نتیجے میں مظلوم لوگ ایف آئی آر کٹوانے‘ ملزم کو گرفتار کرانے‘ اپنے بے گناہ عزیز کو چھڑوانے‘ زمین کا فرد لینے اور اپنی زمین کا قبضہ لینے کیلئے تھانے یا کچہری نہیں جاتے‘ یہ ایم پی اے یا ایم این اے کے ڈیرے پر جاتے ہیں اور وہاں سے جس شخص کے بارے میں فون آ جاتا ہے پولیس اس کیلئے تھانے کے دروازے کھول دیتی ہے جبکہ باقی مظلوم تھانے کے باہر بیٹھے رہتے ہیں۔

آپ اس صورتحال پر غور کیجئے اور اب فیصلہ کیجئے ہمارے سرکاری ملازمین بالخصوص پولیس اور ڈی ایم جی کے پاس اب کیا آ پشن بچتا ہے؟ کیا یہ سسٹم انہیں یہ پیغام نہیں دے رہا‘ آپ اگر او ایس ڈی نہیں بننا چاہتے‘ آپ اگر اپنی پوسٹنگ بچانا چاہتے ہیں اور آپ اگر ملک کے دور دراز علاقوں میں تبادلے سے بچنا چاہتے ہیں تو آپ کے پاس ایک ہی راستہ ہے آپ ملک اور عوام کی بجائے اپنے سینئرز‘ سیاستدانوں‘ حکمران جماعت اور طاقتور اداروں کی غلامی میں چلے جائیں اور آپ کا سینئر‘ آپ کی حکمران جماعت اور آپ کا ایم پی اے یا ایم این اے آپ کو جو حکم دے آپ اچھے غلام کی طرح اس پر چپ چاپ عمل کریں‘

ہماری بیورو کریسی نے یہ پیغام نہ صرف سن لیا ہے بلکہ یہ اس کو سمجھ بھی گئی ہے اور یہ اس پر عمل بھی کر رہی ہے اور ”یس سر“ کے اس سسٹم کی سزا اب عام شخص کے ساتھ ساتھ اقتدار سے بے دخل حکمرانوں کو بھی ملتی ہے‘ حکومتی پارٹی جب قانون کے رکھوالوں کو حکم دیتی ہے تو یہ میاں نواز شریف کے والد کو دفتر سے کرسی سمیت اٹھا لیتے ہیں‘ یہ فاروق لغاری کو سر عام تھپڑ ماردیتے ہیں‘ یہ نصرت بھٹو پر لاٹھیاں برسا دیتے ہیں‘ یہ بے نظیر بھٹو کو سڑکوں پر گھسیٹتے ہیں‘

یہ شریف فیملی کو اٹک قلعے میں پھینک دیتے ہیں‘ یہ آصف علی زرداری کی زبان کاٹ دیتے ہیں‘ یہ میاں نواز شریف کو دھکے دے کر اسلام آباد ائیر پورٹ سے جدہ پہنچا دیتے ہیں‘ یہ بے نظیر بھٹو کی جائے شہادت دھو دیتے ہیں‘ یہ چیف جسٹس کو بھی بالوں سے پکڑ لیتے ہیں‘ اب حکم ہوا تو نیب نے شہباز شریف کو بھی حراست میں لے لیا‘ آپ نواز شریف کا سارا کیس اٹھا کر دیکھ لیجئے آپ کو یہ حقائق اس میں بھی نظر آئیں گے اوریہ اس غلامانہ سوچ کا نتیجہ ہے جس کے ذریعے ہمارے حکمرانوں نے پولیس کو ذہن نشین کرا دیا تم نے قانون کی بجائے اپنے آقا کی پیروی کرنی ہے

چنانچہ یہ پوسٹنگ بچانے اور تبادلے سے بچنے کیلئے اپنی ساری توانائیاں آقا کے حکم کی بجا آوری میں لگا دیتے ہیں اور اس کا خمیازہ عام شخص کے ساتھ ساتھ حکمران طبقہ بھی بھگتتا ہے‘ مجھے یقین ہے آج اگر ملک میں مارشل لاء لگ جائے اور مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر پولیس کو آصف علی زرداری‘ میاں نواز شریف‘ میاں شہباز شریف‘ عمران خان اور سپریم کورٹ کے ججوں کو ڈنڈے مارنے اور سڑکوں پر گھسیٹنے کا حکم دے دے توپولیس چند لمحوں میں یہ کر گزرے گی کیونکہ ان کا آقا بدل چکا ہو گا اور انہوں نے اس آقا سے بھی اپنی پوسٹنگ بچانی ہے۔

ہم آتے ہیں اب اس کے حل کی طرف‘ اس کے تین حل ہیں‘ پاکستان کی تمام فیلڈ پوسٹنگز تین سال کیلئے کر دی جائیں‘ یہ قانون اگر پہلے سے موجود ہے تو اس پر سختی سے عمل کیا جائے‘ ان تین برسوں میں کوئی سینئر یا کوئی سیاستدان کسی افسر کو اس کی جگہ سے نہ ہٹا سکے‘ اگر کوئی افسر مس کنڈکٹ کا مرتکب ہویا قانون کی خلاف ورزی کرے‘ یہ کسی کو فیور دے یا کسی کو بلاجواز نقصان پہنچائے تو محکمہ اس کا کیس سپیشل باڈی کو بھیج دے‘ ملک کے تمام صوبوں اور وفاق میں سرکاری افسروں کیلئے سپیشل باڈیز بنائی جائیں‘

ان باڈیز میں ریٹائر سینئر بیورو کریٹس‘ ریٹائر ججز حضرات‘ سینئر پروفیسرز اور سینئر بزنس مین شامل ہوں‘ یہ کیس کا جائزہ لیں اور ایک ہفتے کے اندر اندر فیصلہ دے دیں‘ محکمے کا سینئر اگر سپیشل باڈی کے سامنے کسی جونیئر پر لگائے جانے والے الزام ثابت نہ کر سکے تو یہ سپیشل باڈی اس کی اے سی آر میں نیگٹو پوائنٹ دے دے اور یہ افسر پانچ چھ نیگٹو پوائنٹس کے بعد ترقی کی فہرست سے باہر ہو جائے‘ کابینہ‘ وزیراعلیٰ‘ وزیراعظم اور صدر کا پوسٹنگز اور تبادلوں کا صوابدیدی اختیار فوری طور پر ختم کر دیا جائے‘

ملک کے تمام محکموں کے رولز دیکھے جائیں‘ ان رولز کے مطابق میرٹ بنے اور تمام سرکاری ملازم اس میرٹ لسٹ اور رولز کے مطابق ترقی پائیں اور ان کی پوسٹنگز اور تبادلے ہوں‘ کوئی افسر اس لسٹ میں اچانک شامل نہ ہو سکے اور کسی کو خاص پروسیجر کے بغیر فہرست سے خارج نہ کیا جا سکے‘ انیس سے بائیسویں گریڈ کی تمام تقرریوں کا فیصلہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کرے‘ حکومت کسی کو ہٹا سکے اور نہ ہی لگا سکے اور سپریم کورٹ ایڈہاک‘ ایکٹنگ چارج اور ایکسٹینشن پر قطعی پابندی لگا دے‘

ہماری حکومتیں ایکسٹینشن‘ ایکٹنگ چارج اور ایڈہاک سے بھی جی بھر کر فائدہ اٹھا رہی ہیں‘ یہ مرضی کے ملازموں کو ایکٹنگ چارج دے دیتے ہیں‘ ان کی مدت ملازمت میں اضافہ کر دیتے ہیں یا پھر انہیں ایڈہاک پر اہم عہدوں پر لے آتے ہیں‘ سپریم کورٹ پابندی لگا دے گی تو یہ راستہ بند ہو جائے گا‘ سپریم کورٹ حکم جاری کر دے تمام محکمے کسی تبادلے یا ریٹائرمنٹ سے پہلے اس پوزیشن پر نیا عہدیدار تعینات کریں گے تاکہ وہ عہدہ خالی نہ رہ سکے‘ کوئی افسر چھٹی پر جائے تو اس کے اختیارات جونیئر افسر کو منتقل ہو جائیں لیکن وہ صرف محدود پیمانے پر عارضی احکامات جاری کر سکے۔

ان کی حتمی توثیق وہ افسر واپس آ کر کرے اور اگر وہ حکم واپس لینا چاہے تو وہ پرانا فیصلہ معطل بھی کر سکے گا۔ بیوروکریسی کو ریاست کا ماتحت ہونا چاہیے حکومت کا نہیں‘آپ نے پچھلے دنوں تین چار بڑے واقعات پڑھے ہوں گے‘ پہلا واقعہ آئی جی پنجاب کا تبادلہ تھا‘ آئی جی پنجاب طاہرخان کا تبادلہ ایک ماہ دو دن بعد کر دیا گیا تھا‘اس متنازعہ فیصلے کی وجہ سے پنجاب پولیس ریفارمز کمیشن کے چیئرپرسن ناصر درانی اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے‘

ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کا ایشو بھی ساری دنیا کے سامنے ہے‘آج آپ صرف یہ معلوم کرلیجئے رضوان گوندل کہاں ہیں اور ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے تو آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی‘ ڈی سی راجن پوراللہ دتہ وڑائچ نے پی ٹی آئی کے ایم این اے نصراللہ دریشک اور صوبائی وزیر سردار حسنین بہادر دریشک کی جانب سے انتظامی امور میں مداخلت پر کمشنر ڈی جی خان کو مراسلہ لکھا تھا اور ڈی سی چکوال غلام صغیر شاہد نے چیف سیکرٹری پنجاب کو خط لکھ کر پی ٹی آئی کے ایم این اے ذوالفقارعلی خان پرسرکاری کاموں میں مداخلت کا الزام لگایا تھا‘ یہ دونوں ڈی سی آج کس حال میں ہیں؟ آپ ان کا بھی پتہ کرا لیجئے۔

سپریم کورٹ کو ان ایشوز کا بھی نوٹس لینا چاہیے ورنہ ہماری غلام بیورو کریسی مزید غلام ہو جائے گی اور یہ کسی دن کسی بھی طاقتور شخص کے حکم پر صدر‘ وزیراعظم اور چیف جسٹس کو گرفتار کر لے گی اور ان پر بھینس چوری کا مقدمہ بنا دے گی کیونکہ بیورو کریسی جب قانون کے طاق سے اتر کر حکمرانوں کی انا کی غلام بنتی ہے تو پھر کسی عزت دار شخص کی عزت محفوظ نہیں رہتی‘ پھر ہر چڑھتا سورج سجدہ گاہ بن جاتا ہے اور ہر گزرا حکمران کچرہ گھر۔

نوٹ: کالمز کی یہ سیریز میں نے اپنے 80 ممالک کے وزٹس‘مطالعے اور مشاہدے کی روشنی میں لکھی ہے‘ان پر مزید بات ہو سکتی ہے‘ میراخیال ہے حکومت کو ان پوائنٹس کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے‘ اس سے سسٹم بہتر ہو سکتا ہے اور پاکستان واقعی پاکستان بن سکتا ہے۔

’’پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں‘‘، تین بار وزیراعظم رہنے والے میاں نواز شریف کچھ عرصے سے خاصے بجھے بجھے، خا موش اور اداس دکھائی دیتے ہیں۔ بظاہر ’پاناما گیٹ‘ کا شکار ہو کر اقتدار سے رخصتی کے بعد شریف فیملی بالخصوص اوران کی پارٹی مسلم لیگ (ن) کے چیدہ چیدہ رہنماؤں پر بالعموم عرصہ حیات تنگ ہو رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مصیبت کبھی اکیلی نہیں آتی، میاں نوازشریف کا بھی یہی حال ہے۔ ان کی اہلیہ محترمہ کلثوم نواز لندن میں کینسر سے مقابلہ کرتے کرتے زندگی کی بازی ہار گئیں اور ان کا11 ستمبر کو وہیں انتقال ہو گیا۔ نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کئی مرتبہ اپنے اس دکھ کا اظہار کر چکے ہیں کہ وہ کلثوم نواز کے آخری ایام میں ان کے سرہانے موجود نہیں تھے۔ ذہنی طور پر نارمل ہونے کے باوجود میاں صاحب عملی سیاست میں حصہ نہیں لے رہے، اگرچہ بطور رہبر وہی اپنی سیاسی جماعت کے مدارالمہام ہیں۔ بدقسمتی سے برادر خورد میاں شہبازشریف جنہیں میاں صاحب کی جگہ مسلم لیگ (ن) کا صدر منتخب کیا گیا تھاکو بھی نیب کے کیسز میں الجھا کر اچانک گرفتار کر لیا گیا۔ اگرچہ ریمانڈ در ریمانڈ لینے کے با وجود سابق وزیراعلیٰ کے خلاف ابھی تک کوئی ریفرنس دائر نہیں ہوا لیکن جس اندازمیںدونوں بھائیوں کے خلاف گڑھے مردے اکھاڑے جا رہے ہیں ان کی مستقبل قریب میں خلاصی ہوتی نظر نہیں آتی۔ نواز شریف کے سر پر دو مزید ریفرنسز العزیزیہ اورفلیگ شپ کی تلوار لٹک رہی ہے اور ہنگامی بنیادوں پر ان کا ٹرائل ہو رہا ہے جیساکہ ان کو پہلے ریفرنس ایون فیلڈ میں ضمانت کے بعد دوبارہ اندر بھیجنے کی کوئی جلدی ہو ۔ کہا جاتا ہے کہ میاں صاحب اپنی اہلیہ کی جدائی کے بعد انتہائی مغموم ہیں اور اسی لئے خاموش ہیں لیکن یہ خاموشی اس لحاظ سے معنی خیز ہے کہ اب یہ بہت طویل ہو گئی ہے اور محترمہ کلثوم نواز کے چالیسیویں کے بعد بھی میاں نواز شریف سیاسی معاملات پر گفتگو کرنے سے مسلسل گریزاں ہیں اور ان کی صاحبزادی مریم نواز تو بالکل ہی منظر سے غائب ہو گئی ہیں۔ ان کی شعلہ نوائی اور جارحانہ ٹویٹس اب کہیں نظر نہیں آتے۔ غالباً میاں صاحب ہارڈ لائن لیکر اپنی مشکلات میں اضافہ نہیں کرنا چاہتے، جب تک وہ نیب عدالت کی پیشیاں بھگت رہے ہیں شاید چپ کا روزہ رکھیں گے۔ پہلے تو نواز شریف کے ناقدین جن میں تحریک انصاف کے رہنما پیش پیش ہیں نے یہ درفنطنی اڑائی کہ میاں فیملی ایک اور این آر او مانگ رہی ہے۔ ایک وفاقی وزیر نے تو یہ تک کہہ دیا کہ انہیں معلوم ہے کہ این آر او کن شرائط پر ہو رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان اور خود نواز شریف کے قریبی حلقوں کو دوٹوک تردید کرنا پڑی کہ ایسی کوئی سودے بازی نہیں ہو رہی۔ ویسے بھی اس مر حلے پر این آر او کی بات انتہائی مضحکہ خیز لگتی ہے، این آر او کون کرے گا اور کن کے درمیان ہو گا۔ واضح رہے کہ آمر مطلق جنرل پرویزمشرف اور محترمہ بے نظیر بھٹو جو اس وقت جلاوطنی میں تھیں کے درمیان جو این آر او ہوا تھا اس کا بلاواسطہ فائدہ نواز شریف کو بھی پہنچا جب سعودی فرمانرو انے جنرل پرویز مشرف کو کہا کہ اگربے نظیر بھٹو کو واپس لے لیا ہے تو نواز شریف کو بھی واپس آنے کی اجازت دیں لیکن مدر آف آل این آر اوز وہ ڈیل تھی جس کے تحت نواز شریف اپنے سارے خاندان کے ہمراہ 2000ء میں جدہ میںسعودی حکومت کے سرکاری مہمان بن کر سرور پیلس پہنچ گئے تھے۔ اس وقت بھی شہباز شریف جلاوطنی میں جانے کو تیارنہیں تھے لیکن اس وقت کے ڈی جی ایم آئی لیفٹیننٹ جنرل احسان الحق نے شہباز شریف پر واضح کردیا تھا کہ اگر آپ اس ڈیل پر دستخط نہیں کریں گے تو شریف فیملی کے کسی بھی فرد کوجدہ جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ سیاسی مبصرین سمیت سب کے ذہنوں میں یہ سوال ابھر رہا ہے کہ نواز شریف آخر کیوں خاموش ہیں؟ کیونکہ وہ نچلے بیٹھنے والے سیاستدان نہیں ہیں جو لوگ ان سے واقف ہیں انھیں اچھی طرح معلوم ہے کہ نواز شریف کے اندر کیا طوفان ہو گا۔ کیا انھوں نے فوجی قیادت اور عمران خان کے بارے میں اپنے نظریات بدل لیے ہیں، یقینا ایسا نہیں ہے۔ نواز شریف کی خاموشی سٹرٹیجک لگتی ہے۔ چند روز قبل چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کے صاحبزادے سعد صدیق باجوہ کی دعوت ولیمہ میں خاصے عرصے بعد چودھری نثار علی خان سے ملاقات ہو گئی۔ گپ شپ کے دوران میرے اس سوال پر کہ آپ اور میاں نواز شریف کے درمیان برف پگھلی ہے؟ چودھری صا حب نے دوٹوک انداز میں کہا کہ کوئی رابطہ نہیں ہے۔ پھرمیاں نواز شریف کی خاموشی پر تبصرہ کرتے ہوئے چودھری نثار نے کہا کہ اگرمیاں صاحب میری بات مان لیتے تو ان کی سیاسی جماعت اس وقت پھر برسراقتدار ہوتی۔ واضح رہے کہ چودھری نثار اس وقت نواز شریف کو مشورہ دے رہے تھے کہ آپ فوج سے پنگا نہ لیں اور خاموشی سے براستہ موٹروے گھر چلے جائیں کیونکہ محاذ آرائی سے کچھ حاصل نہیں ہو گا بلکہ الٹا نقصان ہوگا۔ اس وقت بڑھکیں مارنے والے میاں صاحب کے مشیر اور نورتن انھیں مشورے دے رہے تھے کہ حضور! آپ جی ٹی روڈ کے ذریعے جب تک جلوس لے کر لاہور پہنچیں گے تو کایا پلٹ چکی ہو گی۔ یقینا میاں صاحب کو جی ٹی روڈ پر کسی حد تک پذیرائی بھی ملی تھی اور اس طرح ٹھنڈی کرکے کھانے والے سیاستدانوں جن میں چودھری نثار پیش پیش تھے کو سیاسی طور پر سائیڈ لائن پرکردیا گیا۔ میاں نوازشریف نے عام انتخابات سے قبل 13جولائی کو لندن سے بڑے طمطراق سے لاہور ایئرپورٹ پر لینڈ کیا لیکن ان کے استقبال کے لیے آنے والے لوگوں کی تعداد اتنی نہیں تھی جس کی وہ توقع کر رہے تھے، میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کو سکیورٹی اداروں کے حصار میںسیدھا اڈیالہ جیل پہنچا دیا گیا۔ اس طرح نواز شریف وطن واپس آکر انتخابات میں جتنا سیاسی فائدہ چاہتے تھے اتنا حاصل نہ ہو سکا۔ بعد از خرابی بسیار سابق وزیراعظم کو یہ احساس ہو گیا ہے کہ ان کی جارحانہ بیٹنگ کا کوئی فائدہ نہیں ہوا،لیکن سب کچھ لٹا کر ہوش میں آئے توکیا کیا۔ یہ دلچسپ حقیقت ہے کہ شہبازشریف جن کی لائن نوازشریف کی جارحانہ حکمت عملی کے برعکس فوجی قیادت کے ساتھ صلح جوئی کی تھی وہ بھی انھیں نیب یاترا سے نہ بچاسکی۔ شہباز شریف کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے اور ایک وقت تک بظاہرفوجی قیادت کی یہی خواہش لگتی تھی بڑے بھائی کے برعکس شہباز شریف کو پروموٹ کیا جائے لیکن بعدازاں جب یہ محسوس کیا گیا کہ چھوٹے میاں صاحب اپنے بڑے بھائی کے خلاف کھلم کھلا سٹینڈ لینے کو تیار نہیں تو ان کا سنگھاسن بھی ڈول گیا۔ دراصل میاں نواز شریف اور شہبازشریف کی سیاست لازم وملزوم ہے، اگر ووٹ بڑ ے بھائی کو پڑتے ہیں تو چھوٹے بھائی کی کارکردگی مسلم لیگ (ن) کے لیے باعث تقویت ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو شہبازشریف کی سیاست میاں نواز شریف کے بغیر نہیں پنپ سکتی۔ یہ توقع عبث ہے کہ وہ بڑے میاں صاحب کے خلاف سینہ سپرہو جائیں گے۔ اگر انھوں نے ایسا کیا تو وہ زیرو ہو جائیں گے۔ دیکھا جائے تو بقول پرویز مشرف یہ دونوں بھائی ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیںیعنی جی ٹی روڈ سے جائیں یا موٹروے سے دونوں کی منزل ایک ہی ہے۔ 



سرفرازوہیں ٹھہریں گے تواستقامت اورصبرسے موجودہ طوفان میں کھڑے رہینگے۔اس لیے کہ جس بات کا ڈرتھا،خوف تھابلکہ کئی بزرجمہروں کویقین تھا،ملک اس حادثہ سے بچ گیاہے۔اقتصادی طورپرڈیفالٹ سے مکمل محفوظ۔ یہ عمران خان کی پہلی کامیابی ہے جواس نے خاموشی سے حاصل کی ہے اوراس پرزیادہ بحث بھی نہیں کرتا۔

پرانے کھلاڑیوں نے خاص منصوبہ بندی کے تحت ملک کوقرضوں میں گروی تورکھا ہی تھامگرمنصوبہ کچھ اور تھا۔ اس منصوبہ میں چندغیرملکی طاقتیں بھی شامل تھیں۔ بساط اس اَمرکی بچھائی گئی تھی کہ اگر پنتیس سال سے اس ملک کی شاہ رگوں سے خون پینے والے کامیاب ہوگئے تو فوری طورپرڈھول ڈھمکے کے شورمیں چپ کرکے حددرجہ سخت شرائط پرسخت قرض لے کرچندبڑے بڑے منصوبے جن میں سے ایک دو تو جاری بھی ہیں،انھیں کھلونابناکرعوام کا دل بہلایاجائے گا۔

لوگوں کودوبارہ بیوقوف بنایاجائے گا۔جیسے لاہور کی اورنج ٹرین اورشائدایک دواسی قبیل کے غیرسنجیدہ مہنگے ترین ترقیاتی اقدام۔ان منصوبوں میں ملک کی خیر مطلوب نہیں تھی۔پہلے بھی عرض کیاہے کہ انکواپنی جیت کا یقین تھا۔ہرادارے میں انھی کے پروردہ لوگ موجود تھے۔الیکشن میں ہارنابقول ان کے ممکن ہی نہیں تھا۔ مگر خدا کی مرضی بالکل مختلف تھی۔انتہائی بے ترتیبی سے الیکشن لڑتے ہوئے عمران خان کی جیت ہوگئی۔ ایک ایساکام، جوالیکشن سے چارپانچ ماہ قبل سوچابھی نہیں جاسکتا تھا۔
خیر یہ عوام کی مرضی تھی کہ ووٹ اسکوحددرجہ زیادہ پڑے۔آل شریف کے پیروں سے زمین نکل گئی۔یہی وہ وقت تھا جب پرانے کھلاڑیوں نے بوسیدہ کھیل کھیلا۔ دیر سے نتائج آنے کودھاندلی قراردیدیا۔حالانکہ پچھلے تمام الیکشنوں میں کبھی بھی کوئی نتیجہ وقت پرموصول نہیں ہوا۔ مسلم لیگ ن کے جیتے ہوئے کسی بھی الیکشن کے نتائج کومثال بناکر سامنے رکھ لیجیے۔دلیل سے عرض کرتا ہوں۔ چند سیاسی قوال حاصل کیے گئے۔قوالی کامصرع تھاکہ نادیدہ ہاتھ، پی ٹی آئی کی حکومت کولے کرآئے ہیں۔جب اسکابھی کوئی ثبوت نہ مل سکاتوپھردوتین ہفتوں کے لیے خاموشی چھاگئی کہ اب کیا کریں۔

چنانچہ ٹھیک دوماہ پہلے ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت یہ بات پھیلانے کا عزم ہواکہ عمران خان کی ٹیم ناتجربہ کار،نااہل اورنکھٹوہے۔چند گروپ جن کو پیسے ملنے بندہوچکے تھے،انھیں سرمایہ بھی مہیا کیا گیا۔ دوماہ سے قیامت برپا کر دی گئی کہ ہائے ہائے،ملک بربادہوگیا۔تباہی مچ گئی۔ نااہل اورناتجربہ کارٹیم نے توملک کابیڑہ غرق کردیا۔

تحریک انصاف اس سازش کوموقعہ پرسمجھ نہ پائی۔اس کی ٹیم نے دوہفتے ضایع کردیے۔مگرجب معاملات کی سنجیدگی کا احساس ہواتوچوہدری فواد اور دیگر حضرات نے ترکی بہ ترکی جواب دیاجوجارحانہ بھی تھا تو بہت حدتک حقائق پر مبنی بھی۔ن لیگ کواس رویہ کی توقع نہیں تھی۔لہٰذااب انھوں نے روش تبدیل کرکے تحریک انصاف کے وزراء پر کیچڑاُچھالناشروع کردیا ہے۔ یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ مگراگلے پندرہ بیس دن میں یہ معاملہ بھی ٹھنڈاپڑجائے گا۔

وزیراطلاعات کاعہدہ حددرجہ مشکل ہے۔ اگر دیکھا جائے توہروزیراطلاعات بھنورکی آنکھ میں زندگی گزارتا ہے۔فوادچوہدری کے ساتھ بالکل یہی ہورہاہے۔میری دانست میں وہ اپناکام سنجیدگی سے کررہاہے۔معاملات کو ان کے حقیقی تناظرمیں بیان کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ دو مثالیں لے لیجیے۔

وزیراطلاعات کایہ کہناکہ بڑے بھائی یعنی نوازشریف کی بے قاعدگیوں کی تحقیقات کے لیے پی اے سی کمیٹی کی صدارت چھوٹے بھائی یعنی شہباز شریف کو نہیں دی جاسکتی۔یہ اُصولی طورپرحددرجہ درست بات ہے۔پوری دنیامیں ایک مثال بھی نہیں ملتی کہ سیاسی نظام میں ایک فردکی مالی بدعنوانی کواُسی خاندان کاایک فرد پرکھے۔لازم ہے کہ اسکارویہ حددرجہ جانبدارانہ ہوگا۔ اس اُصول کے تحت فواد چوہدری ٹھیک کہہ رہاہے۔ اس معاملے میں پی ٹی آئی کی پالیسی مکمل طورپردرست ہے۔

دوسری مثال، فوادچوہدری کایہ کہناکہ اگرنیب،آل شریف کے خلاف تحقیقات کرناختم کردے توقومی اورپنجاب کی صوبائی اسمبلی میں ہنگامہ ختم ہوجائے گا۔یہ بات بھی بالکل درست ہے۔آج اگر شہباز شریف اوربڑے بھائی کواین آراومل جائے۔ان کے خلاف تحقیقات روک دی جائیں۔ نیب برادرخوردکوچھوڑدے تو جمہوریت کے لیے ہرخطرہ ختم ہوجائے گا۔نکتہ ہی یہی ہے۔اگرعمران خان ،آل شریف کے معاشی جرائم سے صرفِ نظرکرلے،توسارامعاملہ ٹھیک ہوجائے گا۔مگرعمران این آراو ہونے نہیں دے رہا۔

اصل تکلیف بھی یہی ہے۔سامنے فواد چوہدری ہے کیونکہ بہرحال حکومت کانقطہِ نظراسی نے بیان کرنا ہے۔ لہذ اپرانے تمام کھلاڑی،فوادچوہدری کے خلاف کمال واویلا فرمارہے ہیں۔پرانے سیاسی کھلاڑی ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ تحریک انصاف کی ٹیم بچوں پرمشتمل ہے۔یہ تو ناتجربہ کارہے۔یہ توکام کرنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے۔ یہ منصوبہ بندی مکمل طورپرجاری وساری ہے۔ پر اب یہ اپنے منطقی انجام تک پہنچ رہی ہے۔ پرانے سیاسی گرگوں کو معلوم ہوچکاہے کہ وہ موجودہ حکومت کوگرانھیں سکتے۔

چلیے،تھوڑی دیرکے لیے عمران خان کی ٹیم کاسرسری ساجائزہ لے لیتے ہیں۔اس کے ارکان پر طائرانہ نظرڈال لیتے ہیں۔شاہ محمودقریشی سے بہتر وزیرخارجہ پچھلے دس پندرہ سال سے نہیں آیا۔ پیپلزپارٹی کی حکومت میں اس کی بہترکارکردگی سے گھبراکر”گرو”نے اسے تبدیل کرنے کی کوشش کی تھی۔مگرشاہ محمود،پیپلزپارٹی ہی چھوڑگیا۔ اس کا تمسخر اُڑایاگیا۔”گرو”نے کہاکہ وہ کبھی سیاست میں واپس نہیں آئیگا۔توقعات کے برعکس شاہ محمود قریشی دوبارہ الیکشن جیت گیا۔شاہ محمودسفارتی سطح پر حد درجہ فعال انسان ہے۔

اس کے مسلسل مربوط دوروں سے پاکستان کا نقطہِ نظروضاحت سے دنیاکے سامنے آرہاہے۔ہمارے دوستوں کے دل وسیج رہے ہیں۔ملتان اورتحریک انصاف کی اندرونی سیاست میں شاہ محمودکاکیارول ہے،اس پر دورائے ہوسکتی ہیں۔مگرسفارتی سطح پروہ حددرجہ کامیاب ہے۔کم ازکم، سرتاج عزیزاورفاطی سے ہزاروں نوری سال بہتر۔ خاموشی سے اپناکام کررہاہے ۔چلیے،اسے بھی چھوڑ دیجیے۔ کیا اَسد عمر وزارت خزانہ اسحاق ڈار سے بہترنہیں چلا رہا۔بالکل چلا رہا ہے۔مشکل ترین صورتحال میں اَسد عمر، نے پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچایاہے۔ورنہ امریکی ڈالر دو سو روپے سے بھی بڑھ چکاہوتا۔مہنگائی کا بڑھنا تو کوئی لفظ ہی نہیں ہے۔ اگر پاکستان اقتصادی طورپر دیوالیہ ہو جاتا، تو کھانے پینے کی اشیاء کم ازکم دوسے تین ہزار گنا بڑھ جاتیں۔

پیٹرول کی قیمت کیاہوتی؟سوچتے ہوئے بھی خوف آتاہے۔یہ بات بھی درست ہے کہ چند اقتصادی فیصلے غیرمقبول ہوئے ہیں۔ مگر یہ سب کچھ مجبوری میں کیا گیا۔صرف اورصرف دیوالیہ پن سے بچنے کے لیے۔ یہ بھی درست ہے کہ پٹرول کی قیمت بڑھنے سے مہنگائی بڑھی ہے۔مگربتائیے جس ملک میں کوئی امیرآدمی ٹیکس دینے کے لیے تیارنہیں۔طاقتورطبقہ ایف بی آرکواپنی جیب میں ڈال کررکھتاہے۔وہاں ان ڈائریکٹ ٹیکس کے علاوہ دوسراراستہ کون سارہ جاتاہے۔

قوی یقین ہے کہ چھ ماہ کے اندر اندر، مہنگائی کم ہوجائیگی۔اَسدعمراس وقت اپنی بساط سے بڑھ کرمحنت کررہاہے۔آئی ایم ایف کی کڑی شرائط بھی تسلیم نہیں کررہا۔کیایہ سب کچھ اسحاق ڈار صاحب کررہے تھے۔ دل پرہاتھ رکھ کر بتائیے۔ کیا پاکستان میں کسی کوبھی معلوم تھا کہ اسحاق ڈار،کس دھڑلے سے ملک کی معیشت کو برباد کررہاہے۔گروی رکھ رہاہے۔ پیسہ بنارہا ہے۔ اَسد عمر کا مقابلہ اسحاق ڈار سے کرنا غیرمناسب ہے۔ اَسدعمرکے کردار پرکرپشن کاکوئی داغ نہیں ہے۔ یہ بذات خودایک محترم بات ہے۔

آگے بڑھیے۔کیاشفقت محمودکام نہیں کررہا۔ وزارت داخلہ کاوزیرمملکت فعال نہیں ہے۔صرف اور صرف میرٹ پربات کیجیے۔عمران خان اپنی ٹیم کے ساتھ میدان میں جم کرکھڑاہوچکاہے۔لازم ہے،چندکھلاڑی دوسروں سے بہترہونگے۔آہستہ آہستہ کام نہ کرنے والے،ٹیم سے باہر ہوجائینگے۔ کیا وزراء کی کارکردگی پر پہلے کبھی بھی کڑی نظررکھی گئی تھی۔بڑے میاں صاحب تو وزراء سے ملناتک پسند نہیں کرتے تھے۔ان کی کارکردگی کا جائزہ کیسے لیتے۔ ان کے مصاحبین کسی کے متعلق جوکچھ بھی فرما دیتے۔میاں صاحب اسی انفارمیشن کی بنیاد پر اپنا رویہ ترتیب دیتے تھے۔ ویسے ایک ایساشخص جوقومی اسمبلی میں جانااپنی توہین سمجھتا تھا،جوسینٹ کوجوتے کی نوک پر رکھتاتھا،جووزراء سے دور رہتا تھا۔ جسکو ملنے کے لیے ایم این اے سفارشیں کرواتے تھے۔

کیا واقعی اسکاموازنہ موجودہ وزیراعظم سے ہوناچاہیے جوہرہفتہ کابینہ کی میٹنگ بلاتا ہے۔مشاورت کرتا ہے۔ درست فیصلے کرنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔ اداروں کے ساتھ توازن رکھنے کی عملی پالیسی اپناتا ہے۔کیاواقعی عمران خان پرتنقید کرنی چاہیے کہ وہ تین ماہ میں کابینہ کے درجنوں اجلاس کیوں بلاچکا ہے۔یہ بھی کامل بات ہے کہ اس کے سارے فیصلے درست نہیں ہیں۔لیکن کون سی حکومت ہے۔ جسکے سو فیصدفیصلے درست ہوں۔ہاں،ایک اور چیز پر بھی توجہ دیجیے۔اس حکومت میں کرپشن کاایک بھی اسکینڈل سامنے نہیں آیا۔

عمران خان،ایک ہیڈ ماسٹر کی طرح سختی کررہا ہے۔ کسی وزیرکی جرات نہیں کہ مالیاتی بے ضابطگی کرے۔آل شریف کوخوف ہی یہ ہے کہ اگرعمران خان پانچ سال حکومت کر گیا تو پھر انکاکیابنے گا۔اگرملک کی اقتصادی صورتحال درست ہوگئی توپھران کے اخباروں کی حدتک ترقیاتی کرشموں پرکون یقین کریگا۔قرائن تویہی ہیں کہ عمران خان کام بھی کرتارہیگااورپانچ سال بھی پورے کریگا۔ باقی غیب کاعلم توصرف خداکے پاس ہے۔


نواز، مریم خود ساختہ خاموشی، خزاں کے پتے بنی اپوزیشن، حکومتی بونگیاں، کرپشن، احتساب، بحث زوروں پر تھی، اچانک میں نے حسن نثار صاحب سے پوچھ لیا ’’بڑوں نے اتنا کچھ جمع کر لیا، کیا جو پاس نہیں، ارب، کھرب پتی ہو گئے، پھر بھی پیٹ ہیں کہ بھر ہی نہیں رہے، کیوں؟‘‘ حسن نثار بولے ’’بھریں گے بھی نہیں‘‘ میں نے حیران ہوکر کہا ’’کیوں‘‘ کہنے لگے ’’اقتصادیات کا بنیادی اصول ’لاء آف مارجنل یوٹیلٹی‘ قانونِ افادۂ مختتم بتائے کہ کوئی شخص پیاس سے مر رہا ہو یا اتنا پیاسا ہو کہ ایک گلاس پانی کے بدلے وہ اپنی کل جمع پونجی دینے پر بھی تیار ہو جائے، تب بھی چار، 5گلاس پانی پینے کے بعد کہہ دے گا کہ بس، کوئی مزید پانی پلانا چاہے گا تو کہہ دے گا، بس بھائی بس، پہلے پیاس سے مر رہا تھا اب پانی پلا پلا کر مارنا ہے، اسی طرح کوئی اتنا بھوکا بھی ہو کہ مرنے کے قریب، آخری دموں پر، وہ ایک، دو، تین، ہو سکتاہے کہ 10روٹیاں بھی کھا لے مگر جب پیٹ بھر جائے گا، کوئی مزید کھانے کیلئے کہے گا تو جواب آئے گا حضور بس... بھو ک سے تو بچ گیا، کیا اب کھلا کھلا کر مارنا ہے‘‘۔

لیکن اقتصادیات کا یہ ’لاء آف مارجنل یوٹیلٹی‘ کلکٹرز مطلب جمع کرنے والوں پر آکر بالکل ہی الٹ ہو جائے، جیسے کوئی نوادرات جمع کرنے والا، 10ہزار نوادرات بھی جمع کر چکا ہو، 20ہزار نوادرات بھی اس کے پاس ہوں، تب بھی وہ رُکے گا نہیں، اور، اور کا چکر چلتا رہے گا، اسی طرح نایاب ٹکٹیں جمع کرنے والا، جتنی نایاب ٹکٹیں زیادہ ہوتی جائیں گی، اتنی ہی ٹکٹوں کی بھوک بڑھتی جائے گی، یہی حال دو لت collectorsکا، جتنی دولت آتی جائے گی، اتنی ہی دولت کی بھوک بڑھتی جائے گی، یعنی ’دا مور یو ہیو‘ ’دا میریئر یو وانٹ‘، کوئی حد نہیں، بندہ انسان سے حیوان، مگر پیٹ بھرنے کا کوئی چانس نہیں، الٹا پیٹ کا سائز بڑھتا رہے گا، لہٰذا ہمارے نو دولتیوں کا بھی یہی حال کہ سائیکل والوں نے جہاز لے لئے مگر ہوس ختم نہ ہوئی، جھونپڑی والے محلوں میں آ گئے مگر حرص نہ گئی۔

استادِ محترم کی تھیوری پر جوں جوں سوچا، توں توں doubtsکلیئر ہوئے، سوچ رہا زرداری صاحب کہاں سے چلے تھے، کہاں آگئے مگر مجال ہے کہ گاڑی کہیں رُک رہی ہو، ابھی دو دن پہلے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں چیف جسٹس، زرداری صاحب کے دستِ راست انور مجید سے مخاطب تھے ’’لانچوں سے بھیجے گئے پیسے واپس کر دیں، آپ کے گھر کے سامنے گھر، اس کے اندر گڑھا اور گڑھے سے جو کاغذات ملے، ہمیں اس کا بھی پتا اور دولت رحمت، اسے زحمت نہ بنائیں‘‘ اب زرداری صاحب سہارے کے بنا چل نہ پائیں، رات کو حفاظتی حصاروں کے بعد بھی اسلحہ رکھ کر سوئیں، انور مجید دو قدم چلنے سے قاصر مگر مجال ہے کہ کسی مرحلے پر بھی کوئی بولا ہو ’’غلطی ہو گئی‘‘، مجال ہے کسی کو کوئی پچھتاوا ہو، بات وہی کہ ’دا مور یو ہیو، دا میریئر یو وانٹ‘ لالچ ختم ہو رہا، نہ حرص وہ وس کا کوئی endاور نہ پیٹ بھر رہے، یہ سوچ آہی نہیں رہی کہ بندہ اس لئے نہیں کماتا کہ سکون نہ چین، رسوائی ہی رسوائی، یہ خیال آہی نہیں رہا کہ یہاں بچ بھی گئے تو اگلے جہان کیا بنے گا، وہاں تو ریکارڈ جلایا جا سکے گا نہ اصل کاغذات غائب کرائے جا سکیں گے۔

ہاؤس آف شریفس کو لے لیں، 69روزہ جیل، مزاحمت، بغاوت اور انقلاب سب غباروں سے ہوا نکال چکی، باپ، بیٹی ’چپ کر دڑ وَٹ جا‘ کی تصویر بنے بیٹھے، داماد کا اتا پتا ہی نہیں، دونوں بیٹے اور سمدھی اشتہاری، شہباز شریف نیب کی حراست میں، حمزہ، سلمان پیشیاں بھگت رہے، داماد مفرور، اللہ تعالیٰ نے کیا نہ دیا، عزت، شہرت، دولت، نام، مقام اور اللہ نے کتنے مواقع دیئے، اب سنبھل جاؤ، اب ہی سنبھل جاؤ، مگر خواہشات کا گھوڑا سرپٹ بھاگتا رہا، سب جانیں، مانیں کہ جانا ڈھائی گز کی قبر میں مگر کھڑے کر لئے 25پچیس ہزار کنال کے محل، بنا لیں 5پانچ براعظموں میں جائیدادیں، اتنا اکٹھا کر لیا کہ حساب دینا مشکل، اتنا جمع کر لیا کہ اگلی سات نسلیں صرف نوٹ کھائیں، پھر بھی ختم نہ ہو، لگ رہا کہ ان سب نے قیامت تک زندہ رہنا، ’میرے اثاثے ذرائع آمدنی سے زیادہ تو تمہیں اس سے کیا‘ جی بالکل! ہمیں اس سے کیا، ہماری کیا مجال، اوقات کہ پوچھ، جان سکیں، مگر آگے جا کر پوچھ لیا گیا تو کیا یہی کہیں گے کہ ’میرے اثاثے ذرائع آمدنی سے زیادہ تو تمہیں اس سے کیا‘ کیا یہ کہہ پائیں گے مگر بات وہی کہ ’دا مور یو ہیو، دا میریئر یو وانٹ‘ یہ پیٹ قبر کی مٹی ہی بھرے گی۔

اپنی تو گزر ہی جائے گی، اپنے بچوں، اگلی نسل کی فکر اور یہ فکر خوف میں تب بدلے، جب دیکھوں کہ عمران خان کے بعد تحریکِ انصاف پانی کا بلبلہ، پی پی اور بھٹو کا وارث بلاول جو ڈیڑھ ارب اثاثوں کا مالک، یہ الگ بحث کہ کیوں اثاثے اتنے سستے کہ اسلام آباد کی نواحی زمین آٹھ روپے فی مرلہ اور اسلام آباد کا گھر 20پچیس لاکھ بلکہ 70کلفٹن 40لاکھ کا، یہ رہنے دیں، یہ سنیں کہ کاغذاتِ نامزدگی بتائیں ارب پتی بلاول نے چار آنے کی خیرات بھی نہ کی، دل تو یہ بھی پوچھنے کو کر رہا کہ دس سال سے سندھ میں حکومت، بلاول کتنی بار تھر گئے، کیا مدد کی مرتی مخلوق کی، بس خوبصورت تقریریں کرے جا رہے، تھر میں بچے مرے جا رہے، صرف گزشتہ 11ماہ میں ساڑھے 5سو بچے مر چکے، اللہ بلاول کو خاندان سمیت اپنے حفظ و آمان میں رکھے مگر جب کوئی اپنا مرے تو لگ پتا جائے، تھر والوں کا قصور یہی کہ وہ کسی کے اپنے نہیں، ورنہ اپنوں کو کون بھوک اور بیماری کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہے، آگے سنئے مسلم لیگ کا مستقبل حمزہ اور مریم کے حوالے، یعنی آگے چل کر اقتدار ن لیگ کو ملا تو میرے بچوں کے حکمراں مریم اور حمزہ، اپنے کاغذاتِ نامزدگی کے مطابق 84کروڑ اثاثوں کی مالک مریم نواز کے بارے میں صرف ان کا یہی سچ کافی کہ ’’میری بیرونِ ملک تو کیا، اندورنِ ملک بھی کوئی جائیداد نہیں‘‘، حمزہ شہباز نے بحیثیت ڈپٹی وزیراعلیٰ گزشتہ 10سالوں میں کیا تیر چلائے، وہ سب کے سامنے۔

نہ سوچیں تو جیسا کل ویسا آج، نہ سوچیں تو امیر، غریب ایک دن سب کو ہی مر جانا لیکن سوچیں تو دکھ ہی دکھ، اندھیرا ہی اندھیرا، سوچیں تو ایک طرف عوام ’’ناکوں، دھماکوں اور فاقوں‘‘ والی فلم دیکھی جا رہے، دوسری طرف بڑوں نے ’’حال بچاؤ، آل بچاؤ اور مال بچاؤ‘‘ والی فلم چلا رکھی، ایک طرف انسان جانوروں سے بھی بدتر، دوسری طرف انسان بھگوان بنے بیٹھے، ایک طرف انصاف مل نہیں رہا، دوسری طرف انصاف ہو نہیں رہا، ایک طرف کوئی بول نہیں رہا، دوسری طرف کوئی سن نہیں رہا، ایک طرف لُٹ لُٹ، بھٹک بھٹک کر بھی کسی کو عقل نہ آئی، دوسری طرف لوٹ لوٹ کر اور بھٹکا بھٹکا کر بھی جی نہ بھرا، ایک طر ف پیٹ کے لالے پڑے ہوئے اور دوسری طرف ’دا مور یو ہیو، دا میریئر یو وانٹ‘ پھر سے چیف جسٹس یاد آجائیں ’’دولت تو رحمت، اسے زحمت کیوں بنا رہے، ذرا مقامِ عبرت تو ملاحظہ ہو کہ 22کروڑ کو زحمت میں ڈال کر ’رحمت‘ سمیٹنے والوں کیلئے آج وہی رحمت زحمت بنی ہوئی‘‘۔

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget